Showing posts with label مضمون تحریریں مصنف. Show all posts
Showing posts with label مضمون تحریریں مصنف. Show all posts

Saturday, 16 December 2017

حقیقت دو لوگوں میں گفتگو

◾حقیقت ◾

  یار مجھے تمہارے مذہب اور دھرم کے لڑکے اچھے لگتے ہیں, کیا ہیئر اسٹائل ھے,  ہینڈسم اسمارٹ لک, ایک الگ ہی بات ہوتی ھے, تیز طرار , بات کرنے کا اسٹائل بہی بہت عمدہ ہوتا ھے,
اگر میرا بس چلے گا تو میں تمہارے دھرم کے لڑکے سے شادی کرونگی,  بھوپال ڈیویژن کالج کی دو کلوز فرینڈ پوجا تیواری اپنی بیسٹ فرینڈ عالیہ خان کو اپنے دل کی بات بتارہی تہی تبہی درمیان میں عالیہ بول اٹھی : لیکن مجھے مسلم لڑکے بالکل پسند نھیں ھیں؛ شادی کے بعد بالکل بدل جاتے ہیں پردہ کرو نماز پڑھو صبح جلدی اٹھو , ساس سسر ہوں تو ان کی عزت کرو! مائی فٹ!!!
 پوجا: تو اس میں برائی کیا ھے؟ یہ تو سلیقہ اور ادبی بات ھے , 
عالیہ: مجھے آزادی پسند ھے , کسی طرح کا بندش نہ ہو ۔ نہ ساس سسر کی جھک جھک نہ اردہ نہ پردہ, شوہر ہو اسکے ساتھ تابع داری ہو , کسی سے ملنے جلنے پر روک ٹوک نہ ہو , ہر روز پارٹی ہو, شور شرابہ ہو صبح دیر تک سونا ملے,
   پوجا: چل بس کر! اب کلاس کا وقت ہوگیا ھء تو کرلینا میرے دھرم میں شادی لیکن ابہی مجھے معاف کر, ہر جگہ لیکچر شروع کردیتی ھے, ابہی کلاس میں جاکر بہی لیکچر سننا ھے۔

   عالیہ کا گھر ایک ویل ایجوکیٹیڈ فیملی سے تہا جہاں سبہی آزاد خیال لوگ تہے. عالیہ نے اپنی خواہش کئی بار گھر والوں کو بتائی ؛لیکن گھر والے ہمیشہ ہنسی مذاق میں لیتے تہے, اور خود بہی بولڈ نیس کو ترجیح دیتے تہے, پردے اور دین دھرم سے دوری بنائے رکھتے تھے, گھر میں دو بہائی تہے سیف اور کیف   جنکو اپنے دوستوں یاروں سے فرصت نہ تہی کہ بہن پر نظر رکہتے. ماں کو اپنی ایجوکیشن پر گھمنڈ تہا تو اسلام کو اپنے طور پر ڈفینس کرتی تہی کہ عالم کو بھی فتوے دیدے!
   اللہ نے یہ کب کہا ھے: کہ گھر میں قید ہوکر بیٹھے رہو! جس سے پردہ ہو کرلے اور جو نہ کرے اسکو سہولت دی ھے  یہ عالم لوگ بہی صرف ڈرانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں, 

  وقت گزرتا رہا اور وہی ہوا جسکا ڈر تہا عالیہ نے ایک غیر مذہبی لڑکے سے شادی کرلی! 
  خاندان والوں نے طعنے کسے جنکو عالیہ کے والدین ڈفینس کرتے رہے؛ ان کی نظر میں یہ اتنا برا عمل نہ تہا اس زمانے میں اسی سوسائٹی کی ضرورت ھے کہ ہر دھرم کے لوگ اس راستے سے ایک دوسرے کے قریب آیئں!

   بہر حال  وقت گزرا آج عالیہ کی شادی کی پانچویں سال گرہ تہی , آج عالیہ دنیوی لحاظ سے بہت کامیاب ترین عورت تہی شوہر کا خود کا کامیاب بجنیس تہا, جس میں 300 ایمپلائز کام کرتے تہے,
 آج شہر کے بڑے نامور حضرات اس پارٹی میں شریک تہے,  مہمانوں کا جم غفیر تہا اور عالیہ تمام مہمانوں کا خاص خیال رکھ رہی تہی,  تبہی اسکو ایک کونے میں باپردہ برقع پوش خاتون نظر آئی جو ایک دیوار کی جانب منہ کئے بیٹھے تہی,عالیہ نے بڑے غور سے دیکھا  اور پاس جاکر معلوم کیا کہ آپ نے کہانا کہایا؟
   تو خاتون نے اثبات میں سر ہلایا ۔
  عالیہ: آپ برقعہ میں کیوں بیٹھی ہیں؟ اس دم گھٹنے والے لباس سے باہر آئے ۔دیکھئے ماحول کتنا حسین ھے, ہر طرف لوگ ہنسی خوشی ایک دوسرے سے مل رھے ہیں, گپ شپ میں مصروف ہیں, پارٹی سے فل انجوائے لے رہے ہیں, شراب و کباب ہاتھ میں ہیں,  اور ایک آپ ہیں جو دقیانوسی لباس میں ملبوس نمونہ بنی بیٹھی ہیں 
لوگ آپ کو مذاق والی نظروں اور توہین آمیز نگاہوں سے دیکھ رھے ہیں!

   پھر کچھ سوچ کر عالیہ بولی: سمجھ گئیں تمہارے شوہر نے تمکو اس قید میں مقید کیا ہوا ھے, چلو میں آپ کو آزاد کئے دیتی ہوں. یہ کہتے ھوئے عالیہ نے اس خاتون کے چہرے سے نقاب اٹھایا تو اس کی حیرت سے چیخ نکل گئی !
   پوجا تم!? 
 پوجا : نہیں میرا نام عائشہ اسلم ھے ۔
عالیہ حیرانی سے کہنے لگی کہ تم نے مسلمان سے شادی کرلی؟
 میں تو اس مصیبت سے بہاگ آئی تہی لیکن تو کیسے پھنس گئی؟
  عائشہ: پھنسی نہیں ھوں میں بلکہ بچ گئی ہوں؛ لیکن عالیہ تم ضرور خسارے میں دکھ رہی ہو! 
   عالیہ نے کھل کھلا کر کہا : دیکھو! میرے پاس آج کیا کچھ نہیں ھے؟  یہ سوسائٹی  یہ نام و شہرت  یہ عزت یہ پیسہ 
 سارا شہر سر جہکاکر مجھے  مسیز ترپھاٹی کہہ کر بلاتا ھے۔

 عائشہ: ٹھیک ھے آج تم اس زندگی کو کامیاب کہہ رہی ہو ؛ لیکن اس کے بعد کی زندگی کا کیا ہوگا؟ جہاں سب کو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ھے, تم نے دنیوی کامیابی کے لیے اخروی کامیابی کو ٹھکرادیا ھے.
   عالیہ: ارے کون سی کامیابی؟ دیکھو میرا شوہر آج مجھ پر نہ سختی کرتا ھے تہ پردہ وغیرہ کی پابندی ھے جو کہانا پہننا یا ملنا جلنا ھے سب میں ہی طے کرتی ہوں ۔ تمہارے شوہر نے تو تمکو برقعہ کی زنجیروں میں مقید کیا ہوا ھے آخر کون ہیں تمہارے شوہر نامدار!
     عائشہ: میرے شوار تمہاری کمپنی کے سپر وائزر ہیں اور میں ان کی نظر میں ایک بیش قیمت جوہر ہوں جسے وہ چھپا کر رکھتے ہیں۔
    اور رہ مجھے پردے کے لیے مجبور نہیں کرتے یہ تو مجھے اسلام اپنانے کے بعد معلوم ہوا کہ اسلام ایک کوہینور کا ہیرا ھے   تم نے اس کی کوئی قدر نہ کی ۔یہ دولت مجھ فقیر کو مل گئی اور اس نے میری قدر بڑھادی۔
    اور حس حجاب کو تم قید کہہ رہی ہو تو سنو! یہ عورت کی زینت ھے, اسلام کی شہزادیوں کے لیے اللہ کا ایک عظیم انعام ھے!
    میرے رب کریم نے مجہکو باپردہ رہنے کا حکم فرمایا, میرے جسم و آواز لباس غرضیکہ ہر چیز  کا پردہ بتایا۔
  تاآنکہ میرے نام کا بھی پردہ ھے  اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فقط حضرت مریم کے کسی خاتون کا نام نہ لیا؛ بلکہ اشارہ و کنایہ میں خواتین کا ذکر فرمایا۔ مریم کا ذکر صراحتا ایک مصلحت کی بنا پر کیا ھے۔
   تم کیا سمجہتی ہو کہ حجاب میرے لیے قید اور رکاوٹ ھے؟  
   اسی حجاب میں رہ کر ام المؤمنین حضرت عائشہ رض نے ٢٢ ہزار احادیث کا ذخیرہ امت مسلمہ کو عطا فرمایا,  رسول خدا کی دختر حضرت فاطمہ رض نے تو بعد وفات بہی حجاب ترک نہ کیا کہ جنازہ بہی باپردہ نکلا,  اور سب سے قیمتی بات دنیا کی ہر قیمتی چیز کو چھپا کر رکہا جاتا ھے ۔شمع محفل نہیں بنایا جاتا!
  جبکہ کوڑے و کباڑ کو باہر سر عام ڈال دیا جاتا ھے جسکو ہر کسی کے پاؤں روندتے جاتے ہیں,
      چلتی ہوں میرے شوہر کا فون آرہا ھے 
   عالیہ کے پاس عائشہ کی کسی بات کا جواب نہ تہا, کیونکہ جس اسلام کو وہ اپنے باپ کی جاگیر سمجھ رہی تہی اسے کوئی اور لوٹ لے گیا تہا۔

   یہ تحریر پڑھنے والے عالیہ کو غلط سمجھ رہے ہونگے جبکہ اس سے بڑے گنہگار اسکے والدین ہیں ۔

Thursday, 7 December 2017

دیوبند کیوں تیروں کا نشانہ*•••؟ مفتی عدنان وقار صدیقی قاسمی

••• *دیوبند کیوں تیروں کا نشانہ*•••؟
÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷

✍🏻: *محمد عدنان وقار صدیقی*

     لوگ ہم اہل دیوبند حنفی اہل السنت والجماعت کو ایک لمحۂ فکر دیتے ہیں, کہتے ہیں: کہ ساری دنیا میں اگر ظلم و بربریت, اور وحشی ستم کانشانہ اگر کوئئ قوم یا مسلک ھے تو وہ اہل دیوبند ہیں؛ جبکہ دیگراں کچھ بہی کہیں, کسے بھی کہیں, کھیں بہی کہیں, کچھ بہی کریں, کیسے بھی کریں, کسی کے بھی خلاف کریں, ان پر کوئی دار و گیر, پکڑ دھکڑ نہیں؛ لیکن اگر کوئی دیوبند کا جیالہ حرم نبوی کی عصمت و پاکیزگی, دفاع ختم نبوت, یا رسول کے پروانوں کی عظمت میں ذرا لب کشائی کرے,تو ساری طاغوتی طاقتیں, اور بلوائوں کا نشانہ بنادئے جاتے ہیں, ہزاروں سانحے ان دیوبندیوں کو سہنے پڑتے ہیں, ان کا اقتصاد و معاش, تباہ ہوجاتا ھے, بیویاں بیوہ اور بچے یتیم ہوجاتے ہیں, جیلیں لاکھوں دیوبندیوں سے بھری پُری ہیں, کبہی دہشت گردی کا ناکردہ الزام, اور کبہی شدت پسندی اور علیحدگی پسند کا الزام, کبہی مسجد میں تعلیم حاصل کرنیوالے ننہے نو نہالانِ قوم کو بموں و گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا ھے تو کبہی انسانیت کے معمار سچے اساتذہ و اتالیق کو پابند سلاسل کردیا جاتا ھے, لوگ کہتے ہیں: کہ تمام تر باطل فرقے ایک چھوٹے سے دیوبند کی طرف اپنی توپوں کے دہانے کھولے ھوئے ہیں, اور ان دیوبندیوں کی کاخوں کو آتش کدہ بنادیا جاتا ھے. 

  پھر اہل دیوبند کو ایک سوچنے کے لیے پلیٹ فارم دیتے ہیں کہ سوچو! ساری دنیا میں سب کچھ ظلم و ستم فقط تمہارے ہی لیے کیوں؟
   مسجد اقصی ہو یا بابری سارے اہل اسلام کی امانت ھے لیکن فقط ان کی بازیابی کے لئے تم ہی کوشاں و پریشاں کیوں؟
  دنیا میں مروجہ مسالک چار ہیں لیکن بالخصوص احناف ہی ہدف ملامت کیوں؟
 تو اسکا ہلکا سا جواب یہ ھے:کہ 

   حق پرست اور بے باک ہونا, اعداء اسلام کو اپنا ولی اور دوست تسلیم نہ کرنا, کفن کف دست میں لئے پھرنا, روباہی اور دوغلے پن کی پالیسی سے کوسوں دور ہونا, محمد بن قاسم رح کا جانشین صادق ہونا, صحابہ کرام رض سے حددرجہ سچا عشق ہونا, ختم نبوت کی صحیح معنوں میں علمبرادی کا حامل ہونا, امریکہ و اسرائیل یا کسی بھی ظالم و جابر حاکم و حکمراں کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنا, دنیا کے ہر ذرے کو روشنی پہونچانا, شاہوں کے محلات پر اپنی حلال سے بنائی ہوئی کاخ پر راضی رہنا, زبان و قلم کا سودا نہ کرنا, کلمت حق عند سلطان جائر پر عمل پیرا ہونا, دین میں مداہنت سے گریزاں رہنا, جو سچ و حق ھے اسے دنیا کے سامنے پیش کرنا, اور اسکے اثبات میں کسی کی کڑوی کسیلی بات کا خطرہ حاشیہ خیال میں بھی نہ لانا, صدیق کی صداقت, فاروق کی عدالت, عثمان کی حیا, علی کی قضا, کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا, ریاکاری اور جہوٹ کی آمیزش والے جام کو ہاتھ لگانا تو دور؛ نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکہنا, اہل اسلام کے لیے رحماء اور کفار و طواغیت کے لیے اشداء بننا, قرآن و سنت اجماع و قیاس کو اپنی مشعل راہ بنانا, جیلوں میں اپنا ایک قیدی بہی برداشت نہ کرنا, نازیبا کلمات زبان پر نہ لانا, اتفاق و اتحاد کی رسی کو ایسی مضبوطی سے تہامنا کہ ہر فاسق و فاجر کے پیچھے  نماز کو بھی جائز قرار دینا, وادئ فاراں سے اٹھنی والی تکبیر کو آج تک بلند و اعلی رکہنا, وادئ علم کو جوئے یثرب سے سیراب کرنا, ہر بوند جسکی امرت جل ہو ایسا بادل بننا, سو ساگر بھرنے والی چھاگل ہر دیوبندی کے پاس ہونا, جنکی ہر اندھیری رات کا دینی روشنی سے گل بانگ سحر  بن جانا, دیوبندیوں کے ہر رند کا پیر مغاں ہونا, قاسم کا جنکی مجلس مئے کا فطرت ہونا, جنکی خاک کے ذروں سے ہر درجہ شرر کا بیدار ہونا, دنیا کو تعلیم ِکلیم ِطور دینا, تشنہ لبوں کو آداب مئے نوشی سکہانا, ان کا اور انکے اسلاف کا کردار سینۂ گیتی پر روشن و تابندہ ہونا,
ان دیوبندیوں کا وصف خاص, جزو لازم اور طرَّۂ امتیاز ھے, 
   ان کو موت و شہادت ایسی ہی پسند ھے جیسے ان کے جرنیل اعظم حضرت خالد بن ولید رض کو محبوب تہی, یہ دنیا کی ہر بہن کی عصمت و حفاظت کے لیے حجاج بن یوسف ہیں, جب کوئی نومولود کسی دیوبندی گھرانے میں آنکھیں کھولتا ھے تو اسکو یہ عہد دلایا جاتا ھے کہ دنیا کی اس پرخار وادی میں آئے ہو تو شکوۂ آبلہ پائی زباں پے مت لانا, یہاں عیش و عشرت یا محلات میں سکونت نہ ملیگی, یہاں چکنے چپڑے نوالوں کے ذائقے سے محرومی مقدر بنے گی, تو جن دیوبندی بچوں کی گھٹی ہی جذبہ جہاد سے معمور ہو جنکی سرشت میں یہ ودیعت کردیا گیا ہو کہ دنیا پر ٹھوکر ماردو اگر دین پر زک آئے, 
   تو ایسی زندہ دل قوم پر یہ حالات و حوادث آئنگے, اور وہ خندہ پیشانی سے اسکا سامنا کرینگے, تکالیف و ناشکری, یا کم ہمتی و بے بسی جیسے الفاظ کو حرف غلط کی طرح اپنی ذہنی لغت سے نکال پھینکیں گے.,
     یہاں علم تو ھے لیکن ساتھ میں عمل اور جنون بہی ھے, جنکی روداد تاریخ نے صدیوں قبل مرتب کی تہی, اور یہ آج بہی اسی تاریخ سنہری کی روشنی اور ضیاء پاشی میں اپنی اصلی و ابدی منزل کی جانب گامزن ہیں, اعتدلال کے کوڑے سے ہر سرکش سواری کو قابو کرتے ہیں, بے عزتی برداشت کرتے ہیں ؛ لیکن کسی کی ہتک عزت نہیں کرتے, ظلم سہتے ضرور ہیں البتہ ظلم کی چکی نہیں چلاتے, فرامین رسول اور کلام خدا اجماع و قیاس سے مزین دساتیر و اصول ان کا لائحۂ عمل ھے, 

فقط آخری بات یہ عرض کرنا چاہونگا, کہ *یریدون لیطفؤا نورﷲ بافواہہم, وﷲ متم نورہ ولو کرہ الکافرون۔* میں اللہ وحدہ لاشریک نے جس اتمام نور کو تام و عام کرنے کا وعدہ کیا ھے اسکے چراغ یہی اہل دیوبند ہیں۔

