Tuesday, 12 December 2017

فتنہ محمد شیخ کراچی والا حصہ اول

شیخ محمد ۔ ایک تجزیہ
(حصہ اول)

تحریر : محمّد سلیم

دورِ حاضر کے فتنوں میں ایک بڑا فتنہ انکارِ حدیث کا فتنہ ہے ۔ اس فتنے پر بات کرنے میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ بہت احتیاط سے بات کرنی پڑتی ہے ۔ الزامی جواب دینا یقیناً آسان نہیں ۔
 پہلے ایک سلسلہ غامدی صاحب پر شروع کیا تھا ۔ آج ہمارا موضوع شیخ محمد صاحب ہیں ۔
پہلے تو ایک اعتراض رفع کر دوں کہ شخصیات اگر فتنہ پرور ہوں تو باقاعدہ نام لے کر تنقید کرنا قران سے ثابت ہے جیسے ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔
تَبَّتْ يَدَآ اَبِىْ لَـهَبٍ وَّتَبَّ
ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہوا ۔
مگر رکیں ۔
جن شیخ صاحب کی آج ہم بات کر رہے ہیں ان کا تو سب سے پہلا ہی اعتراض یہ ہے کہ مترجمین نے ہر لفظ کا ترجمہ کیوں نہ کیا ؟
جیسے بقول ان کے کتاب ﷲ میں توراہ لفظ آیا تو اس سے مسلمانوں نے یہودیوں کی کتاب توراہ مراد لے لی ؟ حالانکہ اس کا مطلب ہوتا ہے قانون ۔
لو دسو ۔
توراہ پر تو ہم بعد میں بات کریں گے پہلے میں شیخ صاحب کی فرمائش پوری کرنے کی کوشش کر لوں ۔
لہب کا مطلب ہوتا ہے وہ شعلہ جس میں دھواں نہ ہو ۔
ابی لہب کا مطلب ہو گا اس شعلے کے ابو جس میں دھواں نہیں ہے ۔
اس اعتبار سے ترجمہ شیخ صاحب کی فرمائش کے مطابق بنے گا :
جس شعلے میں دھواں نہ ہو اس کے ابو کے ہاتھ ٹوٹ جائیں ۔
کیوں ٹوٹ جائیں ؟
اگر اس شعلے میں دھواں نہیں ہے تو اس میں اس کے ابو کا کیا قصور ہے ؟
اب یہاں سب سے پہلے ایک بات کی تصحیح کر لیں ۔
یہ جو چھترولی جواب میں نے محض چند جملوں میں شیخ صاحب کو دے دیا ۔ کیا آپ اس کی توقع کسی مفتی یا کسی عالم سے کر سکتے ہیں ؟
جی نہیں ۔
کم از کم میں ایسا نہیں کر سکتا ۔ کیوں کہ ہم ان علماء سے دین سیکھتے ہیں ۔ پھر اس کو اپنی طرز پر استعمال کرتے ہیں ۔
کسی عالم کو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ اس قسم کے جوابات دے کیوں کہ ہم ان سے شائستگی کی توقع رکھتے ہیں ۔
جس کو وہ جواب دے رہے ہیں اس کی تو تین گھنٹے کی ویڈیو میں نے دیکھ لی ۔ ٹکے جتنی اہمیت نہیں ان اعتراضات کی ۔ اور یہ بھی دیکھ لیا کہ کوئی معقول آدمی شیخ صاحب کی ان احمقانہ باتوں کو سنجیدہ نہیں لے سکتا  ۔ لہٰذا اس بات کا امکان بہت ہی کم ہے کہ ایک مفتی ان کے سامنے لاجواب ہو گیا ۔
ایسا نہیں ہوا ۔
ہوا یہ کہ شیخ صاحب کی باتوں کے جتنے بھی جواب بنتے ہیں وہ صرف اور صرف چھترولی ہیں ۔ عالم کا کام چھترول کرنا نہیں ہے ۔
وہ ہمارا کام ہے ۔
سو وہ ہم کریں گے ۔
میری اس پوری گفتگو میں مفتی صاحب پر میں کسی بھی قسم کا کوئی الزام نہیں رکھتا ۔ اس کی ایک وجہ تو میں نے اوپر بیان کر دی کہ مفتی ہونا بذات خود ایک ذمے داری کا کام ہے ۔ ان کی غلطی محض اتنی ہو سکتی ہے کہ ان کو وہاں جانا ہی نہیں چاہیئے تھا ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ویڈیو بنانے والے شیخ صاحب کے لوگ ہیں اور ویڈیو جگہ جگہ سے کٹی ہوئی ہے ۔ لہٰذا اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ مفتی صاحب کے جوابی دلائل کو کاٹ دیا گیا ہو ۔ ورنہ تین گھنٹے میں جتنی چولیں شیخ صاحب نے ماری ہیں ان کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آنا چاہیئے ۔
بہرحال موضوع پر آتے ہیں ۔
شیخ صاحب کے نزدیک توراہ بمعنی قانون لیا جائے گا اور توراہ کسی کتاب کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک قانون ہے ۔ مزید یہ کہ یہ نام یا تو مسلمانوں نے بائبل سے چوری کیا ہے یا بائبل والوں نے قران سے ۔ کیوں کہ قران میں تو بہرحال یہ لفظ موجود ہے ۔
پہلے تو اس اصول کو سمجھ لیں کہ اس دنیا میں اشیاء کے جتنے بھی نام رکھے جاتے ہیں ان کا کوئی نہ کوئی مطلب ضرور نکلتا ہے ۔
مثال کے طور پر فرض کریں کہ شیخ صاحب کسی کے ہاں نوکری کرتے ہیں ۔ ان صاحب نے شیخ صاحب کو کہا کہ یہ ایک لاکھ روپے لے کر جاؤ اور مبشر کو دے آؤ ۔
شیخ صاحب ایک لاکھ روپے لے کر گئے ۔ راستے میں بیٹھا تھا ایک طوطے کی فال نکالنے والا ۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ فال نکلوا لی جائے ۔ پانچ کا سکہ فال والے کے ہاتھ میں دیا اور فال نکلوا لی ۔ فال میں نکلا کہ آپ کی جلد ہی ترقی ہونے والی ہے ۔ انہوں نے جھٹ جیب سے ایک لاکھ روپے نکالے اور فال والے کے ہاتھ میں دھر دیئے ۔ پھر آفس واپس آگئے ۔ اتنے میں باس کو مبشر صاحب کا فون آگیا کہ بھائی آپ کے پیسے تو ابھی تک نہیں پہنچے ۔ باس نے شیخ صاحب کو بلوا لیا ۔
"پیسے کتھے نے پائی جان ؟" باس نے کہا ۔
"وہ تو میں نے مبشر کو دے دیئے ۔" انہوں نے معصومیت سے جواب دیا ۔
"کون سے مبشر کو دیئے ایک لاکھ روپے ۔ اس کا فون آیا ہے ۔ اسے پیسے نہیں پہنچے ۔" باس نے غصے میں کہا ۔
"دیکھیں باس ۔ مبشر کا مطلب ہوتا ہے خوش خبری سنانے والا ۔ مجھے فال والے نے خوش خبری سنائی ۔ میں نے اس کے ہاتھ میں پیسے پکڑا دیئے ۔"
اس کے بعد کیا ہوا یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ۔
آپ خود سمجھدار ہیں ۔
آگے چلیں ۔
قران میں ایسے بہت سے الفاظ ہیں جو نام ہیں اور ان کا آپ ترجمہ نہیں کر سکتے ۔
مثلاً
قران کہتا ہے :

