Showing posts with label خواتین کے مسائل. Show all posts
Showing posts with label خواتین کے مسائل. Show all posts

Saturday, 20 October 2018

استمرار میں حیض و استحاضہ کی تعیین

سوال: محترم جناب مفتیان کرام! 
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
میری ایام کی تاریخ ہر مہینے کی ١٧ رہی کافی عرصے سے پھر پچھلے مہینے ١٢ کو شروع ہوۓ ایام۔جمعے کو شادی کے بعد اگلے دن یعنی ٢٩ سے مجھے خون آنا شروع ہوا ہے جو کہ جاری ہے تین دن سے۔کیا اس صورت میں نماز پڑھنا جاری رکھوں؟
ابھی تک تمام نمازیں پڑھ رہی ہوں ہر نماز کا نیا وضو کرکے۔
تنقیح:
1.اس میہنے سے مراد ستمبر ہے؟ 
تو اگست اور جولائی کی ختم حیض کی تاریخیں بتائیں۔
2.اس مہینے( ستمبر ) میں 12 کو شروع ہوئے تو کب ختم ہوئے؟
جواب تنقیح:١۔جی
٢۔تیٸس ٢٣ تاریح دونوں مہینوں کی
٣۔١٨ کو ختم ہوۓ تھے
والسلام
الجواب حامداو مصليا
بتائی گئی تفصیل کے مطابق اس ترتیب سے خون آیا:
جولائی   6 دن 
پاکی 25
اگست 6 دن
پاکی 20 دن
ستمبر میں 18 کے بعد چونکہ 29 کو دوبارہ آگیا اور بیچ میں پندرہ دن کی مکمل پاکی نہیں ملی،لہذا یہ لگاتار خون آنے کے حکم میں ہو گا۔
یعنی ستمبر  12 تاریخ سے خون جاری ہے۔
اب مسئلے کا حل ملاحظہ فرمائیں:
1. لہذا 12 ستمبر کو جو خون آیا،پچھلی پاکی سے پانچ دن پہلے آگیا،لہذا ابتدا سے 5 دن یعنی(12 ستمبر تا 17 ستمبر) استحاضہ ہو گا۔
2. پھر 6 دن ( یعنی 17 تا 23) حیض کے دن ہیں۔
3۔ اس کے بعد جو خون آرہا ہے وہ استحاضہ ہے۔لہذا اس دوران نماز پڑھتی رہیں۔یہ یاد رکھیں کہ اگر خون بہت نہیں کہ نماز پاکی سے پڑھنے کا موقع مل جائے گا تو پھر ہر نماز سے پہلے کپڑوں اور جسم کو پاک کرنے کا اہتمام ( پیڈ وغیرہ بدلنا) ضروری ہے۔اسی طرح اگر شرعا معذور نہیں بنی،تو جب بھی خون باہر نکلے گا،وضو ٹوٹ جائے گا۔
4. اصل حیض کے دن 23 کو ختم ہوئے ہیں،لہذا اس تاریخ کو اگر غسل کیا تھا تو پڑھی جانے والی نمازیں درست ہو گئیں۔ورنہ 23 کے بعد جب بھی غسل کیا تھا،اس کے بعد پڑھی جانے والی نمازیں درست ہو گئیں،باقی کا اعادہ لازم ہے۔
 { و ان وقع} نصاب الدم فى زمان العادة{ فالواقع فى زمانها فقط حيض،و الباقى استحاضة،فان كان الواقع} فى……….ولا انتقال اصلا.
( منهل:٤٣)
▪والطهر الناقص كالدم المتوالى لايفصل بين الدمين مطلقا.
( ذخر:٢٢)
▪وما اصاب ثوب المعذور اكثر من قدر الدراهم فعليه غسله ان كان مفيدا،وان كان بحال لو غسله تنجس ثانيا قبل الفراغ من الصلاة جاز أن لا يغسله.
( ذخر:١١٣)
و اللہ سبحانہ اعلم

Friday, 15 December 2017

عورت کا مسنون کفن اور کفنانے کا طریقہ*🌷

🌷 *عورت کا مسنون کفن اور کفنانے کا طریقہ*🌷

سوال: عورت کا مسنون کفن بتا دیں، اور کفنانے کا طریقہ بھی تفصیل سے بتا دیجیے۔

 *الجواب حامداً و مصلیاً* 

عورت کے کفن کے لیے مسنون کپڑے 5 ہیں: 

(1)....ازار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر سے پاؤں تک 

(2)....لفافہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ازار سے لمبائی میں 4گرہ زیادہ 

(3)....کرتہ، بغیر آستین اور بغیر کلی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گردن سے پاؤں تک 

(4)....سینہ بند۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بغل سے رانوں تک ہو تو زیادہ اچھا ہے، ورنہ ناف تک بھی درست ہے۔ اورچوڑائی میں اتنا ہو کہ باندھا جا سکے۔ 

