Showing posts with label فتنہ انکار حدیث محمد شیخ. Show all posts
Showing posts with label فتنہ انکار حدیث محمد شیخ. Show all posts

Wednesday, 13 December 2017

فتنہ محمد شیخ حصہ 3

شیخ محمد ۔ ایک تجزیہ
(حصہ سوئم)

تحریر : محمّد سلیم

سورہ البقرہ آیت 40, 41, 42
يَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَوْفُوْا بِعَهْدِىٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ وَاِيَّاىَ فَارْهَبُوْنِ (40)
اے بنی اسرائیل میرے احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کیے اور تم میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔
وَاٰمِنُـوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُـوْنُـوْآ اَوَّلَ كَافِـرٍ بِهٖ ۖ وَلَا تَشْتَـرُوْا بِاٰيَاتِىْ ثَمَنًا قَلِيْلًا وَّاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ (41)
اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو میں نے نازل کی، تصدیق کرتی ہے اس کی جو تمہارے پاس ہے، اور تم ہی سب سے پہلے اس کےمنکر نہ بنو، اور میری آیتو ں کو تھوڑی قیمت پر نہ بیچو اور مجھ ہی سے ڈرو۔
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْـتُمُوا الْحَقَّ وَاَنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ (42)
اور سچ میں جھوٹ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ حالانکہ تم جانتے ہو۔

شیخ صاحب نے اس آیت سے عجیب منطق نکالی ہے ۔
وہ کہتے ہیں کہ ﷲ نے اس آیت میں جن لوگوں سے خطاب کیا وہ ہر وہ شخص ہو گا جو ان آیات کو پڑھے گا ۔ حالانکہ یہاں ﷲ تعالیٰ واضح طور پر یہ فرماتے ہیں کہ ہم نے جو نازل کیا وہ اس کی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس (یعنی بنی اسرائیل کے پاس) ہے ۔
اب یہاں شیخ صاحب ایک کنفیوزڈ شخص لگتے ہیں ۔
ایک طرف کہتے ہیں کہ کتاب ہی ایک نازل ہوئی ۔
دوسری طرف کہتے ہیں کہ جو نازل ہوا وہ اس کی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس ہے ۔
پھر کہتے ہیں تمہارے پاس کیا ہے ؟
اگلا بندہ گھبرا کو کہتا ہے میرے پاس تو قران ہے ۔ لو دسو ۔ گن پوائنٹ پر تشریح منوا لی انہوں نے اپنی ۔
اب اگر تو وہ عقیدہ دیکھا جائے جو امت مسلمہ کا ہے تو وہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ اب جو قران نازل ہوا ہے وہ اس کی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے یعنی تورات ۔
مگر شیخ صاحب کی کہانی کچھ اور ہے ۔
وہ کہتے ہیں کہ جو تمہارے پاس اس وقت ہے وہ تو قران ہے ۔ بنی اسرائیل بھی تم ہو ۔ لہٰذا تم اس کے پہلے کافر نہ بنو ۔
سبحان ﷲ ۔
اب اس کہانی کو ذرا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو میں نے نازل کیا اس پر ایمان لاؤ ۔
اب آپ شیخ صاحب سے کوئی پوچھے کہ کیا نازل کیا ﷲ نے ؟
تو جواب ہو گا قران ۔ کیوں کہ اور کسی کتاب کو تو مان نہیں رہے وہ ۔
چلیں ٹھیک ہے ۔
آگے ﷲ کہہ رہے ہیں کہ یہ اس کی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے ساتھ ہے ۔
اب وہ کیا ہے ؟
شیخ صاحب کہتے ہیں وہ بھی قران ہے ۔ تمہارے ہاتھ میں اس وقت قران ہے یا نہیں ہے ؟
سبحان ﷲ ۔
یعنی جو نازل ہو رہا ہے وہ بھی قران ۔ تصدیق اس کی کر رہا ہے جو پہلے نازل ہو چکا وہ بھی قران ۔ بنی اسرائیل بھی میں ہوں اور اگر میں شیخ صاحب کی اس نرالی منطق کا انکار کر ڈالوں گا تو پہلا کافر بھی میں ۔
سبحان ﷲ ۔
اگر یہ آیت اسی طرح ہے جس طرح شیخ صاحب نے سمجھی ہے تو اس کو سمجھنے کے لیئے بندے کا نفسیاتی مریض ہونا ضروری ہے جو میں تو نہیں ہوں ۔

سورہ البقرہ آیت نمبر 211
سَلْ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ كَمْ اٰتَيْنَاهُـمْ مِّنْ اٰيَةٍ بَيِّنَةٍ ۗ وَمَنْ يُّـبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّـٰهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (211)
بنی اسرائیل سے پوچھیے کہ ہم نے انہیں کتنی روشن دلیلیں دیں، اور جو اللہ کی نعمت کو بدل دیتا ہے بعد اس کے کہ وہ اس کے پاس آچکی ہو تو بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

بنی اسرائیل سے پوچھئے ؟
اب بتائیں کون کس سے کیا پوچھے ؟
جب میں بھی بنی اسرائیل تو بھی بنی اسرائیل تو یہاں کون کس سے کیا پوچھے گا ؟

سورہ الاسراء آیت 101
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ فَاسْاَلْ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اِذْ جَآءَهُـمْ فَقَالَ لَـهٝ فِرْعَوْنُ اِنِّـىْ لَاَظُنُّكَ يَا مُوْسٰى مَسْحُوْرًا (101)
اور البتہ تحقیق ہم نے موسٰی کو نو کھلی نشانیاں دی تھیں، پھر بنی اسرائیل سے بھی پوچھ لو جب موسٰی ان کے پاس آئے تو فرعون نے اسے کہا اے موسٰی میں تو تجھے جادو کیا ہوا خیال کرتا ہوں۔

شیخ صاحب کو چاہیئے قران کی تشریح چھوڑ کر ایمپریس مارکیٹ صدر میں دیسی دوائیوں کی دکان کھول لیں کہ چرب زبانی وہاں فائدہ مند ہے ۔ یہاں تو دنیا کا بھی گھاٹا آخرت کا بھی ۔

