Showing posts with label رد قادیانیت Reality of Qadyanies. Show all posts
Showing posts with label رد قادیانیت Reality of Qadyanies. Show all posts

Wednesday, 29 November 2017

کافر مرزا قادیانی لعنتی کے بکواس جھوٹ حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے

*مرزا مسرور اور تمام قادیانیوں کے لیے*😎


ایک سادہ سا سوال: 

مرزا قادیانی .... حضرت عیسی' علیہ السلام کے حوالے سے کہتا ھے : 

*نقل کفر کفر ناشد* ناقل 


کہ حضرت عیسی' علیہ السلام کی قبر یروشلم میں ھے 

(روحانی خزائن جلد 8 ص: 299)

پھر ایک جگہ مرزا قادیانی کہتا ھے کہ : 

حضرت عیسی' علیہ السلام کی قبر کشمیر سری نگر محلہ خان یار میں ھے . 

(روحانی خزائن جلد 14 ص: 172 )


پھر ایک اور جگہ مرزا قادیانی لکھتا ھے کہ : 

حضرت عیسی' علیہ السلام کی قبر بلاد شام میں ھے . 

(روحانی خزائن جلد 8 ص 296 )

مرزا قادیانی ایک جگہ پھر قلابازی لگاتے ھوۓ لکھتا ھے کہ: 
حضرت عیسی' علیہ السلام اپنے وطن گلیل میں جاکر فوت ھوگۓ 

(روحانی خزائن جلد 3 ص: 353)

*کیا کوئ قادیانی مرزائ یہ بتاۓ گا .کہ ایک نبی اللہ حضرت عیسی' علیہ السلام کی چار جگہ قبر کیسے ممکن ھے . ? یعنی اس میں مرزا قادیانی کی کونسی بات صحیح ھے . اگر اس میں سے مرزا قادیانی کی کسی ایک بات کو فرض کے درجے میں مان لیا جاۓ . تو اس کا مطلب ھےکہ . قبر کی  باقی جگہوں کے لیے مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا ھے . تو کیا کوئ جھوٹا شخص نبی بننے یا مانے جانے کے لائق ھو سکتا ھے .?* 

کیا کوئ قادیانی مرزائ اس سوال کا جواب دینا چاہیے گا . 


خالد محمود ... کراچی

*معلومات ختم نبوت

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*معلومات ختم نبوت*

*سید نسیم اللہ شاہ *

*ختم نبوت* 
*سوال : ۱ :*
*ختم نبوت کا معنی اور مطلب اور اس کی اہمیت، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر کے ساتھ اس منصب کی خصوصیات کو واضح طور پر بیان کریں؟*

*جواب** : 
*ختم نبوت کا معنی اور مطلب:*

*اللہ رب العزت نے نبوت کی ابتدأ سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائی اور اس کی انتہا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر فرمائی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوگئی۔ آپؐ آخرالانبیأ ہیں، آپؐ کے بعد کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا۔ اس عقیدہ کو شریعت کی اصطلاح میں عقیدئہ ختم نبوت کہا جاتا ہے*۔

*عقیدئہ ختم نبوت کی اہمیت:*

*ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے، جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں، اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان کا اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں*۔

*الف: … قرآن مجید کی ایک سو آیات کریمہ*

*ب : … رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث متواترہ (دو سو دس احادیث مبارکہ) سے یہ مسئلہ ثابت ہے*۔

*ج: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا، چنانچہ امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ اپنی آخری کتاب ’’خاتم النبیین‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں*:

*’’و اوّل اجماعے کہ دریں امت منعقد شدہ اجماع بر قتل مسیلمہ کذاب بودہ کہ بسبب دعوئ نبوت بود، شنائع دگروے صحابہؓ رابعد قتل وے معلوم شدہ، چنانکہ ابن خلدون آوردہ سپس اجماع بلا فصل قرناً بعد قرنٍ برکفر و ارتداد و قتل مدعی نبوت ماندہ و ہیچ تفصیلے از بحث نبوت تشریعیہ و غیر تشریعیہ نبودہ۔‘‘*

*ترجمہ:*

*’’اور سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر اجماع تھا، جس کا سبب صرف اس کا دعویٰ نبوت تھا، اس کی دیگر گھنائونی حرکات کا علم صحابہ کرامؓ کو اس کے قتل کے بعد ہوا تھا، جیسا کہ ابن خلدونؒ نے نقل کیا ہے، اس کے بعد قرناً بعد قرنٍ مدعی نبوت کے کفر و ارتداد پر ہمیشہ اجماع بلافصل رہا ہے، اور نبوت تشریعیہ یا غیر تشریعیہ کی کوئی تفصیل کبھی زیر بحث نہیں آئی۔‘‘ (خاتم النبیین ص :۶۷، ترجمہ ص :۱۹۷)*

*حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے اپنی تصنیف ’’مسک الختام فی ختم نبوت سیدالانامؐ‘‘ میں تحریر فرمایا ہے کہ:*

*’’امت محمدیہ ؐمیں سب سے پہلا اجماع جو ہوا، وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے۔‘‘ (احتساب قادیانیت ج:۲، ص:۱۰)*

*آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ و دفاع کے لئے جتنی جنگیں لڑی گئیں، ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرامؓ کی کل تعداد ۲۵۹ ہے۔ (رحمۃ للعالمین ج :۲، ص:۲۱۳ قاضی سلمان منصور پوریؒ) اور عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لئے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہؓ اور تابعینؒ کی تعداد بارہ سو ہے*۔ 
(ختم نبوت کامل ص:۳۰۴ حصہ سوم از مفتی محمد شفیعؒ)

*رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی کل کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرامؓ ہیں، جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے جام شہادت نوش کرگئی۔ اس سے ختم نبوت کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ انہی حضرات صحابہ کرامؓ میں سے ایک صحابی حضرت حبیب بن زید انصاری خزرجیؓ کی شہادت کا واقعہ ملاحظہ ہو*:

*’’حبیب بن زید … الانصاری الخزرجی … ھوالذی ارسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی مسیلمۃن الکذاب الحنفی صاحب الیمامہ فکان مسیلمۃ اذا قال لہ اتشھد ان محمد ا رسول اللہ قال نعم واذا قال اتشھد انی رسول اللہ قال انا اصم لا اسمع ففعل ذلک مرارا فقطعہ مسیلمۃ عضوا عضوا فمات شہیدا۔‘‘*
(اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ج:۱،ص:۴۲۱ طبع بیروت)

*ترجمہ:*

*’’حضرت حبیب بن زید انصاریؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے مسیلمہ کذاب کی طرف بھیجا، مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیبؓ کو کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ حضرت حبیبؓ نے فرمایا ہاں، مسیلمہ نے کہا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں (مسیلمہ) بھی اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت حبیبؓ نے جواب میں فرمایا کہ میں بہرا ہوں تیری یہ بات نہیں سن سکتا، مسیلمہ بار بار سوال کرتا رہا، وہ یہی جواب دیتے رہے اور مسیلمہ ان کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا حتی کہ حبیبؓ بن زید کی جان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو شہید کردیا گیا۔‘‘*

*اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ مسئلہ ختم نبوت کی عظمت و اہمیت سے کس طرح والہانہ تعلق رکھتے تھے، اب حضرات تابعینؓ میں سے ایک تابعیؓ کا واقعہ بھی ملاحظہ ہو: ’’حضرت ابو مسلم خولانیؓ جن کا نام عبداللہ بن ثوبؓ ہے اور یہ امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرمادیا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے بے اثر فرمایا تھا* 

* *

1974 میں، قادیانی کے خلاف فیصلہ

1974 میں___

جب قومی اسمبلی میں فیصلہ ہوا کہ قادیانیت کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنا موقف اور دلائل دینے قومی اسمبلی میں آئیں تو۔۔۔
مرزا ناصر قادیانی سفید شلوار کرتے میں ملبوس طرے دار پگڑی باندھ کر آیا۔متشرع سفید داڑهی۔قرآن کی آیتیں بهی پڑھ رہے تهے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اسم مبارک زبان پر لاتے تو پورے ادب کے ساتھ درودشریف بهی پڑہتے۔ مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسے میں ارکان اسمبلی کہ ذہنوں کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں تها۔ماہ نامہ ”الحق اکوڑہ خٹک“ کے شمارہ جنوری 1975 کے صفحہ نمبر 41 پر بیان فرماتے ہیں۔۔۔ 
”یہ مسلہ بہت بڑا اور مشکل تها“ 
اللہ کی شان کہ پورے ایوان کی طرف سے مفتی محمود صاحب کو ایوان کی ترجمانی کا شرف ملا اور مفتی صاحب نے راتوں کو جاگ جاگ کر مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔حوالے نوٹ کیئے۔سوالات ترتیب دیئے۔ اسی کا نتیجہ تها کہ مرزا طاہرقادیانی کے طویل بیان کے بعد جرح کا جب آغاز ہوا تو اسی ”الحق رسالے“ میں مفتی محمود صاحب فرماتے ہیں کہ 
”ہمارا کام پہلے ہی دن بن گیا“
اب سوالات مفتی صاحب کی طرف سے اور جوابات مرزا طاہر قادیانی کی طرف سے آپ کی خدمت میں۔۔۔۔
__________________________
سوال۔مرزا غلام احمد کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟
جواب۔وہ امتی نبی تهے۔امتی نبی کا معنی یہ ہے کہ امت محمدیہ کا فرد جو آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل کر لے۔
سوال۔اس پر وحی آتی تهی؟
جواب۔آتی تهی۔
سوال۔ (اس میں) خطا کا کوئی احتمال؟
جواب۔بالکل نہیں۔
سوال۔مرزا قادیانی نے لکها ہے جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا“ خواہ اس کو میرا نام نہ پہنچا ہو (وہ) کافر ہے۔پکا کافر۔دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اس عبارت سے تو ستر کروڑ مسلمان سب کافر ہیں؟
جواب ۔کافر تو ہیں۔لیکن چهوٹے کافر ہیں“جیسا کہ امام بخاری نے اپنے صحیح میں ”کفردون کفر“ کی روایت درج کی ہے۔
سوال۔آگے مرزا نے لکها ہے۔پکا کافر؟
جواب۔اس کا مطلب ہے اپنے کفر میں پکے ہیں۔
سوال۔آگے لکها ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔حالانکہ چهوٹا کفر ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے؟
جواب۔دراصل دائرہ اسلام کے کئیں کٹیگیریاں ہیں۔اگر بعض سے نکلا ہے تو بعض سے نہیں نکلا ہے۔
سوال ایک جگہ اس نے لکها ہے کہ جہنمی بهی ہیں؟

(یہاں مفتی صاحب فرماتے ہیں جب قوی اسمبلی کے ممبران نے جب یہ سنا تو سب کے کان کهڑے ہوگئے کہ اچها ہم جہنمی ہیں اس سے ممبروں کو دهچکا لگا)

اسی موقع پر دوسرا سوال کیا کہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا ہے جو امتی نبی ہو؟ کیا صدیق اکبر ؓ یا حضرت عمر فاروق ؓ امتی نبی تهے؟
جواب۔ نہیں تھے۔
اس جواب پر  مفتی صاحب نے کہا پهرتو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد آپ کا ہمارا عقیدہ ایک ہوگیا۔بس فرق یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہیں۔تم مرزا غلام قادیانی کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہو۔تو گویا تمہارا خاتم النبیین مرزا غلام قادیانی ہے۔اور ہمارے خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
جواب۔وہ فنا فی الرسول تهے۔یہ ان کا اپنا کمال تها۔وہ عین محمد ہوگئے تهے (معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی تهی )
سوال۔مرزا غلام قادیانی نے اپنے کتابوں کے بارے میں لکها ہے۔اسے ہر مسلم محبت و مودت کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔اور ان  کے معارف سے نفع اٹهاتا ہے۔ مجهے قبول کرتا ہے۔اور(میرے) دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔مگر (ذزیتہ البغایا ) بدکار عورتوں کی اولاد وہ لوگ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا رکهی ہے۔وہ مجهے قبول نہیں کرتے۔؟
جواب۔بغایا کہ معنی سرکشوں کے ہیں۔
سوال۔بغایا کا لفظ قرآن پاک میں آیا ہے” و ما کانت امک بغیا“   سورہ مریم ) ترجمہ ہے تیری ماں بدکارہ نہ تهی“
جواب۔قرآن میں بغیا ہے۔بغایا نہیں۔
اس جواب پر مفتی صاحب نے فرمایا کہ صرف مفرد اور جمع کا فرق ہے۔نیز جامع ترمذی شریف میں اس مفہوم میں لفظ بغایا بهی مذکور ہے یعنی ”البغایا للاتی ینکحن انفسهن بغیر بینه“ )پھر جوش سےکہا) میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اس لفظ بغیه کا استعمال اس معنی (بدکارہ) کے علاوہ کسی دوسرے معنی میں ہر گز نہیں کر کے دکها سکتے۔!!!
(اور مرزا طاہر لاجواب ہوا یہاں )
13 دن کے سوال جواب کے بعد جب فیصلہ کی گهڑی آئی تو 22 اگست1974 کو اپوزیشن کی طرف سے 6 افراد پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔جن میں مفتی محمود صاحب“ مولانا شاہ احمدنورانی صاحب“پروفیسر غفور احمد صاحب“چودہری ظہور الہی صاحب“مسٹر غلام فاروق صاحب“سردار مولا بخش سومرو صاحب اور حکومت کی طرف سے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تهے۔ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ یہ آئینی و قانون طور پر اس کا حل نکالیں۔تاکہ آئین پاکستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کے کفر کو درج کردیا جائے۔لیکن اس موقع پر  ایک اور مناظرہ  منتظر تها۔۔۔۔۔