(5)....سر بند، اسے اوڑھنی یا خمار بھی کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تین ہاتھ لمبا

مسئلہ: عورت کو پانچ کپڑوں میں کفنانا مسنون ہے، اور اگر تین کپڑوں (ازار، لفافہ و سربند) میں کفنا دیا تو یہ بھی درست ہے اور اتنا کفن بھی کافی ہے، اس سے کم کفن دینا مکروہ اور برا ہے۔ ہاں! اگر کوئی مجبوری اور لاچاری ہو تو کم بھی درست ہے۔ (بہشتی زیور)

 *کفنانے کا بیان* 

جب میّت کو غسل دے چکیں تو چارپائی بچھا کر کفن کو تین مرتبہ، پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ لوبان وغیرہ کی دھونی دیں، پھر کفن کو چارپائی پر بچھا کر میّت کو اس چارپائی پر لٹا دیں اور ناک، کان اور منہ سے روئی جو غسل کے وقت رکھی گئی تھی اسے نکال دیں، لیکن کفن بچھانے اور میّت کو اس میں کفنانے کا طریقہ مرد و عورت کے لیے کچھ مختلف ہے، سوال کی مناسبت سے عورتوں کو کفنانے کی تفصیل لکھی جا رہی ہے۔

 *عورت کو کفنانے کا طریقہ* 

عورت کے لیے پہلے لفافہ بچھا کر اس پر سینہ بند اور اس پر ازار بچھائیں، پھر قمیص کا نچلا حصہ بچھائیں اور اوپر کا باقی حصہ سمیٹ کر سرہانے کی طرف رکھ دیں۔ پھر میت کو غسل کے تختے سے آہستگی سے اٹھا کر اس بچھے ہوئے کفن پر لِٹا دیں۔ اور قمیص کا جو نصف حصہ سرہانے کی طرف رکھا تھا اس کو سر کی طرف الٹ دیں کہ قمیص کا سوراخ (گریبان) گلے میں آجائے اور پیروں کی طرف بڑھا دیں۔ جب اس طرح قمیص پہنا دیں تو جو تہبند غسل کے بعد عورت کے بدن پر ڈالا گیا تھا وہ نکال دیں اور اس کے سر پر عطر وغیرہ کوئی خوشبو لگا دیں۔ عورت کو زعفران بھی لگا سکتے ہیں۔ پھر پیشانی، ناک، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں پر کافور مَل دیں۔ پھر سر کے بالوں کے دوحصے کرکے قمیص کے اوپر سینے پر ڈال دیں، ایک حصہ داہنی طرف اور دوسرا بائیں طرف، پھر سربند یعنی اوڑھنی سر پر اور بالوں پر ڈال دیں، ان کو باندھنا یا لپیٹنا نہیں چاہیے۔ 

اس کے بعد میّت کے اوپر ازار س طرح لپیٹیں کہ بایاں پلّہ (کنارہ) نیچے اور دایاں اوپر رہے، سربند اس کے اندر آجائے گا، اس کے بعد سینہ بند اس کے اندر آجائے گا۔ اس کے بعد سینہ بند سینہ کے اوپر بغلوں سے نکال کر گھٹنوں تک دائیں بائیں سے باندھیں، پھر لفافہ اس طرح لپیٹیں کہ بایاں کنارہ نیچے اور دایاں اوپر رہے۔ اس کے بعد کتر سے کفن کو سر اور پاؤں کی طرف سے باندھ دیں اور بیچ میں کمر کے نیچے کو بھی ایک بڑی دھجی نکال کر باندھ دیں، تاکہ ہلنے جلنے سے کھل نہ جائے۔(بہشتی زیور، مسافر آخرت)

مسئلہ: بعض لوگ کفن پر بھی عطر لگاتے ہیں اور عطر کی پھریری میّت کے کان میں رکھ دیتے ہیں، یہ سب جہالت ہے، جتنا شریعت میں آیا ہے اس سے زیادہ مت کریں۔ 

(احکامِ میت، 47-48، 54، مکتبۃ الحسن لاہور)

واللہ اعلم بالصواب! 

کتبہ ✍🏻راشد محمود عُفِیٙ عٙنْہ

(سکونِ  دل)


Friday, 1 December 2017

عمرہ می حیض سعی کے دوران حیض Sahi mei haiz menses periods

mujhay ek sawal kerna hai..


haiz ager umrah k duran ajae. 
yani k tawaf ker chukay hai.. aur sai shuro kernay se pehlay...

tuh kia hukum hai??