قران کی ایسی کئی آیات ہیں جس میں ایک ہی خطاب ایک ہی قسم کے لوگوں سے دو مختلف ناموں سے ہو رہا ہے ۔
مثلاً
سورہ البقرہ آیت 113
وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ  لَیۡسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیۡءٍ ۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰی لَیۡسَتِ الۡیَہُوۡدُ عَلٰی شَیۡءٍ  ۙ  وَّ ہُمۡ یَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ
یہود کہتے ہیں کہ نصرانی کسی شے پر نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں یہود کسی شے پر نہیں حالانکہ دونوں کتاب پڑھتے ہیں ۔

اب یہ آیت پڑھیئے ۔

سورہ المائدہ آیت 68
قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَسۡتُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ حَتّٰی تُقِیۡمُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ  اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ
آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! تم دراصل کسی شے پر نہیں جب تک کہ تورات و انجیل کو اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے قائم نہ کرو ، جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے اترا ہے ۔

عقل والوں کے لیئے ان آیات میں کھلی نشانیاں ہیں ۔
یہ وہی موضوع ہے جس پر شیخ صاحب کافی دیر تک بحث کرتے رہے کہ اہل کتاب یہود و نصاری نہیں ہیں ۔ 
یہاں واضح ہو رہا ہے کہ 
یہود نصاریٰ سے کہہ رہے ہیں کہ تم کسی شے پر نہیں ہو ۔
نصاریٰ یہود سے کہہ رہے ہیں کہ تم کسی شے پر نہیں ہو ۔
حالانکہ دونوں کتاب پڑھتے ہیں ۔
پھر ﷲ تعالیٰ اپنے رسول سے فرما رہے ہیں ۔
اے رسول کہہ دیجیئے کہ اے اہل کتاب تم دونوں ہی کسی شے پر نہیں ہو ۔
جب تک تم اپنی کتابوں پر عمل نہ کرو ۔
یہاں کسی بیوقوف کو بھی سمجھ آجائے کا اہل کتاب دراصل یہود و نصاریٰ کو ملا کر کہا جا رہا ہے ۔ مگر یہ بات شیخ صاحب کو سمجھانا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔

آگے چلیں ۔

ایک معاملہ یہ بھی ہے کہ وہ وحی کا نزول ہر شخص پر سمجھتے ہیں ۔
ویڈیو کو اگر آپ 2:25:00 سے دیکھیں تو اس مقام پر وہ تقریباً رسالت و نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔
مفتی صاحب کو ایک آیت سنا کر پوچھتے ہیں کہ یہ جو آیت میں پڑھ رہا ہوں یہ آ کہاں سے رہی ہے ؟
میرے اندر سے آرہی ہے ؟
مفتی صاحب بیچارے پریشان ہو گئے کہ آہو آ تے اندروں ای رہی ہے ۔
پھر پوچھتے ہیں کہ رسول کون ہوا ؟
یہ رسول کا قول ہے ؟
یہاں سوال یہ تھا کہ آواز کہاں سے آ رہی ہے ؟
اندر سے ؟
تو جواب یہ ہونا چاہیئے تھا کہ اندر گئی کہاں سے تھی ؟
یا تو بندہ کھلے عام دعویٰ کرے کہ قران مجھ پر نازل ہوا تو اس سے نمٹ لیا جائے ۔
ساری گول مول باتیں شیخ صاحب نے کیں کہ جیسے قران انہی پر وحی ہوا معاذﷲ ۔ حالانکہ ویڈیو کے شروع میں بتاتے ہیں کہ مجھے عربی گرائمر تک نہیں آتی ۔ میں قران پڑھ پڑھ کر سیکھا ہوں ۔
ظاہر بات ہے جب آپ قران کو بار بار پڑھتے ہو تو وہ آپ کو حفظ ہو جاتی ہے ۔ پھر آپ اس کو پڑھتے ہو تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو الہام ہو گیا ؟
بہت ہی بڑا کوئی نفسیاتی مریض ہے یہ بندہ ۔
یہ معاملہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی آپ کو قران پڑھ کر سنائے اور پوچھے بتاؤ بھلا میں کیا کر رہا ہوں ۔ جب مخاطب اقرار کر لے کہ ہاں آپ ہمیں قران ہی پڑھ کر سنا رہے ہیں تو آپ کے سامنے قران کی وہ آیت رکھ دی جائے کہ رسول تمہیں قران پڑھ کر سناتا ہے ۔
اب بتاؤ میں کون ہوں ؟
پھر یہ دعویٰ کہ قران کہہ رہا ہے میں نہیں کہہ رہا ۔
بندہ لا لے چھتر تے پا لے لمیا ۔