کفرِ قادیانیت و لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح تیرہ روز تک جاری رہی۔گیارہ دن ربوہ گروپ پر اور دو دن لاہوری گروپ پر۔ہرروز آٹھ گھنٹے جرح ہوئی۔اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بےنقاب کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک اور مناظرہ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئین پاکستان میں اس مقدمہ کا ”حاصل مغز “کیسے لکھا جائے۔؟
مسلسل بحث مباحثہ کے بعد۔۔۔۔۔۔
__________________________
22 اگست سے 5 ستمبر 1974 کی شام تک اس کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے۔مگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہوسکی۔سب سے زیادہ جهگڑا دفعہ 106 میں ترمیم کے مسلے پر ہوا۔حکومت چاہتی تھی اس میں ترمیم نہ ہو۔اس دفعہ 106 کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی تهی۔ ایک بلوچستان میں۔ایک سرحد میں۔ایک دو سندھ میں اور پنجاب میں تین سیٹیں اور کچھ 6 اقلیتوں کے نام بهی لکهے ہیں۔عیسائی۔ہندو پارسی۔بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچهوت۔
مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان یہ چاہتے تهے کہ ان 6 کی قطار میں قادیانیوں کو بهی شامل کیا جائے۔تاکہ کوئی "شبہ" باقی نہ رہے۔
اس کے لیے بهٹو حکومت تیار نہ تهی۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا اس بات کو رہنے دو۔
مفتی محمود صاحب نے کہا جب اور اقلیتوں اور فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بهی لکھ دیں۔
پیرزادہ نے جواب دیا کہ ان اقلیتوں کا خود کا مطالبہ تها کہ ہمارا نام لکھا جائے۔ جب کہ مرزائیوں کی یہ ڈیمانڈ نہیں ہے۔
مفتی صاحب نے کہا کہ یہ تو تمہاری تنگ نظری اور ہماری فراخ دلی کا ثبوت ہے کہ ہم ان مرزائیوں کو بغیر ان کی ڈیمانڈ کے انہیں دے رہے ہیں  (کمال کا جواب )
اس بحث مباحثہ کا 5 ستمبر کی شام تک کمیٹی کوئی  فیصلہ ہی نہ کرسکی۔چنانچہ 6 ستمبر کو وزیراعظم بهٹو نے مفتی محمود سمیت پوری کمیٹی کے ارکان کو پرائم منسٹر ہاوس بلایا۔لیکن یہاں بهی بحث و مباحثہ کا نتیجہ صفر نکلا۔حکومت کی کوشش تهی کہ دفعہ 106 میں ترمیم کا مسلہ رہنے دیا جائے۔
جب کہ مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان سمجهتے تهے کہ اس کے بغیر حل ادهورا رہے گا۔
بڑے بحث و مباحثہ کے بعد بهٹو صاحب نے کہا کہ میں سوچوں گا۔
عصر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے مفتی صاحب اور دیگر کمیٹی ارکان کو اسپیکر کے کمرے میں بلایا۔ مفتی محمود صاحب اور کمیٹی نے وہاں بهی اپنے اسی موقف کو دهرایا کہ دفعہ 106 میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ مرزائیوں کا نام لکها اور اس کی تصریح کی جائے۔
اور بریکٹ میں قادیانی اور لاہوری گروپ لکها جائے۔
پیرزادہ صاحب نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے، احمدی کہتے ہیں۔
مفتی محمود صاحب نے کہا کہ احمدی تو ہم ہیں۔ہم ان کو احمدی تسلیم نہیں کرتے۔پهر کہا کہ چلو مرزا غلام احمد کے پیرو کار لکھ دو۔
وزیرقانون نے نکتہ اٹهایا کہ آئین میں کسی شخص کا نام نہیں ہوتا  (حالانکہ محمد علی جناح کا نام آئین میں موجود ہے ) اور پهر سوچ کر بولے کہ مفتی صاحب مرزا  کا نام ڈال کر کیوں آئین کو پلید کرتے ہو؟۔وزیر قانون کا خیال تها شاید مفتی محمود صاحب اس حیلے سے ٹل جائیں گے۔ (لیکن مفتی تو پهر مفتی صاحب تهے )
مفتی صاحب نے جواب دیا کہ شیطان۔ابلیس۔خنزیر اور فرعون کے نام تو قرآن پاک میں موجود ہیں۔کیا ان ناموں سے نعوذ باللہ قرآن پاک کی صداقت و تقدس پر کوئی اثر پڑا ہے۔؟ 
اس موقع پر وزیر قانون پیرزادہ صاحب لاجواب ہو کر کہنے لگے۔
چلو ایسا لکھ دو جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔
مفتی صاحب نے کہا بریکٹ بند ثانوی درجہ کی حیثیت رکهتا ہے۔صرف وضاحت کے لیے ہوتا ہے۔لہذا یوں لکھ دو قادیانی گروپ۔لاہوری گروپ جو اپنے کو احمدی کہلاتے ہیں۔اور پهر الحمدللہ اس پر فیصلہ ہوگیا۔
تاریخی فیصلہ۔۔۔۔۔۔۔۔ 
7 ستمبر 1974 ہمارے ملک پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ یادگار دن تها جب 1953 اور 74 کے شہیدانِ ختم نبوت کا خون رنگ لایا۔اور ہماری قومی اسمبلی نے ملی امنگوں کی ترجمانی کی اور عقیدہ ختم نبوت کو آئینی تحفظ دے کر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔
دستور کی دفعہ 260 میں اس تاریخی شق کا اضافہ یوں ہوا ہے۔
”جو شخص خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط ایمان نہ رکهتا ہو۔اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی بهی معنی و مطلب یا کسی بهی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو۔وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں۔
اور دفعہ 106 کی نئی شکل کچھ یوں بنی۔۔۔۔۔
بلوچستان پنجاب سرحد اور سندھ کے صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کے لیے مخصوص نشستیں ہوں گی جو عیسائی۔ہندو سکھ۔بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانیوں گروہ یا لاہوری افراد( جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ) یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکهتے ہیں۔ (ان کی) بلوچستان میں ایک۔سرحد میں ایک۔پنجاب میں تین۔اور سندھ میں دو سیٹیں ہوں گی، یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر ہے۔کہ اس ترمیم کے حق میں 130 ووٹ آئے اور مخالفت میں ایک بهی ووٹ نہیں آیا ۔( آجاتا اگر غامدی صاحب اس وقت موجود ہوتے ) اس موقع پر اس مقدمہ کے قائد مفتی محمود رحمہ اللہ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔
اس فیصلے پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔میرے خیال میں مرزائیوں کو بهی اس فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیئے۔کیونکہ اب انہیں غیر مسلم کے جائز حقوق ملیں گے۔اور پهر فرمایا کہ سیاسی طور پر تو میں یہی کہہ سکتا ہوں (ملک کے) الجھے ہوئے مسائل کا حل بندوق کی گولی میں نہیں۔بلکہ مذاکرات کی میز پر ملتے ہیں

نوٹ ) احباب سے لائیک کمنٹس کی حاجت نہیں۔بس مودبانہ درخواست ہے کہ ختم نبوت کی اس آگاہی مہم میں ساتھ دیں۔اور اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں،
 یہ ہمارے بڑوں کی جہدوجہد ہے۔جسے ہم اپنی نئی نسل تک ٹکڑوں ٹکڑوں میں سہی لیکن یہ کاوشیں پہنچا پائیں۔
”شاید کہ تیرے دل میں۔
اتر جائے میری بات“