*باسمہ تعالی*
*الجواب وبہ التوفیق:* 

   ایسی صورت میں کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ھے 
  سعی حالت حیض میں بہی کیحاسکتی ھے۔ 

وﷲ تعالی اعلم

✍🏻 ...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*

جی عمرے پر فرق نہیں آئگا 
کیونکہ وہ طواف بحالت پاکی کر چکی ہیں اب سعی باقی ھے اور حیض آگیا تو حرج نہیں 
حیض کی حالت میں ہی سعی کریں اور عمرہ بالکل صحیح ادا ھوجائگا

Monday, 27 November 2017

Aurat k face chehray ka parda چہرے کا پردہ عورت کے چہرہ کا پردہ

*چہرہ کا پردہ ہے یا نہیں اسکو مدلل ثابت کریں اور نص قطعی سے ثابت ہے یا نہیں* 

*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*

✍ *_الْجَواب حامِداوّمُصلّیاً_*

شرعی پردہ جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے اس کے تین درجے ہیں، اعلیٰ متوسط اور ادنیٰ، اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ خواتین اپنے آپ کو گھر میں اس طرح چھپائیں کہ ان کے جسم کا ظاہری باطنی حصہ کسی اجنبی کو نظر نہ آئے: ?وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ? (احزاب: ۳۳) 
یہ حکم ازواجِ مطہرات کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جمیع موٴمنات ومسلمات کے لیے ہے۔ ?وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ? (احزاب: ۵۳) ?

وعن ابن مسعود أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: المرأة عورة فإذا خرجت استشرفہا الشیطان أخرجہ الترمذي?

 لیکن عورت کو کبھی طبعی حوائج یا دیگر شرعی ضروریات کے لیے باہر نکلنا ناگزیر ہوجاتا ہے، اس وقت اس کو حکم دیا گیا کہ باہر نکلتے وقت اپنے اوپر ایسی چادر ڈالیں جس سے ان کے بدن کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہو یہ دوسرا درجہ ہے اور اس پر قرآن کی آیت: ?یَآ اَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِاَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَآءِ الْمُوٴْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلاَبِیْبِہِنَّ? 
(احزاب: ۵۹) دال ہے۔ 
اس آیت کا مقتضی یہ ہے کہ عورت اپنا سارا بدن حتی کہ چہرہ بھی چھپائے اس آیت سے معلوم ہوا کہ چہرہ کا پردہ کرنا نص قطعی سے ثابت ہے۔ عربی میں جلباب اس چاردر کو کہا جاتا ہے جو پورے جسم کو چھپالے، چناں چہ ابن سیرین نے عبیدہ سلمانی سے اس آیت کے متعلق استفسار کیا تو انھوں نے اپنی چادر اٹھاکر اپنے کو اس میں لپیٹ لیا اور پورا سر پلکوں تک چھپالیا اور اپنا چہرہ بھی ڈھانپ لیا البتہ صرف اپنی بائیں آنکھ بائیں کنارے سے نکال لی۔ (روح المعانی) بہ ہرحال یہ آیت اس امر پر دلالت کررہی ہے کہ عورت جب باہر نکلے تو ایک چادر اپنے اوپر ڈال کر اپنے سارے جسم کا پردہ کرے حتی کہ اپنے چہرہ کا بھی۔

تیسرا درجہ یہ ہے کہ: عورت گھر سے نکلے تو بوقت ضرورت اپنے ہتھیلیوں اور چہرہ کو کھول دے بہ شرطیکہ فتنہ سے مامون ہو: ?
وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا? (نور: ۳۱) 
ماظہر کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے، صحابہٴ کرام میں سے حضرت ابن عباس، ابن عمر، عائشہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک اس سے مراد ?وجہ اور کفین? ہے۔ حضرت عطاء، عکرمہ، ابراہین نحخعی اور ضحاک رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ البتہ ابن مسعود رضی اللہ اس آیت سے جلباب اور رِدا مراد لیتے ہیں، مگر قول اول پر بہت سی احادیث دلالت کرتی ہیں۔ ابوداوٴد اور ترمذی میں اس قسم کی احادیث موجود ہیں، اب بہ وقت ضرورت اس کو کھولنے کی اجازت ہے، مگر اس کو دیکھنے کے سلسلے میں مذاہب اربعہ اس بات پر متفق ہیں کہ لذت حاصل کرنے کی نیت سے یا بہ وقتِ اندیشہٴ فتنہ چہرہ کی طرف دیکھنا حرام ہے۔ حنابلہ شافعیہ کے مذاہب میں راجح بات یہ ہے کہ امن کے وقت بھی چہرہ کا دیکھنا حرام ہے۔ البتہ فتنہ سے امن اور لذت کا قصد نہ ہونے کی صورت میں مالکیہ اور حنفیہ نے دیکھنے کی اجازت دی ہے، مگر اس زمانہ میں اس کا پایا جانا بہت مشکل ہے اور اکثر احوال میں یہ شرط پائی نہیں جاتی اس لیے متأثرین حنفیہ نے مطلقاً عورت کے چہرہ کی طرف دیکھنے سے منع فرمایا:
 ?فإن خاف الشہوة أو شک امتنع نظرہ إلی وجہہا فحِل النظر مقید بعد الشہوة وإلا فحرام، وھذا في زمانہم أما في زماننا فمَنَع من الشابة ․ 
(در مختار مع الشامي:۹/۵۳۲، کتاب الحظر والإباحة، باب النظر والمس، ط: زکریا دیوبند) 