  یہ شجرۂ طیب ھے جو ازل سے پھیلا ھے اور تا ابد اور تا وسعتِ امکاں پھیلےگا, یہ نور باری ھے جو ہمیشہ سے چمکا ھے اور صبح قیامت تک چمکےگا, اور ہر حق بات کا دفاع و فروغ اسی دیوبند کی جانب سے ھوگا, 
خواہ اسکے لیے لاشوں و نعشوں کے بے گور و کفن ڈھیر ہوں, کیونکہ ان کی رگوں میں حمزہ عم رسول کا پاکیزہ اور گرم لہو ھے, یہ ہر فرعون وقت کے لیے موسیٔ وقت ہیں, یہ جوش اور ہوش کا سنگم ہیں 
ان کو پتہ ھے کہ کیا صحیح ھے اور کیا غلط! 
   لہذا ہم اہل دیوبند و احناف کو لمحۂ فکر دینے کے بجائے ہوش کے ناخن لو,اور انہیں کے سایۂ علَم آجاؤ,؛ تاکہ کل بروز محشر سایۂ عرشِ خداوندی میں جگہ مل سکے۔ 
_______________________
یکے از خاکپائے علمائے دیوبند

Tuesday, 5 December 2017

*نگہبانِ ملت و شاہینِ mufti adnan waqar sahab

*نگہبانِ ملت و شاہینِ ہند*
_______________

✍🏻... *محمد عدنان وقار صدیقی*

    گزرے دنوں برما میں روہنگیائی مسلمانوں پر ظلم و جور, قتل و غارت گری, اور انسانوں کے لبادے میں درندہ صفات بودھیوں کی سفاکیت کی داستان, اور ان سے آگہی کے بعد ہر دلِ مسلم کو لگنے والی ٹیسیوں کے زخم ابھی مندمل بہی نہ ہوپائے تہے کہ اس سونے کی چڑیا کہے جانے والے ملک ہندوستان میں بھی کچھ فرقہ پرست و فسطائی طاقتیں, امن و سلامتی کی دشمن تنظیمیں و جماعتیں, صوبہ آسام میں بسے ستر لاکھ کلمہ گو مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دیکر ملک بدر کرنے, حق شہریت سلب کرنے, اور اگر یہ کہا جائے کہ برما کی صورتحال کی گھناؤنی عکاسی کرنے پر تلی تہیں تو بیجا نہ ہوگا؛کیونکہ نوشتۂ دیوار پڑھنے والے جان چکے تہے کہ یہ مذموم کوششیں محض جلاوطنی و ملک بدری پر ہی نہیں رکیں گی بلکہ قومِ مسلم کی نسل کشی کا پیش خیمہ ہیں۔ 
   معاملہ تو زمانہ دراز سے عدالت عالیہ ہند میں زیر غور تہا, تواریخیں دیجاتی رہیں جیساکہ عدالتوں کا یہ فطری نظام ھے, البتہ قوم کا قائد و ملت کا سربراہ مستعد تہا, اس نے تو اپنے پہلو کو نرم بستروں سے جدا کر رکہا تہا, اسے کسی لمحہ سکونِ قلبی میسر نہ تہا اسے لاکھوں ہندوستانی  بے قصور غریب مسلموں کی فکر دامن گیر جو تہی, اس نے ان لاکھوں کی نگاہوں میں پڑھ لیا تہا کہ جو کہہ رہی تہیں : اے قائد ملت! سرمایہ قوم! اگر خدا کے بعد سہارا ھے تو وہ تو ھے...
   قائد نے طوفانوں , تند موجوں, سخت کالی آندھیوں کے سامنے اپنا چراغ روشن کرکے رکھدیا, طوفانی سمندر میں اپنی کشتی ڈال دی؛ اور بر ملا کہہ دیا: 
کہ *کچھ سوچ کر ہی ھوا ہوں موجِ حوادث کا حریف*,
*ورنہ جانتا میں بھی ہوں کہ عافیت ساحل پے ھے*.
     قائد نے اس جماعتی زندگی میں ہزاروں نشیب و فراز دیکھے, موسم کی گھن گرج سے سامنا ھوا, لق و دق صحراء کا سفر کیا, پر خار وادیاں سر کیں؛ لیکن اس کے پایۂ استقلال میں لغزش نہ آئی, آبلہ پائی کا ڈر کیا ھوتا ھے قائد کی ڈکشنری و لغت میں یہ لفظ ہی نہیں ھے,  جرأت مندی تو ورثہ میں پائی ھے, ہر اسٹیج و میدان میں حق گوئی کو اپنایا, امانت و سچائی کو شیوہ بنایا, ہر عظیم کام خواہ ملی ہو یا دینی, سماجی ہو یا اجتماعی قائد کا لازم بن گیا, 
       اس مردِ آہن نے ظالم و جابر زعمائے ملک کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے کیونکہ قائد کا نکاتی اصول تو یہ تہا: 
  *میری میں,فقیری میں, شاہی میں, غلامی میں*
  *کچھ کام نہیں بنتا, بے جرأتِ رندانہ*

  قائد کے اس بیباک رویے سے کچھ تنگ نظروں کو جو اپنے ہیں یا تہے خفگی و گلہ بہی تہا جنہوں نے (قائد سے وعدے کیئے تہے کہ کاروانِ عزیمت کو منزل پے جالگاینگے) درمیان راہ میں اسکی رہبری کا شکوہ کرتے ھوئے راہ وفا سے واپسی میں ہی عافیت جانی؛ 
  لیکن قائد محترم نے اپنی چیتے جیسی چال, عقابی اڑان, شاہین صفتی میں کوئی کمی نہ کی اور دنیا کے سامنے کھلم کھلا کہہ دیا : کہ *جسکو ہو خطرۂ آبلہ پائئ وہ ہمارے ساتھ نہ چلے۔*

      الغرض! قائد عظیم نے مسلم کش فسادات پر حکومت وقت سے پر زور اور مؤثر احتجاج درج کرایا, اور ساتھ ہی متاثرین کی تعمیری اور ٹھوس مدد اور اسکے لئے قریہ بہ قریہ اور کوبہ کو مسلسل چکر لگائے, اور دوڑ دھوپ کی,نیز قدرتی آفات کے موقع سے مصیبت زدگان کی ہمہ جہت مدد اور حکومت کو ان کی داد رسی کے لیے جھنجھوڑا۔
    دوسری طرف قائد نے مسلمانوں کے حقوق کی دستیابی اور ناانصافیوں کے ازالے کی ہمہ گیر کوششیں کیں اور اسلامی اداروں و مراکز اور تعلیم گاہوں ومساجد و مقابر و مزارات کی حفاظت کے لیے زبردست جامع جدو جہد کیں جس میں وقتا فوقتا غیر معمولی بھیڑ والے جلسوں, کے ساتھ ساتھ صدر جمہوریہ, وزیر اعظم, اور متعلقہ وزراء و حکام و افسران سے ملاقاتوں اور خطوط کے ذریعے, ارتباط مسلسل شامل ھے۔
   قائد محترم کی سب سے امتیازی کامیاب کاوش و سعی پس دیوار زنداں بے قصور مسلموں بالخصوص دہشت گردی کے جہوٹے الزام میں پھنسے اور پھنسائے گئے افراد و نوجوانوں کی رہائی ھے۔جن کی مظلومیت اور سفاکوں کی ان پر ظلم کی ان کہی داستان الگ ھے۔

میں سمجہتا ہوں کہ ملک کے غیر مسلم سیکولر زعماء و فائدین بھی حالیہ زمانے میں مولانا مدنی کو ملکی سیکولر جنگ کے ہراول دستے کا ممتاز سپاہی تصور کرتے ہیں, کیونکہ مولانا نے خدا کی تقدیر کے بموجب فقط علمی اشغال کو ہی اپنا وظیفۂ حیات نہیں بنایا بلکہ ملی قیادت و رعایت کے میدان میں بھی ہنر مندی کے جہنڈے گاڑے, جمیعت علمائے ہند اور علماء کا عوام سے رشتہ مضبوط بنایا, خواص کو مسائل کا احساس دلایا, ابلتے خطرات کے ادراک,مشکلات کے حل کے طریقوں کے شعور سے آگہی کرائی, 

  جب آسام کے متعلق میرے قائد کا حالیہ دنوں میں بیان دیا  تو میڈیا نے اس میں تحریف کرکے نشر کیا, جس سے کچھ خیموں میں بے چینی ہوئی, اڑتے شاہین کو کرگس سمجھ کر پابند قفس کرنے کی چالیں وتدابیر کی گئیں , لیکن اللہ قادر مطلق کی تدابیر کے سامنے سب کی بساط الٹ گئ, پھر قائد محترم نے جس بیباکی سے اپنا موقف عیاں و آشکار کیا دل نے صاف گواہی دی کہ: 
   *آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی*
  *ﷲ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی*

  قائد کے آسامی مسلمانوں کے تئیں  اخلاص و محبت اور سوزش دل, تڑپ و اپنائیت  کے ساتھ اٹھائے گئے قدم, اور امن دشمن گیدڑوں کی بھبتیوں کی پرواہ نہ کرتے ھوئے کی گئیں کوششیں و مساعی آج ہم سب دیکھ رہے ہیں, کہ آج معزز عدالت عالیہ و عظمی نے فیصلہ سنادیا کہ جو مولانا مدنی چاہ رہے ہیں اور کہہ رھے ہیں وہی سب کو ماننا پڑےگا, اور ان لاکھوں بے قصور ہندوستانیوں کو کوئی باہر کا یا غیر ملکی نہیں کہےگا۔ہندوستان جتنا ہمارا ھے اتنا ہی ان کا ھے, 
   فیصلے کا صدور ھوا اور مسلم و سیکولر معاشرے   میں خوشیوں کی بارات آگئی, فرحت و شادمانی کے شادیانے بجنے لگے, مسکراہٹوں کے شامیانے سج گئے,جبکہ زمانہ یہ سوچ رہا تہا کہ دشت و صحراء سبہی قحط  سالی کے شکار ہیں, ابر باراں کے آثار ناں کی برابر ہیں,
 تاریکی فضا میں چھائی ھوئی تہی, چراغوں کا تیل ختم ہوچکا تہا, ہر صبح ایک خطرے کے احساس کو قریب تر کررہی تہی, 
استقلال کی نیَّا بے چینی کے افنتے سمندر میں ہچکولے لے رہی تہی, امید کی کرن صبح کے دئیے کی طرح بجھ چکی تہی, اور آسام کے لاکھوں مسلمان موسم خزاں کے آخری پنچھی کی طرح ہجرت کے در پے تہے, لیکن قائد مکمل تن دہی سے اپنے ہدف اور مقصد کو سامنے رکھے ہوئے تہا, اپنے آرام و چین اور سکون کو ترک کرچکا تہا,یہی سوچ تہی کہ بس منزل پے پھونچ کر ہی دم لینا ھے
 *کاوشِ دشتِ جنوں ھے ہمیں اِس درجہ پسند*
 *کبھی تلووں سے جدا خارِ مغیلاں نہ ھُوا*

چونکہ وہ محض گفتار کا ہی غازی نہیں ھے؛ بلکہ کردار کا بھی غازی ھے, اسکی بلند ہمتی اور عزائم کی پختگی سے کوہ ہمالیہ کو بھی جلا و تازگی ملتی ھے, اس کیفیت یاس کو دیکھ کر قائد کی زبان میں حرکت ھوئی, لبوں میں جنبش آئی: 

*مت گھبرا اے سوکھے دریا؛ سورج آنیوالا ھے*
*برف پہاڑوں سے پگھلی تو جل ہی جل ہوجایئگا*
  جی ہاں! قائد کی امیدیں پوری ہوئیں, اور خوف و بیم میں مضطرب قوم کے چہرے کی مسکان قائد نے لوٹادی, اور ظلمتوں کا جو بول بالا تہا وہ اپنے ید بیضا سے دور کردیا,

  

آج *جامعہ عربیہ دار العلوم رحیمیہ* قصبہ اکبراباد,ضلع بجنور, صوبہ: یوپی الہند۔

 سبہی مسلمانانِ ہند کی جانب سے اپنے سچے قائد کو ان کی اس کامیاب کوشش اور سعی مشکور پر دلی مبارکباد پیش کرتا ھے, اور جو خوشی بقول :✧حضرت قائد محترم, امیر ملت, نگہبان قوم, اقبال کے شاہین, صدر جمیعت علمائے ہند,جانشین شیخ الاسلام جناب حضرت مولانا  *سید ارشد مدنی*, استاذ و محدث دار العلوم دیوبند ✧کو ملی ھے اس میں بہی شریک ھے, اور بارگاہ صمد میں دعا گو ہے کہ ربا! قائد اعظم کا سایہ ملک و ملت اور ہم مسلمانانِ ہند پر دراز فرما! حضرت والا کو صحت و تندرستی قوت عطا فرما, حضرت کی تمام تر کوششیں مقبول فرما, حاسدین و فتین لوگوں سے حفاظت فرما,

آمین۔
⊙⊙⊗⊗⊕⊕★★★◆▼▼

الناشر: ★جامعه عربيه دارالعلوم رحيميه★، قصبه:  اكبرآباد، ضلع: بجنور، صوبه: يوپی، ھندوستان.


Monday, 4 December 2017

تین طلاق مفتی نجیب قاسمی ، تین طلاق کا مسلہ

تین طلاق کا مسئلہ

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃوَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