اوریا مقبول جان ، ایڈز اور قادیانیت ، قادیانی

ایڈز اور قادیانیت                  اوریا مقبول جان کی ایک چشم کشا تحریر
=====================
٭ ایک بگڑے ہوئے نوجوان کی آپ بیتی، سنسنی خیز، مسلمانوں کے ھوش اڑانے دینے والے انکشافات کے ساتھ ٭
یہ جولائی 2007ء کی بات ہے۔ لاہور کا ایک خوبرو نوجوان شہزاد ملک کے ایک مشہور و معروف قومی اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اخبار کے ورق الٹتے ہوئے اچانک اس کی نظر کلاسیفائیڈ اشتہارات پر پڑی۔ پھر ان میں سے ایک اشتہار پر اس کی نگاہیں گڑ کر رہ گئیں:"دوستیاں کیجیئے۔۔۔۔کامیاب بنیئے" اشتہار میں بتایا گیا تھا کہ ہر نوجوان دیئے گئے رابطہ نمبروں پر کال کر کے نئے دوست تلاش کر سکتا ہے۔ جو لڑکے بھی ہوسکتے ہیں اور لڑکیاں بھی۔۔۔۔۔ یہ نئے تعلقات اس کی زندگی میں نئی جان ڈال دیں گے۔
شہزاد ان دنوں ویسے بھی فارغ تھا۔ اس کی زندگی بے مزہ گزر رہی تھی۔ ایسے اشتہارات اس نے پہلے بھی دیکھے تھے مگر اب اس نے پہلی بار انہیں آزمانے کا ارادہ کیا۔اس نے اشتہار میں دیئے گئے نمبروں پر رابطہ کیا۔اس رابطے کے نتیجے میں اسے کئی لڑکوں اور لڑکیوں کا تعارف کرایا گیا۔ ان کے فون نمبرز دیے گئے۔ شہزاد نے ان میں سے ایک لڑکی "روحی" کو دوستی کے لیئے منتخب کیا اور اس کے نمبر پر کال کی۔ دونوں میں ہیلو ہائے ہوئی۔ پھر باقاعدہ ملاقات کے لیئے جگہ کا تعین ہوا۔ لڑکی نے خود بتایا کہ وہ لاہور کے فلاں جوس سینٹر میں مل سکتی ہے۔
شہزاد وہاں پہنچ گیا۔ اس طرح روحی سے اس کی پہلی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات نے اسے ایک نئی دنیا کی سیر کرائی۔ عیش و عیاشی کی دنیا، رنگ رلیوں کی دنیا، جہاں شرم و حیا نامی کوئی شے نہیں ہوتی۔ روحی اس دنیا میں داخلے کا دروازہ تھی۔ آگے لڑکیوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ شہزاد کی دوستیاں بڑھتی چلی گئیں۔ اسے ہوش تب آیا جب اسے جسم میں شدید توڑ پھوڑ کا احساس ہوا۔ اس نے ڈاکٹروں سے معائنہ کروایا تو پتا چلا کہ وہ ایڈز کا مریض بن چکا ہے۔ شہزاد کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اپنا علاج کراتا۔ تب انہیں گروہ کے سرکردہ افراد نے علاج کی پیش کش کی مگر شرط یہ تھی کہ وہ ان کے گروہ کے لیئے کام کرے۔ شہزاد کو موت سامنے نظر آرہی تھی۔ وہ ہر خطرناک سے خطرناک اور ناجائز سے ناجائز کام کے لیئے تیار ہوگیا۔ ویسے بھی حلال و حرام کا فرق تو وہ کب کا بھول چکا تھا۔ گروہ کے منتظمین خود سات پردوں میں تھے۔ وہ شہزاد کو اپنی لڑکیوں کے ذریعے مختلف کام بتاتے تھے۔ یہ کام عجیب و غریب تھے۔ شہزاد ایک پڑھا لکھا اور ذہین نوجوان تھا۔ جلد ہی وہ گروہ کے کاموں کو خاصی حد تک سمجھ گیا۔ گروہ کے منصوبے آہستہ آہستہ اس پر عیاں ہونے لگے۔ یہ منصوبے بے حد خوفناک تھے۔ یہ گروہ ملک میں ایڈز کا وائرس پھیلا رہا تھا۔ ہیپاٹائٹس سی کی بیماری کو فروغ دے رہا تھا۔ ہزاروں افراد اس کا نشانہ بن چکے تھے۔ آزاد خیال نوجوان، ہسپتالوں کے مریض اور جیلوں کے قیدی اس کا خاص ہدف تھے۔ آزاد خیال نوجوانوں کو دوستی کے اشتہارات کے ذریعے پھنسایا جاتا تھا۔ یہ اشتہارات میڈیا میں مختلف عنوانات سے آرہے تھے۔ ان کے ذریعے نوجوانوں کا تعلق جن لڑکیوں سے ہوتا تھا وہ ایڈز اور دوسری مہلک بیماری میں مبتلا تھیں۔ ان سراپا بیمار عورتوں کو مختلف این جی اوز سے اکٹھا کیا گیا تھا۔ ان عورتوں کی بیماری اس درجے کی تھی کہ ان کے ساتھ اختلاط سے بھی انسان ایڈز میں مبتلا ہو سکتا تھا، مگر گروہ کے لوگ اس پر اکتفا نہیں کرتے تھے۔ ان کا انتظام اتنا پختہ تھا کہ لڑکی سے پہلی ملاقات کے وقت نوجوان جو مشروب (جوس، کولڈ ڈرنک یا شراب) پیتا تھا، اس میں پہلے سے خطرناک جراثیم ملا دیئے جاتے تھے۔ ایڈز کی کئی مریضائیں معقول علاج، بہتر معاوضے اور عیش و عشرت کی چند گھڑیوں کے عوض اس گروہ کے لیئے یہ کام کرتی تھیں، جبکہ بہت سی عورتیں مجبور ہو کر یہ کام کر رہی تھیں کیونکہ ان کے بچے اس گروہ کے قبضے میں تھے۔ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ احکام کی تعمیل کرتی رہیں، ایڈز پھیلاتی رہیں تو ان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر ان کا مستقبل شاندار بنا دیا جائے گا۔
ان بے فکرے نوجوانوں کے علاوہ ہسپتالوں، پاگل خانوں اور جیل خانوں کے مریض ان کا دوسرا ہدف تھے۔ یہ گروہ پاکستان کے طول و عرض میں ایسی لاکھوں سرنجیں پھیلا رہا تھا جو ایڈز یا ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کے خون سے آلودہ ہوتی تھیں۔ کئی بڑے ہسپتالوں میں اس گروہ کے ایجنٹ موجود تھے۔ وہاں آنے والی سرنجوں میں یہ ایڈز اور ہیپا ٹائٹس زدہ سرنجیں ایک مخصوص تناسب سے ملی ہوتی تھیں۔ اتنی سرنجوں کو آلودہ کرنے کے لیئے گروہ نے پاگل خانوں میں سرگرم اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاگل افراد کو اپنا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ ان کو ایڈز یا ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا کرنے کے بعد ان کا خون بڑی مقدار میں نکالتے رہنے کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
گروہ کا تیسرا ہدف جیل کے قیدی تھے۔ ان میں سے کم مدت کی سزا پانے والے حد درجے منفی اور لادینی ذہنیت رکھنے والے قیدیوں کو خاص تجزیئے کے بعد منتخب کرکے علاج کے بہانے ایڈز زدہ کر دیا جاتا تھا۔ جب یہ قیدی رہا ہوئے تو بیماری کے باعث ان کا کوئی مستقبل نہ ہوتا تھا۔ یہ گروہ ان سے رابطہ کر کے انہیں اپنا رضاکار بنا لیتا تھا۔ یہ قیدی ویسے ہی تخریبی ذہن کے ہوتے تھے۔ اپنی محرومیوں کا دنیا سے بدلہ لینے کےلیئے وہ ایڈز پھیلانے پر آمادہ ہو جاتے تھے۔ انہیں کانوں کان یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ انہیں ایڈز میں مبتلا کرنے والے "مہربان" یہی ہیں۔
گروہ کا ایک خاص کام دوسرے لوگوں کی اسناد کو اپنے کارکنوں کے لیئے استعمال کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیئے اخبارات میں تبدیلی نام اور ولدیت کے اشتہارات شائع کردیئے جاتے۔ گروہ کے کسی کارکن کو کسی ملازمت کے لیئے جو مطلوبہ سند درکار ہوتی، اس کا انتظام اس طرح ہوتا تھا کہ پہلے کمپیوٹر پر اپنے کارکن کی ولدیت سے ملتے جلتے نام والی ولدیت سرچ کی جاتی۔مثلاً: ظفر ولد جمیل کو کہیں بھرتی کرانا ہوتا تو نیٹ سے جمیل نام کی ولدیت رکھنے والے افراد کی فہرست حاصل کر لی جاتی۔ پھر ظفر کا تبدیلئ نام کا اشتہار شائع کرا کے تبدیل کردیا جاتا۔ اس طریقے سے گروہ کے ان گنت افراد کو ڈپلی کیٹ اسناد دلوا کر پولیس، خفیہ ایجنسیوں اور فوج میں بھرتی کیا جا رہا تھا۔جیل خانوں، ہسپتالوں اور پاگل خانوں میں بھی ان کی خاصی تعداد پہنچا دی گئی تھی۔
گروہ کی آمدن کے کئی ذرائع تھے۔ شہزاد کو اتنا معلوم ہوسکا کہ بڑی گرانٹ اسے باہر سے ملتی ہے۔ دیگر ذرائع خفیہ تھے۔ البتہ ایک ذریعہ آمدن بہت واضع تھا۔ وہ ایڈز اور دوسرے مہلک امراض کی ادویہ کی تجارت کا۔ ایک طرف تو خود یہ گروہ ان امراض کو پھیلا رہا تھا اور دوسری طرف ان کی ادویات منہ مانگے داموں فروخت کر کے بے تحاشہ دولت کما رہا تھا۔
ایک مدت تک شہزاد بھی اپنا دین و ایمان بھول کر اس گروہ کے لیئے کام کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ان کے قابل اعتماد کارکنوں میں شامل ہو گیا۔ تب ایک دن گروہ کے سرکردہ افراد نے اسے طلب کیا اور حیرت انگیز حد تک پرکشش مراعات کی پیش کش کی مگر ساتھ ہی ایک غیر متوقع مطالبہ بھی کیا۔
" تم قادیانی بن جاؤ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مان لو " شہزاد ہکا بکا رہ گیا۔ آج اسے معلوم ہوا کہ یہ گروہ قادیانی ہے۔ اس نے سوچنے کی مہلت طلب کی اور اس کے بعد مزید کھوج میں لگ گیا۔ اس جستجو میں گروہ کی ایک پرانی کارکن "روبینہ" نے اس کی مدد کی۔ روبینہ نے جو انکشافات کیئے وہ شہزاد کےلیئے کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ اس نے بتایا: "بلاشبہ یہ قادیانی گروہ ہے مگر اکیلا نہیں۔ یہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔ یہ کام ایک وسیع جنگ کے تناظر میں ہو رہا ہے۔ اسے ہم حیاتیاتی جنگ کہہ سکتے ہیں"
قارئین ! شہزاد کی یہ سچی کہانی پڑھ کر میں لرز گیا ہوں۔ میں اس پر یقین نہ کرتا شاید آپ بھی اسے سچ ماننے میں متذبذب ہوں۔ کیونکہ یہ بات حلق سے اُترنا واقعی مشکل ہے کہ آیا کوئی گروہ بلا تفریق لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کو اس طرح خفیہ انداز میں قتل کرنا کیوں چاہے گا؟امریکا کی جنگ تو مجاہدین سے ہے۔ قادیانیوں کی لڑائی تو علماء اور ختمِ نبوت والوں سے ہے۔ انہیں عوام کے اس قتلِ عام سے کیا حاصل ہوگا؟ شہزاد کی کہانی میں اس کا جواب نہیں ملتا، مگر اس کا جواب خود یورپی میڈیا پر آنے والی رپورٹوں سے مل سکتا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق اس وقت یورپ اور امریکا میں انسانی آبادی تیزی سے نمٹنے کا خطرہ واضح طور پر محسوس ہو رہا ہے۔ وہاں کے " فری سیکس" معاشرے میں اب کوئی عورت ماں بننا چاہتی ہے نہ کوئی مرد باپ۔ تقریباً ہر فرد کا یہ ذہن بن چکا ہے جب جنسی تسکین کے لیئے آزاد راستے موجود ہیں تو شادی کا بندھن اور بچوں کا جھنجھٹ سر کیوں لیا جائے؟ اس بظاہر پُر فریب خیال کے پیچھے اجتماعی خود کشی کا طوفان چلا آرہا ہے۔ جس قوم کے اکثر لوگ بچے پیدا نہ کرنا چاہتے ہوں۔ وہاں شرح پیدائش کیوں کم نہ ہوگی؟ چنانچہ وہاں اب آبادی تیزی سے نمٹنے لگی ہے۔ سابق امریکی صدارتی اُمیدوار پیٹرک جے بچا چن نے واضح طور پر لکھا ہے: " 2050ء تک یورپ سے دس کروڑ افراد صرف اس لیئے کم ہوجائیں گے کہ متبادل نئی نسل پیدا نہیں ہوگی۔ " اس نے لکھا ہے: " 2050ء تک جرمنی کی آبادی 8 کروڑ سے گھٹ کر 5 کروڑ 90 لاکھ رہ جائے گی۔ اٹلی کی آبادی 5 کروڑ سے کم ہو کر صرف 4 کروڑ رہ جائے گی۔ اسپین کی آبادی میں 25 فیصد کمی ہو جائے گی۔"
یہ وہ صورتِ حال ہے جس سے گھبرا کر مغربی دنیا کی حکومتیں عوام کی افزائش نسل کی ترغیبات دینے پر مجبور ہو گئی ہیں مگر کتے بلیوں کی طرح آزادانہ جنسی ملاپ کے عادی گورے اب کسی بھی قیمت پر یہ آزادی کھونا نہیں چاہتے۔ کوئی بڑے سے بڑا انعام انہیں بچے پالنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیئے سنجیدہ نہیں بنا سکتا۔ یہ بات درجہ یقین کو پہنچ گئی ہے کہ اس صورتِ حال کا تدارک نہ ہونے کے باعث 50، 60 سال بعد دنیا میں عیسائی اقلیت میں رہ جائیں گے اور کرۂ ارض پر 60 سے 65 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہوگی جو اپنی نسل مسلسل بڑھا رہے ہیں۔ خود یورپی ممالک میں کئی بڑے بڑے شہروں میں مسلم آبادی 50 فیصد کے لگ بھگ آجائے گی۔ اس صورتِ حال میں مغربی طاقتوں نے اپنے ہاں افزائش نسل سے زیادہ توجہ مسلم دنیا کی نسل کشی پر دینا شروع کر دی ہے۔ پاکستان کو اس مقصد کے لیئے پہلا ہدف اس لیئے بنایا گیا ہے کہ یہ مسلم دنیا میں آبادی کے لحاظ سے تین بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ پھر یہاں کی آبادی اپنی اسلام پسندی، علماء و مدارس کی کثرت اور جہادی پس منظر کی وجہ سے پہلے ہی مغرب کا خاص ہدف ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مغرب کے مددگار قادیانیوں کا مضبوط نیٹ ورک ہے۔ چنانچہ یہودی لابی اس مقصد کے لیئے متحرک ہوگئی ہے۔ اس کے لیئے پاکستان کے قادیانی اس کے شریک کاربن گئے ہیں۔ شہزاد جیسے ہزاروں لڑکے اور روحی جیسی ہزاروں لڑکیاں ان کے چنگل میں ہیں۔ اپنے ایڈز زدہ جسموں کےساتھ وہ طوعاً و کرہاً ان کے لیئےکام کر رہے ہیں۔
شہزاد کے بیان کے مطابق قادیانی گروہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کے اس تعاون کو پاکستان کے سیکیورٹی اہداف کے خلاف بھی استعمال کر رہا ہے۔ جراثیم زدہ لڑکیوں کا نیٹ ورک ملٹری فورسز اور دوسرے خفیہ اداروں کے محب وطن افراد تک پھیلانے کی کوششیں پوری سرگرمی سے جاری ہیں۔جن کا نوٹس لینا ضروری ہے۔
مجھے یہ حساس ترین معلومات دیتے ہوئے شہزاد نے واضح طور پر آگاہ کیا کہ اسے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ قادیانیوں نے اسے مرزا پر ایمان لانے کی پیشکش کر کے اس کی سوئی ہوئی ایمانی غیرت کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ شہزاد نے ان کی پیش کش ان کے منہ پردے ماری اور اس گروہ کی جڑوں کو کھود کر ان کا کچا چٹھا صحافی برادری تک پہنچا دیا۔ شہزاد اپنا کام کرچکا، اب اس کاجو بھی انجام ہو وہ بھگتنے کے لیئے تیار ہے۔ میں اپنا فرض سمجھتے ہوئے یہ حقائق آپ تک پہنچا رہا ہوں۔
ہم چیف جسٹس، چیف آف آرمی اسٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے بطور خاص گزارش کرتے ہیں کہ اس بارے میں تحقیقات کرکے پاکستانیوں کی نسل کشی کے اس خوفناک منصوبے کو ناکام بنائیں۔ ورنہ مستقبل میں جہاں آبادی سے محروم یورپ و امریکا خودکشی کریں گے وہاں پاکستان بھی لق و دق صحرا بن کر اپنی پہچان سے محروم ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس برے وقت سے پہلے ہمیں سنبھلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ دوستو سے گزارش ہے کہ اخبارات اور چینلوں پر آنے والے دوستی کے اشتہارات پر نظر رکھیں اور ان کے خطرات سے اپنے متعلقہ احباب کو خبردار کریں۔"
(بحوالہ: دجال، عالمی دجالی ریاست، ابتدا سے انتہا تک)

