Showing posts with label نکاح طلاق خلع. Show all posts
Showing posts with label نکاح طلاق خلع. Show all posts

Monday, 4 December 2017

تین طلاق مفتی نجیب قاسمی ، تین طلاق کا مسلہ

تین طلاق کا مسئلہ

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃوَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

تین طلاق کا مسئلہ

حال ہی میں انٹرنیٹ کے ایک گروپ پر طلاق کے متعلق ایک فتوی پر مختلف حضرات کے تاثرات پڑھنے کو ملے۔ پڑھنے کے بعد محسوس ہوا کہ بعض حضرات طلاق کے معنی تک نہیں جانتے لیکن طلاق کے مسائل پر اپنی رائے لکھنے کو دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔
میرے عزیز دوستوں! آپ کسی مسئلہ پر کسی عالم / مفتی کی رائے سے اختلاف کرسکتے ہیں مگر قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ سے واقفیت کے بغیر کسی فتوی / مسئلہ پر اپنی رائے ظاہر کرنا اور اسکو بلاوجہ موضوع بحث بنانا جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی مسئلہ آپکی سمجھ میں نہیں آرہا ہے توآپ معتبر علماء سے رجوع فرمائیں، ممکن ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کی رائے بھی وہی ہو۔ اگر مسئلہ علماء کے درمیان مختلف فیہ ہے تو قرآن وحدیث کی روشنی میں اللہ سے ڈرتے ہوئے عالم /مفتی جو بات صحیح سمجھے گا اس کو تحریر فرمائے گا، خواہ آپ اس سے متفق ہوں یا نہیں۔
موضوع بحث مسئلہ (طلاق) پر گفتگو کرنے سے قبل نکاح کی حقیقت کو سمجھیں کہ نکاح کی حیثیت اگر ایک طرف باہمی معاملہ ومعاہدہ کی ہے تو دوسری طرف یہ سنت وعبادت کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ شریعت کی نگاہ میں یہ ایک بہت ہی سنجیدہ اور قابل احترام معاملہ ہے جو اس لئے کیا جاتا ہے کہ باقی رہے یہاں تک کہ موت ہی میاں بیوی کو ایک دوسرے سے جدا کرے۔ یہ ایک ایسا قابل قدر رشتہ ہے جو تکمیل انسانیت کا ذریعہ اور رضائے الہی واتباع سنت کا وسیلہ ہے۔ اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے ٹوٹنے سے نہ صرف میاں بیوی متاثر ہوتے ہیں بلکہ اس سے پورے گھریلو نظام کی چولیں ہل جاتی ہیں اور بسا اوقات خاندانوں میں جھگڑے تک کی نوبت آجاتی ہے۔ اسی لئے رسول اللہ ا نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں میں طلاق سے زیادہ گھناؤنی اور کوئی چیز نہیں ہے ۔ (ابوداؤد) اسی لئے علماء کرام نے فرمایا ہے کہ طلاق کا لفظ کبھی مذاق میں بھی زبان پر نہ لایا جائے۔
اسی لئے جو اسباب اس بابرکت اور مقدس رشتہ کو توڑنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں انہیں راہ سے ہٹانے کا شریعت نے مکمل انتظام کیا ہے۔ چنانچہ میاں بیوی میں اختلاف کی صورت میں سب سے پہلے ایک دوسرے کو سمجھانے کے کوشش کی جائے ، پھر زجر وتنبیہ (ڈانٹ ڈپٹ) کی جائے۔ اور اس سے بھی کام نہ چلے اور بات بڑھ جائے تو دونوں خاندان کے چند افراد مل کر معاملہ طے کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن بسا اوقات حالات اس حد تک بگڑ جاتے ہیں کہ اصلاح حال کی یہ ساری کوششیں بے سود ہوجاتی ہیں اور رشتہ ازدواج سے مطلوب فوائد حاصل ہونے کے بجائے میاں بیوی کا باہم مل کر رہنا ایک عذاب بن جاتا ہے۔ ایسی ناگزیر حالت میں کبھی کبھی ازدواجی زندگی کا ختم کردینا ہی نہ صرف دونوں کے لئے بلکہ دونوں خاندانوں کے لئے باعث راحت ہوتا ہے، اس لئے شریعت اسلامیہ نے طلاق اور فسخ نکاح (خُلع) کا قانون بنایا، جس میں طلاق کا اختیار صرف مرد کو دیا گیا کیونکہ اسمیں عادتاً وطبعاً عورت کے مقابلہ فکروتدبر اور برداشت وتحمل کی قوت زیادہ ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیت (وَلِلرِّجَالِ عَلَےْہِنَّ دَرَجَۃ) (سورۂ البقرۃ ۲۳۸) (الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَاءِ) (سورۂ النساء۳۴) میں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن عورت کو بھی اس حق سے یکسر محروم نہیں کیا گیا بلکہ اسے بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ شرعی عدالت میں اپنا موقف پیش کرکے قانون کے مطابق طلاق حاصل کرسکتی ہے جس کو خُلع کہا جاتا ہے۔
مرد کو طلاق کا اختیار دے کر اسے بالکل آزاد نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ اسے تاکیدی ہدایت دی گئی کہ کسی وقتی وہنگامی ناگواری میں اس حق کا استعمال نہ کرے۔ نیز حیض کے زمانہ میں یا ایسے طُہر (پاکی) میں جس میں ہم بستری ہوچکی ہے طلاق نہ دے کیونکہ اس صورت میں عورت کی عدت خواہ مخواہ لمبی ہوسکتی ہے۔ بلکہ اس حق کے استعمال کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ جس پاکی کے ایام میں ہم بستری نہیں کی گئی ہے ایک طلاق دے کر رک جائے، عدت پوری ہوجانے پر رشتہ نکاح خود ہی ختم ہوجائے گا، دوسری یا تیسری طلاق کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اگر دوسری یا تیسری طلاق دینی ہی ہے تو الگ الگ طہر میں دی جائے۔۔۔۔ پھر معاملۂ نکاح کو توڑنے میں یہ لچک رکھی گئی ہے کہ دوران عدت اگر مرد اپنی طلاق سے رجوع کرلے تو نکاح سابق بحال رہے گا۔ ۔۔۔ نیز عورت کو ضرر سے بچانے کی غرض سے حق رجعت کو بھی دو طلاقوں تک محدود کردیا گیا تاکہ کوئی شوہر محض عورت کو ستانے کے لئے ایسا نہ کرے کہ ہمیشہ طلاق دیتا رہے اور رجعت کرکے قید نکاح میں اسے محبوس رکھے جیسا کہ سورہ البقرہ کی آیات نازل ہونے سے پہلے بعض لوگ کیا کرتے تھے، بلکہ شوہر کو پابند کردیا گیا کہ اختیار رجعت صرف دو طلاقوں تک ہی ہے۔ تین طلاقوں کی صورت میں یہ اختیار ختم ہوجائے گابلکہ میاں بیوی اگر باہمی رضا مندی سے بھی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں توایک خاص صورت کے علاوہ یہ نکاح درست اور حلال نہیں ہوگا۔ فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَےْرَہ (سورۂ البقرہ ۲۳۰) میں یہی خاص صورت بیان کی گئی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے تیسری طلاق دے دی تو دونوں میاں بیوی رشتہ نکاح سے منسلک ہونا بھی چاہیں تو وہ ایسا نہیں کرسکتے یہاں تک کہ یہ عورت طلاق کی عدت گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرے، دوسرے شوہر کے ساتھ رہے ، دونوں ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوں۔ پھر اگر اتفاق سے یہ دوسرا شوہر بھی طلاق دیدے یا وفات پاجائے تو اس کی عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔ یہی وہ جائز حلالہ ہے جس کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے۔
اب موضوع بحث مسئلہ کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ اگر کسی شخص نے حماقت اور جہالت کا ثبوت دیتے ہوئے ابغض الحلال طلاق کے بہتر طریقہ کو چھوڑکر غیر مشروع طور پر طلاق دیدی مثلاً تین طلاقیں ناپاکی کے ایام میں دے دیں، یا ایک ہی طہر میں الگ الگ وقت میں تین طلاقیں دے دیں، یا الگ الگ تین طلاقیں ایسے تین پاکی کے ایام میں دیں جسمیں کوئی صحبت کی ہو، یا ایک ہی وقت میں تین طلاقین دے دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس کا کیا اثر ہوگا ؟؟؟