تین طلاق کا مسئلہ

حال ہی میں انٹرنیٹ کے ایک گروپ پر طلاق کے متعلق ایک فتوی پر مختلف حضرات کے تاثرات پڑھنے کو ملے۔ پڑھنے کے بعد محسوس ہوا کہ بعض حضرات طلاق کے معنی تک نہیں جانتے لیکن طلاق کے مسائل پر اپنی رائے لکھنے کو دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔
میرے عزیز دوستوں! آپ کسی مسئلہ پر کسی عالم / مفتی کی رائے سے اختلاف کرسکتے ہیں مگر قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ سے واقفیت کے بغیر کسی فتوی / مسئلہ پر اپنی رائے ظاہر کرنا اور اسکو بلاوجہ موضوع بحث بنانا جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی مسئلہ آپکی سمجھ میں نہیں آرہا ہے توآپ معتبر علماء سے رجوع فرمائیں، ممکن ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کی رائے بھی وہی ہو۔ اگر مسئلہ علماء کے درمیان مختلف فیہ ہے تو قرآن وحدیث کی روشنی میں اللہ سے ڈرتے ہوئے عالم /مفتی جو بات صحیح سمجھے گا اس کو تحریر فرمائے گا، خواہ آپ اس سے متفق ہوں یا نہیں۔
موضوع بحث مسئلہ (طلاق) پر گفتگو کرنے سے قبل نکاح کی حقیقت کو سمجھیں کہ نکاح کی حیثیت اگر ایک طرف باہمی معاملہ ومعاہدہ کی ہے تو دوسری طرف یہ سنت وعبادت کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ شریعت کی نگاہ میں یہ ایک بہت ہی سنجیدہ اور قابل احترام معاملہ ہے جو اس لئے کیا جاتا ہے کہ باقی رہے یہاں تک کہ موت ہی میاں بیوی کو ایک دوسرے سے جدا کرے۔ یہ ایک ایسا قابل قدر رشتہ ہے جو تکمیل انسانیت کا ذریعہ اور رضائے الہی واتباع سنت کا وسیلہ ہے۔ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے ٹوٹنے سے نہ صرف میاں بیوی متاثر ہوتے ہیں بلکہ اس سے پورے گھریلو نظام کی چولیں ہل جاتی ہیں اور بسا اوقات خاندانوں میں جھگڑے تک کی نوبت آجاتی ہے۔ اسی لئے رسول اللہ ا نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں میں طلاق سے زیادہ گھناؤنی اور کوئی چیز نہیں ہے ۔ (ابوداؤد) اسی لئے علماء کرام نے فرمایا ہے کہ طلاق کا لفظ کبھی مذاق میں بھی زبان پر نہ لایا جائے۔
اسی لئے جو اسباب اس بابرکت اور مقدس رشتہ کو توڑنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں انہیں راہ سے ہٹانے کا شریعت نے مکمل انتظام کیا ہے۔ چنانچہ میاں بیوی میں اختلاف کی صورت میں سب سے پہلے ایک دوسرے کو سمجھانے کے کوشش کی جائے ، پھر زجر وتنبیہ (ڈانٹ ڈپٹ) کی جائے۔ اور اس سے بھی کام نہ چلے اور بات بڑھ جائے تو دونوں خاندان کے چند افراد مل کر معاملہ طے کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن بسا اوقات حالات اس حد تک بگڑ جاتے ہیں کہ اصلاح حال کی یہ ساری کوششیں بے سود ہوجاتی ہیں اور رشتہ ازدواج سے مطلوب فوائد حاصل ہونے کے بجائے میاں بیوی کا باہم مل کر رہنا ایک عذاب بن جاتا ہے۔ ایسی ناگزیر حالت میں کبھی کبھی ازدواجی زندگی کا ختم کردینا ہی نہ صرف دونوں کے لئے بلکہ دونوں خاندانوں کے لئے باعث راحت ہوتا ہے، اس لئے شریعت اسلامیہ نے طلاق اور فسخ نکاح (خُلع) کا قانون بنایا، جس میں طلاق کا اختیار صرف مرد کو دیا گیا کیونکہ اسمیں عادتاً وطبعاً عورت کے مقابلہ فکروتدبر اور برداشت وتحمل کی قوت زیادہ ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیت (وَلِلرِّجَالِ عَلَےْہِنَّ دَرَجَۃ) (سورۂ البقرۃ ۲۳۸) (الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَاءِ) (سورۂ النساء۳۴) میں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن عورت کو بھی اس حق سے یکسر محروم نہیں کیا گیا بلکہ اسے بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ شرعی عدالت میں اپنا موقف پیش کرکے قانون کے مطابق طلاق حاصل کرسکتی ہے جس کو خُلع کہا جاتا ہے۔
مرد کو طلاق کا اختیار دے کر اسے بالکل آزاد نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ اسے تاکیدی ہدایت دی گئی کہ کسی وقتی وہنگامی ناگواری میں اس حق کا استعمال نہ کرے۔ نیز حیض کے زمانہ میں یا ایسے طُہر (پاکی) میں جس میں ہم بستری ہوچکی ہے طلاق نہ دے کیونکہ اس صورت میں عورت کی عدت خواہ مخواہ لمبی ہوسکتی ہے۔ بلکہ اس حق کے استعمال کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ جس پاکی کے ایام میں ہم بستری نہیں کی گئی ہے ایک طلاق دے کر رک جائے، عدت پوری ہوجانے پر رشتہ نکاح خود ہی ختم ہوجائے گا، دوسری یا تیسری طلاق کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اگر دوسری یا تیسری طلاق دینی ہی ہے تو الگ الگ طہر میں دی جائے۔۔۔۔ پھر معاملۂ نکاح کو توڑنے میں یہ لچک رکھی گئی ہے کہ دوران عدت اگر مرد اپنی طلاق سے رجوع کرلے تو نکاح سابق بحال رہے گا۔ ۔۔۔ نیز عورت کو ضرر سے بچانے کی غرض سے حق رجعت کو بھی دو طلاقوں تک محدود کردیا گیا تاکہ کوئی شوہر محض عورت کو ستانے کے لئے ایسا نہ کرے کہ ہمیشہ طلاق دیتا رہے اور رجعت کرکے قید نکاح میں اسے محبوس رکھے جیسا کہ سورہ البقرہ کی آیات نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ کیا کرتے تھے، بلکہ شوہر کو پابند کردیا گیا کہ اختیار رجعت صرف دو طلاقوں تک ہی ہے۔ تین طلاقوں کی صورت میں یہ اختیار ختم ہوجائے گابلکہ میاں بیوی اگر باہمی رضا مندی سے بھی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں توایک خاص صورت کے علاوہ یہ نکاح درست اور حلال نہیں ہوگا۔ فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَےْرَہ (سورۂ البقرہ ۲۳۰) میں یہی خاص صورت بیان کی گئی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے تیسری طلاق دے دی تو دونوں میاں بیوی رشتہ نکاح سے منسلک ہونا بھی چاہیں تو وہ ایسا نہیں کرسکتے یہاں تک کہ یہ عورت طلاق کی عدت گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرے، دوسرے شوہر کے ساتھ رہے ، دونوں ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوں۔ پھر اگر اتفاق سے یہ دوسرا شوہر بھی طلاق دیدے یا وفات پاجائے تو اس کی عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔ یہی وہ جائز حلالہ ہے جس کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے۔
اب موضوع بحث مسئلہ کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ اگر کسی شخص نے حماقت اور جہالت کا ثبوت دیتے ہوئے ابغض الحلال طلاق کے بہتر طریقہ کو چھوڑکر غیر مشروع طور پر طلاق دیدی مثلاً تین طلاقیں ناپاکی کے ایام میں دے دیں، یا ایک ہی طہر میں الگ الگ وقت میں تین طلاقیں دے دیں، یا الگ الگ تین طلاقیں ایسے تین پاکی کے ایام میں دیں جسمیں کوئی صحبت کی ہو، یا ایک ہی وقت میں تین طلاقین دے دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس کا کیا اثر ہوگا ؟؟؟
ابغض الحلال طلاق کے بہتر طریقہ کو چھوڑکر مذکورہ بالا تمام غیر مشروع صورتوں میں تین ہی طلاق پڑنے پر تمام علماء کرام متفق ہیں، سوائے ایک صورت کے، کہ اگر کوئی شخص ایک مجلس میں تین طلاق دے دے تو کیا ایک واقع ہوگی یا تین۔ جمہور علماء کی رائے کے مطابق تین ہی طلاق واقع ہوں گی۔ فقہاء صحابہ کرام حضرت عمرفاروقؓ ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علیؓ ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ، حضرت عبداللہ بن عمروؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ وغیرہ وغیرہ تین ہی طلاق پڑنے کے قائل تھے۔ نیز چاروں امام (امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ ) کی متفق علیہ رائے بھی یہی ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینے پر تین ہی واقع ہوں گی، جیسا کہ ۱۳۹۳ھ میں سعودی عرب کے بڑے بڑے علماء کرام کی اکثریت نے بحث ومباحثہ کے بعد قرآن وحدیث کی روشنی میں یہی فیصلہ کیا کہ ایک وقت میں دی گئی تین طلاقین تین ہی شمار ہوں گی۔ یہ پور ی بحث اور مفصل تجویز مجلۃ البحوث الاسلامیہ ۱۳۹۷ھ میں ۱۵۰ صفحات میں شائع ہوئی ہے جو اس موضوع پر ایک اہم علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس فیصلہ میں سعودی عرب کے جو اکابر علماء شریک رہے ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ (۱) شیخ عبد العزیز بن باز (۲) شیخ عبد اللہ بن حمید (۳) شیخ محمد الامین الشنقیطی (۴) شیخ سلیمان بن عبید (۵) شیخ عبد اللہ خیاط (۶)شیخ محمد الحرکان (۷) شیخ ابراہیم بن محمد آل الشیخ (۸)شیخ عبد الرزاق عفیفی (۹) شیخ عبد العزیز بن صالح (۱۰) شیخ صالح بن غصون (۱۱) شیخ محمد بن جبیر (۱۲) شیخ عبد المجید حسن (۱۳) شیخ راشد بن خنین (۱۴) شیخ صالح بن لحیدان (۱۵)شیخ محضار عقیل (۱۶) شیخ عبد اللہ بن غدیان (۱۷) شیخ عبد اللہ بن منیع۔ سعودی عرب کے ہیءۃ کبار العلماء کا یہ فیصلہ اختصار کے ساتھ اس Link پر پڑھا جاسکتا ہے۔(http://islamtoday.net/bohooth/artshow-32-6230.htm) نیز مضمون کے آخر میں بھی یہ فیصلہ مذکور ہے۔ سعودی عرب کے اکابر علماء نے قرآن وحدیث کی روشنی میں صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے اقوال کو سامنے رکھ کریہی فیصلہ فرمایا کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے پرتین ہی واقع ہوں گی۔ علماء کرام کی دو سری جماعت نے جن دو احادیث کو بنیاد بناکر ایک مجلس میں تین طلاق دینے پر ایک واقع ہونے کا فیصلہ فرمایا ہے ، سعودی عرب کے اکابر علماء نے ان احادیث کو غیر معتبر قرار دیا ہے۔ نیز ہند ،پاکستان، بنگلادیش اور افغانستان کے تقریباً تمام علماء کرام کی بھی یہی رائے ہے۔
لہذا معلوم ہوا کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ۱۴۰۰ سال سے امت مسلمہ (90-95%) اسی بات پر متفق ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار کی جائیں گی، لہذا اگر کسی شخص نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیدیں تو اختیار رجعت ختم ہوجائے گانیز میاں بیوی اگر باہمی رضا مندی سے بھی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تویہ نکاح درست اور حلال نہیں ہوگا یہاں تک کہ یہ عورت طلاق کی عدت گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرے، دوسرے شوہر کے ساتھ رہے ، دونوں ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوں۔ پھر اگر اتفاق سے یہ دوسرا شوہر بھی طلاق دیدے یا وفات پاجائے تو اس کی عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔ یہی وہ جائز حلالہ ہے جس کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے: (سورۂالبقرہ ۲۳۰)
نوٹ: خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ خلافت میں ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے پر بے شمار مواقع پر باقاعدہ طور پر تین ہی طلاق کا فیصلہ صادر کیا جاتا رہا ،کسی ایک صحابی کا کوئی اختلاف حتی کہ کسی ضعیف روایت سے بھی نہیں ملتا۔ اس بات کو پوری امت مسلمہ مانتی ہے۔ لہذا قرآن وحدیث کی روشنی میں جمہور فقہاء کرام خاص کر (امام ابوحنیفہ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ ) اور ان کے تمام شاگردوں کی متفق علیہ رائے بھی یہی ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینے پر تین ہی واقع ہوں گی۔
آخر میں تمام حضرات سے خصوصی درخواست کرتا ہوں کہ مسائل سے واقفیت کے بغیر بلاوجہ Email بھیج کر لوگوں میں Confusions پیدا نہ کریں۔ علماء کرام کے متعلق کچھ لکھنے سے قبل قرآن کریم میں علماء کرام کے متعلق اللہ جل شانہ کے فرمان کا بخوبی مطالعہ فرمائیں: اِنَّمَا ےَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاؤُ (سورۂ فاطر ۲۸) اللہ تعالیٰ کے بندوں میں علماء کرام ہی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ دوسری درخواست یہ ہے کہ اس موضوع پر اگر کوئی سوال ہے تو گروپ پر بھیجنے کے بجائے کسی عالم سے رجوع فرمائیں۔
محمد نجیب قاسمی(najeebqasmi@yahoo.com)