Tuesday, 28 November 2017

مرزا غلام احمد قادیانی کی اصلیت اصل چہرہ Reality of mirza ghulam Qadyani

’برکت بی بی صاحب اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکنہ تلونڈی نے بواسطہ لجنۃ اماء اﷲ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ ایک دن آپ لیٹے ہوئے تھے اور میں پیر دبا رہی تھی۔ کئی طرح کے پھل لیچیاں، کیلے، انجیر اور خربوزوں میں سے آپ نے مجھے بہت سے دیے۔ میں نے ان کو بہت سنبھال کر رکھا کہ یہ بابرکت پھل ہیں ، ان کو میں گھر لے جاؤں گی تاکہ سب کو تھوڑا تھوڑا بطور تبرک کے دوں۔ جب میں جانے لگی تو حضور نے امان جان کر فرمایا کہ برکت کی دوائی برنم دے دو۔ اس کے رحم میں درد ہے۔ (ایکس ٹریکٹ وائی برنم لیکوئڈ ایک دوا رحم کی اصلاح کے واسطے ہوتی ہے) یہ مجھے یاد نہیں کہ کس نے دوا لا کر دی۔ حضور نے دس قطرے ڈال کر بتایا کہ دس قطرے روز صبح پیا کرو۔ میں گھر جا کر پیتی رہی۔ ‘‘(سیرۃ المہدی جلد اول ص 214 روایت نمبر1350طبع چہارم )



’ برکت بی بی صاحب اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکن تلونڈی نے بواسطہ لجنۃ اماء اﷲ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ ’’میں تیسری بار قادیان میں آئی تو میرے پاس ایک کتاب رابعہ بی بی کے قصے کی تھی جسے میں شوق سے پڑھا کرتی تھی ۔ آپ نے فرمایا کہ برکت بی بی ! لو یہ در ثمین پڑھا کرو۔‘‘

دوا پینے کے بعد مجھے حمل ہو گیا تھا جس کا مجھے علم نہ تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اور دو عورتیں بیٹھی ہیں کہ مجھے حیض آ گیا ہے ۔ میں گھبرائی اور تعبیر نامہ دیکھا۔ اس میں یہ تعبیر لکھی تھی کہ جو عورت اپنے آپ کو حائضہ دیکھے وہ کوئی گناہ کرتی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر سخت رنج ہوا ، میں نفل پڑھتی اور توبہ استغفار کرتی اور خدا سے عرض کرتی : یا اﷲ! مجھ سے کون سا گناہ ہوا ہے یا ہونے والا ہے؟ تو مجھے اپنے فضل سے بچا اور قادیان آئی۔ حضور کے پاؤں دبا رہی تھی کہ میں نے عرض کی: حضور مجھے ایک ایسی خواب آئی ہے جس کو میں حضور کی خدمت میں پیش کرنے سے شرم محسوس کرتی ہوں حالانکہ نہیں آنی چاہیے، کیونکہ حضور تو خدا کے بھیجے ہوئے ہیں۔ آپ سے عرض نہ کروں گی تو کس کے آگے بیان کروں گی۔‘‘ پھر میں نے حضور کی خدمت میں وہ خواب بیان کی ۔ حضور نے فرمایا: ’’کتاب جو سامنے رکھی ہے وہ اٹھا لاؤ۔‘‘ میں لے آئی ،آپ نے کتاب کھول کر دیکھا اور بتایا کہ ’’وہ جو عورت ایسا خواب دیکھے تو اگر حاملہ ہے تو لڑکا پیدا ہو گا اور اگر حاملہ نہیں تو حمل ہو جائے گا۔‘‘ میں نے عرض کی کہ مجھے حضور علیہ السلام کی دو اور دعا سے حمل ہے۔ آپ نے فرمایا: ان شاء اﷲ لڑکا پیدا ہو گا۔ ‘‘ (سیرۃ المہدی جلد دوم ، صفحہ 214 روایت نمبر51طبع چہارم)



’’ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحب نے کہ ایک دفعہ جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) تمھارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکا دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمھارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں ۔ اس لیے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنری کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین ادھر ادھر پھراتا رہا۔ آخر اس نے چائے کے ایک قافلے پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ہماری وجہ سے ہی اسے قید سے بچا لیا ورنہ خواہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا ہمارے مخالف یہی کہتے رہے کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی سیالکوٹ کی ملازمت 1864ء 1868 کا واقعہ ہے۔ (سیرۃ المہدی روایت نمبر49جلد اول صفحہ 38طبع چہارم)

’’ بیان کیا حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے ، سٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی کے ساتھ ٹہلنے لگے۔ یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب جن کی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر، ادھر ادھر پھرتے ہیں آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جاوے ۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا میں تو نہیں کہتا، آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں، بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا: جاؤ جی، میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم سر نیچے ڈالے میری طرف آئے، میں نے کہا: مولوی صاحب ! جواب لے آئے۔‘‘ (سیرۃ المہدی جلد اول صفحہ 56 روایت نمبر77طبع چہارم)




محترم قارئین ! آپ نے کذاب داعی نبوت مرزا قادیانی کے کردار کی جھلکیاں قادیانیوں کی اصل کتب کے حوالے سے ملاحظہ کر لیں کہ کس طرح ساری ساری رات غیر محرم عورتوں سے ٹانگیں دبوانا اور تبر ک دینا، لوگوں کو بلیک میل کر کے ان کی بچیوں سے نکاح کی ناکام کوشش کرنا اور کمرے میں غیر محرم عورت کے برہنہ ہو کر غسل کرتے وقت اسے اس بے غیرتی سے منع کرنے کی بجائے خود وہیں بیٹھے رہنا، کس چیز کی عکاسی کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر اپنی بیوی کو ریلوے اسٹیشن پر لے کر بے پردہ ٹہلتے رہنا اور بیوی بھی وہ جسے قادیانی ذریت ام المومنین کہتی ہے، کے ساتھ دیوثیت کا بھر پور مظاہرہ کرنے والا بے غیرت شخص بنی یا ولی تو دور کی بات ہے شریف انسان کہلانے کا بھی حق دار ہو سکتا ہے؟ محترم قارئین ! قادیانی کذاب پرلے درجے کا بے غیرت ہی نہیں بلکہ شرابی بھی تھا اور شراب بھی اعلیٰ درجے کی ولایتی پیا کرتا تھا، جسے ٹانک وائن کہتے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا مرید خاص حکیم محمد حسین قریشی اپنی کتاب ’’خطوط بنام غلام‘‘ میں مرزا قادیانی کا ایک خط تحریر کرتا ہے جو درج ذیل ہے:

’’محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اﷲ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ میں اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خریدنی خود خرید دیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلوجہ کی دکان سے خرید دیں۔ گھر ٹانک وائن چاہیے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔

والسلام
مرزا غلام احمد​

(خطوط امام بنام غلام ص 5مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد قادیانی صاحب )

Monday, 27 November 2017

قادیانیت کا مکروہ چہرہ قسط نمبر 7

قادیانیت کا مکروہ چہرہ. نمبر 7

حمزہ اعوان کی تحریر سے اقتباس. . .

حوریں 
 ہم نے سن رکھا تھا کے ربوہ (چناب نگر )ٰ میں جنت اور حوریں بھی ہوتی ہیں۔ سب سے بڑی مشکل تھی کہ کیسے جانا جائے کہ جنت دوزخ کہاں ہیں اور حوریں کدھر اور کیسی ہوتی ہیں۔ اباجی سے جو معلومات ملیں، ان سے جنت دوزخ کے بارے میں تو کچھ پتا چل گیا مگر حوروں والا قصہ ابھی تک تشنہ بلکہ نامکمل تھا۔ کسی مرزائی لڑکے سے اس بارے میں دریافت کرنا بھی مشکل تھا۔ ہماری کلاس میں ایک لڑکا عبدالمالک پڑھتا تھا۔ دیہاتی لب و لہجے کا یہ لڑکا مرزائیوں کے سخت مخالف تھا، مگر اپنے باپ کی جائیداد سے محرومی کے خوف سے مرزائیت کے ساتھ چپکا ہوا تھا۔ ایک دن وہ مرزائیت اور اس کے ماننے والوں کے شجرہ نسب پر طبع آزمائی کر رہا تھا۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور اس سے حوروں کے متعلق پوچھ ڈالا۔ غصے میں وہ پہلے ہی تھا۔ میرے استفسار پر اس نے حور و قصور کی پوری تفسیر بیان کر ڈالی۔ کہنے لگا:

”سوہنیا! کاوھیاں نیں، ربوہٰ دیاں ساریاں کڑیاں نوں ای حوراں کہندے نیں، تاہم کچھ حوریں اصلی ہوتی ہیں بعض نقلی۔“

پوچھا ” نقلی اور اصلی حوروں سے مراد“ جواب ملا ” یار! اصلی حوراں مرجوانیاں دیاں زنانیاں نیں تے نقلی حوراں حماتڑاں دیاں رناں نیں۔“ (اصلی حوریں مرزائیوں کی عورتیں ہیں اور ”حماتڑوں“ کی عورتیں ہیں۔)

مالک سے میں نے سوال کیا، ان لوگوں کی خواتین اصلی اور تم والی نقلی حوریں کیوں؟ اس پر وہ مسکرایا اور کہنا لگا ” بھائی اوہ اصلی دیسی گھی دیاں نیں نا“ وہ اس طرح کہ ہمارا نبی خواہ سچا ہے یا جھوٹا، اس سے قطع نظر نبی تو ہے نا۔ اب اس کی ال اولاد میں جتنی لڑکیاں ہیں وہ خوبصورت بھی ہیں، امیر بھی۔ ان کے لباس، شکل و صورت اور نشست و برخاست ہماری عورتوں سے مختلف اور پُرکشش ہے۔ چنانچہ انہیں اصلی حوریں ہی کہا جائے گا جبکہ ہماری عورتیں مرتبے، مقام اور جیب کے اعتبار سے ان جیسی تو نہیں ہیں لیکن اس نبی کی امت تو ہیں، جسے ہم نے مان لیا ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے حوروں والی صِفات ہماری خواتین کے حصے میں بھی آتی ہیں۔“