ابغض الحلال طلاق کے بہتر طریقہ کو چھوڑکر مذکورہ بالا تمام غیر مشروع صورتوں میں تین ہی طلاق پڑنے پر تمام علماء کرام متفق ہیں، سوائے ایک صورت کے، کہ اگر کوئی شخص ایک مجلس میں تین طلاق دے دے تو کیا ایک واقع ہوگی یا تین۔ جمہور علماء کی رائے کے مطابق تین ہی طلاق واقع ہوں گی۔ فقہاء صحابہ کرام حضرت عمرفاروقؓ ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علیؓ ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ، حضرت عبداللہ بن عمروؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ وغیرہ وغیرہ تین ہی طلاق پڑنے کے قائل تھے۔ نیز چاروں امام (امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ ) کی متفق علیہ رائے بھی یہی ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینے پر تین ہی واقع ہوں گی، جیسا کہ ۱۳۹۳ھ میں سعودی عرب کے بڑے بڑے علماء کرام کی اکثریت نے بحث ومباحثہ کے بعد قرآن وحدیث کی روشنی میں یہی فیصلہ کیا کہ ایک وقت میں دی گئی تین طلاقین تین ہی شمار ہوں گی۔ یہ پور ی بحث اور مفصل تجویز مجلۃ البحوث الاسلامیہ ۱۳۹۷ھ میں ۱۵۰ صفحات میں شائع ہوئی ہے جو اس موضوع پر ایک اہم علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس فیصلہ میں سعودی عرب کے جو اکابر علماء شریک رہے ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ (۱) شیخ عبد العزیز بن باز (۲) شیخ عبد اللہ بن حمید (۳) شیخ محمد الامین الشنقیطی (۴) شیخ سلیمان بن عبید (۵) شیخ عبد اللہ خیاط (۶)شیخ محمد الحرکان (۷) شیخ ابراہیم بن محمد آل الشیخ (۸)شیخ عبد الرزاق عفیفی (۹) شیخ عبد العزیز بن صالح (۱۰) شیخ صالح بن غصون (۱۱) شیخ محمد بن جبیر (۱۲) شیخ عبد المجید حسن (۱۳) شیخ راشد بن خنین (۱۴) شیخ صالح بن لحیدان (۱۵)شیخ محضار عقیل (۱۶) شیخ عبد اللہ بن غدیان (۱۷) شیخ عبد اللہ بن منیع۔ سعودی عرب کے ہیءۃ کبار العلماء کا یہ فیصلہ اختصار کے ساتھ اس Link پر پڑھا جاسکتا ہے۔(http://islamtoday.net/bohooth/artshow-32-6230.htm) نیز مضمون کے آخر میں بھی یہ فیصلہ مذکور ہے۔ سعودی عرب کے اکابر علماء نے قرآن وحدیث کی روشنی میں صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے اقوال کو سامنے رکھ کریہی فیصلہ فرمایا کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے پرتین ہی واقع ہوں گی۔ علماء کرام کی دو سری جماعت نے جن دو احادیث کو بنیاد بناکر ایک مجلس میں تین طلاق دینے پر ایک واقع ہونے کا فیصلہ فرمایا ہے ، سعودی عرب کے اکابر علماء نے ان احادیث کو غیر معتبر قرار دیا ہے۔ نیز ہند ،پاکستان، بنگلادیش اور افغانستان کے تقریباً تمام علماء کرام کی بھی یہی رائے ہے۔
لہذا معلوم ہوا کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ۱۴۰۰ سال سے امت مسلمہ (90-95%) اسی بات پر متفق ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار کی جائیں گی، لہذا اگر کسی شخص نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیدیں تو اختیار رجعت ختم ہوجائے گانیز میاں بیوی اگر باہمی رضا مندی سے بھی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تویہ نکاح درست اور حلال نہیں ہوگا یہاں تک کہ یہ عورت طلاق کی عدت گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرے، دوسرے شوہر کے ساتھ رہے ، دونوں ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوں۔ پھر اگر اتفاق سے یہ دوسرا شوہر بھی طلاق دیدے یا وفات پاجائے تو اس کی عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔ یہی وہ جائز حلالہ ہے جس کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے: (سورۂالبقرہ ۲۳۰)