اس سے یہ واضح ہوگیا کہ: فی زماننا جو عورت بلاضرورت اپنا چہرہ کھولے گی اس پر بے پردہ عورت کے سلسلے میں جو وعیدیں آئی ہیں، اس پر صادق ہوں گی، چہرہ کا پردہ بھی نص قطعی سے ثابت ہے، مگر بہ وقت ضرورت اس کو کھولنے کی اجازت ہوگی، جیسا کہ آیت قرآنیہ میں موجود ہے۔
*_فقط وَاللہ اَعْلَمُ_*
 *_مُحمَّدشُعَیْب عُثْمانِی عفی اللہ عنہ_*‌
 *_دارُالافتاء عشرہ مُبشّرہ چمن 🇵🇰_*

Saturday, 25 November 2017

مہندی پاکی نا پاکی Mehendi نا پاک مہندی لگالی تو پاکی کیسے ہو

*نا پاک مہندی لگالی تو پاکی کیسے ہو؟*

*سوال(۷):-*
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ مٹی کے تیل میں چھپکلی گرگئی تھی تو ہم نے وہ تیل مہندی میں ملالیا اور پھر وہ مہندی ہاتھوں میں رچالی، تو کیا اب مہندی کے رنگ کو ہاتھوں سے ختم کئے بغیر نماز پڑھی جائے تو کیا نماز ہوجائے گی؟

*باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ*
*الجواب وباللہ التوفیق:*مسئولہ صورت میں جب اصل مہندی ہاتھ سے چھٹالی جائے اور ہاتھ کو اچھی طرح پاک کرلیا جائے تو نماز پڑھنا درست ہوجائے گا، مہندی کا رنگ مٹانا ضروری نہیں ہے۔
       *📚  والدلیل علی ما کتبت  📚*
والمعنی في ذٰلک الحرج، بیانہ: أن المرأۃ إذا اختضبت یدہا أو رأسہا بحناء نجسۃ لو شرطنا زوال الأثر لثبوت الطہارۃ لتقاعدت عن الصلاۃ زماناً کثیراً وفیہ من الحرج ما لا یخفی۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۱؍۴۴۹ رقم: ۱۱۷۱ زکریا)
ویطہر متنجس بنجاسۃ مرئیۃ بزوال عینہا ولو بمرۃ علی الصحیح ولا یضر بقاء أثر کلون أوریح۔ (طحطاوي علی المراقي ۱۶۰، نور الإیضاح ۵۴) 

*فقط وﷲ تعالیٰ اعلم*
*کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ*
*۲۲؍۶؍۱۴۲۵ھ*

زیب و زینت کے مسائل 19 قسط Beauty related

# فقہیات #

*=== زیب و زینت کے مسائل ===*
           (انیسویں قسط)

*بیوٹی پارلر کی شرعی حدود!*
واضح رہے کہ زیب و زینت اور بناؤ سنگھار عورت کا فطری حق ہے، بناؤ سنگھار کرنا عورت کیلئے اس کی فطرت کے عین مطابق ہے، اسلام عورت کی اس فطری خواہش کا مخالف نہیں ہے، مگر اس زیب و زینت، اور بناؤ سنگھار میں شرعی حدود و قیود سے تجاوز کرنا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں سے انحراف کرنا ہرگز درست نہیں، خواتین کے لئے بناؤ سنگھار اور زیب و زینت اختیار کرنے میں شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور اس بات کا اہتمام کرنا ضروری ہے کہ ان کے کسی طرز عمل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضگی لازم نہ آئے، زیب و زینت اور بناؤ سنگھار میں شریعت کی مقرر کردہ حدود یہ ہیں کہ جن امورکی شریعت میں قطعی طور پر ممانعت ہے، انہیں کرنا کسی صورت میں عورت کے لئے جائز نہیں، چاہے وہ شوہر ہی کیلئے کیوں نہ ہو، مشکوۃ المصابیح کی حدیث ہے:
*لاطاعة لمخلوق فی معصیة الخالق* (کتاب الامارۃ والقضاء، الفصل الثانی:۲؍۳۲۱ قدیمی کراچی)
یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں ہے، اسی طرح بناؤ سنگھار کے جو امور شرعی حدود اور جائز درجہ میں ہیں، ان میں بھی مقصود شوہر کو خوش کرنا ہو نہ کہ دوسری عورتوں اور نامحرم مردوں کو دکھانا یا ان کے سامنے اترانا ہو!!
اگر شوہر کو خوش کرنے کے لئے بناؤ سنگھار کرے گی تو عورت کو ثواب ملے گا اور اگر نامحرم مردوں کو دکھانے یا فخر کی نیت سے بناؤ سنگھار کرے گی تو گناہ گار ہوگی، چنانچہ موجودہ دور میں بیوٹی پارلر کے نام سے عورتوں کے بناؤ سنگھار کے جو ادارے قائم ہیں، ان میں بعض جائز امور کے ساتھ ساتھ بہت سے خلاف شریعت امور کا ارتکاب بھی ہوتاہے، جو امور ناجائز، گناہ اور موجب لعنت ہیں ان سے بچنا از حد ضروری ہے، ان خلافِ شریعت امور کا ارتکاب کرنے اور کرانے والی دونوں عورتیں گناہ گار ہوں گی۔
البتہ اگر شرعی حدود میں رہتے ہوئے بیوٹی پارلر میں صرف جائز امور کا اہتمام کیا جائے تو صحیح ہے۔