اتنی معلومات ملنے کے بعد میں نے حوروں کے بارے میں خود بھی مشاہدہ کیا تو مجھے ربوہ(چناب نگر )ٰ کی ہر عورت حور ہی لگنے لگی۔ کیونکہ مرزائی عورتوں کا اپنی طرف متوجہ کرنے کا جو انداز ہے، اس سے وہ خواہ مخواہ ہی حوریں لگتی ہیں۔ سیاہ رنگ کے ان کے برقع کی وضع قطع کچھ اس طرح کی ہوتی تھی کہ ہر خاتون ”سیکس اپیلڈ“ نظر آتی تھے۔ سر پر تکُونی سکارف اور اس کے ساتھ دو نقاب اپنے اندر طوفان چھپائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ ہر عورت ایک نقاب سے چہرے کا نچلا حصہ ناک تک چھپا لیتی ہے جبکہ دوسرا نقاب سر پر لپیٹ لیا جاتا ہے۔ صرف آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں جو آنکھوں آنکھوں میں باتیں کر جاتی ہیں۔ بعض مہ جبیں آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگا کر اچھی بھلی دشمن عقل و ایمان بن جاتی ہیں۔ اس گٹ اپ میں معمولی سی شکل و صورت والی عورتیں بھی ماہ لقا اور حور شمائل نظر آنے لگتی ہے۔

مرزائی خاندان نبوت کی خواتین واقعی حسن و جمال کا پرتو ہیں ” عزازیلی “ حسن کی بنا پر ہی یہ جھوٹا مذہب چل رہا ہے۔ حسینانِ ربوہٰ کو حوریں کہنا اگرچہ شاعری کے زمرے میں آتا ہے لیکن جس کسی شاعرانہ ترنگ میں مرزائی خواتین کو حوریں کہا ہے، اس میں اس کی خرد قصور وار نہیں۔ یہ دست قدرت کا کمال ہے یا کالے برقع کی فسوں سازی جس نے وہاں کی ہر عورت کو حور بنا کر رکھ دیا ہے۔

قادیانیت کا مکروہ چہرہ قسط نمبر 8

قادیانیت کا مکروہ چہرہ. نمبر 8

حمزہ اعوان کی تحریر سے اقتباس 

مرزائی امت کے ارباب اقتدار اور شہر کے عوام الناس نے اپنے ہر قول و عمل پر منافقت کا لبادہ چڑھا رکھا ہے۔ ربوہ(چناب نگر )ٰ کے معاشرے کو پاکیزہ اور مثالی ظاہر کرنے کے لیے مختلف ڈرامے بازیاں کی جاتیں جس میں شہر کے ایک کونے پر جامعہ نصرت گرلز کالج اور نصرت گرلز ہائی سکول اور دوسرے کونے پر لڑکوں کے تعلیم الاسلام ہائی سکول اور ٹی آئی کالج کی تعمیر قابل ذکر ہے۔ اس تعمیر کی غایت بظاہر یہ تھی کہ باہر کی دنیا پر یہ ثابت کیا جائے کہ صنف نازک اور صنف کرخت کے تعلیمی اداروں میں انتہائی فاصلے ایک مثالی معاشرے کی شاندار مثال ہیں۔ لیکن ان کی منافقت اور ڈرامے بازی اس وقت مضحکہ خیز ثابت ہوتی جب دریائے چناب، الف محلّہ دار الرحمت غربی، شرقی، وسطی ریلوے سٹیشن کے علاقے کے لڑکے دریا کی طرف اپنے سکول و کالج جا رہے ہوتے تھے تو دونوں اصناف کا آپس میں کراس ہوتا۔ اس دوران بے شمار لڑکے لڑکیوں کے آپس میں مسکراہٹوں اور رقعوں کے تبادلے ہو جاتے اور کسی کو کانون کان خبر بھی نہ ہوتی۔

ایک دفع میں میرا کزن محمد شفیع ریلوے لائن میں چلتے ہوئے سکول جا رہے تھے۔ راستے میں ایک شیریں کو اپنے فرہاد کی نگاہوں سے بلائیں لیتے دیکھا تو لا محالہ ہمارا دھیان ادھر چلا گیا۔ اس محویت میں پیچھے سے آتے ہوئے ریلوے انجن کی آواز بھی نہ سنائی دی۔ قدرت کو ہماری زندگی مقصود تھی کہ انجن ابھی چند گز کے فاصلے پر تھا کہ ہم نے دائیں بائیں جانب چھلانگیں لگا کر جان بچا لی ورنہ ایک حور کے کمالات کا نظارہ ہمیں دوسری دنیا پہنچا چکا ہوتا۔

ربوہٰ کی ایک لڑکی کا نام نجمہ تھا جسے سب لوگ نجمی کہتے تھے۔ اس کی چنیوٹ کے ایک مسلمان لڑکے ظہیر احمد سے نہ جانے کیسے ملاقات ہو گئی اور اسے اپنا دیوانہ بنا لیا۔ یہ لڑکا یتیم تھا اور تعلیم حاصل کرنے ملتان سے اپنی بہن کے پاس چنیوٹ آیا ہوا تھا۔ ظہیر کے گھر والوں نے سنا تھا کہ ربوہٰ میں تعلیم بہت اچھی ہے۔ لہٰذا اسے فرسٹ ائیر میں تعلیم الاسلام کالج میں داخل کرا دیا گیا۔ اس کی نجمی سے ملاقات ہوئی تو وہ ظہیر پر لٹو ہو گئی۔ دسمبر ٹیسٹ میں جب ظہیر میاں فیل ہو گئے تو ان کے گھر والوں کا ماتھا ٹھنکا۔ انہوں نے اپنے طور پر انکوائری کی تو معلوم ہوا کہ میاں صاحبزادے تو حور کی زلفوں کے اسیر ہو چکے ہیں بس پھر کیا تھا، پہلے تو ان کی خوب دُھنائی ہوئی ،گر جب عشق کا بھوت ان کے سر سے اتارے نہ اترا تو موصوف کے گھر والوں نے واپس ملتان بھیج دیا۔

ربوہ (چناب نگر )ٰ کے تمام مرد دو(2) مقامات پر سرو نگاہ جھکا لیتے اور ہاتھ باندھ لیا کرتے تھے۔ ایک جب وہ اپنے خلیفہ، اس کی اولاد یا جھوٹے خاندانِ نبوت کے کسی بھی فرد کے سامنے پیش ہوتے۔ دوسرے اس وقت جب حوریں ان کے سامنے آ تیں۔ ”ربوہٰ مرد“ کنکھیوں سے انہیں دیکھ تو لیتے مگر ان سے نظر ملانا نہ جانے کیوں ان کے بس میں نہیں ہوتا تھا۔ کئی ایک سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے ”نبی“ کی نام نہاد تعلیمات کو حوالہ دیتے ہوئے کہا ” ہم اپنی مذہبی تربیت کی بنا پر عورتوں کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھتے جبکہ عورتیں ہمیں سر سے پاؤں تک دیکھ لیتی ہیں۔“

قادیانیت کا مکروہ چہرہ قسط نمبر 9

قادیانیت کا مکروہ چہرہ. نمبر 9

حمزہ اعوان کی تحریر سے اقتباس. ..

.ہمارے چنیوٹ کے ایک دوست کی بہن جو نصرت گرلز ہائی سکول کی طالبہ تھی اس کے گھر والوں نے چنیوٹ سے لاہور منتقل ہونا تھا چنانچہ اس نے آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد نویں کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا چاہا مگر سکول کی ہیڈ مسٹریس مسز بشیر نے سرٹیفیکیٹ دینے سے انکار کر دیا اور کہا ”بچی لائق ہے، اسے میٹرک پاس کرنے تک سکول سے نہیں فارغ کریں گے۔“ سکول مینیجر چودھری علی اکبر ہمارے دوست مقصود الرٰحمن کے والد تھے، ان کی سفارش کرائی مگر بے سود۔ آخر ہمارے ایک اور کلاس فیلو دور کی کوڑی لائے۔ انہوں نے یونائیٹڈ بنک (United Bank) کے مینیجر لطیف اکمل سے بات کی جنہوں نے ایک فون کیا اور اگلے لمحے مسز بشیر نے سرٹیفیکیٹ دینے کی ہامی بھر لی۔ ہمارا کام تو ہو گیا مگر لطیف اکمل سے اس انہونی کے ہو جانے کے اسباب پوچھے تو انہوں نے آنکھ دبا کر کہا ” بھائی یاری کی کچھ تو پردہ داری ہونی چاہیے۔“

ایک مرتبہ ہمارے ایک جاننے والوں کی بیٹی اور نصرت گرلز ہائی سکول کی طالبہ نویں جماعت میں فیل ہو گئی۔ لڑکی کے والد نے سکول انتظامیہ سے ملنے کے بعد پرچے دوبارہ چیک کر کے اسے رعایتی نمبر دلوا کر پاس کرانے کی درخواست کی۔ اس سلسلے میں ان کی ملاقات لڑکی کی کلاس ٹیچر سے ہوئی جس نے لڑکی کے باپ کو بتایا کہ لڑکی کی نالائقی کی وجہ اس کا چال چلن ہے۔ وہ اور اس کی سہیلیوں کا گروپ کلاس سے اکثر غائب رہتا ہے اور یہ سب ایک دوسرے کے بوائے فرینڈز کو محبت نامے پہنچانے اور ملاقاتیں ارینج(arrange) کرانے میں مصروف رہتی ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ پڑھائی میں کمزور رہ گئی ہے۔ لڑکی کا والد جو پہلے ہی بیٹی کی ناکامی پر سر پیٹ رہا تھا، اب بچی کے مشکوک چال چلن کی خبر پر سخت پریشان ہو گیا۔ جب لڑکی اور اس کی سہیلیوں سے معلوم کیا گیا تو انہوں نے ایک اور ہی کہانی سنا ڈالی کے موصوف ٹیچر کے خود کچھ مشکوک لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور وہ اپنی ”خوب رو“ طالبات کو ان لوگوں سے ملاقات پر مجبور کرتے ہے اور جو لڑکیاں بات نہیں مانتیں، انہیں نہ صرف کلاس میں زچ کیا جاتا ہے بلکہ امتحان میں فیل کر دیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ جب اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا تو سکول انتظامیہ نے یہ کہہ کر بات دبا دی کہ اس طرح اساتذہ اور طالبات کی بدنامی ہو گی۔ چنانچہ لڑکی کو پاس کر کے اگلی کلاس میں بھیج دیا گیا۔

ہمارے محلّہ میں ایک لڑکا رفیق رہتا تھا جس کے اپنی پڑوسن اور میٹرک کی طلبہ جمیلہ سے تعلقات تھے۔ دونوں کے والدین نے انہیں باز رکھنے کی بے حد کوشش کی مگر بے سود، دونوں نے اپنی ڈگر سے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ رفیق کا والد راج گیری کا کام کرتا تھا، وہ اسے اپنے ساتھ کوئٹہ لے گیا جبکہ جمیلہ کے گھر والوں نے اس کی شادی کر دی۔ فریقین کا خیال تھا کہ دوری دونوں کے سروں سے عشق کا بھوت اتار دے گی۔ مگر مرض دوا کرنے کے ساتھ بڑھتا گیا اور رفیق باپ کو جُل دے کر کوئٹہ سے چنیوٹ آ گیا اور ایک آٹو ورکشاپ میں کام سیکھنا شروع کر دیا۔ اس دوران رفیق اور جمیلہ کی ملاقاتیں پھر سے ہری ہو گئیں۔ چنانچہ جمیلہ نے طلاق اور رفیق نے اپنے استاد کی مدد سے نکاح کر ڈالا۔