سعودی عرب کی مجلس کبار علماء کا فیصلہ
تین طلاق دینے سے تین ہی طلاق پڑتی ہے

ابتدائیہ: وہ فروعی اور اختلافی مسائل ، جن پر اصرار اور تشدد کو ہمارے ملک کے غیر مقلدین نے اپنا شعار بنارکھا ہے ، ان میں سے ایک مسئلہ تین طلاق کے ایک ہونے کا ہے ۔ انہیں اصرار ہے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاق ایک ہی ہو تی ہے ، یہ مسئلہ آج کل فرقہ پرست اور مسلم دشمن عناصر کے ہاتھوں میں کچھ اس طرح پہونچ گیا ہے ، کہ انہوں نے اس کو مسلم پرسنل لا ء میں تحریف و ترمیم کے لئے نقطۂ آغاز سمجھ لیا اور عنوان یہ بنایا گیا کہ اس کے ذریعہ سے مسلم معاشرہ کی اصلاح ہوسکے گی، پھر اسی بنیاد پر یہ مشورہ دیا جانے لگا کہ جب قدیم فتاویٰ سے انحراف کرکے طلاق کے مسئلہ میں نیا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے ، تو کیوں نہ دوسرے مسائل پر بھی غور کیا جائے، حد تو یہ ہے کہ اس خالص علمی وفقہی مسئلہ کو اخبارات نے بازیچۂ اطفال بنادیا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک فتنہ ہے ۔
سعودی عرب کی ہیئت کبار علماء نے اپنے ایک اجلاس میں موضوع کے تمام گوشوں پر بحث ومناقشہ کر کے فیصلہ کیا ہے کہ ایک لفظ سے دی گئی تین طلاق، تین ہی ہوتی ہے ، یہ بحث ومناقشہ اور قرارداد ریاض کے مجلہ البحوث الاسلامےۃ جلد اول کے تیسرے شمارہ میں شائع ہوئی ہے ، اس بحث اور قرار داد کا ترجمہ اب سے چند سال پہلے محدث جلیل ابوالمآثر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کے ایما پر المجمع العلمی مؤ کی جانب سے شایع ہوا تھا، چوں کہ غیر مقلدین سعودی عرب کو اپنا ہم مسلک سمجھتے ہیں اور عوامی سطح پر ان کو بطور حجت پیش کر تے ہیں ، نیز اسلام دشمن عناصر بھی بعض مسائل میں مسلم ممالک کا حوالہ پیش کر تے ہیں ، اس لئے موجودہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر اسے دوبارہ شائع کیا جاتا ہے ۔ خدا کرے یہ فتنہ ٹھنڈا ہو۔
مدیر المجمع العلمی
مخالفین کا نقطۂ نظر : مخالفین کی رائے میں بیک لفظ تین طلاق دینے سے ایک واقع ہوتی ہے ، صحیح روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہی قول مروی ہے اور صحابۂ کرام میں حضرت زبیرؓ، ابن عوفؓ، علیؓبن ابی طالب، عبداللہ بن مسعودؓ اور تابعین میں عکرمہ وطاؤس وغیرہ نے اسی پر فتویٰ دیا ہے ۔ اور ان کے بعد محمد بن اسحٰق ؒ ، فلاسؒ ، حارث عکلیؒ ، ابن تیمیہؒ ، ابن قیمؒ وغیرہ نے بھی اس کے موافق فتویٰ دیا ہے ۔ علامہ ابن القیم ؒ نے اغاثۃ اللہفان میں نہایت صفائی کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کے سوا اور کسی صحابی سے اس قول کی نقل صحیح ہم کو معلوم نہیں ہوئی ۔(اغاثہ /۱۷۹/بحوالہ اعلام مرفوعہ / ۳۰) ان کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں :
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان (البقرۃ: ۲۲۹)طلاق دومرتبہ ہے پھر خواہ رکھ لینا قاعدہ کے موافق خواہ چھوڑدینا خوش عنوانی کے ساتھ۔ آیت کی توضیح یہ ہے کہ مشروع طلاق جس میں شوہر کا اختیار باقی رہتاہے ، چاہے تو بیوی سے رجعت کر ے یا بلا رجعت اسے چھوڑدے ، یہاں تک کہ عدت پوری ہوجائے اور بیوی شوہر سے جدا ہوجائے وہ دوبار ہے ۔ ’’مرتان‘‘کا معنی ’’مرۃً بعد مرۃٍ‘‘ ہے ، خواہ ہر مرتبہ ایک طلاق دے یا بیک لفظ تین طلاق دے ، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ’’دو مرتبہ‘‘ کہا ہے "دو طلاق" نہیں کہا ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت میں فرمایا :فإن طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ (البقرۃ:۲۳۰) ’’پھر اگر طلاق دیدے عورت کو تو پھر وہ اس کے لئے حلال نہ رہے گی، اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ نکاح کر لے ‘‘۔
اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ تیسری مرتبہ بیوی کوطلاق دینے سے وہ حرام ہوجاتی ہے ،خواہ تیسری مرتبہ ایک طلاق دی ہو یا بیک لفظ تین طلاق دی ہو ۔ اس تقریر سے معلوم ہوا کہ متفرق طور پر تین مرتبہ طلاق دینے کی مشروعیت ہوئی ، لہذا ایک مرتبہ میں تین طلاق دینا ایک کہلائے گا اور وہ ایک سمجھا جائے گا ۔
مسلم ؒ ؒ نے اپنی صحیح میں بطریق طاؤس ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے : کان الطلاق الثلٰث علیٰ عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکرؓ وسنتین من خلافۃ عمرؓ طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمررضی اللہ عنہ ان الناس قد استعجلوا فی امر کانت لہم فیہ اناۃ فلو امضیناہ علیہم فامضاہ علیہم .’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد اور ابوبکرؓ کی خلافت اور عہد فاروقی کے ابتدائی دوسال میں تین طلاق ایک ہوتی تھی ، پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا : لوگوں نے ایک ایسے معاملہ میں جس میں مہلت تھی عجلت سے کام لینا شروع کر دیا ہے ، اگر ہم اسے یعنی تین طلاق کو نافذ کر دیتے تو اچھا ہو تا پس اسے نافذ کر دیا ‘‘۔ مسلم میں ابن عباسؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ: ’’ ابو الصہباء نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ عہد نبوی اور عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدا میں تین طلاق ایک تھی ۔ حضرت ابن عباسؓ نے فر مایا کہ ہاں ، لیکن جب لوگوں نے بکثرت طلاق دینا شروع کیا تو حضرت عمرؓ نے تینوں کو نافذ کر دیا ‘‘۔
یہ حدیث بیک لفظ تین طلاق کے ایک ہونے پر وضاحت کے ساتھ دلالت کر تی ہے اور یہ حدیث منسوخ نہیں ہے ، کیوں کہ عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدا ئی دوسال میں اس حدیث پر برابر عمل جاری رہا اور حضرت عمرؓ نے تین طلاق نافذ کر نے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ لوگوں نے اس میں عجلت سے کام لینا شروع کر دیاہے ، انھوں نے نسخ کا دعوی نہیں کیا ، نیز حضرت عمرؓ نے تین طلاق نافذ کرنے میں صحابۂ کرام سے مشورہ لیا اور کسی ایسی حدیث کے چھوڑنے میں جس کا نسخ حضرت عمرؓ کو معلوم ہو ، صحابۂ کرام سے مشورہ نہیں کرتے۔
مخالفین کہتے ہیں کہ حدیث ابن عباسؓ کے جو جوابات دئے گئے ہیں ، وہ یا تو پر تکلف تاویل ہے یا بلا دلیل لفظ کو خلاف ظاہر پرحمل کرنا ہے یا شذوذ واضطراب اور طاؤس کے ضعیف ہونے کا طعن ہے لیکن مسلم نے جب اس حدیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ، تو یہ طعن ناقابل تسلیم ہے ۔ مسلم ؒ نے یہ شرط رکھی ہے کہ وہ اپنی کتاب میں صرف صحیح حدیث ہی روایت کریں گے اور پھراس حدیث کو مطعون کرنے والے اسی حدیث کے آخری حصہ’’فقال عمرؓ إن الناس قد استعجلوا فی امر کانت لہم فیہ اناۃ الخ‘‘ کو اپنے قول کی حجت بناتے ہیں اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حدیث کا آخری حصہ قابل قبولِ حجت ہو اور اس کا ابتدائی حصہ اضطراب اور راوی کے ضعف کی وجہ سے ناقابل حجت ہو ۔ اور اس سے بھی زیادہ بعید بات یہ ہے کہ عہد نبوی میں تین طلاق کے ایک ہونے پر عمل جاری رہا ہو، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع نہ رہی ہو، جب کہ قرآن نازل ہورہا تھا ،ابھی وحی کا سلسلہ برابر جاری تھا اور یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے حضرت عمرؓ کے زمانے تک پوری امت ایک خطا پر عمل کرتی رہی ہو۔ انھیں پھس پھسی باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کے فتویٰ کو ان کی حدیث کا معارض ٹھہرایا جائے ، علماء حدیث اور جمہور فقہاء کے نزدیک بشرطِ صحت راوی کی روایت ہی کا اعتبار ہوتا ہے ۔اس کے خلاف اس کی رائے یا فتویٰ کا اعتبار نہیں ہوتا ۔یہ قاعدہ ان لوگوں کا بھی ہے جو ایک لفظ کی تین طلاق سے تین نافذ کر تے ہیں ۔لوگوں نے عہد فاروقی میں ایک لفظ کی تین طلاق سے تین نافذ ہونے پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے اور حدیث ابن عباسؓ کو اس اجماع کا معارض ٹھہرایا ہے ، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اس مسئلہ میں سلف سے خلف تک اور آج تک اختلاف چلا آرہا ہے ۔
حدیث زوجۂ رفاعہ قرظی سے بھی استدلال درست نہیں ، اس لئے کہ صحیح مسلم میں ثابت ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو تین طلاقوں میں سے آخری طلاق دی تھی اور رفاعہ نضری کا اپنی بیوی کے ساتھ اس جیسا واقعہ ثابت نہیں کہ واقعات متعدد مانے جائیں اور ابن حجر نے تعدد واقعہ کا فیصلہ نہیں کیا ، انھوں نے یہ کہا ہے کہ اگر رفاعہ نضری کی حدیث محفوظ ہوگی ، تو دونوں حدیثوں سے واضح ہوتاہے کہ واقعہ متعدد ہے ، ورنہ ابن حجرؒ نے اصابہ میں کہا ہے : ’’ ........ لیکن مشکل یہ ہے کہ دونوں واقعہ میں دوسرے شوہر کا نام عبد الرحمن بن الزبیر متحد ہے ‘‘ ۔
امام احمد نے اپنی مسند میں بطریق عکرمہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے : قال طلق رکانۃ بن عبد یزید اخو بنی المطلب امرأتہ ثلاثا فی مجلس واحد فحزن وعلیہا حزناًشدیداً، قال فسألہ رسول اللہ علیہ وسلم کیف طلقتہا؟قال طلقتہا ثلاثا قال فقال فی مجلسٍ واحدٍ، قال: نعم ، فقال فانما تلک واحدۃ فارجعہا ان شئت ، قال: فراجعہا. ’’رکانہ بن عبد یزیدنے اپنی عورت کو ایک مجلس میں تین طلاق دی پھر اس پر بہت غمگین ہوئے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا ، تم نے کیسی طلاق دی ہے ؟ کہا کہ تین طلاق دی ہے ، پوچھا کہ ایک مجلس میں ؟ انھوں نے کہا کہ ہاں! تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صرف ایک طلاق ہو ئی اگر چاہو تو رجعت کر سکتے ہو ، ابن عباسؓ نے فرمایا کہ انھوں نے اپنی بیوی سے رجعت بھی کرلیاتھا‘‘۔
ابن قیم ؒ نے اعلام الموقعین میں کہا ہے کہ امام احمدؒ اس حدیث کے سند کی تصحیح وتحسین کر تے تھے ۔ (حافظ ابن حجرؒ نے تلخیص میں اس حدیث کو ذکر کر کے فرمایا ہے ’ ’ وھو معلول ایضاً‘‘ یعنی مسند احمد والی حدیث بھی بہت مجروح وضعیف ہے (ص :۳۱۹) اور حافظ ذہبی نے بھی اس کو ابوداؤد ابن الحصین کے مناکیر میں شمار کیا ہے ، پس اس حالت میں اگر اس کی اسناد حسن یا صحیح بھی ہو ، تو استدلال نہیں ہوسکتا ، اس لئے کہ اسناد کی صحت استدلال کی صحت کو مستلزم نہیں ۔(اعلام مرفوعہ : ۲۵)
اور یہ جو مروی ہے کہ رکانہ نے لفظ ’’ بتہ‘‘سے طلاق دی تھی ، اسے احمدؒ ، بخاریؒ اور ابوعبیدؒ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔(امام شافعی ، ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ، ابن حبان ، حاکم اور دارقطنی وغیرہ نے حضرت رکانہ سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے اپنی بی بی کو لفظ”بتہ” کے ساتھ طلاق دی .......... حافظ ابن حجر ؒ نے تلخیص / ۳۱۹، میں لکھا ہے (صححہ ابوداؤد وابن حبان والحاکم ) یعنی اس حدیث کو ابوداؤد ، ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے ۔ ابن ماجہ / ۱۴۹ ، میں ہے کہ میں نے اپنے استاذ طنافسی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ’’ ما اشرف ہذا الحدیث ‘‘ یہ حدیث کتنی شریف و بہتر ہے ۔ ( اعلام مرفوعہ / ۱۱۔ العلامہ المحدث الاعظمی)
ابن تیمیہؒ ، ابن قیمؒ وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں اور خلافت عمرؓ کے ابتدائی دوسال میں ایک لفظ کی تین طلاق سے ایک ہی سمجھا جاتا رہا اور جو فتاویٰ صحابۂ کرام سے اس کے خلاف مروی ہیں ، وہ حضرت عمرؓ کے تین طلاق نافذ کرنے کے بعد کے ہیں ۔ تین طلاق نافذ کرنے سے حضرت عمرؓ کا یہ ارادہ نہیں تھا کہ اسے ایک مستقل قاعدہ بنا ڈالیں جو ہمیشہ مستمر رہے ، ان کا ارادہ تو یہ تھا کہ جب تک دواعی و اسباب موجود ہیں ، تین طلاق کو نافذ قرار دیا جائے ، جیساکہ تغیر حالات سے بدلنے والے فتاویٰ کا حال ہوتا ہے ، او ر امام کو اس وقت رعایاکی تعزیر کا حق بھی ہے ، جس وقت ایسے معلاملات میں جن کے کرنے اور چھوڑنے کا ان کو اختیار ہو ، سوئے تصرف پیدا ہوجائے جیسا کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا کے طور پر غزوۂ تبوک میں شرکت نہ کر نے والے تین صحابہ کو ایک وقت تک اپنی بیویوں سے جدا رہنے کا حکم دیدیا تھا ، باوجود یکہ ان کی بیویوں سے کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی یا جیسے شراب نوشی کی سزا میں زیادتی، یا تاجروں کی ناجائز نفع اندوزی کے وقت قیمتوں کی تعیین ، یا جان ومال کی حفاظت کے لئے لوگوں کو خطر ناک راستوں پر جانے سے روکنا ، باوجود یکہ ان راستوں پر ہر ایک کو سفر کرنا مباح رہا ہو۔
پانچویں دلیل یہ ہے کہ تین طلاق کو لعان کی شہادتوں پر قیاس کیا جائے ۔ اگر شوہر کہے میں اللہ کی چار شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اپنی عورت کو زنا کر تے ہوئے دیکھا ہے ، تو اسے ایک ہی شہادت سمجھا جاتا ہے ، لہذا جب اپنی بیوی سے ایک مر تبہ میں کہا کہ میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں تو اسے ایک ہی طلاق سمجھا جائے گا اور اگر اقرار کا تکرار کئے بغیر کہے کہ میں زنا کا چار مرتبہ اقرار کرتا ہوں ، تو اسے ایک ہی اقرار سمجھا جاتا ہے ، یہی حال طلاق کا بھی ہے اور ہر وہ بات جس میں قول کا تکرار معتبر ہے ، محض عدد ذکر کر دینا کافی نہ ہوگا ، مثلاً فرض نمازوں کے بعد تسبیح و تحمید وغیرہ۔
شیخ شنقیطی نے اس کا جواب دیا ہے کہ یہ قیاس مع الفارق ہے ، اس لئے کے شوہر اگر لعان کی صرف ایک ہی شہادت پر اکتفا کر لے تو وہ کالعدم قرار دیدی جاتی ہے ، جب کہ ایک طلاق کالعدم نہیں قراردی جاتی ، وہ بھی نافذ ہوجاتی ہے ۔(اضواء البیان، ۱/۱۹۵، بحوالہ مجلہ البحوث)
جمہور کا مسلک: بیک لفظ تین طلاق دینے سے تین واقع ہوجائیں گی ، یہ جمہور صحابہ وتابعین اور تمام ائمہ مجتہدین کا مسلک ہے اور اس پر انھوں نے کتاب وسنت اور اجماع وقیاس سے دلائل قائم کئے ہیں ۔ ان میں سے اہم دلائل مندرجہ ذیل ہیں ۔
 اے نبی جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کو ان کی عدت پر طلاق دو اور عدت گنتے رہو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے ، ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور وہ بھی نہ نکلیں ، مگر جو صریح بے حیائی کریں اور یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے بڑھے تو اس نے اپنابرا کیا اس کو خبر نہیں کہ شاید اللہ اس طلاق کے بعد نئی صورت پیدا کردے۔(الطلاق:۱) اس آیت سے یہ معلوم ہواکہ اللہ تعالی نے وہ طلاق مشروع کی ہے جس کے بعد عدت شروع ہو ، تاکہ طلاق دینے والا بااختیار ہو ، چاہے تو عمدہ طریقہ سے بیوی کو رکھ لے یا خوبصورتی کے ساتھ چھوڑدے ۔ اور یہ اختیار اگر چہ ایک لفظ میں رجعت سے پہلے تین طلاق جمع کر دینے سے نہیں حاصل ہوسکتا ، لیکن آیت کے ضمن میں دلیل موجود ہے کہ یہ طلاق بھی واقع ہو جائے گی ، اگر واقع نہ ہوتی تو وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا نہ کہلاتا اور نہ اس کے سامنے دروازہ بند ہوتا ، جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے : ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً۔مخرج کی تفسیر حضرت ابن عباسؓ نے رجعت کی ہے ۔ ایک سائل کے جواب میں جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی تھی ، آ پ نے کہاکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً ‘‘ اور تم نے اللہ سے خوف نہیں کیا ، لہذا میں تمہارے لئے کوئی خلاصی کی راہ نہیں پاتا ہوں ، تم نے اللہ کی نا فرمانی کی اور تم سے تمہاری بیوی جدا ہوگئی۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو شخص اپنی عورت کو تین طلاق دیدے ، وہ خود پر ظلم کر نے والا ہے ۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ تین طلاق سے ایک ہی واقع ہوتی ہے ، تو اس کو اللہ سے ڈرنا نہیں کہا جاسکتا ، جس کا حکم ’’ ومن یتق اللہ الخ ‘‘ میں دیا گیا ہے اور جس کا التزام کرنے سے خلاصی کی سبیل پیدا ہوتی اور نہ یہ ظالم کی سزا بن سکتی ہے، جو حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے تو گو یا شارع نے ایک منکر بات کہنے والے پر اس کا اثر مرتب نہیں کیا، جو اس کے لئے عقوبت بنتا ، جیسا کہ بیوی سے ظہار کر نے والے پر بطور عقوبت کفارہ لازم ہوتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تینوں طلاق نافذ کر کے طلاق دینے والے کو سزادی ہے اور اس کے سامنے راستہ مسدود کردیا ہے ، اس لئے کہ اس نے اللہ سے خوف نہیں کیا خود پر ظلم کیا او ر اللہ کی حدود سے تجاوز کیا۔
صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے : ان رجلا طلق امرأتہ ثلاثا فتزوجت فطلقت فسئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للاول؟ قال: لا حتی یذوق عسیلتہا کما ذاق الاول۔ ’’ ایک شخص نے اپنی بی بی کو تین طلاقیں دیدیں، اس نے دوسرے سے نکاح کر لیا ، دوسرے شوہر نے قبل خلوت کے طلاق دیدی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اب پہلے کے لئے حلال ہوگئی یا نہیں؟ فرمایا کہ نہیں تاوقتیکہ دوسرا شوہر پہلے کی طرح لطف اندوزِ صحبت نہ ہو ، پہلے کے لئے حلال نہیں ہوسکتی ‘‘۔
بخاری ؒ نے یہ حدیث ’’ باب من اجاز الطلاق ثلاثاً ‘‘ کے تحت ذکر کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ انہوں نے بھی اس سے یکجا تین طلاق ہی سمجھا ہے ؛ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ رفاعہ قرظی کے واقعہ کا مختصر ہے ، جس کی بعض روایات میں آیا ہے کہ انھوں نے تین طلاقوں میں کی آخری طلاق دی ۔ حافظ ابن حجرؒ نے اعتراض کو اس طرح رد کیا ہے کہ رفاعہ قرظی کے علاوہ بھی ایک صحابی کا ایسا ہی واقعہ اپنی بیوی کے ساتھ پیش آیا ہے اور دونوں ہی عورتوں سے عبد الرحمن ابن الزبیرؓ نے نکاح کیا تھا اور صحبت سے پہلے ہی طلاق دیدی تھی ، لہذا رفاعہ قرظی کے واقعہ پر اس حدیث کو محمول کر نا بے دلیل ہے ۔ اس کے بعد حافظ ابن حجرؒ نے کہا کہ ’’ اس سے ان لوگوں کی غلطی ظاہر ہوگئی جو دونوں واقعہ کو ایک کہتے ہیں ،،۔
جب حدیث عائشہؓ کا حدیث ابن عباسؓ کے ساتھ تقابل کیا جائے تو دو حال پیدا ہوتے ہیں ، یا تو دونوں حضرات کی حدیث میں تین طلاق مجموعی طور پر مراد ہے یا متفرق طور پر ، اگر تین طلاق یکجائی مراد ہے تو حدیث عائشہؓ متفق علیہ ہونے کی وجہ سے اولی ہے ، اور اس حدیث میں تصریح ہے کہ وہ عورت تین طلاق کی وجہ سے حرام ہوگئی تھی اور اب شوہر ثانی سے وطی کے بعد شوہر اول کے لئے حلال ہوسکتی ہے اور اگر متفرق طور پر مرادہے تو حدیث ابن عباسؓ میں یکجائی تین طلاقوں کے واقع نہ ہونے پر استدلال صحیح نہیں ہے ؛ اس لئے کہ دعوی تو یہ ہے کہ ایک لفظ کی تین طلاق سے ایک طلاق پڑتی ہے اور حدیث ابن عباسؓ میں متفرق طلاقوں کا ذکر ہے اور یہ کہنا کہ حدیث عائشہؓ میں تین طلاق متفرق اور حدیث ابن عباسؓ میں مجموعی طور پر مراد ہے ، بلا وجہ ہے۔ اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔
حضرت عائشہؓ کی مذکور ہ حدیث کے علاوہ بھی بہت سی احادیث ہیں ، جو یکجائی تین طلاق کے نافذ ہو نے پر دلالت کرتی ہیں ، ان میں سے :
۱۔ حضر ت ابن عمرؓ کی حدیث ابن ابی شیبہ بیہقی ، دار قطنی نے ذکر کی ہے۔
۲۔ حضرت عائشہؓ کی ایک حدیث دارقطنی نے ذکر کی ہے ۔
۳۔ حضرت معاذ ابن جبلؓ کی حدیث بھی دار قطنی نے روایت کی ہے ۔
۴۔ حضرت حسنؓ بن علیؓ کی حدیث بھی دار قطنی نے روایت کی ہے ۔
۵۔ عامر شعبیؒ سے فاطمہ بنت قیسؓ کے واقعۂ طلاق کی حدیث ابن ماجہ نے روایت کی ہے ۔
۶۔ حضرت عبادہ بن صامت کی ایک حدیث دار قطنی ومصنف عبد الرزاق میں مذکور ہے ۔
ان تمام احادیث سے تین طلاق کا لازم ہونا مفہوم ہوتا ہے ، تفصیل کے لئے دیکھئے حضرت الاستاذ محدث جلیل مولانا حبیب الرحمن الاعظمی صاحب کا رسالہ اعلام مرفوعہ/ ۴ تا ۷ ۔
بعض فقہاء مثلاً ابن قدامہ حنبلیؒ نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ نکاح ایک ملک ہے ، جسے متفرق طورپر زائل کیا جاسکتا ہے ، تو مجموعی طور پر بھی زائل کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ تمام ملکیتوں کا یہی حکم ہے۔ قرطبی نے کہا ہے کہ جمہور کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اگر شوہر نے بیوی کو تین طلا ق دی ، تو بیوی اس کے لئے اس وقت حلال ہوسکتی ہے ، جب کسی دوسرے شوہر سے ہم صحبت ہولے۔ اس میں لغۃً اور شرعاًشوہر اول کے تین طلاق مجموعی یا متفرق طور پر دینے میں کوئی فرق نہیں ہے ، فرق محض صورۃً ہے جس کو شارع نے لغو قرار دیا ہے ؛ اس لئے کہ شارع نے عتق ، اقرار اور نکاح کو جمع اور تفریق کی صورت میں یکساں رکھا ہے ۔ مولیٰ اگر بیک لفظ کہے کہ میں نے ان تینوں عورتوں کا نکاح تم سے کردیا ، تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے جیسے الگ الگ یوں کہے کہ اس کا اور اس کا نکاح تم سے کردیا تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے ۔اسی طرح اگر کہے کہ میں نے ان تینوں غلاموں کو آزاد کردیا تو سب کی آزادی نافذ ہوجائے گی ، جیسے الگ الگ یوں کہے کہ میں نے اس کو اور اس کو اور اس کو آزاد کیا تو سب کی آزادی نافذ ہوجاتی ہے ۔ یہی حال اقرار کا بھی ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جمع وتفریق میں کوئی فرق نہیں ، زیادہ سے زیادہ یکحائی تین طلاق دینے والے کو اپنا اختیار ضائع کرنے میں انتہا پسندی پر ملازمت کا مستحق ٹھرایا جاسکتا ہے ۔
بعض مخالفین کے علاوہ تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ ہازل کی طلاق حضرت ابوہریرہؓ وغیر ہ کی اس حدیث کی وجہ سے واقع ہوجاتی ہے جسے تمام امت نے قبول کیا ہے۔ ثلاث جدہن جد وھزلہن جد الطلاق والنکاح والرجعۃ ۔ ’’ تین چیزیں ہیں جن کا واقعی بھی حقیقت ہے اور مذاق بھی حقیقت ہے ۔ طلاق ، نکاح اور رجعت‘‘۔ مذاق میں طلاق دینے والے کا دل بھی قصد وارادہ کے ساتھ طلاق کا ذکر کرتا ہے ، لہذا جو طلاق ایک سے زائد ہوگی ، وہ مسمّٰی طلاق سے خارج نہیں ہوگی ، بلکہ وہ بھی صریح طلاق ہوگی اور تین طلاق کو ایک سمجھنا گویا بعض عدد کو زیر عمل لاکر باقی کو چھوڑ دینا ہے ، لہذا یہ جائز نہ ہوگا ۔
یکجائی تین طلاق دینے سے تین واقع ہونا اکثر اہل علم کا قول ہے ، اسی کو حضرت عمرؓ ، عثمانؓ، علیؓ، ابن عباسؓ، ابن عمرؓ اور ابن مسعودؓ وغیرہ اصحابِ رسول نے اختیار کیا ہے اور ائمہ اربعہ ابوحنیفہؒ ، مالکؒ ،شافعیؒ اور احمدؒ کے علاوہ دوسرے فقہاء مجتہدین ابن ابی لیلیٰ ؒ ، اوزاعیؒ وغیرہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔ ابن عبد الہادی ؒ نے ابن رجبؒ سے نقل کیا ہے کہ میرے علم میں کسی صحابی اور کسی تابعی اور جن ائمہ کے اقوال حلال وحرام کے فتویٰ میں معتبر ہیں ، ان میں سے کسی سے کوئی ایسی صریح بات ثابت نہیں جو بیک لفظ تین طلاق کے ایک ہونے پر دلالت کر ے ، خود ابن تیمیہؒ نے تین طلاق کے حکم میں مختلف اقوال پیش کر نے کے دوران کہا:
دوسرا مذہب یہ ہے کہ یہ طلاق حرام ہے اور لازم ونافذ ہے ، یہی امام ابوحنیفہؒ ، امام مالک ؒ اور امام احمدؒ کا آخری قول ہے ، ان کے اکثر تلامذہ نے اسی قو ل کو اختیار کیا ہے ، اور یہی مذہب سلفِ صحابہ وتابعین کی ایک بڑی تعداد سے منقول ہے ‘‘۔
اور ابن قیم ؒ نے کہا: ’’ ایک لفظ کی تین طلاق کے بارے میں لوگوں کا چار مذہب ہے ۔ پہلا مذہب یہ ہے کہ تین طلاق واقع ہوجاتی ہے۔،یہی مذہب ائمہ اربعہ ، جمہور تابعین اور بہت سے صحابۂ کرام کا ہے ۔
علامہ قرطبیؒ نے فرمایا : ’’ہمارے علماء نے فرماکہ یا تمام ائمہ فتاویٰ ایک لفظ سے تین طلاق کے لازم ہونے پرمتفق ہیں اور یہی جمہور سلف کا قول ہے ‘‘۔ ابن عربی ؒ نے اپنی کتاب الناسخ والمنسوخ میں کہا ہے اور اسے ابن قیمؒ نے بھی تہذیب السنن میں نقل کیا ہے : ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الطلاق مرتان (یعنی طلاق دومرتبہ ہے) آخر زمانہ میں ایک جماعت نے لغزش کھائی اور کہنے لگے: ایک لفظ کی تین طلاق سے تین نافذ نہیں ہوتی ، انھوں نے اس کو ایک بنادیا اور اس قول کو سلف اول کی طرف منسوب کردیا۔ علیؓ ، زبیرؓ، ابن عوفؓ، ابن مسعودؓ اور ابن عباسؓ سے روایت کیا اور حجاج بن ارطاۃ کی طرف روایت کی نسبت کردی ؛ جن کا مرتبہ ومقام کمزور اور مجروح ہے ، اس سلسلہ میں ایک روایت کی گئی جس کی کوئی اصلیت نہیں‘‘۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ : ’’ لوگوں نے اس سلسلہ میں جواحادیث صحابہ کی طرف منسوب کی ہیں ، وہ محض افتراء ہے ، کسی کتاب میں اس کی اصل نہیں اور نہ کسی سے اس کی روایت ثابت ہے ‘‘۔ اور آگے کہا : ’’حجاج بن ارطاۃ کی حدیث نہ امت میں مقبول ہے اور نہ کسی امام کے نزدیک حجت ہے ‘‘۔
حدیث ابن عباسؓ کے جوابات: حضرت ابن عباسؓ کی اس حدیث پر کہ ’’ عہد نبوی، عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دوسال میں تین طلاق ایک تھی ‘‘ کئی اعتراضات وارد ہوتے ہیں ،جن کی بناپر اس حدیث سے استدلال کمزور پڑجاتا ہے ۔
اس حدیث کے سند ومتن میں اضطراب ہے ، سند میں اضطراب یہ ہے کہ کبھی ’’عن طاؤس عن ابن عباس‘‘کہاگیا ، کبھی ’’ عن طاؤس عن ابی الصہباء عن ابن عباس‘‘ اور کبھی ’’عن ابی الجوزاء عن ابن عباس ‘‘ آیا ہے
متن میں اضطراب یہ ہے کہ ابو الصہباء نے کبھی ان الفاظ میں روایت کیا ہے : الم تعلم أن الرجل کان اذا طلق امرأتہ ثلاثا قبل أن یدخل بہا جعلوہا واحدۃً ۔’’کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مرد جب ملاقات سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا تھا ، تو لوگ اسے ایک شمار کر تے تھے ‘‘۔ اور کبھی ان الفاظ میں روایت کیا ہے: الم تعلم ان الطلاق الثلاث کان علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و ابی بکر وصدر من خلافۃ عمر واحدۃ ۔ ’’ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور حضرت ابو بکرؓ کے زمانے میں اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی دورِ خلافت میں تین طلاق ایک تھی ‘‘۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت کر نے میں طاؤس منفرد ہیں اور طاؤس میں کلام ہے ، اس لئے کے وہ حضرت ابن عباسؓ سے مناکیر روایت کرتے ہیں ۔قاضی اسماعیلؒ نے اپنی کتاب احکام القرآن میں کہا ہے کہ ’’طاؤس اپنے فضل وتقوی کے باوجود منکر باتیں روایت کرتے ہیں اور انھیں میں سے یہ حدیث بھی ہے ‘‘۔ ابن ایوب سے منقول ہے کہ وہ طاؤس کی کثرت خطا پر تعجب کر تے تھے۔ ابن عبد البر مالکی نے کہا کہ ’’ طاؤس اس حدیث میں تنہا ہیں‘‘۔ ابن رجب نے کہا کہ ’’ علماء اہل مکہ طاؤس کے شاذ اقوال کا انکار کرتے تھے ‘‘۔ قرطبی نے عبد البر سے نقل کیا ہے کہ ’’ طاؤس کی روایت وہم اور غلط ہے ، حجاز ، شام اور مغرب کے کسی فقیہ نے اس پر اعتماد نہیں کیا ہے ‘‘۔
بعض اہل علم نے کہا ہے کے حدیث دو وجہ سے شاذ ہے ، ایک تو اس وجہ سے کہ اس کی روایت کرنے میں طاؤس منفرد ہیں اور کوئی ان کا متابع نہیں ۔امام احمدؒ نے ابن منصور کی روایت میں کہا ہے کہ’’ ابن عباسؓ کے تمام تلامذہ نے طاؤس کے خلاف روایت کیا ہے ‘‘ جوزجانی نے کہا ہے کہ ’’ یہ حدیث شاذ ہے ‘‘ ۔ ابن عبد الہادی نے ابن رجب سے نقل کیا ہے کہ’’ میں نے بڑی مدت تک اس حدیث کی تحقیق کا اہتمام کیا، لیکن اس کی کوئی اصل نہ پاسکا‘‘۔
شاذ ہونے کی دوسری وجہ وہ ہے جس کو بیہقی نے ذکر کیا ہے انہوں نے ابن عباسؓ سے تین طلاق لازم ہونے کی روایات ذکر کر کے ابن المنذر سے نقل کیا ہے کہ ’’ وہ ابن عباسؓ کے بارے میں یہ گمان نہیں کرتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انھوں نے کوئی بات محفوظ کی ہو اور پھر اس کے خلاف فتویٰ دیں ‘‘۔ ابن ترکمانی نے کہا کہ ’’ طاؤس کہتے تھے کہ ابوالصہباء مولیٰ ابن عباسؓ نے ان سے تین طلاق کے بارے میں پوچھا تھا ؛ لیکن ابن عباسؓ سے یہ روایت اس لئے صحیح نہیں مانی جاسکتی کہ ثقات خود انھیں سے اس کے خلاف روایت کر تے ہیں اور اگر صحیح بھی ہو ، تو ان کی بات ان سے زیادہ جاننے والے جلیل القدر صحابہ حضرت عمرؓ ، عثمانؓ، علیؓ ، ابن مسعودؓ، ابن عمرؓ وغیرہم پر حجت نہیں ہوسکتی ‘‘۔
حدیث میں شذوذ ہی کی وجہ سے دو جلیل القدر محدثوں نے اس حدیث سے اعراض کیا ہے ۔امام احمد ؒ نے اثرم اور ابن منصور سے کہا کہ میں نے ابن عباسؓ کی حدیث قصداً ترک کر دی ؛ اس لئے کہ میری رائے میں اس حدیث سے یکجائی تین طلاق کے ایک ہونے پر استدلال درست نہیں ؛ کیوں کہ حفاظِ حدیث نے ابن عباسؓ سے اس کے خلاف روایت کیا ہے اور بیہقی نے امام بخاریؒ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حدیث کو اسی وجہ سے قصداً چھوڑدیا، جس کی وجہ سے امام احمدؒ نے ترک کیا تھا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ دو امام فن حدیث کو اسی وقت چھوڑسکتے ہیں جب کہ چھوڑنے کا سبب رہاہو۔
حضرت ابن عباسؓ کی حدیث ایک اجتماعی حالت بیان کرتی ہے ، جس کا علم تما م معاصرین کو ہونا چاہئے تھا اور متعدد طرق سے اس کے نقل کے کافی اسباب ہونے چاہئے تھے ، جس میں اختلاف کی گنجائش نہ ہوتی ، حالانکہ اس حدیث کو ابن عباسؓ سے بطریقِ آحاد ہی روایت کیا گیا ہے ، اسے طاؤس کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا ہے ، جب کہ وہ مناکیر بھی روایت کرتے ہیں ۔
جمہور علماء اصول نے کہا ہے کہ اگر خبر آحاد کے نقل کے اسباب وافر ہوں ، تو محض کسی ایک شخص کا نقل کر نا اس کے عدم صحت کی دلیل ہے ۔صاحب جمع الجوامع نے خبر کے عدم صحت کے بیان میں اس خبر کو بھی داخل کیا ہے جو نقل کے اسباب وافر ہونے کے باوجود بطریق آحاد نقل کی گئی ہو ۔ ابن حاجبؒ نے مختصر الاصول میں کہا ہے :
’’ جب تنہا کوئی شخص ایسی بات نقل کرے ، جس کے نقل کے اسباب کافی تھے ، اس کے نقل میں ایک بڑی جماعت اس کے ساتھ شریک ہونی چاہئے تھی ، مثلاًوہ تنہا بیان کرے کہ شہر کی جامع مسجد میں منبر پر خطبہ دینے کی حالت میں خطیب کو قتل کر دیا گیا ، تو وہ جھوٹا ہے ، اس کی بات بالکل نہیں مانی جائے گی‘‘۔
جس بات پر عہد نبوی ، عہد صدیقی اور عہدفاروقی میں تمام مسلمان باقی رہے ہوں، تو اس کے نقل کے کافی اسباب ہوں گے ؛ حالانکہ ابن عباسؓ کے علاوہ کسی صحابی سے اس کے بارے میں ایک حرف بھی منقول نہیں (اور اس کو بھی حضرت ابن عباسؓ نے ابوالصہباء کے تلقین کرنے پر بیان کیا ہے ) صحابۂ کرام کی خاموشی دو بات پر دلالت کر تی ہے ۔ یاتو حدیث ابن عباسؓ میں تینوں طلاقیں بیک لفظ نہ مانی جائیں ؛ بلکہ اس کی صورت یہ ہے کہ بیک لفظ تین الفاظ میں تین طلاق دی گئی اور لفظ کا تکرار تاکید پر محمول کیا جائے ، یا یہ حدیث صحیح نہیں ، اس لئے کہ نقل کے کافی وسائل ہونے کے باوجود آحاد نے اسے روایت کیا ہے ۔
جب ابن عباسؓ جانتے تھے کہ عہد نبوی، عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دور میں تین طلاق ایک سمجھی جاتی تھی ، تو ان کے صلاح وتقویٰ ، علم و استقامت ، اتباع سنت اور برملا حق گوئی کے پیش نظر یہ نہیں سوچا جاسکتا کہ انھوں نے یکجائی تین طلاق سے تین نافذ کرنے میں حضرت عمرؓ کے حکم کی اتباع کی ہوگی ۔ تمتع حج ، دو دینار کے عوض ایک دینار کی خرید وفروخت ، ام ولد کی خرید وفروخت وغیرہ کے مسائل میں حضرت عمرؓ سے ان کا اختلاف پوشیدہ نہیں ، لہذا کسی ایسے مسئلہ میں وہ حضرت عمرؓ کی موافقت کیسے کرسکتے ہیں ، جس کے خلاف وہ خود روایت کرتے ہوں، تمتع حج کے بارے میں حضرت عمرؓ سے ان کا جو اختلاف ہوا ہے ، اس سلسلہ میں ان کا یہ مشہور قول ان کی بر ملا حق گوئی کی واضح دلیل ہے ، انھوں نے فرمایا کہ : ’’ قریب ہے کہ تم پر آسمان سے پتھر برسیں ، میں کہتاہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااور تم لوگ کہتے ہو ابوبکر نے کہا ، عمر نے کہا ‘‘۔
اگر ابن عباسؓ کی حدیث کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے ، تو قرون اولیٰ میں صحابۂ کرام کے صلاح وتقویٰ ، علم واستقامت اور غایت اتباع کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انھوں نے تین طلاقوں کو ایک جانتے ہوئے حضرت عمرؓ کا حکم قبول کرلیا ہوگا ، اس کے باوجود کسی سے بہ سند صحیح یہ ثابت نہیں کہ اس نے حدیث ابن عباسؓ کے مطابق فتویٰ دیا ہو۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ حضرت عمرؓ نے تین طلاق سے تین کے نفاذ کا حکم سزا کے طور پر جاری کیا تھا ؛ اس لئے کہ ایسے کام میں جس پر بڑے غور وفکر کے بعد اقدام کرنا چاہئے تھا ، لوگوں نے عجلت سے کام لینا شروع کر دیا تھا ؛ لیکن یہ بات تسلیم کرنا موجب اشکال ہے ، اس لئے کہ حضرت عمرؓجیسا متقی عالم وفقیہ کوئی ایسی سزا کیسے جاری کرسکتا ہے ، جس کے اثرات مستحق سزا تک ہی نہیں محدود رہتے ؛ بلکہ دوسری طرف (یعنی بیوی کی طرف) بھی پہونچتے ہیں ۔ حرام فرج کو حلال کرنا اور حلال فرج کو حرام کرنا اور حقوق رجعت وغیرہ کے مسائل اس پر مرتب ہوتے ہیں ۔
مجلس کا فیصلہ: مجلس ہیئت کبار علماء نے جو فیصلہ کیا ہے ، اس کے الفاظ یہ ہیں :
بعد دراسۃ المسئلۃ وتداول الرأی واستعراض الأقوال التی قیلت فیہا ومناقشۃ ما علی کل قول من إیراد توصل المجلس بأکثریتہ إلی اختیار القول بوقوع الطلاق الثلاث بلفظٍ واحدٍ ثلاثاً ۔ (مجلۃ البحوث الإسلامیۃالمجلد الأول ، العدد الثالث ، ص: ۱۶۵)
مسئلہ موضوعہ کے مکمل مطالعہ ، تبادلۂ خیال اور تمام اقوال کا جائزہ لینے اور ان پر وارد ہونے والے اعتراضات پر جرح ومناقشہ کے بعد مجلس نے اکثریت کے ساتھ ایک لفظ کی تین طلاق سے تین واقع ہو نے کا قول اختیارکیا۔ لجنہ دائمہ نے تین طلاق کے مسئلہ میں جو بحث تیار کی ہے ، اس کے اخیر میں مندرجہ ذیل اراکین مجلس کے دستخط بھی موجود ہیں ۔
ابراہیم بن محمد آل الشیخ صدر لجنہ
عبد الرزاق عفیفی نائب صدر
عبد اللہ بن عبد الرحمن بن غذیان عضومجلس
عبد اللہ بن سلیمان بن منیع عضو مجلس
تنبیہ: اس مجلس کے جن علماء نے تین طلاق کو ایک قرار دیا ہے ، انھوں نے صرف اس صورت کا یہ حکم بیان کیا ہے ’’ جب کوئی شخص یوں طلاق دے کہ میں نے تین طلاق دی (یا دیا) ؛ لیکن جب کوئی یوں کہے کہ میں نے طلاق دیا، میں نے طلاق دیا، میں نے طلاق دیا، تو اس صورت میں وہ بھی نہیں کہتے کہ ایک طلاق پڑے گی‘‘۔ (یعنی اس صورت میں ان کے نزدیک بھی تین طلاق واقع ہوگی) ۔