ذیل میں ان تمام کاموں کو تفصیل سے ذکر کیا جاتا ہے جو کسی پارلر میں ہوتے ہیں یا سنگھار کا ذریعہ ہیں اور ساتھ ساتھ ان کےشرعی احکام کو بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ ان میں سے کون سی چیزوں کو کرنا جائز ہے اور کون سی ناجائز، ایک پارلر بھی شرعی خطوط پر کام کرسکتا ہے اگر اس میں ان تمام امور کا لحاظ رکھا جائے جن کا حکم اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ نے دیا ہے۔

📌 *خواتین اور نابالغ بچیوں کے بال کاٹنا :*
خواتین کا اپنے سر کے بالوں کو کٹوانا یا کتروانا خواہ کسی بھی جانب سے ہو مردوں کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے ناجائز اور گناہ ہے، حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت ہے،  مشکوۃ المصابیح میں ہے کہ: 
*لعن ﷲ المتشبهین من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال* (باب الترجل، الفصل الأول: ۲؍۳۸۰ قدیمی)
اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کر تی ہیں ...... ایک جگہ ارشاد ہے:
*نہی رسول اللہ ﷺ أن تحلق المرأۃ رأسہا* (باب الترجل، الفصل الثالث: ۲؍۳۸۴)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ  نے منع فرمایا ہے اس بات سے کہ عورت اپنا سر منڈوائے، لہذا عورتوں کے لئے سر کے بال کٹوانا یا ترشوانا جائز نہیں، البتہ کسی عذر یا بیماری کی وجہ سے بالوں کا ازالہ ناگزیر ہوجائے تو پھر شرعی عذر کی بنا پر بقدر ضرورت بالوں کا کاٹناجائز ہے، لیکن جیسے ہی عذر ختم ہوجائے اجازت بھی ختم ہوجائے گی، جیساکہ شامی میں ہے:
*قطعت شعر رأسہا اثمت ولعنت زاد فی البزازیة وان بإذن الزوج لانه لاطاعة لمخلوق فی معصیة الخالق* (کتاب الحظر و الاباحة فصل فی البیع: ۶؍۴۰۷ سعید)

خلاصة الفتاوی میں ہے:
*المرأۃ إذا حلقت رأسہا إن کان لوجع أصابہا لابأس به وإن کان للتشبه بالرجال یکرہ* (الفصل التاسع فی المتفرقات:۴؍۳۷۷ رشیدیہ)
یہی حکم بالغ اور قریب البلوغ لڑکیوں کا ہے کہ ان کے بال کٹوانا جائز نہیں، البتہ ایسی بچیاں جو چھوٹی ہوں، قریب البلوغ نہ ہوں تو خوبصورتی یا کسی اور جائز مقصد کے لئے ان کے بال کٹوانا جائز ہے، تاہم ارادی طور پر کفار یا فساق کی مشابہت سے بچنا چاہیئے۔

📌 *بالوں کو کالے خضاب کے علاوہ کسی اور رنگ سے رنگنا :*
بیوٹی پارلر میں خواتین کے بالوں کو خوبصورت کرنے کے لئے بلیچ کرکے پھر دوسرے رنگ (کالے خضاب کے علاوہ) سے رنگا جاتاہے تو اگر یہ کام شرعی حدود میں رہتے ہوئے کیا جائے تو شرعاً اس میں مضائقہ نہیں۔