بیت المقدس کے بارے میں بھی ان کے افکار زمانے سے منفرد ہیں ۔ وہ کہتے ہیں مسجد اقصیٰ درحقیقت مسجد ضرار ہے اور جس مسجد اقصیٰ کا ذکر سورہ الاسراء کی آیت نمبر 1 میں ہے وہ مسجد نبوی ہے ۔
لو دسو ۔
اب ان چولوں کا بندہ کیا جواب دے ۔
میں دعویٰ کرتا ہوں کہ امریکہ کے شہر میں جو ایک مجسمہ ایک ہاتھ میں مشعل اور دوسرے ہاتھ میں تختی پکڑ کر کھڑا ہے وہ اصل میں مینار پاکستان ہے اور یہ جو لاہور میں بادشاہی مسجد کے پاس میزائل نما عمارت ہے وہ دراصل اسٹیچو آف لبرٹی ہے تو اس کا کیا جواب ہے ؟
یہ معاملات قابلِ بحث نہیں ہیں مگر قابل علاج ہو سکتے ہیں اگر بروقت علاج کروایا جائے ۔
شیخ صاحب کو علاج نوے کی دہائی میں ہی ہو جانا چاہیئے تھا جب یہ نئے نئے تھے ۔ اب تو ان کا مرض پختہ ہو چکا ۔
ایک اصول ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ ہم کسی بھی زبان کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ کیوں کرتے ہیں ۔
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ اس زبان سے واقف نہیں ان کو بھی بات سمجھ میں آجائے ۔
قران کا اردو میں ترجمہ کرنا فرض نہیں ہے ۔ یہ اس لیئے کیا جاتا ہے کہ اردو بولنے والوں کو سمجھ آجائے ۔ مگر فرض کیجیئے کہ اردو میں ترجمہ ہو جانے کے بعد بھی قران سمجھ نہ آئے تو پھر ترجمہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ پھر عربی میں ہی پڑھ لے بندہ ۔ ثواب ہی ملے گا ۔
میں اس معاملے میں مودودی صاحب کا معترف ہوں کہ انہوں نے اپنے تفہیم القران کے شروع میں ہی سمجھا دیا کہ میں ترجمہ نہیں کر رہا بلکہ میں تفہیم کر رہا ہوں ۔ یعنی قران کا جو جملہ عربی میں کہا گیا وہ اگر اردو میں کہا جائے تو کسی طرح کہا جائے گا ۔ اسے کہتے ہیں فہم اور یہی ضروری ہے ۔ من و عن ترجمہ ہو اور سمجھ ہی نہ آئے تو ترجمے کی ضرورت ہی نہیں ۔
مثلاً
انگریزی میں ایک کہاوت ہے ۔
Add insult to injury.
اس کا اردو فہم یہ ہو گا کہ راجپوت کو چمار سے جوتے پڑوانا ۔ (یعنی تکلیف تو ہوئی سو ہوئی ساتھ بے عزتی بھی ہوئی)
اب یہاں شیخ صاحب جیسا بندہ اعتراض کر دے کہ جناب آپ نے ترجمہ ہی غلط کیا ہے ۔ صحیح ترجمہ ہو گا کہ زخم میں ذلت کو شامل کر دو ؟
کیا اب یہ بات سمجھ آتی ہے ؟
شیخ صاحب کی منطق یہ نہیں ہے ۔ بس ترجمہ ٹھیک کر دو ۔ سمجھ آئے یا نہ آئے ۔ جب سمجھ آنا مقصد نہیں تو اور ترجمے کا مقصد کیا ہے ؟
میں نے پچھلے دنوں اپنی ایک بات کا مذاقاً ترجمہ انگریزی میں کیا تھا کہ
میرا مذاق مت اڑاؤ ۔
Don’t fly my comedy.
اب یہ کسی انگریز کو سمجھانا ہو تو کیسے سمجھائیں گے ۔
اس قسم کے ترجمے عموماً مذاق میں کیئے جاتے ہیں ۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنے ایک تفریحی گروپ میں انگریزی پوسٹ کی تھی ۔
https://m.facebook.com/groups/1360407690745422?view=permalink&id=1515247245261465
آپ یہ پوسٹ پڑھیں ۔ اس میں میرا ترجمہ کسی بھی ڈکشنری سے بوتھ وائز ویری فائی ہو جائے گا ۔ یعنی انگلش ٹو اردو بھی اور اردو ٹو انگلش بھی ۔ مگر لوگ ہنس ہنس کر دہرے ہو گئے ۔ پتہ نہیں کیوں ۔
اس قسم کا مذاق سنجیدگی کے ساتھ صرف میراں کرتی ہیں کہ
Tablets are walking on the street.
سڑک پر گولیاں چل رہی ہیں ۔
کر لیں ویری فائی ۔
یہ بھی بوتھ وائز ویری فائی ہو جائے گا ۔
یہ شیخ صاحب میراں کے بعد دوسرے انسان ہیں جو اس قسم کا ترجمہ سنجیدگی کے ساتھ کر رہے ہیں ۔
مفتی صاحب کو کہتے ہیں امّی کا ترجمہ ماؤں والا کرو ۔ جب مفتی صاحب نے کہا کہ ترجمہ آیت کا پھر کیسے ہو گا کیا سمجھ آئے گا تو کہتے ہیں وہ مسئلہ نہیں اسے چھوڑ دیں ۔
مکالمے کے دوران سب سے زیادہ قابل رحم حالت موصوف دانش صاحب کی تھی ۔ وہ بیچارے کبھی شیخ صاحب کا منہ غور سے دیکھتے تھے تو کبھی مفتی صاحب کے کھلے ہوئے منہ میں جھانک کر حلق کا کوا دیکھنے کی کوشش میں نظر آتے تھے ۔
ان کی حالت بالکل غالب کے اس شعر کی عملی کیفیت پیش کر رہی تھی کہ
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے
آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ جو لوگ مفتی صاحب کو قصوروار سمجھتے ہیں وہ کسی پاگل خانے جا کر کسی پاگل کے ساتھ تین گھنٹے گزاریں اور اپنی کیفیت بیان کریں ۔
یقیناٰ مفتی صاحب کی مجبوری سمجھ آجائے گی ۔

فتنہ محمد شیخ حصہ دوم

شیخ محمد ۔ ایک تجزیہ
(حصہ دوئم)

تحریر : محمّد سلیم

شیخ صاحب کے مطابق امّی کا مطلب ان پڑھ نہیں ہے ۔
وہ کہتے ہیں کہ ام کا مطلب ماں اور امی کا مطلب ماں والا ۔ پھر کہتے ہیں ماں والا نبی کون ہے ؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔
لہٰذا اپنی اس منطقی دلیل سے انہوں نے امّی حضرت عیسیٰ کو قرار دے ڈالا ۔
پہلے تو شیخ صاحب کی غلط فہمی دور کر دوں کہ امّ کا مطلب بے شک ماں ہی ہوتا ہے ۔ مگر امّی کی اصطلاح عرب میں ہمیشہ ان پڑھ کے لیئے استعمال ہوتی ہے اور ایسا اس لیئے نہیں کہ اس نے اپنی ماں کے سوا کسی سے تعلیم حاصل نہیں کی ۔ جیسا کہ انہوں نے ویڈیو میں بونگی مار دی کہ ماں کے سوا کسی سے نہیں پڑھا لہٰذا امّی ۔
امّی کا مطلب جیسے ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتا ۔ بعد میں سیکھتا ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ میں ایک منٹ کے لیئے ان کی منطق مان لوں کہ ماں والا نبی کون ہے ؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ؟
وہ کیسے جناب ؟
باقی انبیاء کی مائیں نہیں تھیں کیا ؟
ایک ہی نبی آدم علیہ السلام تھے جن کی ماں نہیں تھی ۔ ان کو بھی منکرینِ حدیث میں سرے سے پیغمبر ہی نہیں مانا جاتا کہ قران میں ان کو براہ راست نبی نہیں کہا گیا ۔ ان کو نکال دیں تو کوئی نبی نہیں بچتا جو ماں والا نہ ہو ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بغیر باپ کے ایک معجزہ تھی تو وہ ماں والے نبی ہو گئے ؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ امّی کی اصطلاح عرب معاشرے میں کبھی بھی بطور ماں والا استعمال نہیں ہوئی ۔ نہ ہی اس کا ہونا منطقی ہے ۔
امّی کی اصطلاح بطور ماں والا استعمال کرنے کے لیئے ضروری ہے کہ دنیا میں بعض بچے ماں پیٹ سے پیدا ہوتے ہوں اور بعض انڈے میں سے نکلتے ہوں ۔
سب کو پتہ ہے کہ ہر بچہ ظاہر ہے ماں کے پیٹ سے ہی پیدا ہوتا ہے تو اس کے لیئے کوئی خاص اصطلاح مروج کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئے ؟ یا تو ایسا ہو کہ بعض ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہوں اور بعض انڈے میں سے نکلتے ہوں تو ہم کہیں کہ فلاں امّی ہے اور فلاں شیخ صاحب انڈے میں سے نکلے تھے ۔
جب سارے ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوں تو پھر امّی کا کیا مطلب ؟
حد کر دی ۔
بہرحال آپ نے کہا کہ میں جو ترجمہ کرتا ہوں اس کو قران میں ہر جگہ فٹ کر کے دیکھتا ہوں پھر جب وہ فٹ ہو جائے تب اس کو لیتا ہوں ۔
پڑھیں قران میں پڑھاتا ہوں ۔
سورہ البقرہ 178
وَمِنْـهُـمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتَابَ اِلَّا اَمَانِىَّ وَاِنْ هُـمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ (78)
اور بعض ان میں سے ان پڑھ ہیں جو کتاب نہیں جانتے، سوائے جھوٹی آرزوؤں کے، اور وہ محض اٹکل پچو باتیں بناتے ہیں۔