Thursday, 30 November 2017

آہ! اے عقبی کے راہی مولانا مفتی محمد عبدﷲ پھولپوری

••• *آہ! اے عقبی کے راہی*•••






   __________________

✍🏻...《محمد عدنان وقار صدیقی》

——————————

    آج ۱۰/۳/۱۴۳۹ھ مطابق  ۳۰/۱۱/۲۰۱۷ بروز پنجشنبہ  سپیدئ سحر کے نمودار ہونے سے ہی فضا اداس تھی, سردی اپنے معمول پر ہی تھی, آفتاب کی شعائیں نمودار ہوئیں لیکن منظر غروب کا دکھا رہی تہیں, طبیعتیں بوجھل تہیں, صبح کی خوشگواری مانو کسی نے سمیٹ اور لپیٹ کر کہیں رکھدی تہیں,
   باد نسیم کا سہانا احساس آج محسوس  ہی نہیں تہا, فلک کا منہ بھی اترا ہوا تہا, عجیب سراسیمی طاری تہی, اگر چہ آسمان باوجود موسم سرما کے بادلوں کی چادر اوڑھے ھوئے نہ تہا؛ لیکن اداسی کی اوڑھنی اوڑھے ہوئے ضرور تہا, دل و ذھن اس پر اسرار اور گھٹے گھٹے منظر کو دیکھ کر کچھ بے چینی محسوس کر رہے تہے کہ خدایا! یہ موسم کو کیا ھوا کہ ابہی تو نومبر کا آخری دن ھے لیکن ماہ دسمبر کے وسط کا نقشہ کیوں عیاں ھے؟
   پھولوں کی نوخیز کلیاں جو ابہی چٹخنے کو ہی تھیں نہ معلوم کیوں سبز پتوں کے لحاف میں چھپ رہی تہیں, جیسے کسی انجانے خوف کا خطرہ لاحق ہو, سبزہ زار پر بکھری شبنم اور اسکی بوندیں جو مانند در شہوار  صبح صادق کی روشنی میں جگمگاتی تہیں آج کسی آنسوں کا عکس بنی ہوئی تہیں, کہیتوں کی پگڈنڈیوں پر ٹہلنے کا مزہ بد مزہ لگ رہا تہا, نہروں و تالابوں میں روز مرہ کی طرح تیرتی بطخیں بد دلی سے پانی کی سطح پر نظر آرہی تہیں گویا کسی ملازم کو زبردستی کسی کام پر مامور کردیا ہو اور وہ اسکو حرز جاں سمجھ کر بے شوقی سے سر انجام دے رہا ہو,
      جام و سبو اور صراحی سبھی تو تہے لیکن مے میں  ذائقہ اور مستی نام كو بهي نه تهي.
    ان تمام تر تبدیلیوں کو محسوس کرتے ہوئے ان بے چینیوں کو دل میں دباتے ھوئے, کائنات کے ہر ذرے کی پژمردگئ کو نظر انداز کرتے ھوئے روز مرہ کے معمول نپٹانے کی خاطر  معمولات میں مشغول ہوا جانے لگا, لیکن چھٹی حس کہہ رہی تہی کہ کوئی انہونی ضرور ہونے کو ھے-