📌 *بالوں کا مختلف اقسام سے سنوارنا مثلا چوٹی یا جوڑے کی شکل میں بنانا :*
خواتین کے لئے سر کے بالوں کو کاٹے بغیر مختلف ڈیزائن سے سنوارنا مثلاً چوٹی وغیرہ کی شکل میں بنانا جائز ہے، البتہ کوہان کی شکل کا جوڑا بنانا ناجائز ہے، جیسا کہ حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے، البتہ اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کافرہ و فاسقہ عورتوں کی مشابہت مقصود نہ ہو، محض اپنا یا اپنے شوہر کا دل خوش کرنے کے لئے ایسا کیا جائے۔

📌 *فیشل یعنی صفائی کے لئے مختلف کریموں سے چہرے کی مالش کرنا اور ہاتھوں اور پیروں کی مالش کرنا :*
زینت کے لئے چہرے یا ہاتھ پاؤں کا فیشل کروانا شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے جائز ہے۔

📌 *دھاگے یا کسی آمیزے سے بھنووں کا خط بنوانا :*
عورتوں کے لئے بھنویں بنانا (دھاگہ یا کسی اور چیز سے) جائز نہیں ہے، حدیث شریف میں ایسی عورتوں پر لعنت آئی ہے اور ایسا کرنا تغییر لخلق اللہ کے زمرہ میں آتاہے، جیسا کہ مشکوۃ المصابیح میں حدیث ہے :
*لعن اللہ الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة* (باب الترجل ،الفصل الأول ۲؍۳۸۱ قدیمی)
البتہ قینچی کی مدد سے کم کرسکتی ہے، جبکہ مخنث کی مشابہت نہ ہو، جیساکہ شامی میں ہے:
*ولابأس بأخذ الحاجبین وشعر وجهه ما لم یشبه المخنث* ( کتاب الحظروالاباحة فصل فی النظر والمس:۶؍۳۷۳  سعید)

📌 *ہاتھ پیر کے بال چکنے آمیزے کی مدد سے اتارنا اور چہرے کے زائد بال مثلا داڑھی، مونچھ، رخسار، پیشانی آمیزے یا دھاگے کی مدد سے اتارنا :*
خواتین کو اپنے چہرے کے غیرمعتاد بال مثلا داڑھی، مونچھ، پیشانی وغیرہ کے بال یا کلائیوں اور پنڈلیوں کے بال صاف کرنا جائز ہے، البتہ ان زائد بالوں کو نوچ کر نکالنا مناسب نہیں، کیونکہ اس میں بلاوجہ اپنے جسم کو اذیت دینا ہے، کسی کریم، پاؤڈر وغیرہ کے ذریعہ صاف کرلیا جائے تو زیادہ بہتر ہے، جیساکہ شامی میں ہے:
(والنامصة الخ).... ولعله محمول علی ما اذا فعلته للتتزین للاجانب والا فلو کان فی وجهها شعر ینفر زوجہا عنہا بسببه ففی تحریم ازالته بعد، لان الزینة للنساء مطلوبة للتحسین الا أن یحمل علی مالا ضرورۃ إلیه لما فی نتفه بالمنماص من الایذاء وفی تبیین المحارم إزالة الشعرمن الوجه حرام الا إذا نبت للمراۃ لحیة او شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب (المرجع السابق:۶؍۳۷۳)

📌 *دلہن کا سنگھار کرنا :*
کسی بھی دلہن کو تیار کرنا اور اس کا سنگھار کرنا جائز ہے جب تک کسی غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جائے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ خواتین کا خواتین سے جائز زیب و زینت اور بناؤ سنگھار کرانا (جن میں شرعی حدود وقیود کا لحاظ رکھا جاتا ہو) جائز ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ یہ زیب و زینت غلط مقصد کے لئے نہ ہو، اگر غلط مقصد کے لئے ہو مثلا نامحرم مردوں کو دکھانے یا اترانے لئے ہو تو ناجائز ہے۔
(مستفاد از فتاوی بینات جلد ۴، مطبوعہ بابت ماہ رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ بمطابق نومبر ۲۰۰۴ء)

*ناشر : دارالریان کراتشی*

Friday, 24 November 2017

Ghusal Bath غسل

India
Question: 7331

غسل کتنے طریقوں سے فر ض ہوتاہے؟ برائے کرم جلد جواب عنایت فرماویں۔
Oct 15,2008
Answer: 7331

فتوی: 1444=1359/ د



(۱) بیداری یا نوم میں شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا۔

(۲) قبل (عورت کی شرم گاہ) دبر پیچھے کے راستہ میں ذکر کی سپاری کا داخل ہوجانا۔

(۳) عورت کے لیے حیض و نفاس کا بند ہونا۔

یہ امور غسل کو فرض کرنے والے ہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