اس آیت پر فٹ کر کے دیکھا تھا اپنا ماؤں والا ترجمہ ؟
ذرا کر کے دکھائیں مجھے ۔
یہاں جمع کا صیغہ ہے ۔ یعنی امیّون ۔ ماؤں والے بہت سارے لوگ ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگر امّی تھے یعنی ماں والے نبی تو اب یہاں امیّون کون ہیں ؟
ماؤں والے بہت سارے نبی ؟ اور ﷲ کہے کہ ان کو کتاب کا علم نہیں ؟
نبیوں کو ہی کتاب کا علم نہیں تے ہور توانوں اے ؟

سورہ آل عمران آیت 20
فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِىَ لِلّـٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ۗ وَقُلْ لِّلَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ وَالْاُمِّيِّيْنَ ءَاَسْلَمْتُـمْ ۚ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا ۖ وَّاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ ۗ وَاللّـٰهُ بَصِيْـرٌ بِالْعِبَادِ (20)
پھر بھی اگر تجھ سے جھگڑیں تو ان سے کہہ دے کہ میں نے اپنا منہ اللہ کے حکم کے تابع کیا ہے اور ان لوگوں نے بھی جو میرے ساتھ ہیں، اور ان لوگوں سے کہہ دے جنہیں کتاب دی گئی ہے اور ان پڑھوں سے کیا تم بھی تابع ہوتے ہو، پھر اگر وہ تابع ہو گئے تو انہوں نے بھی سیدھی راہ پالی، اور اگر وہ منہ پھیریں تو تیرے ذمہ فقط پہنچا دینا ہے، اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔

اس آیت پر فٹ کر کے دیکھا تھا ماؤں والا ترجمہ ؟
یہاں امیین کا لفظ ہے ۔
کریں فٹ ۔ کیسے کریں گے ؟

ایک وضاحت مفتی صاحب کو بھی کرتا چلوں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم تاحیات امّی ہی رہے تھے ۔ یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ نبوت سے پہلے امّی تھے بعد میں علم آگیا سے مراد کیا ہے ؟ ایک شخص ان پڑھ رہتے ہوئے بھی دنیا کا سب سے بڑا عالم ہو سکتا ہے ۔ اس پر مفتی صاحب کو بھی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ مشرکین مکہ سے معاہدے کے دوران مشرکین نے اعتراض کر دیا تھا کہ معاہدے میں "محمد رسول ﷲ" لکھا ہے ۔ جب ہم آپ کو رسول نہیں مانتے تو اس کو مٹایا جائے جس پر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے کہا کہ محمد کے آگے سے لفظ رسول ﷲ مٹا دو ۔ حضرت علی اس سے عاجز ہو گئے تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا جہاں رسول ﷲ لکھا ہے وہاں نشاندہی کرو ۔ حضرت علی رض نے نشاندہی کی تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے خود مٹایا ۔ یہ نبوت کے بعد کا ہی واقعہ ہے تبھی تو محمد رسول ﷲ لکھا تھا معاہدے پر ۔
آگے چلیں ۔
شیخ موصوف قران کو اکلوتی آسمانی کتاب سمجھتے ہیں جس کے ثبوت قران ہی سے پیش کرتے ہیں ۔

سورہ الاحقاف ۔ آیت 4
قُلْ اَرَاَيْتُـمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اَرُوْنِىْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَـهُـمْ شِرْكٌ فِى السَّمَاوَاتِ ۖ اِيْتُوْنِىْ بِكِـتَابٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَآ اَوْ اَثَارَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْـتُـمْ صَادِقِيْنَ (4)
کہہ دو بھلا بتاؤ تو سہی جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لاؤ یا کوئی علم چلا آتا ہو وہ لاؤ اگر تم سچے ہو۔