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ  اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ
"تمہارے مردوں میں کسی کے باپ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہیں ۔"
لیکن اب رکیئے ۔
لفظ "محمد" کا مطلب ہے "تعریف کیا گیا" 
اب ذرا اس کا مزید ترجمہ کیجیئے ۔
"تم مردوں میں سے کسی کے بھی باپ تعریف کیے گئے نہیں ۔
اب بتائیں ؟
کر لیا ترجمہ منطق سے ؟
یہاں یہ تاویل بھی نہیں کام کرتی کہ آگے ۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ  النَّبِیّٖنَ آیا ہے ۔ کیوں کہ پھر ترجمے میں محض اتنا فرق پڑے گا کہ تم مردوں میں سے کسی کے بھی باپ  تعریف کئے گئے نہیں مگر ﷲ کے رسول (تعریف کیئے گئے ہیں ) اور خاتم النبین ہیں ۔ اب وہ کون ہیں یہ نہیں پتہ ۔ حدیث میں دیکھنا پڑے گا اور اسی کا انکار ہے ۔
یعنی توراہ کے کتاب ہونے کا انکار اس بنیاد پر کہ اس کا ترجمہ علماء نے نہیں کیا ۔
اور جو شیخ صاحب نے کیا اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اگر توراہ نام کی کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی تو کیا محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) نام کے کوئی نبی بھی نہیں گزرے ؟
کیا احمقانہ بات ہے اور کون لوگ ہیں جو اس شخص کو عالم یا منطقی سمجھ بیٹھے ہیں ؟
یہاں یہ تاویل بھی کام نہیں کرے گی کہ آگے ﷲ تعالی "محمد رسول ﷲ" کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ کیوں کہ ﷲ کا رسول ہو تو وہ تعریف کیا گیا تو ہو گا ہی ۔ یعنی "محمد رسول ﷲ" کا مطلب "ﷲ کا رسول جس کی تعریف کی گئی"
نام کیا ہے ؟
پتہ نہیں ۔
آگے چلیں ۔
سورہ البقرہ آیت 113
وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ  لَیۡسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیۡءٍ ۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰی لَیۡسَتِ الۡیَہُوۡدُ عَلٰی شَیۡءٍ  ۙ  وَّ ہُمۡ یَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ   کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ مِثۡلَ قَوۡلِہِمۡ  ۚ فَاللّٰہُ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾
یہود کہتے ہیں کہ نصرانی حق پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی حق پر نہیں ، حالانکہ یہ سب لوگ کتاب پڑھتے ہیں ۔ اسی طرح ان ہی جیسی بات بے علم بھی کہتے ہیں قیامت کے دن اللہ ان کے اس اختلاف کا فیصلہ ان کے درمیان کر دے گا ۔