ربوہٰ کے ایک حکیم صاحب کے پڑوس میں ملتان کا ایک لڑکا شاکر اپنی ماں کے ہمراہ قیام پذیر ہوا۔ حکیم صاحب نے اپنی تربیت کے مطابق اس سے ملاقات کی اور پوچھا کہ ”بیٹے آپ احمدی ہیں؟“ جواب ملا ”نہیں“ حکیم صاحب نے فوراً اسے تبلیغ کرنے کا فیصلہ کیا اور ” مرزا غلام احمد“ کی نبوت اور ان کے خلفاء کے بارے میں جملہ کہانیاں سنا ڈالیں۔ شاکر اگرچہ مذہبی ذہنیت رکھنے والا مسلمان نہیں تھا، تاہم اسے مرزائیت سے بھی کوئی رغبت نہیں تھی۔ حکیم صاحب نے اسے ”مسجد“ اور دیگر اجلاسوں میں آنے کی بہت پیشکش کی مگر وہ ہر بار طرح دے جاتا۔ ایک دن حکیم صاحب نے اسے گھر بلایا اور ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔ ابھی تبلیغ کا باب دوبارہ شروع ہوا ہی تھا کہ حکیم صاحب کی بیٹی چائے لے کر ڈرائنگ روم میں آئی۔ بس پھر کیا تھا شاکر لڑکی دیکھتے ہی دم بخود ہو گیا۔ ” اتنی حسین لڑکی شاید میں نے پہلے کبھی دیکھی ہی نہیں“ خود کلامی کے انداز میں وہ بڑبڑایا۔ حکیم صاحب نے جب یہ صورت حال دیکھی تو کہنے لگے ”بیٹے! یہ میری بیٹی طاہرہ ہے، اس سال فرسٹ ایئر میں داخل ہوئی ہے۔“ شاکر طاہرہ کے حسن قیامت خیز میں اس قدر کھویا کہ اس نے حکیم صاحب کی شبینہ روز تبلیغ کو گوارا کرنے کا فیصلہ کر لیا اور کہا ” حکیم صاحب! مجھے آپ کی باتیں بہت اچھی لگی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ تمام باتیں مجھے رفتہ رفتہ بتائیں اور سمجھائیں۔“ حکیم صاحب تیار ہو گئے۔ یوں اس نے ایک مقررہ وقت پر ان کے گھر جانے کا معمول بنا لیا۔ حکیم صاحب ایک نیا احمدی جماعت میں لانے میں مگن تھے جبکہ شاکر ترچھی نگاہوں سے طاہرہ کو تسخیر کرنے میں مصروف تھا۔ حکیم صاحب کی مسلسل کوشش کے باوجود شاکر مرزائی تو نہ ہو سکا، مگر طاہرہ اس کے دام محبت آگئی۔ شاکر طاہرہ سے تعلق برقرار رکھنے اور حکیم صاحب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ”نیم مرزائی“ ہو گیا۔ ان دونوں کی دوستی اور محبت کا حکیم صاحب کو علم تھا مگر وہ شاکر کو مکمل مرزائی ہونے تک سب کچھ گوارا کرنے پر تیار تھے جبکہ شاکر انہیں ٹالنے کے نت نئے بہانے بنا لیتا۔ کبھی کہتا تعلیم مکمل کر لو، پھر مرزا ناصر کی بیعت کر لوں گا۔ فوری طور پر بیعت کرنے پر مجھے گھر والے عاق کر دیں گے۔ حکیم صاحب ان دلیلوں کو مانتے رہے اور اپنے گھر آنے جانے سے نہ روکا۔ اس دوران وہ اپنا مقصود بھی حاصل کرتا رہا۔ یوں اس نے پہلے ایف ۔اے پھر بی۔ اے کر لیا اور مرزائیت پر لعنت بھیجتا ہوا واپس ملتان چلا گیا جبکہ حکیم صاحب اور طاہرہ ہاتھ ملتے رہ گئے

Saturday, 25 November 2017

قادیانیت کا مکروہ چہرہ قسط نمبر 3

قادیانیت کا مکروہ چہرہ  نمبر 3

تحریر.     حمزہ اعوان..

طلاق
 ربوہٰ (چناب نگر) میں جس قدر عام تھی اس کی مثال کسی اور معاشرے میں بہت ہی کم ملتی ہے۔ یہاں مرد اور عورتیں دونوں طلاق کو مرضی کے مطابق استعمال کر لیتے ہیں۔ ہمارے سکول کے ایک ٹیچر اسماعیل صاحب کے فلاسفی کے پروفیسر بیٹے مبارک احمد کی شادی ہوئی تو سُہاگ رات کو ہی لڑکی نے لڑکے کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا اور اگلے ہی روز دونوں میں طلاق ہو گئی اور اسی ہفتے دونوں کی نئی شادیاں کر دی گئیں۔ طلاق کے بعد خواتین میں عدت گزارنے کا بھی کوئی تصور نہیں تھا۔

ایک مرتبہ ایک شخص نے اپنی منکوحہ افتخار بیگم کو مخص اس بناء پر طلاق دے دی کہ اس کو کسی اور لڑکی سے محبت تھی جبکہ اس کا باپ اس لڑکی کو صرف اپنے اغراض و مقاصد کے لیے ”بہو“ بنا کر لانا چاہتا تھا۔ اس شخص نے اپنی منکوحہ کو طلاق کے ساتھ تحریر کیے جانے والے خط میں لکھا ” ہمارے معاشرے میں سسر کا بہو کے ساتھ تعلقات استوار کر لینا معمول کی کاروائی ہے۔ لہٰذا میں آپ کو اپنے باپ کے چنگل سے بچانے کے لیے طلاق دے رہا ہوں۔“ یہ واقعہ محلّہ دار الرحمت شرقی کی ایک مکین لڑکی سے پیش آیا۔

طلاق اور خلع کے معاملات کو حل کرنے والی ربوہٰ کی متعلقہ انتظامیہ کا خاصہ ہی کہ وہ ایک ہی نشست میں طلاق کا فیصلہ کر دیتی اور کھڑے پاؤں لڑکی اور لڑکے کے لیے نئے رشتے تجویز کر دیتی جنہیں فریقین اکثر قبول کر لیتے۔ یہ وجہ ہے کہ طلاق کے مضر اثرات کو محسوس کیا جاتا اور نہ ہی اس سے بچاؤ کے لیے عملی اقدام کیے جاتے تھے۔

اکثر مرزائی عورتیں شوقیہ طلاق بھی لے لیتی تھیں۔ ایسی کئی مثالیں دیکھی گھی ہیں۔ ایک شخص عبدالوسع کی بہن نے جب کسی ٹھوس وجوہ کے بغیر طلاق لے لی تو ہمارے ایک کلاس فیلو محمود نے اس بارے میں بتایا کہ مذکورہ خاتون ازدواجی بندھن کی قائل نہیں تھی۔ اس نے گھر والوں کے مجبور کرنے پر شادی کی اور ایک ”بچہ“ حاصل کرنے بعد شوہر اور سسرال سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔ محمود کے مطابق ربوہٰ سے وابستہ اکثر تعلیم یافتہ خواتین میں یہی رجحان پایا جاتا ہے۔ وہ صرف بچہ حاصل کرنا چاہتی ہیں تاکہ معاشرے میں ان سے ”تنہا عورت“ کا لیبل اتر جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ کسی بھی عام شخص سے شادی کر لیتی ہیں اور مقصد حاصل ہوتے ہی کسی بھی بات کو جواز بنا کر نجات حاصل کر لیتی ہیں۔

ربوہٰ میں طلاقوں کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے جس پر مرزائی بےزار افراد کی اکثریت پوری طرح متفق ہے۔ ان لوگوں کے مطابق مرزائی امت کے مرد حضرات اپنے پیشوا اور اس کی آل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ”سدومیت“ کے اس قدر رسیا ہیں کہ وہ بیویوں کو بھی تختہ مشق بننے پر مجبور کرتے ہیں۔ بعض خواتین اپنی مجبوریوں کے باعث سر تسلیم خم کر لیتی ہیں جب کہ اکثریت اس پر طلاق کو ترجیع دیتی ہیں ہمارے محلّہ میں ایک خاتون بشریٰ نے مخص اسی وجہ سے طلاق لے لی کہ وہ شوہر کی خواہشات پوری کرنے سے قاصر تھی۔

ہمارے سکول کے ایک استاد کی شادی بھی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون سے ہوئی جو پائے کی ریاضی دان تھی۔ اس نے موصوف استاد سے شادی کے کچھ عرصہ بعد طلاق لے لی۔ اس کے بارے میں یہی سننے میں آیا کہ خاتون اپنے شوہر نامدار کی جنسی خواہشات کو پورا نہیں کر سکتی تھی، جو وہ اس کے ساتھ اپنی امت کی مسلمہ روایت کے طور پر ادا کرنا چاہتا تھا۔

قادیانیت کا مکروہ چہرہ قسط نمبر 5

قادیانیت کا مکروہ چہرہ.  نمبر 5

حمزہ اعوان کی تحریر سے اقتباس

ربوہٰ(چناب نگر)  کے دکانداروں کا ناپ تول اس قدر بددیانتی پر مبنی تھا کہ خود اہل ربوہٰ اپنے ہم مذہبوں پر اعتبار نہیں کیا کرتے تھے۔ وہ سودا سلف لینے کے لیے چنیوٹ یا لالیاں جانے کو ترجیع دیتے تھے یا چمن عباس کے نذیر چنگڑ سے اشیاء ضرورت خریدا کرتے تھے۔ شریف بٹ اور حفیظ سبزی فروش کے ساتھ اکثر لوگوں کا مول تول پر جھگڑا ہوا کرتا تھا اور تو اور یہ لوگ اپنی گندم پسوانے کے لیے ربوہٰ(چناب نگر ) کی چکی پر جانے کے بجائے چمن عباس کے مسلمان چکی والے کے پاس جایا کرتے تھے۔ ان تمام حقائق سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کا گیا گزرا معاشرتی اور سماجی طور طریق مرزائیوں سے ہزار گُنا زیادہ اچھا ہے کہ یہ لوگ خود حقیقی زندگی میں مسلمانوں پر انحصار کیا کرتے تھے۔

اس شہر کے باسیوں میں گالیاں دینے کا عام رواج تھا۔ وہ لوگ کشتی نوح میں مرزا غلام قادیانی کی مسلمانوں کو دی گئی گالیوں پر بڑے نازاں تھے اور ان کی تقلید میں گالی دینا اپنا کمال سمجھتے تھے۔ ربوہٰ(چناب نگر ) کا ایک ڈپو ہولڈر عبدالرحیم چیمہ مغلظات کا اس قدر ”ماسٹر“ تھا کہ اپنے ڈپو پر آنے والے گاہکوں کو بھی رگڑا لگا دیتا تھا۔ ایک بار کسی گاہک کو رحیم چیمہ گالی دے بیٹھا جس پر بات بڑھتی بڑھتی لمبی لڑائی کی شکل اختیار کر گئی۔ معاملہ امور عامہ سے ہوتا ہوا مرزا ناصر احمد کے پاس چلا گیا۔ مرزا ناصر نے رحیم چیمہ کو طلب کر کے کہا ” چیمہ صاحب! آپ کی شکایت آئی ہے کہ آپ اپنے ڈپو پر آنے والے گاہکوں کو گالیاں دیتے ہیں۔“

اس پر رحیم چیمہ نے کہا ” جناب کہڑا پہن۔۔۔ کہندا اے۔“

یہ سن کر مرزا ناصر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ کہتے بھی کیا، ان کی اپنی تعلیم بول رہی تھی

قادیانیت کا مکروہ چہرہ نمبر 6

قادیانیت کا مکروہ چہرہ.  نمبر 6

حمزہ اعوان کی تحریر سے اقتباس. ...

مرزا ناصر کے بھائی مرزا رفیق نے چنیوٹ کے ایک سابق ہیڈ ماسٹر جلیل شاہ کی بیٹی کو کسی طرح شیشے میں اتارا اور اس کے والدین کی رضا مندی کے بغیر شادی کر لی۔ بعد ازاں جلیل شاہ کو دلفریب مالی آسودگی کی پیشکش کی گئی جس پر موصوف نے مذہب اور عزت کو عیش و عشرت پر وار دیا اور اپنے پورے خاندان کے ساتھ ربوہٰ(چناب نگر )  آ گیا اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد ربوہ(چناب نگر )ٰ میں ٹیوشن سنٹر کھول لیا۔ وہ بزعم و اموا تعلیمی بورڈ کے ہم مذہب و ہم مشرب ارباب حل و عقد سے انگریزی کے گیس(Guess)حاصل کر کے طلباء کو منتخب سوالات کروا اور بتا دیتا۔ امتحان میں وہی سوالات آ جاتے جس سے طلباء امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کر لیتے۔ اس طریق کار سے جلیل شاہ کے گھر ٹیوشن پڑھنے والوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی مگر سیاہ فام جلیل شاہ کا خاصا تھا کہ وہ لڑکوں کے بجائے لڑکیوں کو ٹیوشن پڑھانے کو ترجیح دیا کرتا تھا۔ سارے دن میں لڑکیوں کی کئی کلاسیں لیتا جبکہ لڑکوں کی صرف ایک کلاس ہوا کرتی تھی۔

ربوہ(چناب نگر )ٰ کی ایک خاتون ٹیچر ایک سرکاری افسر کے دامِ محبت میں آ گئی، موصوف پہلے ہی شادی شدہ اور ایک بیٹے کا باپ تھا۔ اس ٹیچر کو اس نے دوسری شادی کی پیشکش کی تو اس نے شرط رکھ دی کہ پہلی کو طلاق دو پھر شادی کروں گی۔ کافی ردوکد کے بعد یہ شادی تو ہو گئی لیکن سرکاری افسر نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی اور بیٹے کو ننھیال کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ طلاق دلوا کر شادی رچانے کا رواج بھی ربوہ(چناب نگر )ٰ کی عورتوں میں عام تھا۔ جبکہ اکثر مرد بھی دوسروں کی بیویوں کو شیشے میں اتار کر طلاق پر راغب کر لیتے اور بعد میں شادی رچا لیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اوپر تحریر کیا گیا، ربوہٰ میں طلاق کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ چنانچہ اسی کا اعجاز تھا کہ عائلی زندگی عدم استحکام کا شکار رہتی تھی۔

Friday, 24 November 2017

Qadyani products قادیانی مصنوعات


سلور سپون مسلمانوں کی ہیں ، Silver sapoon all branches are of Muslim

Qadyani aur aam kafir قادیانی اور عام کافر میں فرق

✍🏻 قادیانی اور دیگر کافروں میں فرق 🌀

جب بھی قادیانیوں کے بائیکاٹ کی بات کی جاتی ہے تو سادہ لوح مسلمان یہ سوال کرتے ہیں کہ ہمیں تسلیم ہے کہ قادیانی کافر ہیں مگر کافر تو اور بھی بہت ہیں جیسے عیسائی،یہودی وغیرہ تو کیاوجہ ہے کہ قادیانیوں کے خلاف منظّم جماعتیں کام کرتی ہیں اور قادیانیوں کے بائیکاٹ کی بھرپور دعوت دی جاتی..... جبکہ دیگر کفار کے خلاف ایسا منظّم کام نہیں اسکا جواب یہ ہے کہ قادیانی کافر اور دیگر کافر کے درمیان فرق ہے.... کیونکہ کافروں کی بنیادی طور پر تین قسمیں ہیں....