اس آیت سے شیخ صاحب نے مراد لی کہ قران سے پہلے کوئی کتاب نازل ہی نہیں ہوئی ۔
حالانکہ واضح طور پر یہاں کتابوں کی اصل صورت کا انکار ہو رہا ہے ناکہ کتاب کے نزول کا ۔ ورنہ غور کر لیں اسی آیت میں ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم نے زمین پر کون سی چیز تخلیق کی ہے ۔ اب اگر اس کے جواب میں کوئی اپنی ایجادات آگے رکھ دے تو یہی کہا جائے گا کہ خدا کی تخلیقات کی بات ہو رہی ہے ناکہ ایجادات کی ۔ اسی طرح یہاں بھی آسمانی کتابوں کی بات ہو رہی ہے ناکہ تحریف شدہ بائبل کا ۔
اب یہاں ان کے عجیب و غریب عقائد سامنے آتے ہیں ۔
پہلی بات وہ یہ کرتے ہیں کہ قران اس دنیا میں انسانوں پر نازل ہونے والی اکلوتی کتاب ہے ۔
دوسری بات وہ یہ کرتے ہیں کہ ہر نبی پہلے عربی میں آیات پڑھتا تھا پھر اپنی زبان میں لوگوں کو سمجھاتا تھا ۔
سبحان ﷲ ۔
اب یہاں سب سے پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر صرف ایک قران ہی نازل ہوا اور کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی تو یہ نزول کس پر ہوا ؟
شیخ صاحب کہتے ہیں ہر ایک پر نزول ہوتا ہے ۔ یہ محض ایک بیان ہے جس کے پیچھے نہ تو کوئی آیت ہے نہ منطق ۔ یعنی یہ ممکنات میں سے نہیں ہے کہ ہر نبی پر یا ہر شخص پر نزول ہو ۔
ظاہر ہے اگر قران حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم پر نازل ہوا تو پہلے موجود نہیں تھا ۔ اگر پہلے موجود ہونا تسلیم کیا جائے تو بعد میں کیا نازل ہوا ۔ لہٰذا یہ احمقانہ فلسفہ ہے جس کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر ۔
پھر مزید یہ کہ یہ توارہ کو قانون کہتے ہیں اور اسے بھی قران ہی قرار دیتے ہیں ۔
قران میں ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

سورہ آل عمران آیت 65
يَآ اَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِـىٓ اِبْـرَاهِـيْمَ وَمَآ اُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ وَالْاِنْجِيْلُ اِلَّا مِنْ بَعْدِهٖ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (65)
اے اہلِ کتاب! ابراھیم کے معاملہ میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل تو اس کے بعد اتری ہیں، کیا تم یہ نہیں سمجھتے۔

اب یہاں اہل کتاب کو بتایا جا رہا ہے کہ توراہ ابراہیم علیہ السلام کے بعد نازل ہوئی تھی ۔
لو ہون دسو ۔
اگر توراہ سے مراد قران کی ہی ایک دوسری صفت ہے جس کو قانون کہا گیا تو اس کا مطلب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں یہ تھا ہی نہیں ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور باقی انبیاء کی دعائیں ظاہر ہے ان کی زبان میں تھیں جو قران میں عربی میں درج کی گئیں ۔
اب یہ تو نہیں ہو سکتا تھا کہ عربی زبان والے قران میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ربنا الغفرلی والی عبرانی زبان میں قران میں لکھ دی جاتی ۔
وَاِذْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتَابَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ (53)
اورجب ہم نے موسیٰ کو کتاب اورقانون فیصل دیا تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
اب یہ کون سی کتاب ہے جو موسیٰ علیہ السلام کو دی ؟
اگر قران تھی تو پہلے ظاہر ہے موجود نہیں تھی ۔
یہ فلسفہ ہی احمقانہ ہے ۔

سورہ الاحقاف آیت 12
وَمِنْ قَبْلِـهٖ كِتَابُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْـمَـةً ۚ وَهٰذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنْذِرَ الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْاۖ وَبُشْرٰى لِلْمُحْسِنِيْنَ (12)
اور اس سے پہلے موسٰی کی کتاب ہے جو رہنما اور رحمت تھی، اور یہ کتاب ہے جو اسے سچا کرتی ہے عربی زبان میں ظالموں کو ڈرانے کے لیے، اور نیکوں کو خوشخبری دینے کے لیے۔

اب یہاں بالکل واضح بیان ہے کہ دو کتابوں کی بات ہو رہی ہے ۔
ایک وہ جو موسیٰ علیہ وسلم پر پہلے نازل ہو چکی تھی جسے امام ورحمہ قرار دیا جا رہا ہے ۔
پھر کہا جا رہا وھذا الکتاب یعنی یہ کتاب جو عربی میں ہے ۔

مزید یہ کہ مسلمانوں کو یہ بات لازمی معلوم ہونی چاہیئے کہ قران کی وہ کون سی آیات ہیں جن کو بغیر بیرونی مدد کے سمجھا نہیں جا سکتا ۔
جب شیخ صاحب نے کہا کہ حدیث کو میں نہیں مانتا ۔ تفاسیر کو میں نہیں مانتا ۔ بائبل پر بھی بھروسہ نہیں تو ان کے سامنے ایسی کوئی بھی آیت پیش کر کے پوچھا جا سکتا ہے کہ لو ہون کرو ترجمہ ۔
مثلاً

سورہ الاحزاب آیت 37
وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّـذِىٓ اَنْعَمَ اللّـٰهُ عَلَيْهِ وَاَنْعَمْتَ عَلَيْهِ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللّـٰهَ وَتُخْفِىْ فِىْ نَفْسِكَ مَا اللّـٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَۚ وَاللّـٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَاهُ ۖ فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْـهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَىْ لَا يَكُـوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ فِىٓ اَزْوَاجِ اَدْعِيَآئِهِـمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ اَمْرُ اللّـٰهِ مَفْعُوْلًا (37)
اور جب تو نے اس شخص سے کہا جس پر اللہ نے احسان کیا اور تو نے احسان کیا کہ اپنی بیوی (زینب) کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں ایک چیز چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا، حالانکہ اللہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ تو اس سے ڈرے، پھر جب زید اس سے حاجت پوری کر چکا تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا تاکہ مسلمانوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی گناہ نہ ہو جب کہ وہ ان سے حاجت پوری کرلیں، اور اللہ کا حکم ہوکر رہنے والا ہے۔

اب یہاں زید کون ہے ؟
کس نبی نے ان کی مطلقہ سے نکاح کیا ؟
بنائیں قران کو بنیادی ماخذ اور قران سے دے لیں جواب ۔
کیسے دیں گے ؟
پرویزیوں کو پتنگے لگ جاتے یہاں ۔
دو تاویلیں گھڑتے ہیں ۔
پہلی یہ کہ تاریخ سے پڑھ لو ۔
کیوں پڑھ لیں تاریخ سے ؟
جب مستنذ احادیث کو نہیں مان رہے تو تاریخ کو کیوں مان رہے ہو بھائی جو غیر مستند ہے ؟
دوسری تاویل یہ گھڑتے ہیں کہ اس واقعے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔
سبحان ﷲ ۔
ایک لاتعلق بات قران میں آئی کیسے ؟
یہ بات ہی احمقانہ ہے ۔
قران کی ایسی کئی آیات ہیں جن کو احادیث سے نہ سمجھا جائے تو وہ سمجھ نہیں آتیں ۔ مسلمانوں کو خصوصاً مناظرین کو یہ آیات پتہ ہونی چاہئیں ۔
(جاری ہے)