اس ایک آیت سے کئی معاملات ایک ساتھ واضح ہو رہے ہیں ۔ شیخ صاحب کہتے ہیں بنی اسرائیل اور اہل کتاب تو ہم ہیں ۔ یہود کے پاس تو کوئی کتاب ہی نہیں ۔ ویڈیو میں واضح کہہ رہے ہیں کہ یہود کے پاس کوئی کتاب ہی نہیں ۔
یہاں ﷲ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے ہیں کہ نصرانی حق پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی حق پر نہیں ، حالانکہ یہ سب لوگ کتاب پڑھتے ہیں ۔

کون سی کتاب ؟
لو دسو ہون ؟
کون سی کتاب کا ذکر ہے یہ ؟
کیا اس آیت میں بنی اسرائیل لکھا ہے یا اہل کتاب لکھا ہے ؟
یہود و نصاری ٰ ہی لکھا ہے یہاں ۔ نہ بنی اسرائیل نہ اہل کتاب ۔
تو اب یہ کون سی کتاب کا ذکر ہے ؟
یہاں ضمناً ایک بات کہہ دوں کہ مفتی صاحب نے گفتگو میں فرمایا کہ ہم یعنی مسلمان اہل کتاب نہیں ہیں ۔
یہ بات میں پہلے بھی ایک پوسٹ میں کافی عرصہ پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اہل کتاب سے مراد ہر وہ امت ہے جسے کوئی نہ کوئی کتاب دی گئی ۔ خواہ وہ اہل قران یعنی ہم ہی کیوں نہ ہوں ۔ مجھے نہیں معلوم مفتی صاحب نے کیوں اس بات کا انکار کیا ۔ مگر اس بات کا انکار نہیں بنتا تھا ۔ نہ ہی اس سے مسلمانوں کے عقائد پر حرف آتا ہے ۔
ہم اہل کتاب بھی ہیں ۔ اہل قران بھی ہیں ۔ اہل ذکر بھی ہیں ۔
بہرحال آگے چلیں ۔
اسی آیت کے آخری حصے میں ﷲ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ 
فَاللّٰہُ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ 
 قیامت کے دن اللہ ان کے اس اختلاف کا فیصلہ ان کے درمیان کر دے گا ۔

شیخ صاحب نے ویڈیو میں مفتی صاحب سے اتنی دیر اس بات پر جرح کی کہ یحکم کا مطلب حکمران ہوتا ہے فیصلہ کرنے والا نہیں ۔
اب یہاں ترجمہ کریں ذرا ۔
پس ﷲ حاکم بنائے گا ان کے درمیان قیامت کے دن اس پر جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں ۔

کس کو حاکم بنائے گا جناب ؟
یہود کو یا نصاریٰ کو ؟
خود ہی دیکھ لیں اب جو ترجمے آپ کرتے پھر رہے ہیں اس کے نتائج ۔