نوٹ: خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ خلافت میں ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے پر بے شمار مواقع پر باقاعدہ طور پر تین ہی طلاق کا فیصلہ صادر کیا جاتا رہا ،کسی ایک صحابی کا کوئی اختلاف حتی کہ کسی ضعیف روایت سے بھی نہیں ملتا۔ اس بات کو پوری امت مسلمہ مانتی ہے۔ لہذا قرآن وحدیث کی روشنی میں جمہور فقہاء کرام خاص کر (امام ابوحنیفہ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ ) اور ان کے تمام شاگردوں کی متفق علیہ رائے بھی یہی ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینے پر تین ہی واقع ہوں گی۔
آخر میں تمام حضرات سے خصوصی درخواست کرتا ہوں کہ مسائل سے واقفیت کے بغیر بلاوجہ Email بھیج کر لوگوں میں Confusions پیدا نہ کریں۔ علماء کرام کے متعلق کچھ لکھنے سے قبل قرآن کریم میں علماء کرام کے متعلق اللہ جل شانہ کے فرمان کا بخوبی مطالعہ فرمائیں: اِنَّمَا ےَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاؤُ (سورۂ فاطر ۲۸) اللہ تعالیٰ کے بندوں میں علماء کرام ہی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ دوسری درخواست یہ ہے کہ اس موضوع پر اگر کوئی سوال ہے تو گروپ پر بھیجنے کے بجائے کسی عالم سے رجوع فرمائیں۔
محمد نجیب قاسمی(najeebqasmi@yahoo.com)

سعودی عرب کی مجلس کبار علماء کا فیصلہ
تین طلاق دینے سے تین ہی طلاق پڑتی ہے

ابتدائیہ: وہ فروعی اور اختلافی مسائل ، جن پر اصرار اور تشدد کو ہمارے ملک کے غیر مقلدین نے اپنا شعار بنارکھا ہے ، ان میں سے ایک مسئلہ تین طلاق کے ایک ہونے کا ہے ۔ انہیں اصرار ہے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاق ایک ہی ہو تی ہے ، یہ مسئلہ آج کل فرقہ پرست اور مسلم دشمن عناصر کے ہاتھوں میں کچھ اس طرح پہونچ گیا ہے ، کہ انہوں نے اس کو مسلم پرسنل لا ء میں تحریف و ترمیم کے لئے نقطۂ آغاز سمجھ لیا اور عنوان یہ بنایا گیا کہ اس کے ذریعہ سے مسلم معاشرہ کی اصلاح ہوسکے گی، پھر اسی بنیاد پر یہ مشورہ دیا جانے لگا کہ جب قدیم فتاویٰ سے انحراف کرکے طلاق کے مسئلہ میں نیا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے ، تو کیوں نہ دوسرے مسائل پر بھی غور کیا جائے، حد تو یہ ہے کہ اس خالص علمی وفقہی مسئلہ کو اخبارات نے بازیچۂ اطفال بنادیا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک فتنہ ہے ۔
سعودی عرب کی ہیئت کبار علماء نے اپنے ایک اجلاس میں موضوع کے تمام گوشوں پر بحث ومناقشہ کر کے فیصلہ کیا ہے کہ ایک لفظ سے دی گئی تین طلاق، تین ہی ہوتی ہے ، یہ بحث ومناقشہ اور قرارداد ریاض کے مجلہ البحوث الاسلامےۃ جلد اول کے تیسرے شمارہ میں شائع ہوئی ہے ، اس بحث اور قرار داد کا ترجمہ اب سے چند سال پہلے محدث جلیل ابوالمآثر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کے ایما پر المجمع العلمی مؤ کی جانب سے شایع ہوا تھا، چوں کہ غیر مقلدین سعودی عرب کو اپنا ہم مسلک سمجھتے ہیں اور عوامی سطح پر ان کو بطور حجت پیش کر تے ہیں ، نیز اسلام دشمن عناصر بھی بعض مسائل میں مسلم ممالک کا حوالہ پیش کر تے ہیں ، اس لئے موجودہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر اسے دوبارہ شائع کیا جاتا ہے ۔ خدا کرے یہ فتنہ ٹھنڈا ہو۔