Tuesday, 12 December 2017

فتنہ محمد شیخ کراچی والا حصہ اول

شیخ محمد ۔ ایک تجزیہ
(حصہ اول)

تحریر : محمّد سلیم

دورِ حاضر کے فتنوں میں ایک بڑا فتنہ انکارِ حدیث کا فتنہ ہے ۔ اس فتنے پر بات کرنے میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ بہت احتیاط سے بات کرنی پڑتی ہے ۔ الزامی جواب دینا یقیناً آسان نہیں ۔
 پہلے ایک سلسلہ غامدی صاحب پر شروع کیا تھا ۔ آج ہمارا موضوع شیخ محمد صاحب ہیں ۔
پہلے تو ایک اعتراض رفع کر دوں کہ شخصیات اگر فتنہ پرور ہوں تو باقاعدہ نام لے کر تنقید کرنا قران سے ثابت ہے جیسے ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔
تَبَّتْ يَدَآ اَبِىْ لَـهَبٍ وَّتَبَّ
ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہوا ۔
مگر رکیں ۔
جن شیخ صاحب کی آج ہم بات کر رہے ہیں ان کا تو سب سے پہلا ہی اعتراض یہ ہے کہ مترجمین نے ہر لفظ کا ترجمہ کیوں نہ کیا ؟
جیسے بقول ان کے کتاب ﷲ میں توراہ لفظ آیا تو اس سے مسلمانوں نے یہودیوں کی کتاب توراہ مراد لے لی ؟ حالانکہ اس کا مطلب ہوتا ہے قانون ۔
لو دسو ۔
توراہ پر تو ہم بعد میں بات کریں گے پہلے میں شیخ صاحب کی فرمائش پوری کرنے کی کوشش کر لوں ۔
لہب کا مطلب ہوتا ہے وہ شعلہ جس میں دھواں نہ ہو ۔
ابی لہب کا مطلب ہو گا اس شعلے کے ابو جس میں دھواں نہیں ہے ۔
اس اعتبار سے ترجمہ شیخ صاحب کی فرمائش کے مطابق بنے گا :
جس شعلے میں دھواں نہ ہو اس کے ابو کے ہاتھ ٹوٹ جائیں ۔
کیوں ٹوٹ جائیں ؟
اگر اس شعلے میں دھواں نہیں ہے تو اس میں اس کے ابو کا کیا قصور ہے ؟
اب یہاں سب سے پہلے ایک بات کی تصحیح کر لیں ۔
یہ جو چھترولی جواب میں نے محض چند جملوں میں شیخ صاحب کو دے دیا ۔ کیا آپ اس کی توقع کسی مفتی یا کسی عالم سے کر سکتے ہیں ؟
جی نہیں ۔
کم از کم میں ایسا نہیں کر سکتا ۔ کیوں کہ ہم ان علماء سے دین سیکھتے ہیں ۔ پھر اس کو اپنی طرز پر استعمال کرتے ہیں ۔
کسی عالم کو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ اس قسم کے جوابات دے کیوں کہ ہم ان سے شائستگی کی توقع رکھتے ہیں ۔
جس کو وہ جواب دے رہے ہیں اس کی تو تین گھنٹے کی ویڈیو میں نے دیکھ لی ۔ ٹکے جتنی اہمیت نہیں ان اعتراضات کی ۔ اور یہ بھی دیکھ لیا کہ کوئی معقول آدمی شیخ صاحب کی ان احمقانہ باتوں کو سنجیدہ نہیں لے سکتا  ۔ لہٰذا اس بات کا امکان بہت ہی کم ہے کہ ایک مفتی ان کے سامنے لاجواب ہو گیا ۔
ایسا نہیں ہوا ۔
ہوا یہ کہ شیخ صاحب کی باتوں کے جتنے بھی جواب بنتے ہیں وہ صرف اور صرف چھترولی ہیں ۔ عالم کا کام چھترول کرنا نہیں ہے ۔
وہ ہمارا کام ہے ۔
سو وہ ہم کریں گے ۔
میری اس پوری گفتگو میں مفتی صاحب پر میں کسی بھی قسم کا کوئی الزام نہیں رکھتا ۔ اس کی ایک وجہ تو میں نے اوپر بیان کر دی کہ مفتی ہونا بذات خود ایک ذمے داری کا کام ہے ۔ ان کی غلطی محض اتنی ہو سکتی ہے کہ ان کو وہاں جانا ہی نہیں چاہیئے تھا ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ویڈیو بنانے والے شیخ صاحب کے لوگ ہیں اور ویڈیو جگہ جگہ سے کٹی ہوئی ہے ۔ لہٰذا اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ مفتی صاحب کے جوابی دلائل کو کاٹ دیا گیا ہو ۔ ورنہ تین گھنٹے میں جتنی چولیں شیخ صاحب نے ماری ہیں ان کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آنا چاہیئے ۔
بہرحال موضوع پر آتے ہیں ۔
شیخ صاحب کے نزدیک توراہ بمعنی قانون لیا جائے گا اور توراہ کسی کتاب کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک قانون ہے ۔ مزید یہ کہ یہ نام یا تو مسلمانوں نے بائبل سے چوری کیا ہے یا بائبل والوں نے قران سے ۔ کیوں کہ قران میں تو بہرحال یہ لفظ موجود ہے ۔
پہلے تو اس اصول کو سمجھ لیں کہ اس دنیا میں اشیاء کے جتنے بھی نام رکھے جاتے ہیں ان کا کوئی نہ کوئی مطلب ضرور نکلتا ہے ۔
مثال کے طور پر فرض کریں کہ شیخ صاحب کسی کے ہاں نوکری کرتے ہیں ۔ ان صاحب نے شیخ صاحب کو کہا کہ یہ ایک لاکھ روپے لے کر جاؤ اور مبشر کو دے آؤ ۔
شیخ صاحب ایک لاکھ روپے لے کر گئے ۔ راستے میں بیٹھا تھا ایک طوطے کی فال نکالنے والا ۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ فال نکلوا لی جائے ۔ پانچ کا سکہ فال والے کے ہاتھ میں دیا اور فال نکلوا لی ۔ فال میں نکلا کہ آپ کی جلد ہی ترقی ہونے والی ہے ۔ انہوں نے جھٹ جیب سے ایک لاکھ روپے نکالے اور فال والے کے ہاتھ میں دھر دیئے ۔ پھر آفس واپس آگئے ۔ اتنے میں باس کو مبشر صاحب کا فون آگیا کہ بھائی آپ کے پیسے تو ابھی تک نہیں پہنچے ۔ باس نے شیخ صاحب کو بلوا لیا ۔
"پیسے کتھے نے پائی جان ؟" باس نے کہا ۔
"وہ تو میں نے مبشر کو دے دیئے ۔" انہوں نے معصومیت سے جواب دیا ۔
"کون سے مبشر کو دیئے ایک لاکھ روپے ۔ اس کا فون آیا ہے ۔ اسے پیسے نہیں پہنچے ۔" باس نے غصے میں کہا ۔
"دیکھیں باس ۔ مبشر کا مطلب ہوتا ہے خوش خبری سنانے والا ۔ مجھے فال والے نے خوش خبری سنائی ۔ میں نے اس کے ہاتھ میں پیسے پکڑا دیئے ۔"
اس کے بعد کیا ہوا یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ۔
آپ خود سمجھدار ہیں ۔
آگے چلیں ۔
قران میں ایسے بہت سے الفاظ ہیں جو نام ہیں اور ان کا آپ ترجمہ نہیں کر سکتے ۔
مثلاً
قران کہتا ہے :