1- مطلق کافر
2- مرتد کافر
3- ذندیق کافر

 ⭐ مطلق کافر اس کافر کوکہاجاتاہے جو اپنی نسبت اپنے مذھب کی طرف کرتاہو اور مسلمانوں کی نسبت اسلام کی طرف جیسے عیسائی خوس کو عیسائی اور یہودی خود کو یہودی کہتاہے جبکہ ہماری نسبت اسلام کی طرف کرتے ہوئے ہمیں مسلمان کہتاہے.....

⭐ مرتد کافر اس کافر کو کہتے ہیں جو پہلے مسلمان ہو اور پھر اسلام چھوڑکرکسی اور مذھب کو قبول کرلے اور اپنی نسبت اسی نئے مذھب کی طرف کرنے لگے جیسے خدانخواستہ کوئی مسلمان عیسائی ہو اور خود کو عیسائی کہنے لگے......

⭐ ذندیق اس کافرکو کہتے ہیں جو ہوتو پکا کافر لیکن خود کو مسلمان کہے اور مسلمانوں کو کافر کہے.... شریعت اسلامیہ میں مطلق کافر سے معاملات کرنا جائز و مباح ہےلیکن مرتد اور ذندیق کافر سے طرح کامعاملہ اور تعلق رکھنا حرام اور ناجائز ہے...
یادرکھیے! قادیانی عام کافر نہیں بلکہ ذندیق کافر ہیں کیونکہ اپنے کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر جبکہ خود کو مسلمان اور مسلمان کو کافر سمجھتے ہیں.... اسی وجہ سے ملت اسلامیہ کے تمام مسالک کے (دیوبندی، بریلوی، اھل حدیث) مفتیان کرام نے یہ فتوی دیاہےکہ:

🔅فتوی🔅
قادیانی ذندیق، کافر اور ملحد ہیں اسلیے مرزائیوں کے ساتھ معاشی ومعاشرتی تعلقات مثل خوشی غمی میں شرکت، سلام و کلام ناطہ، اٹھنا بیٹھنا، کاروبار، ملازمت انکی مصنوعات کی خرید و فروخت سب حرام ہے ان سے تعلق رکھنے والا شخص گمراہ، ظالم اور مستحق عذاب جہنم ہےاور جو شخص مرزائیوں کو مسلمان سمجھے  یا ان مسلمانوں سے اچھا کہے وہ خود مرزائیوں سے بدترین کافر ہے....
نوٹ: مرزائیوں کے بائیکاٹ کے متعلق مذکورہ فتوی پر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے عصر حاضر کے تقریباً 1400 جید علماء کرام سے تائید لی جاچکی ہےجنہوں نے اس فتوی سے مکمل اتفاق کیاہے.

فتنہ شکیل حنیف Fitna Shakeel hanif

*امام مہدی کا ظہور اور موجودہ دور کا فتنہ(شكيل بن حنيف)*
*خطاب : حافظ عبدالحسیب عمرى  مدنی حفظہ اللہ*
*اختصار: کاشف شکیل*

 *تمهيد* : مہدی کے سلسلے میں تین نظریے پائے جاتے ہیں:
 *پہلا نظریہ* :  سرے سے امام مہدی کے انکار کا ہے
اس کی وجوہات مع مختصر جواب درج ذیل ہیں
1- سنن ابن ماجہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے "لا مهدي إلا عيسى" یعنی مہدی عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں
جواب: یہ حدیث ضعیف، منکر بلکہ موضوع ہے
2- مہدی کے سلسلے میں جتنی بھی روایتیں ہیں سبھی ضعیف ہیں
جواب: اس سلسلے میں کئی صحیح اور حسن روایتیں ہیں جو ہمیں ضعیف سے مستغنی کر دیتی ہیں
3- مہدی منتظر کا عقیدہ شیعوں کا ہے
جواب: یہ تو سچ ہے کہ شیعہ اپنے بارہویں امام کو مہدی منتظر مانتے ہیں حالانکہ ان کایہ عقیدہ بالکل جھوٹ ہے مگر شیعوں کے اس عقیدے کی بنا پر اسلامی شریعت میں ذکر مہدی منتظر کا انکار کہاں کی دانشمندی ہے ؟
4- مہدی منتظر کے عقیدے کا استعمال کئی لوگوں نے امت کو دھوکا دینے اور ان پر حکومت کرنے کے لئے کیا ہے
جواب: ان جھوٹے دعوے داروں کو دیکھ کر صحیح حدیثوں میں وارد مہدی منتظر کا انکار کرنا سراسر غلطی ہے

 *دوسرا نظریہ*:  غلو کا ہے ۔۔ دعوائے مہدیت۔۔
 نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک بیسیوں لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور اس مسئلہ میں افراط کے شکار دین پسند جاہل مسلمان ان کے متبع بھی بن گئے، اور انھوں نے اس کو کفر و اسلام کا مسئلہ بنا دیا

 *تیسرا نظریہ* وہ ہے جو صحیح احادیث کی روشنی میں علمائے کرام نے ذکر کیا ہے : 
اب  لوگوں کے ذمہ داری ہے کہ پہلے احادیث نبویہ میں وارد مہدی کے اوصاف کا علم حاصل کریں اور جب تک تمام اوصاف کسی شخص پر کلی طور پر منطبق نہ ہوں کسی بھی شخص کے دعوائے  مہدیت کو تسلیم نہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔

یہ بات قابل غور ہے کہ علماء چونکہ انبیاء کے وارثین ہیں لہذا سچے مہدی کو ماننے والے بھی سب سے پہلے علماء ہوں گے نہ کہ جاہل عوام.
یہ بات یقینی ہے کہ مہدی کا ظہور قیامت سے قبل ضرور ہوگا
احادیث میں مہدی کے اوصاف: 
1-امام مہدی اہل بیت میں سے ہونگے
2- سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہوں گے
3- ان کا نام محمد اور ان کے والد کا نام عبداللہ ہوگا
4- ان کی پیشانی کشادہ، رنگ کھُلا اور ناک ستواں ہوگی
5- (بعض روایتوں کے مطابق مہدی مدینہ سے آئیں گے، مکہ میں مہدیت کا دعویٰ کریں گے) مکہ میں بیعت ہوگی اور اس کے بعد وہ ملک شام چلے جائیں گے
6- ایک حکمران کا انتقال ہو گا اس کے بعد تین لوگ آپس میں حکومت، امامت، خلافت یا کعبۃ اللہ کے پاس کے کسی خزانے کے حصول کے لیے لڑیں گے، تینوں  میں سے کسی کو کامیابی نہیں ملے گی، اسی لڑائی کے درمیان مہدی کا ظہور ہوگا
7- مہدی عرب پر حکمران ہونگے
 8- جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کی جامع مسجد کے منارے پر ہوگا تو اس وقت امام مہدی عصر (یا فجر) کی امامت کریں گے اور ان کی اقتدا میں عیسیٰ علیہ السلام نماز ادا کریں گے
9- مہدی سات یا آٹھ سال تک حکومت کریں گے
10- عیسی علیہ السلام کے ساتھ رہ کر دجال سے لڑیں گے
11-  ان کے دور حکومت میں بکثرت بارش ہوگی
12- مہدی لوگوں کو خوب مال دیں گے
13- مہدی کےظہور سے قبل ہر طرف ظلم ھوگا اللہ مہدی کے ذریعہ زمین میں عدل و انصاف قائم کرے گا
14- بعض احادیث کی روشنی مین علماء نے یہ لکھا ہے کہ مہدیت کے دعویٰ کے دس سال کے اندر امام مہدی کا انتقال ہو جائیگا

مذکورہ بالا تمام صفات جب تک کسی کے اندر اکٹھا نہ ہوں وہ شخص مہدی نہیں ہو سکتا۔ 

مہدی کو تشریعی اختیارات ہرگز نہیں ملیں گے وہ کتاب و سنت کے پابند ہوں گے۔

 *شکیل بن حنیف  پر ایک نظر :*
 جدید دور میں مہدیت کا دعویٰ کرنے والے کسی کے اندر مذکورہ صفات نہیں پائی جاتیں، خصوصاً شکیل بن حنیف میں کوئی ایک وصف بھی نہیں پایا جاتا۔
شکیل بن حنیف دربھنگہ بہار کا رہنے والا ہے، 2002ء میں اس نے مہدیت کا دعویٰ کیا اور فی الحال زیر زمین چھُپ کر اپنے باطل عقائد کی اشاعت میں مصروفِ عمل ہے۔
>اس کا نام شکیل ہے جبکہ امام مہدی کا نام محمد ہوگا
 >اس کے والد کانام حنیف ہے جب کہ امام مہدی کے والد کا نام عبداللہ ہوگا
>امام مہدی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہونگے جب کی شکیل بن حنیف ہندوستانی نسب رکھتا ہے
 >امام مہدی عرب میں اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ کریں گے جب کی یہ شخص یہاں کے تنگ غاروں، خفیہ بستیوں اور اورنگ آباد کے قریب رحمت نگر میں بیٹھ کر مہدیت کا دعویٰ کر رہا ہے
>مہدی حکمران ہونگے جبکہ شکیل بن حنیف کو آج تک حکومت نہیں ملی
 >مہدی سات آٹھ برس تک حکومت کریں گے اور دعوی مہدیت کے دس سال کے اندر ان کا انتقال ہوجائے گا جبکہ شکیل بن حنیف نے 2002 میں دعویٰ کیا ہے، پندرہ سال کا عرصہ گزر چکاہے اب تک شکیل کو موت نہ آئی ۔۔۔
 > مہدی کے دور میں بکثرت بارش ہوگی امت میں خوشحالی ہو گی جبکہ فی الحال امت بد حال ہے، کتنی جگہوں پر قحط پڑا ۔۔۔۔۔۔خود اس کے مرکز اورنگ آباد کے قریب کے علاقے خشک سالی کا ایسا شکار ہوئے کہ سیکڑوں کی تعداد میں کسانوں نے خودکشی کی
> مہدی کے دور میں ظلم و ستم کا بالکل خاتمہ ہو جائے گا جبکہ فی الحال مسلمان ہر جگہ ظلم و ستم کا شکار ہیں۔
آپ ذیل کی لنک سے تفصیلی خطاب سماعت کرسکتے ہیں

جزاکم اللہ خیر

قادیانیت کا مکروہ چہرہ 6

قادیانیت کا مکروہ چہرہ.  نمبر 6

حمزہ اعوان کی تحریر سے اقتباس. ...