شادی کی پہلی رات Shadi ki pehli raat Marriage first night

Pakistan
Question: 24962
شادی کی پہلی رات کو ہمبستری کے بعد اگر خون نہ آئے تو کیا یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ بیوی کا کردار صحیح نہیں۔ بیوی کی عمر ۲۲ اور ۲۳ کے درمیان ہے، نیز لڑکی کی عمر ۱۷ سال ہے۔ یا اس میں عمر کی قید ہے اگر ہے تو کتنا کہ اتنے عمر کے بعد خون کا آنا ضروری نہیں، خون سے مراد میرا حیض والا خون نہیں بلکہ ہمبستری کے بعد پہلی بار کو جو خون آتا ہے، اگر جواب ای میل کے ذریعے دے سکتے ہیں تو مہربانی ہوگی، مہربانی فرماکر جلد سے جلد جواب دینے کی کوشش کیجیے گا، اگر خط میں کوئی غلطی ہو یا میرے الفاظ نامناسب ہوں تو اس کے لیے معافی کا خواستگار ہوں۔ شکریہ
Sep 28,2010
Answer: 24962
فتوی(ھ): 1966=1400-10/1431

پہلی مرتبہ یا کسی بھی مرتبہ ہمبستری کے بعد خون کا آنا لازم نہیں، عمر سے بھی اس کا کچھ تعلق نہیں اور خون کے آنے نہ آنے سے بیوی کے کردار کے اچھے یا برے ہونے کا بھی حکم لاگو نہیں ہوتا۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

Likoria لیکوریا

*بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم* 

*الجواب حامداومصلیا*

اس *مرض میں خارج ہونے والا پانی ناپاک ہوتا ہے، جو کپڑا اس سے آلودہ ہوجائے اس میں نماز نہ پڑھی جائے، البتہ کپڑے کے ناپاک حصے کو دھوکر پاک کرلیا جائے تو اس میں نماز دُرست ہے۔*

*جہاں تک نماز لوٹانے کا تعلق ہے، اس کے لئے معذور کا مسئلہ سمجھ لینا چاہئے۔ جس شخص کا کسی مرض کی وجہ سے وضو نہ ٹھہرتا ہو، وہ معذور کہلاتا ہے۔ ایک شرط معذور بننے کے لئے ہے، اور ایک معذور رہنے کے لئے۔ معذور بننے کے لئے شرط یہ ہے کہ نماز کے پورے وقت میں اس کو اتنی مہلت نہ ملے کہ وہ طہارت کے ساتھ نماز پڑھ سکے، ایسے شخص کا حکم یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے وقت ایک بار وضو کرلیا کرے، جب تک وہ وقت باقی ہے، اس خاص عذر کی وجہ سے اس کا وضو ساقط نہیں ہوگا، جب وقت نکل جائے تو دوبارہ وضو کرلے۔ جب کوئی شخص ایک بار معذور بن جائے تو اس کے معذور رہنے کی حد یہ ہے کہ وقت کے اندر اس کو کم از کم ایک بار یہ عذر پیش آئے، اگر پورا وقت گزر گیا اور اس کو یہ عذر پیش نہیں آیا، تو یہ معذور نہیں ہے۔*

*پس جن خواتین کو ایام سے پاک ہونے کے بعد لیکوریا کی اتنی شدّت ہو کہ وہ پورے وقت کے اندر طہارت کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتیں، ان پر معذور کا حکم جاری ہوگا، اور ان کو ہر نماز کے وقت ایک بار وضو کرلینا کافی ہوگا، لیکن اگر اتنی شدّت نہ ہو تو وہ معذور نہیں، اگر وضو کے بعد نماز سے پہلے یا نماز کے اندر پانی خارج ہوجائے تو ان کو دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھنا ضروری ہوگا۔*