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ  اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ
"تمہارے مردوں میں کسی کے باپ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہیں ۔"
لیکن اب رکیئے ۔
لفظ "محمد" کا مطلب ہے "تعریف کیا گیا" 
اب ذرا اس کا مزید ترجمہ کیجیئے ۔
"تم مردوں میں سے کسی کے بھی باپ تعریف کیے گئے نہیں ۔
اب بتائیں ؟
کر لیا ترجمہ منطق سے ؟
یہاں یہ تاویل بھی نہیں کام کرتی کہ آگے ۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ  النَّبِیّٖنَ آیا ہے ۔ کیوں کہ پھر ترجمے میں محض اتنا فرق پڑے گا کہ تم مردوں میں سے کسی کے بھی باپ  تعریف کئے گئے نہیں مگر ﷲ کے رسول (تعریف کیئے گئے ہیں ) اور خاتم النبین ہیں ۔ اب وہ کون ہیں یہ نہیں پتہ ۔ حدیث میں دیکھنا پڑے گا اور اسی کا انکار ہے ۔
یعنی توراہ کے کتاب ہونے کا انکار اس بنیاد پر کہ اس کا ترجمہ علماء نے نہیں کیا ۔
اور جو شیخ صاحب نے کیا اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اگر توراہ نام کی کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی تو کیا محمد (صلی ﷲ علیہ وسلم) نام کے کوئی نبی بھی نہیں گزرے ؟
کیا احمقانہ بات ہے اور کون لوگ ہیں جو اس شخص کو عالم یا منطقی سمجھ بیٹھے ہیں ؟
یہاں یہ تاویل بھی کام نہیں کرے گی کہ آگے ﷲ تعالی "محمد رسول ﷲ" کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ کیوں کہ ﷲ کا رسول ہو تو وہ تعریف کیا گیا تو ہو گا ہی ۔ یعنی "محمد رسول ﷲ" کا مطلب "ﷲ کا رسول جس کی تعریف کی گئی"
نام کیا ہے ؟
پتہ نہیں ۔
آگے چلیں ۔
سورہ البقرہ آیت 113
وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ  لَیۡسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیۡءٍ ۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰی لَیۡسَتِ الۡیَہُوۡدُ عَلٰی شَیۡءٍ  ۙ  وَّ ہُمۡ یَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ   کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ مِثۡلَ قَوۡلِہِمۡ  ۚ فَاللّٰہُ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾
یہود کہتے ہیں کہ نصرانی حق پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی حق پر نہیں ، حالانکہ یہ سب لوگ کتاب پڑھتے ہیں ۔ اسی طرح ان ہی جیسی بات بے علم بھی کہتے ہیں قیامت کے دن اللہ ان کے اس اختلاف کا فیصلہ ان کے درمیان کر دے گا ۔

اس ایک آیت سے کئی معاملات ایک ساتھ واضح ہو رہے ہیں ۔ شیخ صاحب کہتے ہیں بنی اسرائیل اور اہل کتاب تو ہم ہیں ۔ یہود کے پاس تو کوئی کتاب ہی نہیں ۔ ویڈیو میں واضح کہہ رہے ہیں کہ یہود کے پاس کوئی کتاب ہی نہیں ۔
یہاں ﷲ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے ہیں کہ نصرانی حق پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی حق پر نہیں ، حالانکہ یہ سب لوگ کتاب پڑھتے ہیں ۔

کون سی کتاب ؟
لو دسو ہون ؟
کون سی کتاب کا ذکر ہے یہ ؟
کیا اس آیت میں بنی اسرائیل لکھا ہے یا اہل کتاب لکھا ہے ؟
یہود و نصاری ٰ ہی لکھا ہے یہاں ۔ نہ بنی اسرائیل نہ اہل کتاب ۔
تو اب یہ کون سی کتاب کا ذکر ہے ؟
یہاں ضمناً ایک بات کہہ دوں کہ مفتی صاحب نے گفتگو میں فرمایا کہ ہم یعنی مسلمان اہل کتاب نہیں ہیں ۔
یہ بات میں پہلے بھی ایک پوسٹ میں کافی عرصہ پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اہل کتاب سے مراد ہر وہ امت ہے جسے کوئی نہ کوئی کتاب دی گئی ۔ خواہ وہ اہل قران یعنی ہم ہی کیوں نہ ہوں ۔ مجھے نہیں معلوم مفتی صاحب نے کیوں اس بات کا انکار کیا ۔ مگر اس بات کا انکار نہیں بنتا تھا ۔ نہ ہی اس سے مسلمانوں کے عقائد پر حرف آتا ہے ۔
ہم اہل کتاب بھی ہیں ۔ اہل قران بھی ہیں ۔ اہل ذکر بھی ہیں ۔
بہرحال آگے چلیں ۔
اسی آیت کے آخری حصے میں ﷲ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ 
فَاللّٰہُ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ 
 قیامت کے دن اللہ ان کے اس اختلاف کا فیصلہ ان کے درمیان کر دے گا ۔