مدیر المجمع العلمی
مخالفین کا نقطۂ نظر : مخالفین کی رائے میں بیک لفظ تین طلاق دینے سے ایک واقع ہوتی ہے ، صحیح روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہی قول مروی ہے اور صحابۂ کرام میں حضرت زبیرؓ، ابن عوفؓ، علیؓبن ابی طالب، عبداللہ بن مسعودؓ اور تابعین میں عکرمہ وطاؤس وغیرہ نے اسی پر فتویٰ دیا ہے ۔ اور ان کے بعد محمد بن اسحٰق ؒ ، فلاسؒ ، حارث عکلیؒ ، ابن تیمیہؒ ، ابن قیمؒ وغیرہ نے بھی اس کے موافق فتویٰ دیا ہے ۔ علامہ ابن القیم ؒ نے اغاثۃ اللہفان میں نہایت صفائی کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کے سوا اور کسی صحابی سے اس قول کی نقل صحیح ہم کو معلوم نہیں ہوئی ۔(اغاثہ /۱۷۹/بحوالہ اعلام مرفوعہ / ۳۰) ان کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں :
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان (البقرۃ: ۲۲۹)طلاق دومرتبہ ہے پھر خواہ رکھ لینا قاعدہ کے موافق خواہ چھوڑدینا خوش عنوانی کے ساتھ۔ آیت کی توضیح یہ ہے کہ مشروع طلاق جس میں شوہر کا اختیار باقی رہتاہے ، چاہے تو بیوی سے رجعت کر ے یا بلا رجعت اسے چھوڑدے ، یہاں تک کہ عدت پوری ہوجائے اور بیوی شوہر سے جدا ہوجائے وہ دوبار ہے ۔ ’’مرتان‘‘کا معنی ’’مرۃً بعد مرۃٍ‘‘ ہے ، خواہ ہر مرتبہ ایک طلاق دے یا بیک لفظ تین طلاق دے ، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ’’دو مرتبہ‘‘ کہا ہے "دو طلاق" نہیں کہا ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت میں فرمایا :فإن طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ (البقرۃ:۲۳۰) ’’پھر اگر طلاق دیدے عورت کو تو پھر وہ اس کے لئے حلال نہ رہے گی، اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ نکاح کر لے ‘‘۔
اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ تیسری مرتبہ بیوی کوطلاق دینے سے وہ حرام ہوجاتی ہے ،خواہ تیسری مرتبہ ایک طلاق دی ہو یا بیک لفظ تین طلاق دی ہو ۔ اس تقریر سے معلوم ہوا کہ متفرق طور پر تین مرتبہ طلاق دینے کی مشروعیت ہوئی ، لہذا ایک مرتبہ میں تین طلاق دینا ایک کہلائے گا اور وہ ایک سمجھا جائے گا ۔
مسلم ؒ ؒ نے اپنی صحیح میں بطریق طاؤس ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے : کان الطلاق الثلٰث علیٰ عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکرؓ وسنتین من خلافۃ عمرؓ طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمررضی اللہ عنہ ان الناس قد استعجلوا فی امر کانت لہم فیہ اناۃ فلو امضیناہ علیہم فامضاہ علیہم .’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد اور ابوبکرؓ کی خلافت اور عہد فاروقی کے ابتدائی دوسال میں تین طلاق ایک ہوتی تھی ، پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا : لوگوں نے ایک ایسے معاملہ میں جس میں مہلت تھی عجلت سے کام لینا شروع کر دیا ہے ، اگر ہم اسے یعنی تین طلاق کو نافذ کر دیتے تو اچھا ہو تا پس اسے نافذ کر دیا ‘‘۔ مسلم میں ابن عباسؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ: ’’ ابو الصہباء نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ عہد نبوی اور عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدا میں تین طلاق ایک تھی ۔ حضرت ابن عباسؓ نے فر مایا کہ ہاں ، لیکن جب لوگوں نے بکثرت طلاق دینا شروع کیا تو حضرت عمرؓ نے تینوں کو نافذ کر دیا ‘‘۔