 ‌
سوال:  عورتوں کو لیکوریا کی بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے رحم سے سفید پانی رستا رہتا ہے۔  (۱)  کیا یہ سفید پانی نجاست خفیفہ ہے یا کہ نجاست غلیظہ؟  (۲)  اگر کسی عورت کو یہ بیماری ہو اور وہ نماز بھی پڑھتی ہو، چونکہ پانی رسنے کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہوتا تو کیا اس پانی کی وجہ سے کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں؟  (۳)  باوضوء ہونے کی صورت میں یہ پانی نکلے تو کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟  (۴)  اگر نماز کی ادائیگی کے دوران پانی نکل آئے تو کیا نماز ہو جاتی ہے؟  (۵)  اگر نماز نہیں ہوتی تو اس سلسلے میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے کہ نماز ضائع نہ ہو؟  (۶)  شرعاً کیا اس قسم کے مریض کو، معذور سمجھا جائے گا؟  جواب:  (۱)  لیکوریا کی بیماری میں جو پانی خارج ہوتا ہے وہ چونکہ رحم سے خارج ہوتا ہے اس لئے وہ مذی کی طرح نجاست غلیظہ ہے۔  و لیس ھو فی حکم رطوبۃ الفرج الداخل کما فی امداد الفتایٰ:  ۱/۶۵  و  ۷۴۔  (۱)  (۲)  اس سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں (۲)۔  (۳)  اس کے نکلنے سے وضوء بھی ٹوٹ جاتا ہے (۳) (۴)  نماز نہیں ہوگی الا یہ کہ معذوری کی وہ صورت ہوجائے جو نمبر ۵ و ۶ کے جواب میں آرہی ہے۔  (۵-۶)  اگر یہ پانی ہر وقت بہتا رہتا ہے اور اتنا وقفہ بھی نہیں ملتا کہ اس میں چار رکعت نماز ادا کی جا سکے تو پھر یہ عورت "معذور " کے حکم میں ہے۔ ایسی عورت کے لئے جائز ہے کہ وہ ہر نماز کا وقت داخل ہونے پر وضوء کر لے اور اس سے جتنی چاہے نمازیں نوافل وغیرہ پڑھتی رہے جب تک اس نماز کا وقت رہے گا۔ اس کا وضوء سیلان کا پانی نکلنے سے نہیں ٹوٹے گا، پھر جب دوسری نماز کا وقت آئے تو اس کے لئے نیا وضوء کرے (۴)۔                           و اللہ سبحانہ اعلم۔-----------------------------------(۱)  و فی الدر المختار  ۱/۳۱۳:  ای رطوبۃ الفرج فیکون مفرعا علی قولھما بنجاستھا، وقال ابن عابدینؒ  تحتہ:  و من وراء باطن الفرج فانہ نجس قطعا ککل خارج من الباطن عادین کالماء الخارج مع الولد او قبلیہ۔

 *_وَاللہ اَعْلَمُ_*

 *_مولانا حفیظ الرحمن جمشید عفی اللہ عنہ_*
📕📘📔📗📒📙📓📚

Likoria لیکوریا

لیکوریا، کے پانی کا حکم اور اس سے متعلق متعدد مسائل
سوال: عورتوں کو لیکوریا کی بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے رحم سے سفید پانی رستا رہتا ہے۔
(۱) کیا یہ سفید پانی نجاست خفیفہ ہے یا کہ نجاست غلیظہ؟
(۲) اگر کسی عورت کو یہ بیماری ہو اور وہ نماز بھی پڑھتی ہو، چونکہ پانی رسنے کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہوتا تو کیا اس پانی کی وجہ سے کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں؟
(۳) باوضوء ہونے کی صورت میں یہ پانی نکلے تو کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
(۴) اگر نماز کی ادائیگی کے دوران پانی نکل آئے تو کیا نماز ہو جاتی ہے؟
(۵) اگر نماز نہیں ہوتی تو اس سلسلے میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے کہ نماز ضائع نہ ہو؟
(۶) شرعا کیا اس قسم کے مریض کو، معذور سمجھا جائے گا؟
جواب: (۱) لیکوریا کی بیماری میں جو پانی خارج ہوتا ہے وہ چونکہ رحم سے خارج ہوتا ہے اس لئے وہ مذی کی طرح نجاست غلیظہ ہے۔ و لیس ھو فی حکم رطوبۃ الفرج الداخل کما فی امداد الفتایٰ: ۱/۶۵ و ۷۴۔ (۱)
(۲) اس سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں (۲)۔
(۳) اس کے نکلنے سے وضوء بھی ٹوٹ جاتا ہے (۳)۔
(۴) نماز نہیں ہوگی الا یہ کہ معذوری کی وہ صورت ہوجائے جو نمبر ۵ و ۶ کے جواب میں آرہی ہے۔
(۵-۶) اگر یہ پانی ہر وقت بہتا رہتا ہے اور اتنا وقفہ بھی نہیں ملتا کہ اس میں چار رکعت نماز ادا کی جا سکے تو پھر یہ عورت "معذور " کے حکم میں ہے۔ ایسی عورت کے لئے جائز ہے کہ وہ ہر نماز کا وقت داخل ہونے پر وضوء کر لے اور اس سے جتنی چاہے نمازیں نوافل وغیرہ پڑھتی رہے جب تک اس نماز کا وقت رہے گا۔ اس کا وضوء سیلان کا پانی نکلنے سے نہیں ٹوٹے گا، پھر جب دوسری نماز کا وقت آئے تو اس کے لئے نیا وضوء کرے (۴)۔
و اللہ سبحانہ اعلم
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
۱۴-۲-۱۳۹۷ھ

قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا

• *قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا* • ایک پوسٹ گردش میں ھے: کہ حضرت عبدﷲ ابن مسعودؓ سے مروی ھے کہ جو بندہ قبرستان جائے اور قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ دع...