   ابھی چند ساعات ہی گزرے تہے کہ بیداری میں دیکھے گئے  اس خوفناک خواب کی تعبیر ایک دل دوز اور اندوہناک خبر کی شکل میں پردۂ سماعت سے ٹکرائی, کہ 【محی السنہ, نواسہ ٔ حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوری جناب الحاج حضرت ★مولانا مفتی محمد عبدﷲ پھولپوری★ خلیفۂ اجل حضرت محی السنہ شاہ ابرار الحق صاحب رح】 اس دار فانی سے دار بقاء کی جانب منبع وحی, مولد رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ, النور ہسپتال میں دوران علاج کوچ فرماگئے ہیں,  سنتے ہی لگاکہ کانوں میں سیسہ گھل گیا ہو, بدن میں سن سا پڑگیا, زبان گنگ ہوکر رہ گئی, نگاہ کے سامنے اندھیرا سا چاگیا, دل کی دھڑکن معمول سے ھٹ گئ, قدرے مدت اس کیفیت سے دوچاری رہی تب کچھ وادی ہوش کی جانب واپسی ہوئی, 
       
  حضرت مرحوم علم و عمل کے چراغ, تزکیہ نفوس کے ماہر طبیب, تصوف کے امام, ماہر شریعت, دلوں کو اپنی پر اثر مواعظ سے جلاء و تازگی بخشنے والے, بے راہ روں کو راہ راست پر لانے والے, قلوب کو انابت الی ﷲ کی روشنی دکھانیوالے, سنتوں کا احیاء اور دین کی تجدید کرنیوالے, بلا گفتار من موہنے والے, جن کو دیکھ کر خدا یاد آجائے ایسے ﷲ والے, صاحب نسبت اور اکابرین و اہل ﷲ کی صحبت اٹھانے والے, اور ان سے اکتساب فیض کرنیوالے, پھر ہم ایسے بھولے بسرے یاد خدا سے غافل لوگوں کو یاد حق کرانیوالے, گناہوں کی شناعت اور سنتوں کی محبت دلوں میں جاگزیں کرنے والے تہے, 
   حضرت روشن چہرہ, شگفتہ رو, متبسم ہونٹ والےتہے, فقراء ومساکین کے ساتھ حسن و سلوک برتتے تہے, علماء و طلبہ اور اہل تعلق حضرات کا بہت زیادہ پاس و لحاظ فرماتے, آپ پاک دامن, نظافت پسند تہے, شریفانہ عادت و اطوار, اور عمدہ اخلاق و کردار کے مالک تہے, انہیں فکر فقط یہ تہی کہ انکے ساتھ ساتھ دیگراں کا بھی رشتہ خدا سے مضبوط ہو, بندگان خدا کو اپنی تمام چیزوں: مال و زر, علم و فضل, صلاح و تقوی, مواعظ و نصائح اور تربیت و اصلاح سے نفع پہونچایا۔ آپ بلا استثنا سبھوں کے نزدیک محبوب تہے, آپ کی مجلس علم و ذکر کی مجلس ہوتی تھی۔

*میں نے پایا ھے اسے اشکِ سحر گاہی میں*
*جس درِ نایاب سے خالی ھے صدف کی آغوش*
  
   آج وہ بھی ہم سے رخصت ہوگئے اور جاوداں ہوگئے, کس کو پتہ تہا کہ اس رواں سال (عام الحزن) اعیانِ عالَم کے اسی قافلے کے شریک ہیں جو قافلہ اس دنیا کی عظیم علمی و عملی شخصیات و ہستیوں کو ایک ایک کرکے چن چن کر راہیٔ ملک بقاء ھے,

٭ رفتيد ولے نه از دل ما٭

میرا ایمان ھے کہ دل فگاری کی اس کیفیت سے عالم اسلام میں عموما اور بر صغیر میں خصوصا وہ ہزاروں علماء دوچار ہوئے ھونگے جنہیں ان سے للہیت اور ان کے غیر معمولی علم و فضل کی وجہ سے اسی طرح عقیدت تہی جیسی عہد قریب کے بر صغیر کے خدا رسیدہ و محبت چسیدہ علمائے عالی مقام و مشایخ ذی احترام سے۔

*عجب قیامت کا حادثہ ھے کہ اشک ہیں آستین نہیں*
*زمیں کی رونق اجڑ گئی افق پے مہر مبیں نہیں*

*تری جدائی پے مرنے والے وہ کون ہیں جو حزیں نہیں*
*مگر تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابہی تک یقیں نہیں*

  ابھی ماضی قریب بلکہ ایام قریبہ میں لگے زخم مندمل نہ ہوسکے تہے, ابھی یاد اکابر و مرشدین تازی تہی, ابہی شاخ غم ہری ہی تہی, جگر کی آگ ابہی چنگاری ہی بنی تہی کہ ایک اور زخم تازہ قلب پر لگا, یاد مسلسل کا ایک تسلسل پھر شروع ہوگیا, آنکھیں اشکبار پھر ہوگئیں, جگر کی چنگاری پھر بھڑکتی آگ بن گئی, خوشیاں پھر چھنٹ گئیں, مسکراہٹیں پھر غائب ہوگئیں, لبوں پر پھر سکوت کا پہرہ لگ گیا, اذھان و افکار ایک بار پھر غم کی وادی میں چلے گئے, دنیا پھر یتیم سی ہوگئی, اور اس موت نے پھر گوہر نایاب چن لیا, جسم  فقط افسوس و حسرتوں کی آماجگاہ بن چکا, وہ تو دار السرور کو سدھارگئے لیکن دنیا کو دار الحزن بناگئے, 

*یہ پیر کلیسا کی کرامت ھے کہ اس نے*
*بجلی کے چراغوں سے منور کیے ہیں افکار*

       اسی غم و حزن کی ملی جلی کیفیت میں *جامعہ عربیہ دار العلوم رحیمیہ اکبراباد ضلع بجنور صوبہ یوپی* میں وفات کی خبر سن کر مجلس ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کی مجلس کا انعقاد عمل میں آیا, جامعہ کے اساتذہ کرام و طلبۂ عظام نے قرآن خوانی کی, اور حضرت کی مقدس روح جو عند ﷲ راضیہ مرضیہ , اور عند الناس نفس مطمئنہ  تہی کو اسکا ثواب پہونچایا, 
    اللہ حضرت کی مغفرت فرماکر ان کی علمی و عملی ملی و قومی اصلاحی و ارشادی غرضیکہ تمام تر خدمات جلیلہ کاانکی شایان شان بدلہ و اجر عطا فرمائے, اور پسماندگان و متوسلین کو صبر جمیل سے نوازے, 

*فروغِ شمع جو اب ھے رہیگی رہتی دنیا تک*
*مگر محفل تو پروانوں سے خالی؛ہوتی جاتی ھے*
____________________

📝ناشر: جامعہ عربیہ دارالعلوم رحیمیہ،قصبہ: اکبرآباد، ضلع:بجنور، صوبہ: یوپی، الہند.

Saturday, 25 November 2017

با وضو زندگی گزارنے کی تڑپ

باوضو زندگی گزارنے کی تڑپ:

مجھے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے ایک صاحب کے گھر جانے کا موقع ملا ان کے بچے گھر کے گراؤنڈ میں فٹ بال کھیل رہے تھے نئی آبادی تھی مسجد قریب نہیں تھی اس لیے گھر میں ہی جماعت سے نماز ادا کرنی پڑتی تھی جب ہم نے مغرب کی نماز کے لیے آذان دی صفیں بنانے شروع کی تو ہم نے دیکھا کہ بچے جو فٹ بال کھیل رہے تھے چھوٹے بڑے سارے ہی آئے اور صف باندھ کر کھڑے ہوگئے میں نے صاحب خانہ سے پوچھا کہ ان بچوں نے وضو نہیں کرنا انہوں نے کہا وضو کیا ہوا ہے اس عاجز نے سمجھا کہ شاید انہوں نے سوچا ہوگا کہ مہمان آیا ہوا ہے نماز پڑھنی بھی ہے اس لیے ہم پہلے سے وضو کرکے کھیلتے ہیں لیکن نماز پڑھنے کے بعد صاحب خانہ نے بتایا کہ ہمارے خاندان میں اوپر مشائخ سے عمل چلتا آ رہا ہے کہ کوئی بچہ بھی جب چار پانچ سال کی عمر سے بڑا  ہو جاتا ہے توہم اس کو بھی جاگتے ہوئے ہوش کی حالت میں بے وضو نہیں دیکھیں گے آج کے دور میں بھی کیسے لوگ ہیں جن کو باوضو زندگی گزارنے کی تڑپ اور تمنا ہوتی ہے۔۔۔ 
کما نعیشون تموتون۔۔۔ فرمایا کہ تم جس حال میں زندگی گزارو گے تمہیں اسی حال میں موت آئے گی باوضو زندگی گزانے والو کو اللہ تعالیٰ با وضو موت عطا فرمائیں گے۔۔۔!! (خطبات ذوالفقار ١٢٥/٥)

Friday, 24 November 2017

Nizam e jamhuriat نظام جمہوریت قسط 1

========== *نظام ِ جمہوریت* ========= 

*جمہوری نظام کی تاریخ اور حقائق ۔۔۔ قسط: ①* 
================================

اِس وقت دُنیا میں یہ کہا اَور سمجھا جا رہا ہے کہ دُنیا کے مختلف نظاموں کے تجربات کرنے کے بعد آخر میں سیکولرجمہوریت ہی سب سے بہتر نظام ِ حکومت ہے یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ اَب اِس سے بہتر نظام ِ حکومت وجود میں نہیں آ سکتا۔

اَبھی حال ہی میں اَمریکہ کی وزارت ِ خارجہ کے ایک بڑے اَفسر کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام ہے The End Of The History and the Last Man ''تاریخ کا خاتمہ اَور آخری آدمی'' جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تاریخ میں جو اِرتقاء ہوتا رہا ہے اِس کے بعد اَب تاریخ اَپنی اِنتہاء پر جا پہنچی ہے، سیکولر جمہوریت دَریافت کرنے کے بعد اَور لِبرل جمہوریت تیار کرنے کے بعد اَب کوئی اَچھا نظام وجود میں نہیں آسکتا۔ 

یہ باقاعدہ اِسی طرح کی پیش گوئی ہے جیسے کسی زمانے میں کارل مارکس کہا کرتا تھا کہ اِشتراکی نظام ہی دُنیا کا آخری نظام ہے اَور اِس کے بعد کوئی اَور بہتر نظام وجود میں نہیں آئے گا۔ اِسی طرح سیکولر جمہوریت اَور سرمایہ دَارانہ نظام کے بارے میں بھی یہ بات کہی جا رہی ہے بالخصوص رُوس کی سویت یونین کے سقوط کے بعد یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ سیاست میں سیکولر جمہوریت اَور معیشت میں سرمایہ دَارانہ نظام کو عملاً ایسی فتح حاصل ہو گئی ہے کہ اَب کوئی دُوسرا نظام اِس کی ہمسری نہیں کر سکتا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ نظام جس کو جمہوریت کہا جاتا ہے یہ کس قدر پختہ اَور معقول نظام ہے ؟ 

اِس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت کے تحت بعض ایسے اُصول دُنیا میں پھیلے جنہوں نے بحیثیت ِمجموعی فرد کی آزادی کو فائدہ پہنچایا۔ اِس سے پہلے مطلق العنان حکومتیں اَور بادشاہتیں تھیں یا ڈِکٹیٹرشپ تھی اُن میں جو جبرو تشدد ہوتا تھا یا فرد پر جو ناروا پابندیاں عائد ہوتی تھیں اِس نظام میں اُن کا بڑی حدتک خاتمہ ہوا اَور یہ بھی درست ہے کہ لوگوں کے اِظہار ِ رائے پر جو جو قد غن تھی وہ جمہوریت نے دُور کی، علاوہ اَزیں مطلق العنان بادشاہتوں میں جو گھٹن کی فضا ء پائی جاتی تھی اُس کو جمہوریت نے بڑی حد تک رفع کیا ۔ 

*''جمہوریت''منفی عمل کا منفی ردِّعمل :* 

لیکن اگر اِس کے بنیادی تصور کے لحاظ سے دیکھئے تو یہ نظام دَر حقیقت کسی سنجیدہ فکر پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ صدیوں کے اُن نظاموں کا ردِ عمل ہے جو خود ساختہ تصورات کے تحت لوگوں پر جابرانہ حکومت کر رہے تھے۔ آپ نے دیکھاہے کہ یورپ کی تاریخ کے بیشتر حصے میں مطلق العنان بادشاہتیں رہیں، اگر کہیں مذہب کا دَرمیان میں ذکر آیا بھی یا مذہب کو بنیاد بنایا گیا بھی تو تھیو کریسی کی اُن خرابیوں کے ساتھ جو میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہیں، سلطنت ِ رُوما کی تھیو  کریسی میں دَرحقیقت کوئی رُوحانی بنیاد موجود نہیں تھی، محض پوپ کے ذاتی تصورات کو معصوم قرار دے کر اُن کو مذہبی حکم کے طور پر نافذ کیا جاتا تھا اَور اِس سے لوگوں کے حقوق پامال ہوتے تھے اِس کا ردِ عمل یہ ہوا کہ جمہوریت والوں نے مذہب کا جوا بالکل اُتار پھینکا اَور تصوریہ قائم ہوا کہ حاکمیت اَعلیٰ خود عوام کو حاصل ہے۔ 

جمہوریت دَر اَصل اَنگریزی لفظ ڈیموکریسی (Democracy) کا ترجمہ ہے جس کے معنی ہیں عوام کی حاکمیت، اِس طرح نظریہ یہ وجود میں آیا کہ عوام خود حاکم ہیں پھر عوام کے خود حاکم ہونے کے تصور کو سیکولراِزم کے ساتھ وابستہ کرنا پڑا جس کا مطلب یہ تھا کہ ریاست کے معاملات میں کسی دین اَور مذہب کی پابندی نہیں ہے۔ مذہب اِنسانوں کا ذاتی معاملہ ہے جو اُن کی اِنفرادی زندگی سے متعلق ہے لیکن سرکار کے معاملات سے اِس کا کوئی سرو کار نہیں ہے۔ کیونکہ عوام جب خود حاکم ہیں اَور کسی دُوسری اَتھارٹی کے پابند نہیں ہیں تو اِس کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ وہ حکومت کے معاملات میں کسی اِلٰہی قانون کے بھی پابند نہیں بلکہ وہ خود فیصلہ کریں گے کہ کیا چیز اَچھی اَور کیا چیز بری ہے ؟ لہٰذا آزاد جمہوریت یا لبرل ڈیموکریسی سیکولراِزم کے بغیر نہیں چل سکتی۔ 

اِس نظریہ کی معقولیت جانچنے کے لیے سب سے پہلے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اَگر ساری عوام حاکم ہیں تو محکوم کون ہے ؟ کیا محکوم زمین ہے یا مُلک کی عمارتیں ہیں یا جمادات یا نباتات ہیں؟ اگر یہ چیزیں محکوم نہیں بن سکتیں تو آخر محکوم کون ہے ؟ یہ عوام جو حاکم ہیںیہ کس پر حکومت کریں گے؟ حاکم ہونے کا لازمی نتیجہ ہے کسی کا محکوم ہونا اَور جب عوام کو حاکم قرار دے دیا تو محکوم کا کوئی وجود ہی نہیں رہا، سب کے سب حاکم ہیں اَور جب سب حاکم ہوں تو یہ اَنارکی ہے۔ 
جمہوریت کی تعریف میں یہ جملہ مشہور ہے کہ: 

Government of the people by the people for the people
'' یہ حکومت ہے عوام کی ، عوام کے ذریعے سے اَور عوام کے لیے ''

اِس کا مطلب یہ ہوا کہ عوام خود ہی حاکم ہیں اَور خود ہی محکوم بھی ہیں۔ یہ بات کسی منطق کی رُو سے درست نہیں ہوتی کہ ایک ہی شخص کو حاکم بھی قرار دیا جائے اَور اُسی کو محکوم بھی قرار دیا جائے اَور اُسی کو ذریعہ حکومت بھی قرار دیا جائے لہٰذا عوام کی حاکمیت کا جو بنیادی تصور ہے وہ مفقود ہو گیا۔ 

اِس اِعتراض کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ عوام کی حاکمیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود اَپنی مرضی سے اَپنے نمائندے مقرر کر لیتے ہیں پھر وہ نمائندے حاکم بن جاتے ہیں اَور باقی عوام محکوم ہو جاتے ہیں لیکن اَوّل تو اِس نمائندگی کی حقیقت (بالکل بے تکی ہے جس کو) ہم اِن شاء اللہ عنقریب واضح کریں گے) دُوسرے اِس کا مطلب یہ ہوا کہ عوام کی اَکثریت اپنے نمائندے مقرر کرنے کے بعد بے دَست و پا ہوگئی پھر سارا اِختیار اُن گِنے چنے نمائندوں کے پاس چلا گیا اَور عوام کی بھاری اَکثریت اُن کی دَست ِنگربن گئی تو یہ اُن گِنے چنے اَفراد کی حاکمیت ہوئی،جمہوریت اَور عوام کی اَکثریت کی حاکمیت تونہ ہوئی۔ 

حاکمیت کے معنی خود علمِ سیاست کے ماہرین یہ بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص کا کسی دُوسرے کا پابند ہوئے بغیر خود اَپنی مرضی سے حاکمانہ اِختیارات اِستعمال کرنا یا دُوسرے پر اَحکام جاری کر نا۔ خود علم ِ سیاست کی رُو سے یہ حاکمیت کے معنی قرار دیے جاتے ہیں لہٰذا جب یہ کہا جائے کہ عوام حاکم ہیں تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کسی دُوسری اَتھارٹی کے پابند نہیں ہیں حالانکہ عوام کی اَکثریت اَپنے بنائے ہوئے نمائندوں کی اَتھارٹی کے پابند ہوتے ہیں پھر وہ حاکمیت کہاں رہی ؟ 