یہ حدیث بیک لفظ تین طلاق کے ایک ہونے پر وضاحت کے ساتھ دلالت کر تی ہے اور یہ حدیث منسوخ نہیں ہے ، کیوں کہ عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدا ئی دوسال میں اس حدیث پر برابر عمل جاری رہا اور حضرت عمرؓ نے تین طلاق نافذ کر نے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ لوگوں نے اس میں عجلت سے کام لینا شروع کر دیاہے ، انھوں نے نسخ کا دعوی نہیں کیا ، نیز حضرت عمرؓ نے تین طلاق نافذ کرنے میں صحابۂ کرام سے مشورہ لیا اور کسی ایسی حدیث کے چھوڑنے میں جس کا نسخ حضرت عمرؓ کو معلوم ہو ، صحابۂ کرام سے مشورہ نہیں کرتے۔
مخالفین کہتے ہیں کہ حدیث ابن عباسؓ کے جو جوابات دئے گئے ہیں ، وہ یا تو پر تکلف تاویل ہے یا بلا دلیل لفظ کو خلاف ظاہر پرحمل کرنا ہے یا شذوذ واضطراب اور طاؤس کے ضعیف ہونے کا طعن ہے لیکن مسلم نے جب اس حدیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ، تو یہ طعن ناقابل تسلیم ہے ۔ مسلم ؒ نے یہ شرط رکھی ہے کہ وہ اپنی کتاب میں صرف صحیح حدیث ہی روایت کریں گے اور پھراس حدیث کو مطعون کرنے والے اسی حدیث کے آخری حصہ’’فقال عمرؓ إن الناس قد استعجلوا فی امر کانت لہم فیہ اناۃ الخ‘‘ کو اپنے قول کی حجت بناتے ہیں اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حدیث کا آخری حصہ قابل قبولِ حجت ہو اور اس کا ابتدائی حصہ اضطراب اور راوی کے ضعف کی وجہ سے ناقابل حجت ہو ۔ اور اس سے بھی زیادہ بعید بات یہ ہے کہ عہد نبوی میں تین طلاق کے ایک ہونے پر عمل جاری رہا ہو، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع نہ رہی ہو، جب کہ قرآن نازل ہورہا تھا ،ابھی وحی کا سلسلہ برابر جاری تھا اور یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے حضرت عمرؓ کے زمانے تک پوری امت ایک خطا پر عمل کرتی رہی ہو۔ انھیں پھس پھسی باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کے فتویٰ کو ان کی حدیث کا معارض ٹھہرایا جائے ، علماء حدیث اور جمہور فقہاء کے نزدیک بشرطِ صحت راوی کی روایت ہی کا اعتبار ہوتا ہے ۔اس کے خلاف اس کی رائے یا فتویٰ کا اعتبار نہیں ہوتا ۔یہ قاعدہ ان لوگوں کا بھی ہے جو ایک لفظ کی تین طلاق سے تین نافذ کر تے ہیں ۔لوگوں نے عہد فاروقی میں ایک لفظ کی تین طلاق سے تین نافذ ہونے پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے اور حدیث ابن عباسؓ کو اس اجماع کا معارض ٹھہرایا ہے ، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اس مسئلہ میں سلف سے خلف تک اور آج تک اختلاف چلا آرہا ہے ۔
حدیث زوجۂ رفاعہ قرظی سے بھی استدلال درست نہیں ، اس لئے کہ صحیح مسلم میں ثابت ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو تین طلاقوں میں سے آخری طلاق دی تھی اور رفاعہ نضری کا اپنی بیوی کے ساتھ اس جیسا واقعہ ثابت نہیں کہ واقعات متعدد مانے جائیں اور ابن حجر نے تعدد واقعہ کا فیصلہ نہیں کیا ، انھوں نے یہ کہا ہے کہ اگر رفاعہ نضری کی حدیث محفوظ ہوگی ، تو دونوں حدیثوں سے واضح ہوتاہے کہ واقعہ متعدد ہے ، ورنہ ابن حجرؒ نے اصابہ میں کہا ہے : ’’ ........ لیکن مشکل یہ ہے کہ دونوں واقعہ میں دوسرے شوہر کا نام عبد الرحمن بن الزبیر متحد ہے ‘‘ ۔