مرزا ناصر کے بھائی مرزا رفیق نے چنیوٹ کے ایک سابق ہیڈ ماسٹر جلیل شاہ کی بیٹی کو کسی طرح شیشے میں اتارا اور اس کے والدین کی رضا مندی کے بغیر شادی کر لی۔ بعد ازاں جلیل شاہ کو دلفریب مالی آسودگی کی پیشکش کی گئی جس پر موصوف نے مذہب اور عزت کو عیش و عشرت پر وار دیا اور اپنے پورے خاندان کے ساتھ ربوہٰ(چناب نگر )  آ گیا اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد ربوہ(چناب نگر )ٰ میں ٹیوشن سنٹر کھول لیا۔ وہ بزعم و اموا تعلیمی بورڈ کے ہم مذہب و ہم مشرب ارباب حل و عقد سے انگریزی کے گیس(Guess)حاصل کر کے طلباء کو منتخب سوالات کروا اور بتا دیتا۔ امتحان میں وہی سوالات آ جاتے جس سے طلباء امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کر لیتے۔ اس طریق کار سے جلیل شاہ کے گھر ٹیوشن پڑھنے والوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی مگر سیاہ فام جلیل شاہ کا خاصا تھا کہ وہ لڑکوں کے بجائے لڑکیوں کو ٹیوشن پڑھانے کو ترجیح دیا کرتا تھا۔ سارے دن میں لڑکیوں کی کئی کلاسیں لیتا جبکہ لڑکوں کی صرف ایک کلاس ہوا کرتی تھی۔

ربوہ(چناب نگر )ٰ کی ایک خاتون ٹیچر ایک سرکاری افسر کے دامِ محبت میں آ گئی، موصوف پہلے ہی شادی شدہ اور ایک بیٹے کا باپ تھا۔ اس ٹیچر کو اس نے دوسری شادی کی پیشکش کی تو اس نے شرط رکھ دی کہ پہلی کو طلاق دو پھر شادی کروں گی۔ کافی ردوکد کے بعد یہ شادی تو ہو گئی لیکن سرکاری افسر نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی اور بیٹے کو ننھیال کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ طلاق دلوا کر شادی رچانے کا رواج بھی ربوہ(چناب نگر )ٰ کی عورتوں میں عام تھا۔ جبکہ اکثر مرد بھی دوسروں کی بیویوں کو شیشے میں اتار کر طلاق پر راغب کر لیتے اور بعد میں شادی رچا لیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اوپر تحریر کیا گیا، ربوہٰ میں طلاق کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ چنانچہ اسی کا اعجاز تھا کہ عائلی زندگی عدم استحکام کا شکار رہتی تھی۔

قادیانیت کا مکروہ چہرہ. نمبر 5

قادیانیت کا مکروہ چہرہ.  نمبر 5

حمزہ اعوان کی تحریر سے اقتباس

ربوہٰ(چناب نگر)  کے دکانداروں کا ناپ تول اس قدر بددیانتی پر مبنی تھا کہ خود اہل ربوہٰ اپنے ہم مذہبوں پر اعتبار نہیں کیا کرتے تھے۔ وہ سودا سلف لینے کے لیے چنیوٹ یا لالیاں جانے کو ترجیع دیتے تھے یا چمن عباس کے نذیر چنگڑ سے اشیاء ضرورت خریدا کرتے تھے۔ شریف بٹ اور حفیظ سبزی فروش کے ساتھ اکثر لوگوں کا مول تول پر جھگڑا ہوا کرتا تھا اور تو اور یہ لوگ اپنی گندم پسوانے کے لیے ربوہٰ(چناب نگر ) کی چکی پر جانے کے بجائے چمن عباس کے مسلمان چکی والے کے پاس جایا کرتے تھے۔ ان تمام حقائق سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کا گیا گزرا معاشرتی اور سماجی طور طریق مرزائیوں سے ہزار گُنا زیادہ اچھا ہے کہ یہ لوگ خود حقیقی زندگی میں مسلمانوں پر انحصار کیا کرتے تھے۔

اس شہر کے باسیوں میں گالیاں دینے کا عام رواج تھا۔ وہ لوگ کشتی نوح میں مرزا غلام قادیانی کی مسلمانوں کو دی گئی گالیوں پر بڑے نازاں تھے اور ان کی تقلید میں گالی دینا اپنا کمال سمجھتے تھے۔ ربوہٰ(چناب نگر ) کا ایک ڈپو ہولڈر عبدالرحیم چیمہ مغلظات کا اس قدر ”ماسٹر“ تھا کہ اپنے ڈپو پر آنے والے گاہکوں کو بھی رگڑا لگا دیتا تھا۔ ایک بار کسی گاہک کو رحیم چیمہ گالی دے بیٹھا جس پر بات بڑھتی بڑھتی لمبی لڑائی کی شکل اختیار کر گئی۔ معاملہ امور عامہ سے ہوتا ہوا مرزا ناصر احمد کے پاس چلا گیا۔ مرزا ناصر نے رحیم چیمہ کو طلب کر کے کہا ” چیمہ صاحب! آپ کی شکایت آئی ہے کہ آپ اپنے ڈپو پر آنے والے گاہکوں کو گالیاں دیتے ہیں۔“

اس پر رحیم چیمہ نے کہا ” جناب کہڑا پہن۔۔۔ کہندا اے۔“

یہ سن کر مرزا ناصر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ کہتے بھی کیا، ان کی اپنی تعلیم بول رہی تھی

قادیانیت کا مکروہ چہرہ 3

قادیانیت کا مکروہ چہرہ  نمبر 3

تحریر.     حمزہ اعوان..

طلاق
 ربوہٰ (چناب نگر) میں جس قدر عام تھی اس کی مثال کسی اور معاشرے میں بہت ہی کم ملتی ہے۔ یہاں مرد اور عورتیں دونوں طلاق کو مرضی کے مطابق استعمال کر لیتے ہیں۔ ہمارے سکول کے ایک ٹیچر اسماعیل صاحب کے فلاسفی کے پروفیسر بیٹے مبارک احمد کی شادی ہوئی تو سُہاگ رات کو ہی لڑکی نے لڑکے کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا اور اگلے ہی روز دونوں میں طلاق ہو گئی اور اسی ہفتے دونوں کی نئی شادیاں کر دی گئیں۔ طلاق کے بعد خواتین میں عدت گزارنے کا بھی کوئی تصور نہیں تھا۔

ایک مرتبہ ایک شخص نے اپنی منکوحہ افتخار بیگم کو مخص اس بناء پر طلاق دے دی کہ اس کو کسی اور لڑکی سے محبت تھی جبکہ اس کا باپ اس لڑکی کو صرف اپنے اغراض و مقاصد کے لیے ”بہو“ بنا کر لانا چاہتا تھا۔ اس شخص نے اپنی منکوحہ کو طلاق کے ساتھ تحریر کیے جانے والے خط میں لکھا ” ہمارے معاشرے میں سسر کا بہو کے ساتھ تعلقات استوار کر لینا معمول کی کاروائی ہے۔ لہٰذا میں آپ کو اپنے باپ کے چنگل سے بچانے کے لیے طلاق دے رہا ہوں۔“ یہ واقعہ محلّہ دار الرحمت شرقی کی ایک مکین لڑکی سے پیش آیا۔

طلاق اور خلع کے معاملات کو حل کرنے والی ربوہٰ کی متعلقہ انتظامیہ کا خاصہ ہی کہ وہ ایک ہی نشست میں طلاق کا فیصلہ کر دیتی اور کھڑے پاؤں لڑکی اور لڑکے کے لیے نئے رشتے تجویز کر دیتی جنہیں فریقین اکثر قبول کر لیتے۔ یہ وجہ ہے کہ طلاق کے مضر اثرات کو محسوس کیا جاتا اور نہ ہی اس سے بچاؤ کے لیے عملی اقدام کیے جاتے تھے۔

اکثر مرزائی عورتیں شوقیہ طلاق بھی لے لیتی تھیں۔ ایسی کئی مثالیں دیکھی گھی ہیں۔ ایک شخص عبدالوسع کی بہن نے جب کسی ٹھوس وجوہ کے بغیر طلاق لے لی تو ہمارے ایک کلاس فیلو محمود نے اس بارے میں بتایا کہ مذکورہ خاتون ازدواجی بندھن کی قائل نہیں تھی۔ اس نے گھر والوں کے مجبور کرنے پر شادی کی اور ایک ”بچہ“ حاصل کرنے بعد شوہر اور سسرال سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔ محمود کے مطابق ربوہٰ سے وابستہ اکثر تعلیم یافتہ خواتین میں یہی رجحان پایا جاتا ہے۔ وہ صرف بچہ حاصل کرنا چاہتی ہیں تاکہ معاشرے میں ان سے ”تنہا عورت“ کا لیبل اتر جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ کسی بھی عام شخص سے شادی کر لیتی ہیں اور مقصد حاصل ہوتے ہی کسی بھی بات کو جواز بنا کر نجات حاصل کر لیتی ہیں۔

ربوہٰ میں طلاقوں کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے جس پر مرزائی بےزار افراد کی اکثریت پوری طرح متفق ہے۔ ان لوگوں کے مطابق مرزائی امت کے مرد حضرات اپنے پیشوا اور اس کی آل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ”سدومیت“ کے اس قدر رسیا ہیں کہ وہ بیویوں کو بھی تختہ مشق بننے پر مجبور کرتے ہیں۔ بعض خواتین اپنی مجبوریوں کے باعث سر تسلیم خم کر لیتی ہیں جب کہ اکثریت اس پر طلاق کو ترجیع دیتی ہیں ہمارے محلّہ میں ایک خاتون بشریٰ نے مخص اسی وجہ سے طلاق لے لی کہ وہ شوہر کی خواہشات پوری کرنے سے قاصر تھی۔

ہمارے سکول کے ایک استاد کی شادی بھی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون سے ہوئی جو پائے کی ریاضی دان تھی۔ اس نے موصوف استاد سے شادی کے کچھ عرصہ بعد طلاق لے لی۔ اس کے بارے میں یہی سننے میں آیا کہ خاتون اپنے شوہر نامدار کی جنسی خواہشات کو پورا نہیں کر سکتی تھی، جو وہ اس کے ساتھ اپنی امت کی مسلمہ روایت کے طور پر ادا کرنا چاہتا تھا۔

مرزا قادیانی کے دعوے ، اصلیت مرزا ، Reality of Mirza Qadyani

قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی جس نے بیک وقت نعوذ باللہ نبی، رسول، مہدی اور مسیح موعود ہونے کے دعوے کئے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو  عقل کے اندھے قادیانی ’’سلطان القلم‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس دریدہ دہن نے اللہ تعالیٰ پر ایسا بیہودہ اور من گھڑت الزام لگایا جسے پڑھ کر سر شرم سے جھک جاتا، روح میں نشتر چھبتے اور دماغ مفلوج ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن قادیانی گروہ اس بیہودہ الزام کو نہ صرف دنیا کی ہر زبان میں شائع کرتا ہے بلکہ اس پر اتراتا نہیں تھکتا۔مرزا قادیانی اپنی کتاب’’کشتی نوح‘‘ میں لکھتا ہے۔ ’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخرکئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابنِ مریم ٹھہرا‘‘۔ (کشتی نوح ص47، مندرجہ روحانی خزائن جلد19صفہ 50از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی کا ایک خاص مرید قاضی یار محمد اپنی کتاب میں لکھتا ہے۔ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کیلئے اشارہ کافی ہے۔’’اسلامی قابانی ٹریکٹ نمبر34، از قاضی یار محمد ) ۔

حقیقت یہ ہے کہ شیطان نے ایک انتہائی بارعب اور وجیہ نورانی شخصیت کے روپ میں مرزا قادیانی کو ورغلا پھسلا کر پٹایا۔ شہر سدوم لے جا کر اپنی رجولیت کی طاقت کا اظہار (یعنی عمل قوم لوط)کیا اور یوں جب مرزا کے مفعولی جذبات کی تسکین ہو گئی تو مرزا قادیانی نے اسے اللہ تعالیٰ سے منسوب کر دیا۔ جب یہ کائنات تخلیق ہوئی ہے پر لے درجے کے کسی دریسہ دہن نے بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا گھٹیا اور بد ترین کفریہ الزام لگانے کی جرأت تو درکنار سوچا تک نہیں۔ یہ ذلت و رسوائی صرف مرزا قادیانی کو نصیب ہوئی جس کا نقد انعام اسے دنیا میں بیت الخلاء میں موت کی صورت میں ملا ۔ سامراج کی گندی موری کی اینٹ نے آخری سانس فضلے کے ڈھیر میں لیا۔

؎          پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا

• *قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا* • ایک پوسٹ گردش میں ھے: کہ حضرت عبدﷲ ابن مسعودؓ سے مروی ھے کہ جو بندہ قبرستان جائے اور قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ دع...