دُوسرے عوام کو بے مہار طریقے پر حاکم ماننے کے بعد سوال یہ پیدا ہوا کہ اِس جمہوری حکومت کا مقصد کیا ہے ، یہ کس مقصد کے تحت وجود میں لائی جائے گی ؟ اِس سوال پر علمِ سیاست کے ماہرین نے گفتگو کی ہے کہ جمہوریت کا کیا مقصد ہے ؟ جب کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آیا تو کسی نے عاجز آکر کہا کہ حکومت بذات ِ خود مقصد ہے، یہ ایک تھیوری ہے اَور بعض لوگوں نے کہا کہ اِس حکومت کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خوشی فراہم کرنا ہے اَور عوام جو کچھ بھی اَحکام جاری کریں گے خوشی فراہم کرنے کے لیے کریں گے۔ لیکن خوشی تو ایک اِضافی چیز ہے ایک شخص کو ایک کام میں خوشی ہوتی ہے اَور دُوسرے شخص کو دُوسرے کام میں خوشی ہوتی ہے۔ اَب کون سی خوشی کو مقدم رکھا جائے ؟ اِس کا کوئی اِطمینان بخش جواب سوائے اِس کے نہیں ہے کہ جس کام میں اَکثریت کو خوشی حاصل ہو وہی خوشی برحق ہے لیکن ساری عوام کو تو خوشی حاصل نہ ہوئی، اِس کے علاوہ اگر عوام کی اَکثریت کو کسی بد اَخلاقی میں خوشی حاصل ہوجائے تو اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ اِس بد اَخلاقی کا رواج بھی جمہوریت کے مقاصد میں شامل ہو گیا۔ 

آخری تھیوری جو سب سے زیادہ مقبول سمجھی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جمہوری حکومت کا مقصد ہے عوام کے حقوق کا تحفظ۔ اَب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کے جن حقوق کا تحفظ مقصود ہے وہ حقوق کون متعین کرے گا ؟ 

اِس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ بھی خود عوام ہی کریں گے لیکن عوام کا حال یہ ہے کہ وہ آج ایک چیز کو حق قرار دیتے ہیں اَور کل اُس کے حق ہونے سے منکر ہوجاتے ہیں اِس لیے حقوق کا کوئی مطلق یا دائمی تصور موجود نہیں ہے بلکہ حقوق سارے کے سارے اِضافی ہیں ۔
بہرحال ! جمہوریت کے مبینہ مقاصد میں کہیں بھی آپ یہ نہیں پائیں گے کہ خیر کو پھیلایا جائے گا اَور شر کو روکا جائے گا، اَچھائی کو فروغ دیا جائے گا اَور برائی کو روکا جائے گا۔ یہ اِس لیے نہیں کہتے کہ اَوّل تو اَچھائی اَور برائی کا کوئی اَبدی دائمی معیار اُن کے پاس نہیں ہے کہ فلاں چیز اَچھی اَور فلاں چیز بری ہے بلکہ اَب تازہ ترین فلسفہ یہ ہے کہ خیر اَور شر کوئی چیز نہیں ہے، دُنیا میں ساری چیزیں اِضافی ہیں۔ ایک زمانے میں ایک چیز خیر ہے اَور دُوسرے زمانے میں وہ شر ہے اَور ایک مُلک میں خیر ہے دُوسرے مُلک میں شر ہے، ایک ماحول میں خیر ہے اَور دُوسرے ماحول میں شر ہے، یہ اِضافی چیزیں ہیں اِن کا کوئی اَپنا حقیقی وجود نہیں ہے بلکہ خیر و شر کے پیمانے ماحول کے زیر اَثر متعین ہوتے ہیں۔ 

اِسی کا نتیجہ ہے کہ جب سے سیکولر جمہوریت کا رواج ہوا ہے اُسی وقت سے مغرب میں اَخلاقی بے راہ روی اَور جنسی بے راہ روِی کا طوفان اُٹھا ہے۔ جب تک جمہوریت وجود میں نہیں آئی تھی بلکہ یا تو بادشاہتیں تھیں یا عیسائی تھیو کریسی تھی تو اُس وقت تک اَخلاقی بے راہ روی کا وہ طوفان نہیں اُٹھا تھا جو جمہوریت کے بر سرِ کار ہونے بعد یورپ میں اُٹھا ہے۔ حالت یہ ہے کہ کوئی بد سے بد تر کام ایسا نہیں ہے جس کو آج آزادی کے نام پر سند ِجواز نہ دی گئی ہو یا کم اَزکم اُس کا مطالبہ نہ کیا جا رہا ہو کیونکہ جمہوریت نہ کسی اَخلاقی قدر کی پابند ہے، نہ کسی کی آسمانی ہدایت سے فیض یاب ہے بلکہ عوام کی اَپنی مرضی اَور خواہش پر سا را دَارو مدار ہے۔ 

==================> جاری ہے ۔۔۔ 

{ ماخوذ از: اسلام اور سیاسی نظریات صفحہ ۱۴۴ تا ۱۵۴ }
 مؤلفہ جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب

نظام جمہوریت قسط 2 Nimaz e jamhuriat

======== *نظام ِ جمہوریت* ========

*جمہوریت اَور ہم جنس پرستی ۔۔۔ قسط②:* 
=============================

اِسی کا نتیجہ ہے کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ نے ہم جنس پرستی کو سند ِجواز دی اَور اِس کے جواز کا قانون تالیوں کی گونج میں منظور کیا اَور اِس کے بعد یورپ کے بعض ممالک میں ہم جنس شادیوں کو قانونی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ جس وقت برطانیہ کی پارلیمنٹ میں یہ بل پیش ہوا تو سب لوگ تو اِس کے حامی نہیں تھے اِختلاف ِ رائے موجود تھا، اِس اختلاف ِ رائے کو دُور کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی اُس کمیٹی کو '' Wolfenden Committee'' کہا جاتا ہے۔ وہ کمیٹی اِس لیے بنائی گئی تھی کہ وہ اِس معاملہ میں رائے عامہ کا اَندازہ لگائے اَور جو مفکرین اَور دَانشور ہیں اُن سے تبادلہ خیال کرے اَور بالآخر یہ رپورٹ پیش کرے کہ اَیوان رائے عامہ کا جائزہ لینے کے بعد اَور تمام متعلقہ حلقوں سے گفتگو کرنے کے بعد کس نتیجہ پر پہنچے۔
اِس کمیٹی کی رپورٹ بڑی عبرتناک ہے اِس رپورٹ میں کمیٹی نے جو باتیں کہی ہیں اُن کا خلاصہ یہ ہے کہ : 

''ہم جنس پرستی ایک برائی ہے لیکن ہماری دُشواری یہ ہے کہ ہم نے اَپنے پروگرام کو اَچھائی یا برائی پر تعمیر نہیں کیا ہے بلکہ اِس بنیاد پر تعمیر کیا ہے کہ اَفراد اَپنے لیے قانون طے کرنے کے لیے آزاد ہیں۔اَور جب ہم نے یہ اُصول تسلیم کر لیا تو قانون کا دائرہ کار اَخلاق کے دائرہ کار سے بالکل اَلگ ہو گیا ہے۔ قانون اَور چیز ہے اَور اَخلاق اَور چیز ہے ۔اَخلاق اِنسان کا ذاتی معاملہ ہے اَور قانون رائے عامہ کا مظہر ہے آزادی کا مظہر ہے لہٰذا جب تک معاشرے میں کوئی ایسی کوشش نہیں کی جاتی جو بداَخلاقی یا گناہ کو جرم کے مساوی قرار دیدے تو اَخلاق اَور قانون کا دائرہ کار اَلگ رہے گا۔ اَور یہ قانون کا کام نہیں ہے کہ وہ خیر اَور شر کا فیصلہ کرے کہ کون سی چیز اَچھی ہے اَور کون سی چیز بری ہے لہٰذا ہم اِس قانون کی حمایت میں رائے دینے پر مجبور ہیں ،جب رائے عامہ اِس کے جواز کی طرف جارہی ہے تو ہم اِس پر یہ رائے دیں گے کہ یہ قانون بنادیا جائے۔ ''

چنانچہ اِس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر برطانیہ کے دارُالعوام نے یہ فیصلہ کردیا کہ ہم جنس پرستی قانونًا جائز ہے اَور جب برطانیہ نے یہ قانون بنایا تو اَمریکہ نے بھی بنایا ۔اَور اَب یورپ اَور اَمریکہ میں اِن کی باقاعدہ جماعتیں قائم ہیں جن کو'' ہم جنس پرست'' کہتے ہیں بر سرِ عام یہ لوگ اَپنے آپ کو Gay کہتے ہیں اِس کے لفظی معنٰی ہیں ''مگن'' یعنی خوشی میں مگن۔ اِن کی جماعتیں ہیں اَور اِن کی تنظیمیں ہیں جن کے ذریعے وہ اِس نقطہ نظر کا پرچار کرتے ہیں، نہ صرف پرچار کرتے ہیں مرد Gay کہلاتے ہیں اَور عورتیں Lesbian کہلاتی ہیں۔ 

==================> جاری ہے ۔۔۔ 

{ ماخوذ از: اسلام اور سیاسی نظریات صفحہ ۱۴۴ تا ۱۵۴ }
 مؤلفہ جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب

Nizam e jamhuriat نظام جمہوریت قسط 3

=== *نظام جمہوریت ۔۔ قسط③* ===

*جمہوریت اَور بیوی کا تبادلہ :* 
====================

ایک اَور تنظیم چلی ہے جو Swap Union کہلاتی ہے اِس کا معنی ''تبادلہ'' ہے اَور اِس سے مراد بیویوں کا تبادلہ ہوتا ہے اَور اِس کے کلب قائم ہیں۔چونکہ اَبھی تک یہ قانون نافذ ہے کہ غیرشادی شدہ عورت کو اِجازت ہے کہ وہ جو چاہے کرے لیکن ایک شادی شدہ عورت کسی دُوسرے مرد کے ساتھ زِنا نہیں کر سکتی کیونکہ اِس سے شوہر کا حق پامال ہوتا ہے لیکن Swap Union کی تنظیم کی طرف سے اَب یہ آواز اُٹھ رہی ہے کہ یہ پابندی ختم ہو نی چاہیے، اَب شادی شدہ عورت کو بھی اِجازت ملنی چاہیے کہ وہ جو چاہے کرے۔

*جمہوریت اَور ناجائز بچے :* 
================== 

اَور اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ اِس وقت یورپ اَور اَمریکہ کی بہت سی ریاستوں میں لوگوں کی اَکثریت یا کم اَز کم بہت بڑی تعداد غیر ثابت النسب ہے، بعض ریاستوں کے اعداد و شمار شائع ہو چکے ہیں اَور بعض کے نہیں ہوئے ہیں۔ اَبھی کچھ عرصے قبل Time رسالے میں ایک مضمون آیا تھا کہ اَمریکہ میں غیر ثابت النسب اَفراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اَفسوس اِس بات کا نہیں تھا کہ یہ کیسی قوم پیدا ہورہی ہے جو ثابت النسب نہیں ہے ،اِس بات پر اَخلاقی اِعتبار سے کوئی تشویش نہیں تھی، تشویش صرف یہ تھی کہ جو بچے غیرثابت النسب ہوئے ہیں اُن کا معاشی طور پر دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اَور اِس سے معاشی مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ معاشی مسائل کی وجہ سے یہ مسئلہ قابلِ غور تھا، فی نفسہ غیراَخلاقی ہونے کی وجہ سے نہیں ۔

اَور اَب عورتوں نے یہ مطالبہ شروع کردیا ہے اَور بعض ریاستوں میں منظوری بھی ہوگئی ہے کہ اِسقاط ِ حمل کی قانونی اِجازت ہونی چاہیے اَور اِس کے حق میں بہت بڑی فضا بن رہی ہے، جس رفتار سے یہ بات چل رہی ہے اِس سے اَندازہ یہی ہے کہ اِسقاط ِ حمل کی اِجازت ہوجائے گی۔

ایک زمانہ تھا کہ عریانی قانونًا منع تھی لیکن اَب رفتہ رفتہ ساری قیدیں ختم ہو گئی ہیں اَب کوئی قید برقرار نہیں ہے اِس وقت عریاں فلموں اَور تصاویر کا جو سیلاب ہے وہ ہمارے مُلک میں بھی آرہا ہے،اُٹھتا وہاں سے ہے اَور پہنچتا یہاں بھی ہے، اِس کے اُوپر کوئی روک عائد نہیں ہوتی۔ وجہ یہ ہے کہ کوئی بنیاد نہیں ہے جس کی بناء پر روکا جائے کیونکہ جب عوام کی حاکمیت ٹھہری اَور وہ اِس کو پسند کرتے ہیں تو اِسے ناجائز کہنے کی کوئی معقول دلیل نہیں ہے۔ غرض کوئی بد سے بد تر کام ایسا نہیں ہے جو جمہوریت کے سائے میںجائز قرار نہ دیا جا رہا ہو۔ 

*جمہوریت اَور خاندانی نظام، ایڈز کی وباء :* 
=============================

اِس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ خاندانی نظام تباہ ہو چکا ہے یعنی خاندان کے جو رشتے ہوتے ہیں کہ یہ شوہر ہے، یہ بیوی ہے، یہ باپ ہے، یہ اَولاد ہے، اُن کے باہمی رِشتے ختم ہو چکے ہیں۔ حد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کے طورپر'' ایڈز'' کی بیماری مسلط کردی ہے۔ یہ بیماری پیدا کیسے ہوئی ؟ اِس بات پر سب کا اِتفاق ہے کہ یہ بیماری دو چیزوں سے پیدا ہوئی ہے، ایک ہم جنس پرستی، دُوسرے ایک شخص کا کئی عورتوں سے یا ایک عورت کا کئی مردوں سے جنسی تعلق قائم کرنا۔

لیکن بیماری کے نتیجے میں بجائے اِس کے کہ فحاشی میں کمی آتی اَور عفت و عصمت کی طرف لوگوں کا رُجحان ہوتا، فحاشی میں اَور اِضافہ ہو گیا اِس لیے کہ ایڈز کی بیماری کو روکنے کے لیے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ناجائز جنسی تعلقات قائم نہ کرو۔ لہٰذا یہ کہتے ہیں کہ اِن حفاظتی تدابیر کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرو اَور اِن تدابیر کے لیے باقاعدہ تعلیمی کورس منعقد ہوتے ہیں، ٹیلویژن پر عملی تربیت دی جاتی ہے کوئی تعلیم گاہ ایسی نہیں ہے جس میں جنسی تعلیم کا اِنتظام نہ کیا گیا ہو، بات کہتے ہوئے بھی حجاب معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت ِ حال بتانے کے لیے عرض کر دیتا ہو ں کہ یونیورسٹی اَور کالجوں میں جہاں غیر شادی شدہ لڑکے اَور لڑکیاں پڑھتے ہیں وہاں ایڈز کی روک تھام کے لیے یہ اِنتظام کیا گیا ہے کہ ہر یونیورسٹی کے غسل خانہ میں وہ خود کار مشینیں لگائی ہوئی ہیں جن کے اَندر پیسے ڈال کر'' کنڈوم'' نکل آتا ہے تاکہ بوقت ِ ضرورت ہر آدمی وہ کنڈوم اِستعمال کر سکے۔ اِس طرح جو بیماری دَر حقیقت اِس جنسی بے راہ روی سے پیدا ہوئی تھی اُس کی روک تھام کی جو تدابیر اِختیار کی گئیں اُن سے جنسی بے راہ روی کو اَور فروغ مِلا غرض کوئی اَخلاقی قدرسالم نہیں رہی۔

==================> جاری ہے ۔۔۔ 

{ ماخوذ از: اسلام اور سیاسی نظریات صفحہ ۱۴۴ تا ۱۵۴ }
 مؤلفہ جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب

جدید شرعی مسائل کا حل مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

*جدید شرعی مسائل کا حل*

Nov 23, 2017شمع فروزاں, 

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
قرآن مجید وہ کتاب الٰہی ہے جوتمام انسانیت کی رہنمائی کے لئے ہے ، اسی لئے اس نے اپنا تعارف ’’ ھدی للناس‘‘ ( سورۃ بقرہ:۱۸۵) سے کرایا ہے اور پیغمبر اسلام ا کی نبوت بھی پوری انسانیت کے لئے ہے : ’’ وما ارسلناک الا رحمۃ للعلمین‘‘ ( سورۃ انبیاء:۱۰۷) نہ اس میں زمانہ و عہد کی قید ہے ، نہ کسی علاقہ ، کسی ملک اور کسی نسل کی ، اسی طرح انسان جس طرح کی بھی صورتِ حال سے دوچار ہو، اور اسے جو بھی مسائل درپیش ہوں ، قرآن اور پیغمبر اسلام اکی سیرت و سنت اس کی رہبری کرتی ہے ، غرض کہ شریعت ِاسلامی ایک طرف جامع اور ہمہ گیر ہے اور دوسری طرف ابدی اور لافانی ۔ البتہ کتاب و سنت کے ذریعہ بعض مسائل کے متعلق تو ہمیں صریح ، واضح اور متعین رہنمائی ملتی ہے، اور بعض مسائل کے سلسلہ میں اُصول و مقاصد کی رہنمائی کی گئی ہے ، علماء کی ذمہ داری ہے کہ ٹکنالوجی کی ترقی ، جدید آلات و وسائل کی پیدائش ، سیاسی و اقتصادی نظام میں تغیرات ، عرف و رواج کی تبدیلیوں اور اخلاقی قدروں میں آنے والی گراوٹ کی وجہ سے جو نئے مسائل پیدا ہوں ، کتاب و سنت کے بیان کئے ہوئے اُصول و مقاصد سے روشنی حاصل کرکے ان کا حل پیش کریں ، اسی عمل کو اجتہاد کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ، ( سنن ابوداؤد،حدیث نمبر:۲۹۵۳) ہمیشہ علماء اس فریضہ کو انجام دیتے رہے ہیں اور یہی شریعت اسلامی کے دوام و استمرار کا راز ہے ، اجتہاد کی ایک شکل انفرادی اجتہاد ہے کہ مختلف علماء اور اربابِ افتاء ایسے مسائل پر اپنے شخصی فتاویٰ سے عوام کی رہنمائی کریں ، دوسرا طریقہ اجتماعی اجتہاد کا ہے کہ علماء و اربابِ افتاء انفرادی طورپر فتویٰ دینے کے بجائے اجتماعی طورپر غور و فکر کریں ،پھربھی فیصلہ کریں۔ اجتہاد کے یہ دونوں طریقے حدیث سے ثابت ہیں ، رسول اللہ انے جب حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا قاضی بناکر بھیجا تو ان سے استفسار فرمایا : تمہارے سامنے جب کوئی مسئلہ آئے گا تو کس طرح اس کا فیصلہ کروگے ؟ انھوںنے عرض کیا : کتاب اللہ سے ، آپ انے دریافت فرمایا : اگر کتاب اللہ میں نہ ملے ؟ انھوںنے جواب دیا : سنت رسول کے ذریعہ ، آپ نے پوچھا : اگر سنت میں بھی نہیں ملے ؟ انھوںنے عرض کیا : پھر میں اجتہاد کروں گا ، صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی پوری کوشش کروں گا اور اپنی دانست میں کوئی کوتاہی نہیں ہونے دوں گا ، آپ انے ان کے جواب کو پسند فرمایا اور تحسین کی ، ( ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۲۹۵۳) اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں : ایک یہ کہ بعض مسائل ایسے ہوسکتے ہیں ، جن کا صراحت کے ساتھ قرآن و حدیث میں ذکر نہیں ہو ، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ایسے مسائل میں رسول اللہ اکے بتائے ہوئے اُصول کے مطابق اجتہاد کرنا چاہئے ، یہ انفرادی اجتہاد کا طریقہ ہے ، جس کی آپ انے حضرت معاذ ؓکو تعلیم دی ۔ دوسرا طریقہ جیساکہ مذکور ہوا ، اجتماعی اور شورائی اجتہاد کا ہے ، یعنی تنہا ایک شخص اپنے اجتہاد کی بناء پر فتویٰ نہ دے ؛ بلکہ مختلف اہل علم ، اربابِ افتاء ، اور شرعی علوم کے غواص اجتماعی طورپر غور و فکر کے ذریعہ کسی مسئلہ کا حل تلاش کریں اور حسب ضرورت زیر بحث مسائل کے فنی ماہرین سے استفادہ کرتے ہوئے اور صورتِ مسئلہ کو سمجھتے ہوئے کوئی فیصلہ کیا جائے ، اس اجتماعی اجتہاد کا ذکر بھی حدیث میں موجود ہے ، یمن ہی کے ایک اور علاقہ میں رسول اللہ انے حضرت علیؓ کو قاضی بناکر بھیجا اور انھیں ہدایت دی کہ اگر کوئی نیا مسئلہ درپیش ہو تو تنہا فیصلہ کرنے سے گریز کرو ، ایسے مسائل کے لئے فقہاء اور عابدین کو جمع کرو اور ان کے مشورہ سے طے کرو : ’’ أجمعوا لہ الفقہاء والعابدین و شاوروھم‘‘ ( مجمع البحرین : ۱؍۵۲۲ ، حدیث نمبر : ۱۴۲) فقہاء اور عابدین سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اجتہاد کرنے والی شخصیتیں ایسی ہونی چاہئیںکہ ان میں تفقہ کی شان بھی ہو اور ورع و خشیت بھی ہو ، تفقہ انھیں نادانستہ غلطی سے بچائے گا اور ورع و تقویٰ انھیں دانستہ غلطی سے بچائے گا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو اہم نئے مسائل درپیش ہوں ، ان کے حل کے لئے یہی اجتماعی طریقہ زیادہ مفید ہے ، اورسلف صالحین ہی کے عہدسے اجتہادکی یہ صورت بھی عمل میں آتی رہی ہے،اسی مقصد کے لئے ۱۹۸۹ء میں ممتاز فقیہ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ نے اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی بنیاد رکھی ، اور طے کیا کہ اس کام کو ضمنی طورپر نہیں ؛ بلکہ مستقل طورپر یہ ادارہ انجام دے ؛ چنانچہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا ہر سال اپنا سالانہ فقہی سیمینار منعقدکرتا ہے ، جس میں ملک بھر سے تین سو سے زیادہ علماء و اربابِ افتاء کی شرکت ہوتی ہے ، جن کا مختلف مسالک ، مختلف علاقوں اور ملک کی بڑی دینی جامعات سے تعلق ہوتا ہے ، اس کے علاوہ عالم اسلام اور بیرونی ملکوں سے بھی اہم علمی و فقہی شخصیتیں ان سیمیناروں میں شریک ہوتی ہیں ۔ اب تک اکیڈمی کے ۲۶ ؍ فقہی سیمینار منعقد ہوچکے ہیں ، ان میں عبادات کے علاوہ سماجیات ، معاشیات ، سیاست ، جدید میڈیکل مسائل، تجارت ، انفارمیشن ٹکنالوجی ، مسلمان اقلیتوں کو درپیش چیلنجز وغیرہ موضوعات سے متعلق سینکڑوں مسائل پر تفصیلی غور و فکر کے بعد فیصلے کئے گئے ہیں ، یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ یہ جنوبی ایشیاء میں اجتماعی طورپر نئے فقہی مسائل پر بحث کرنے والا سب سے بڑا اور معتبر فقہی ادارہ ہے ، جس کے فیصلوں کو عالم اسلام میں بھی قدر و وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ اس بات کا ذکر کرنا بھی مناسب ہے کہ اکیڈمی کے نئے مسائل پر غور و فکر کرنے کا نہج کیا ہے اور تحقیق و تنقیح کے بعد کس طرح فیصلے کئے جاتے ہیں ؟ سب سے پہلا مرحلہ سیمینار میں زیر بحث آنے والے موضوعات کے انتخاب کا ہے ، اس کے لئے سیمینار میں شریک ہونے والے حضرات سے آئندہ سیمینار کے لئے تحریری رائے لی جاتی ہے ، اب تک مختلف سیمیناروں میں جو آراء آئی ہیں ، اس کی مکمل فہرست مرتب کردی گئی ہے ، اکیڈمی کی مجلس علمی بھی عنوانات کے سلسلہ میں اپنا مشورہ پیش کرتی ہے ، جس میں پورے ملک سے ممتاز اہل قلم اور اہل علم شامل ہوتے ہیں ، پھر مجلس منتظمہ ان تمام آراء کو سامنے رکھ کر اور عالمی اور ملکی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئندہ سیمینار کے لئے موضوعات کا انتخاب کرتی ہے ، کوشش کی جاتی ہے کہ یہ موضوعات مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق اور موجودہ حالات و ضروریات سے زیادہ مطابقت رکھنے والے ہوں ۔ اب اس موضوع سے متعلق قابل بحث نکات پر مشتمل سوالنامہ اکیڈمی کے سکریٹریزمرتب کرتے ہیں ، یہ سوالنامہ ملک و بیرون ملک کے فقہاء ،اربابِ افتاء اور اسکالرس کے پاس بھیجا جاتا ہے، اور اگر سوال کا تعلق کسی جدید سائنسی ایجاد ، یا سماجی و معاشی مسئلہ سے ہو تو اس کے عملی اور سائنسی پہلو پر ان شعبوں کے ماہرین سے مقالات لکھائے جاتے ہیں ،یہ مقالات اگر انگریزی میں ہوں تو ان کا اُردو ترجمہ کرایا جاتا ہے اور یہ بھی علماء و اربابِ افتاء کے پاس بھیجا جاتا ہے ؛ تاکہ صورتِ مسئلہ پوری طرح واضح ہوجائے اور وہ اس کی تفصیلات سے واقف ہوجائیں ، ہندوستان میں اہل سنت کے تمام مکاتب ِفکر سے متعلق اہم درسگاہوں کے اربابِ افتاء ، نیز ان تمام شخصیتوں کے نام یہ دعوت نامہ جاتا ہے ، جو تصنیف و تالیف ، تدریس ، قضاء یا اور کسی جہت سے فقہ سے مربوط ہوں ۔ اہل علم کی طرف سے جو مقالات آتے ہیں ، ان کی بڑی تعداد ہوتی ہے؛ اس لئے اکیڈمی کے شعبۂ علمی کے رفقاء ان مقالات کی اس طرح تلخیص کرتے ہیں کہ ہر مسئلہ میں تمام مقالہ نگاروں کی رائے آجائے ، اگر اتفاق ہو تو متفقہ رائے ذکرکی جائے اور اختلاف ہو تو اختلافِ رائے کا اظہار کیا جائے نیز مقالہ نگاروں نے کتاب و سنت سے جو استدلال اور فقہاء کی عبارتوں سے جو استشہاد کیا ہو ، اختصار کے ساتھ اس کا بھی ذکر ہو ، یہ تلخیص سیمینار کے موقع سے شرکاء کے درمیان تقسیم کردی جاتی ہے ؛ تاکہ انھیں بحث کرنے میں سہولت ہو ۔ پھر موضوع کے مختلف پہلوؤں کے لئے ’’ عارض‘‘ مقرر کیا جاتا ہے ، اس پہلو سے متعلق تمام مقالات کی فوٹو کاپی انھیں فراہم کی جاتی ہے ، وہ ان مقالات میں پیش کئے ہوئے نقاطِ نظر کو مرتب کرتے ہیں ، جو دلائل آئے ہیں ، ان کا ذکر کرتے ہیں اور پھر کسی ایک نقطۂ نظر کو ترجیح دیتے ہوئے اس کے دلائل اور وجوہ کا ذکر کرتے ہیں ، اب شرکائے سیمینار خود اپنی تحقیق و مطالعہ ، مقالات کی تلخیص اور عارض کی بحث کو سامنے رکھتے ہوئے اظہارِ خیال کرتے ہیں ، تمام ہی شرکاء کو بحث میں حصہ لینے کی اجازت ہوتی ہے اور اس کے لئے خاصا وقت دیا جاتا ہے ، یہ بحث ریکارڈ کے ذریعہ ٹیپ بھی کی جاتی ہے اور ایک صاحب ِعلم کو اسی کام کے لئے متعین کیا جاتا ہے کہ وہ مباحثہ کے درمیان آنے والے تمام نکات کو نوٹ کرتے جائیں ، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ یہ پوری بحث نہایت ہی سنجیدہ اور ٹھنڈے ماحول میں حق اور صواب کو حاصل کرنے کے جذبہ سے باہمی احترام کی رعایت کے ساتھ ہوتی ہے اور اختلافِ رائے کی وجہ سے کبھی کوئی ناخوشگواری پیدا نہیں ہوتی ۔ اس موقع سے صورتِ مسئلہ کو واضح کرنے کی ذمہ داری ماہرین کو دی جاتی ہے اور اسی لئے زیر بحث موضوع کی مناسبت سے چند ماہرین بھی سیمینار میں شریک ہوتے ہیں ، انھیں حکم شرعی کے بارے میں اظہارِ خیال کی اجازت نہیں ہوتی ؛ کیوںکہ یہ علماء اور اربابِ افتاء کا حق ہے ،وہ صورت مسئلہ کوواضح کرتے ہیں، بحث مکمل ہونے کے بعد ہر مسئلہ پر تجویز مرتب کرنے کے لئے ایک سب کمیٹی بنادی جاتی ہے ، کمیٹی کے انتخاب میں اس کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ یا تو انھوںنے اس موضوع پر بہتر مقالہ لکھا ہو ، یا نمایاں طورپر بحث میں حصہ لیا ہو ، یا ان کو فتویٰ نویسی کا قدیم تجربہ ہو ، اگر بحث کے دوران اتفاق رائے نہیں ہوسکا تو کمیٹی میں دونوں آراء کے حامل نمائندہ افراد کو شامل کیا جاتا ہے ، اب یہ کمیٹی مقالات اور بحث کے دوران آنے والے نکات کو سامنے رکھتے ہوئے مزید تبادلۂ خیال کے بعد تجویز مرتب کرتی ہے ، پھر کچھ سینئر اور تجربہ کار اہل علم کی ایک کمیٹی ان تجاویز پر نظر ثانی کرتی ہے اور حسب ِضرورت الفاظ کے نوک و پلک درست کرتی ہے ، اس کے بعد تجاویز سیمینار کے مندوبین کی عمومی مجلس میں پیش کی جاتی ہیں اور بعض اوقات اس مرحلہ میں بھی جزوی ترمیمات کی جاتی ہیں ، نیز سب کمیٹی کی مرتب کی ہوئی تجویز لوگوں پر مسلط نہیں کی جاتی ، جس تجویز پر اتفاق ہوا ہے ، اسے متفقہ حیثیت سے ذکر کیا جاتا ہے ، جس میں شرکاء کی غالب ترین اکثریت کی ایک رائے ہو اور ایک دو اشخاص کو اختلاف ہو ، ان میں پہلی رائے کا بحیثیت تجویز ذکر کرتے ہوئے اختلاف رکھنے والے حضرات کے نام ذکرکئے جاتے ہیں،اوراس دوسرے نقطۂ نظر کے حاملین کی بھی مناسب تعداد ہو تو تجویز میں اختلافِ رائے کا ذکر کرتے ہوئے دونوں نقاطِ نظر کو مساویانہ حیثیت میں بیان کیا جاتا ہے اور ہر رائے کے قائلین میں معروف ، نمایاں اور اہم شخصیتوں کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے ،پھر جس طرح تجاویز سیمینار میں پیش کی جاتی ہیں ، بعینہٖ اسی طرح اسے طبع کیا جاتا ہے ، یہ ہے اکیڈمی کا وہ محتاط ، منصفانہ اور شورائی طریقہ غور و فکر جو احکام شرعیہ کے حل کرنے میں اختیار کیا جاتا ہے ۔ ابھی ۲۵تا ۲۷؍ نومبر ۲۰۱۷ء کو عروس البلاد ممبئی میں اس کا ستائیسواں فقہی سیمینار منعقد ہونے جارہا ہے ، جس میں چار نہایت اہم مسائل زیر بحث آئیں گے ، پہلا مسئلہ مطلقہ عورتوں کو درپیش مسائل کا حل ہے ، جو لوگ بے سہارا ہوجاتے تھے ، اسلامی حکومت میں بیت المال کے ذریعہ ان کی کفالت کی جاتی تھی ، ظاہر ہے ہندوستان جیسے ملک میںیہ نظام قائم نہیں ہے ، اس صورتِ حال میں خاندان کی کیا ذمہ داریاں ہیں ، سماج کے کیا فرائض ہیں اور شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے سابق شوہر سے اسے کیا مدد مل سکتی ہے ؟ یہ مسائل اور طلاق کی بعض خاص صورتوں کے بارے میں غور کیا جائے گا اور اُمید ہے کہ اس سے مطلقہ کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی ۔ دوسرا مسئلہ دینی ماحول کے ساتھ عصری تعلیمی اداروں کے قیام اور طریقۂ کار کا ہے ، اسلام کی نظر میں ہر وہ علم مطلوب ہے جو انسانیت کے لئے نفع بخش ہو ، اسلام عصری تعلیمی اداروں کا مخالف نہیں ؛ لیکن وہ چاہتا ہے کہ جو بھی کام انجام دیا جائے ، اس طرح انجام دیا جائے کہ شریعت کا دامن نہ چھوٹے اور اخلاقی قدریں پامال نہ ہوں ، اسی پس منظر میں ان مسائل پر غور و خوض کیا جائے گا ، جو مسلمانوں کے زیر انتظام چلنے والے عصری تعلیمی اداروں کو درپیش ہیں اور ان حدود و آداب کو پیش کیا جائے گا ، جن کی رعایت بحیثیت مسلمان ہمارے لئے ضروری ہے ۔ تیسرا عنوان حیوانات سے متعلق ہے ، حیوانات کے بارے میں اسلام کی تعلیمات کیا ہیں ؟ جانوروں سے متعلق ملکی قوانین کے بارے میں ایک مسلمان کا کیا رویہ ہونا چاہئے ؟ یہ بڑا اہم موضوع ہے ، اس سے جہاں مسلمانوں کی رہنمائی ہوگی ، وہیں غیر مسلموں تک اسلام کی رحمدلانہ تعلیمات پہنچیں گی اور بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے گا ۔ چوتھا مسئلہ جس پر سیمینار میں بحث ہوگی ، وہ ہے:’’ مکانات کی خرید و فروخت ‘‘ کا مسئلہ ، دیہی آبادیاں تیزی سے شہر کی طرف منتقل ہورہی ہیں اور شہر میں زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ پڑ رہی ہے ، اس کا نتیجہ ہے کہ شہر فلک بوس عمارتوں کا جنگل بنتا جارہا ہے ، اس لئے آج فلیٹس کی خرید و فروخت سب سے اہم تجارت بن گئی ہے ، اس تجارت میں ایک ناپسندیدہ صورت حال یہ پیدا ہوگئی ہے کہ حکومت سلم آبادی کی جھونپڑیوں میں آباد غریبوں کو فلیٹ دیتی ہے ؛ تاکہ وہ خود تکلیف سے بچیں اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی تکلیف کاباعث نہیں بنیں؛لیکن افسوس کہ یہ فلیٹ بھی غیر قانونی طورپر فروخت کردیئے جاتے ہیں اور مسئلہ جہاں کا تہاں باقی رہتا ہے ، نیز تجارت کے اس شعبہ میں اور بھی بہت سے ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو شرعی نقطۂ نظر سے قابل غور ہیں ، اسی پس منظر میں اس عنوان کا انتخاب کیا گیا ہے اور اُمید ہے کہ اکیڈمی کے فیصلوں سے مکانات کی خرید و فروخت سے متعلق شرعی مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی ۔ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے علاوہ ہندوستان میں، مسلم اقلیت ممالک میںاور مسلم ممالک میں جدید شرعی مسائل کو حل کرنے کے اور بھی کئی ادارے قائم ہیں ، یہ اس بات کی علامت ہے کہ شریعت اسلامی ایک دائمی قانون ہے ، وہ ہر دور اور ہر عہد میں انسانیت کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور بحیثیت مسلمان ہمارا فریضہ ہے کہ ہم زندگی کے تمام مسائل میں اسلام سے روشنی حاصل کریں اور مغربی تہذیب یا دنیا کے کسی اور نظام کے سامنے کاسہ گدائی نہ پھیلائیں ۔(بصیرت فیچرس)

قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا

• *قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا* • ایک پوسٹ گردش میں ھے: کہ حضرت عبدﷲ ابن مسعودؓ سے مروی ھے کہ جو بندہ قبرستان جائے اور قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ دع...