شیخ صاحب نے ویڈیو میں مفتی صاحب سے اتنی دیر اس بات پر جرح کی کہ یحکم کا مطلب حکمران ہوتا ہے فیصلہ کرنے والا نہیں ۔
اب یہاں ترجمہ کریں ذرا ۔
پس ﷲ حاکم بنائے گا ان کے درمیان قیامت کے دن اس پر جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں ۔

کس کو حاکم بنائے گا جناب ؟
یہود کو یا نصاریٰ کو ؟
خود ہی دیکھ لیں اب جو ترجمے آپ کرتے پھر رہے ہیں اس کے نتائج ۔

آگے چلیں ۔

کہتے ہیں قران میں بنی اسماعیل کہاں ہیں دکھاؤ مجھے ؟
میں دکھا دیتا ہوں ۔ میں بھی تو کسی مرض کی دوا ہوں ۔
چونکہ شیخ صاحب نے مفتی صاحب سے سارا کلام منطق کی بنیاد پر کیا ہے لہٰذا اب منطق کی دلدل میں شیخ صاحب کو ڈبونا میرا فرض بنتا ہے ۔ ایسا ڈبوؤں گا کہ کڈنا مشکل ہو جائے گا ۔
قران میں صرف دو بنی ہیں بقول شیخ صاحب کے ۔
ایک بنی آدم دوسرے بنی اسرائیل ۔
پہلے تو ان کا ترجمہ کر لیں ۔
بنی آدم کا مطلب آدم کی اولاد اور بنی اسرائیل کا مطلب اسرائیل کی اولاد ۔
اب یہاں دو باتیں ہیں ۔
پہلی یہ کہ ہر شخص چاہے وہ بنی اسرائیل سے ہی کیوں نہ ہو وہ بنی آدم لازمی ہو گا ۔ کیوں کہ بقول قران آدم سے نسلِ انسانی چلی ۔
دوسری بات یہ ہے کہ قران کا صرف دو بنی کا ذکر اس بات پر دلالت نہیں کر سکتا کہ تیسرے کسی بنی فلاں کا کوئی وجود ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ وجود تو لازمی ہے مگر اس کا ذکر نہیں ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ وجود کا انکار کر دیں گے تو بنی اسرائیل پیدا ہونے سے پہلے ہی ناپید ہو جائیں گے ۔ کیوں کہ آدم کے دو بیٹے ہابیل اور قابیل کا ذکر ہمیں ملتا ہے ۔
اب یا تو تسلیم کیا جائے کہ آدم علیہ السلام کے آگے ان کے کسی بیٹے کی نسل آگے نہیں چلی ۔ یعنی بنی آدم صرف ان کے بیٹے کہلائیں گے ۔ پھر یہ سلسلہ بنی اسرائیل تک پہنچ کیسے رہا ہے ؟ یہ منطقی بات ہے کہ اولاد آدم کے بیٹوں کی بھی ہو گی ۔ ہابیل قتل ہو گیا ۔ قابیل کی نسل بنی قابیل کہلائے گی یا نہیں ۔ آدم علیہ السلام کے تمام بچوں کی اولاد صرف بنی آدم نہیں کہلائے گی ۔ ذکر قران صرف بنی آدم کا کر رہا ہے مگر اولاد سب کی ہے ۔ جس کا ثبوت بنی اسرائیل کا بیک وقت بنی اسرائیل اور بنی آدم ہونا ہے ۔ یا تو پھر انکار کریں کہ بنی اسرائیل صرف بنی اسرائیل تھے بنی آدم نہ تھے ؟ کر سکتے ہیں ؟
اب آجایئے بنی اسماعیل کی طرف ۔
قران میں بنی اسماعیل کا ذکر نہیں ہے ۔
ٹھیک ہے ۔
مگر اسماعیل علیہ السلام کا ذکر تو ہے ؟
ان کی اولاد کو بنی اسماعیل نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے ؟
اور اگر بات ایک منطقی ضد کی ہے تو ایک منطقی سوال مجھ سے بھی لیجیئے ۔
قران بنی اسرائیل کے ذکر سے بھرا پڑا ہے ۔
یعنی اسرائیل کی اولاد کے ذکر سے ۔
یہ اسرائیل ہیں کون ؟
کیا یہ کسی نبی کا نام ہے ؟
قران میں اٹھارہ انبیاء کی جو لسٹ آپ نے مرتب کی اس میں تو یہ نام ہی نہیں ؟
آپ کہتے ہیں ہم قرانی آیات سے بنی اسرائیل ڈھونڈیں گے کہ وہ کون ہیں ؟
تسی اولاد بعد اچ لبنا ۔
تسی پہلے اپنا پیو لبو ۔
اسرائیل کون تھے یہ بتایئے مجھے ۔
اب آپ یہ مت کہہ دیجیئے گا کہ اسرائیل کا اصلی نام کچھ اور تھا ۔ کیوں کہ ان کا اصلی نام یا تو احادیث میں آیا ہے جنہیں آپ مانتے نہیں ۔
یا پھر اسی بائبل پرانے عہد نامے میں آیا ہے جس کے بارے میں آپ نے ویڈیو میں کہا کہ وہ تو یہودیوں کی کتاب ہے ۔

فی الحال اتنا کافی ہے ۔ آگے لوگوں کی مشاورت سے چلیں گے کہ اس چول آدمی کو مزید جواب دینے چاہئیں یا نہیں ؟
یہ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ اس تین گھنٹے کی ویڈیو میں جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان کے اتنے تسلی بخش جواب دوں گا کہ منہ چھپانے کر جگہ کم پڑ جائے گی شیخ صاحب کو ۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ اتنی زیادہ احمقانہ باتوں کا علمی جواب بنتا نہیں ہے ۔ جو جواب مجھے دینے پڑ رہے ہیں ان پر مجھے خود شرم آرہی ہے ۔
اس لیئے آگے اس سلسلے کو مشاورت سے چلائیں گے ۔
اگلی پوسٹ آپ کے مشورے سے آئے گی ان شاء ﷲ ۔

قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا

• *قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا* • ایک پوسٹ گردش میں ھے: کہ حضرت عبدﷲ ابن مسعودؓ سے مروی ھے کہ جو بندہ قبرستان جائے اور قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ دع...