آگے چلیں ۔

کہتے ہیں قران میں بنی اسماعیل کہاں ہیں دکھاؤ مجھے ؟
میں دکھا دیتا ہوں ۔ میں بھی تو کسی مرض کی دوا ہوں ۔
چونکہ شیخ صاحب نے مفتی صاحب سے سارا کلام منطق کی بنیاد پر کیا ہے لہٰذا اب منطق کی دلدل میں شیخ صاحب کو ڈبونا میرا فرض بنتا ہے ۔ ایسا ڈبوؤں گا کہ کڈنا مشکل ہو جائے گا ۔
قران میں صرف دو بنی ہیں بقول شیخ صاحب کے ۔
ایک بنی آدم دوسرے بنی اسرائیل ۔
پہلے تو ان کا ترجمہ کر لیں ۔
بنی آدم کا مطلب آدم کی اولاد اور بنی اسرائیل کا مطلب اسرائیل کی اولاد ۔
اب یہاں دو باتیں ہیں ۔
پہلی یہ کہ ہر شخص چاہے وہ بنی اسرائیل سے ہی کیوں نہ ہو وہ بنی آدم لازمی ہو گا ۔ کیوں کہ بقول قران آدم سے نسلِ انسانی چلی ۔
دوسری بات یہ ہے کہ قران کا صرف دو بنی کا ذکر اس بات پر دلالت نہیں کر سکتا کہ تیسرے کسی بنی فلاں کا کوئی وجود ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ وجود تو لازمی ہے مگر اس کا ذکر نہیں ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ وجود کا انکار کر دیں گے تو بنی اسرائیل پیدا ہونے سے پہلے ہی ناپید ہو جائیں گے ۔ کیوں کہ آدم کے دو بیٹے ہابیل اور قابیل کا ذکر ہمیں ملتا ہے ۔
اب یا تو تسلیم کیا جائے کہ آدم علیہ السلام کے آگے ان کے کسی بیٹے کی نسل آگے نہیں چلی ۔ یعنی بنی آدم صرف ان کے بیٹے کہلائیں گے ۔ پھر یہ سلسلہ بنی اسرائیل تک پہنچ کیسے رہا ہے ؟ یہ منطقی بات ہے کہ اولاد آدم کے بیٹوں کی بھی ہو گی ۔ ہابیل قتل ہو گیا ۔ قابیل کی نسل بنی قابیل کہلائے گی یا نہیں ۔ آدم علیہ السلام کے تمام بچوں کی اولاد صرف بنی آدم نہیں کہلائے گی ۔ ذکر قران صرف بنی آدم کا کر رہا ہے مگر اولاد سب کی ہے ۔ جس کا ثبوت بنی اسرائیل کا بیک وقت بنی اسرائیل اور بنی آدم ہونا ہے ۔ یا تو پھر انکار کریں کہ بنی اسرائیل صرف بنی اسرائیل تھے بنی آدم نہ تھے ؟ کر سکتے ہیں ؟
اب آجایئے بنی اسماعیل کی طرف ۔
قران میں بنی اسماعیل کا ذکر نہیں ہے ۔
ٹھیک ہے ۔
مگر اسماعیل علیہ السلام کا ذکر تو ہے ؟
ان کی اولاد کو بنی اسماعیل نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے ؟
اور اگر بات ایک منطقی ضد کی ہے تو ایک منطقی سوال مجھ سے بھی لیجیئے ۔
قران بنی اسرائیل کے ذکر سے بھرا پڑا ہے ۔
یعنی اسرائیل کی اولاد کے ذکر سے ۔
یہ اسرائیل ہیں کون ؟
کیا یہ کسی نبی کا نام ہے ؟
قران میں اٹھارہ انبیاء کی جو لسٹ آپ نے مرتب کی اس میں تو یہ نام ہی نہیں ؟
آپ کہتے ہیں ہم قرانی آیات سے بنی اسرائیل ڈھونڈیں گے کہ وہ کون ہیں ؟
تسی اولاد بعد اچ لبنا ۔
تسی پہلے اپنا پیو لبو ۔
اسرائیل کون تھے یہ بتایئے مجھے ۔
اب آپ یہ مت کہہ دیجیئے گا کہ اسرائیل کا اصلی نام کچھ اور تھا ۔ کیوں کہ ان کا اصلی نام یا تو احادیث میں آیا ہے جنہیں آپ مانتے نہیں ۔
یا پھر اسی بائبل پرانے عہد نامے میں آیا ہے جس کے بارے میں آپ نے ویڈیو میں کہا کہ وہ تو یہودیوں کی کتاب ہے ۔

فی الحال اتنا کافی ہے ۔ آگے لوگوں کی مشاورت سے چلیں گے کہ اس چول آدمی کو مزید جواب دینے چاہئیں یا نہیں ؟
یہ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ اس تین گھنٹے کی ویڈیو میں جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان کے اتنے تسلی بخش جواب دوں گا کہ منہ چھپانے کر جگہ کم پڑ جائے گی شیخ صاحب کو ۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ اتنی زیادہ احمقانہ باتوں کا علمی جواب بنتا نہیں ہے ۔ جو جواب مجھے دینے پڑ رہے ہیں ان پر مجھے خود شرم آرہی ہے ۔
اس لیئے آگے اس سلسلے کو مشاورت سے چلائیں گے ۔
اگلی پوسٹ آپ کے مشورے سے آئے گی ان شاء ﷲ ۔

1 comment:

  1. سب غلط جواب دے دیا۔ آپ نے ایک جواب مصدق کے ساتھ نہیں دیا۔ فی امان اللہ

    ReplyDelete

قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا

• *قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا* • ایک پوسٹ گردش میں ھے: کہ حضرت عبدﷲ ابن مسعودؓ سے مروی ھے کہ جو بندہ قبرستان جائے اور قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ دع...