امام احمد نے اپنی مسند میں بطریق عکرمہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے : قال طلق رکانۃ بن عبد یزید اخو بنی المطلب امرأتہ ثلاثا فی مجلس واحد فحزن وعلیہا حزناًشدیداً، قال فسألہ رسول اللہ علیہ وسلم کیف طلقتہا؟قال طلقتہا ثلاثا قال فقال فی مجلسٍ واحدٍ، قال: نعم ، فقال فانما تلک واحدۃ فارجعہا ان شئت ، قال: فراجعہا. ’’رکانہ بن عبد یزیدنے اپنی عورت کو ایک مجلس میں تین طلاق دی پھر اس پر بہت غمگین ہوئے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا ، تم نے کیسی طلاق دی ہے ؟ کہا کہ تین طلاق دی ہے ، پوچھا کہ ایک مجلس میں ؟ انھوں نے کہا کہ ہاں! تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صرف ایک طلاق ہو ئی اگر چاہو تو رجعت کر سکتے ہو ، ابن عباسؓ نے فرمایا کہ انھوں نے اپنی بیوی سے رجعت بھی کرلیاتھا‘‘۔
ابن قیم ؒ نے اعلام الموقعین میں کہا ہے کہ امام احمدؒ اس حدیث کے سند کی تصحیح وتحسین کر تے تھے ۔ (حافظ ابن حجرؒ نے تلخیص میں اس حدیث کو ذکر کر کے فرمایا ہے ’ ’ وھو معلول ایضاً‘‘ یعنی مسند احمد والی حدیث بھی بہت مجروح وضعیف ہے (ص :۳۱۹) اور حافظ ذہبی نے بھی اس کو ابوداؤد ابن الحصین کے مناکیر میں شمار کیا ہے ، پس اس حالت میں اگر اس کی اسناد حسن یا صحیح بھی ہو ، تو استدلال نہیں ہوسکتا ، اس لئے کہ اسناد کی صحت استدلال کی صحت کو مستلزم نہیں ۔(اعلام مرفوعہ : ۲۵)
اور یہ جو مروی ہے کہ رکانہ نے لفظ ’’ بتہ‘‘سے طلاق دی تھی ، اسے احمدؒ ، بخاریؒ اور ابوعبیدؒ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔(امام شافعی ، ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ، ابن حبان ، حاکم اور دارقطنی وغیرہ نے حضرت رکانہ سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے اپنی بی بی کو لفظ”بتہ” کے ساتھ طلاق دی .......... حافظ ابن حجر ؒ نے تلخیص / ۳۱۹، میں لکھا ہے (صححہ ابوداؤد وابن حبان والحاکم ) یعنی اس حدیث کو ابوداؤد ، ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے ۔ ابن ماجہ / ۱۴۹ ، میں ہے کہ میں نے اپنے استاذ طنافسی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ’’ ما اشرف ہذا الحدیث ‘‘ یہ حدیث کتنی شریف و بہتر ہے ۔ ( اعلام مرفوعہ / ۱۱۔ العلامہ المحدث الاعظمی)
ابن تیمیہؒ ، ابن قیمؒ وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں اور خلافت عمرؓ کے ابتدائی دوسال میں ایک لفظ کی تین طلاق سے ایک ہی سمجھا جاتا رہا اور جو فتاویٰ صحابۂ کرام سے اس کے خلاف مروی ہیں ، وہ حضرت عمرؓ کے تین طلاق نافذ کرنے کے بعد کے ہیں ۔ تین طلاق نافذ کرنے سے حضرت عمرؓ کا یہ ارادہ نہیں تھا کہ اسے ایک مستقل قاعدہ بنا ڈالیں جو ہمیشہ مستمر رہے ، ان کا ارادہ تو یہ تھا کہ جب تک دواعی و اسباب موجود ہیں ، تین طلاق کو نافذ قرار دیا جائے ، جیساکہ تغیر حالات سے بدلنے والے فتاویٰ کا حال ہوتا ہے ، او ر امام کو اس وقت رعایاکی تعزیر کا حق بھی ہے ، جس وقت ایسے معلاملات میں جن کے کرنے اور چھوڑنے کا ان کو اختیار ہو ، سوئے تصرف پیدا ہوجائے جیسا کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا کے طور پر غزوۂ تبوک میں شرکت نہ کر نے والے تین صحابہ کو ایک وقت تک اپنی بیویوں سے جدا رہنے کا حکم دیدیا تھا ، باوجود یکہ ان کی بیویوں سے کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی یا جیسے شراب نوشی کی سزا میں زیادتی، یا تاجروں کی ناجائز نفع اندوزی کے وقت قیمتوں کی تعیین ، یا جان ومال کی حفاظت کے لئے لوگوں کو خطر ناک راستوں پر جانے سے روکنا ، باوجود یکہ ان راستوں پر ہر ایک کو سفر کرنا مباح رہا ہو۔
پانچویں دلیل یہ ہے کہ تین طلاق کو لعان کی شہادتوں پر قیاس کیا جائے ۔ اگر شوہر کہے میں اللہ کی چار شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اپنی عورت کو زنا کر تے ہوئے دیکھا ہے ، تو اسے ایک ہی شہادت سمجھا جاتا ہے ، لہذا جب اپنی بیوی سے ایک مر تبہ میں کہا کہ میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں تو اسے ایک ہی طلاق سمجھا جائے گا اور اگر اقرار کا تکرار کئے بغیر کہے کہ میں زنا کا چار مرتبہ اقرار کرتا ہوں ، تو اسے ایک ہی اقرار سمجھا جاتا ہے ، یہی حال طلاق کا بھی ہے اور ہر وہ بات جس میں قول کا تکرار معتبر ہے ، محض عدد ذکر کر دینا کافی نہ ہوگا ، مثلاً فرض نمازوں کے بعد تسبیح و تحمید وغیرہ۔
شیخ شنقیطی نے اس کا جواب دیا ہے کہ یہ قیاس مع الفارق ہے ، اس لئے کے شوہر اگر لعان کی صرف ایک ہی شہادت پر اکتفا کر لے تو وہ کالعدم قرار دیدی جاتی ہے ، جب کہ ایک طلاق کالعدم نہیں قراردی جاتی ، وہ بھی نافذ ہوجاتی ہے ۔(اضواء البیان، ۱/۱۹۵، بحوالہ مجلہ البحوث)
جمہور کا مسلک: بیک لفظ تین طلاق دینے سے تین واقع ہوجائیں گی ، یہ جمہور صحابہ وتابعین اور تمام ائمہ مجتہدین کا مسلک ہے اور اس پر انھوں نے کتاب وسنت اور اجماع وقیاس سے دلائل قائم کئے ہیں ۔ ان میں سے اہم دلائل مندرجہ ذیل ہیں ۔
 اے نبی جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کو ان کی عدت پر طلاق دو اور عدت گنتے رہو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے ، ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور وہ بھی نہ نکلیں ، مگر جو صریح بے حیائی کریں اور یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے بڑھے تو اس نے اپنابرا کیا اس کو خبر نہیں کہ شاید اللہ اس طلاق کے بعد نئی صورت پیدا کردے۔(الطلاق:۱) اس آیت سے یہ معلوم ہواکہ اللہ تعالی نے وہ طلاق مشروع کی ہے جس کے بعد عدت شروع ہو ، تاکہ طلاق دینے والا بااختیار ہو ، چاہے تو عمدہ طریقہ سے بیوی کو رکھ لے یا خوبصورتی کے ساتھ چھوڑدے ۔ اور یہ اختیار اگر چہ ایک لفظ میں رجعت سے پہلے تین طلاق جمع کر دینے سے نہیں حاصل ہوسکتا ، لیکن آیت کے ضمن میں دلیل موجود ہے کہ یہ طلاق بھی واقع ہو جائے گی ، اگر واقع نہ ہوتی تو وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا نہ کہلاتا اور نہ اس کے سامنے دروازہ بند ہوتا ، جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے : ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً۔مخرج کی تفسیر حضرت ابن عباسؓ نے رجعت کی ہے ۔ ایک سائل کے جواب میں جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی تھی ، آ پ نے کہاکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً ‘‘ اور تم نے اللہ سے خوف نہیں کیا ، لہذا میں تمہارے لئے کوئی خلاصی کی راہ نہیں پاتا ہوں ، تم نے اللہ کی نا فرمانی کی اور تم سے تمہاری بیوی جدا ہوگئی۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو شخص اپنی عورت کو تین طلاق دیدے ، وہ خود پر ظلم کر نے والا ہے ۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ تین طلاق سے ایک ہی واقع ہوتی ہے ، تو اس کو اللہ سے ڈرنا نہیں کہا جاسکتا ، جس کا حکم ’’ ومن یتق اللہ الخ ‘‘ میں دیا گیا ہے اور جس کا التزام کرنے سے خلاصی کی سبیل پیدا ہوتی اور نہ یہ ظالم کی سزا بن سکتی ہے، جو حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے تو گو یا شارع نے ایک منکر بات کہنے والے پر اس کا اثر مرتب نہیں کیا، جو اس کے لئے عقوبت بنتا ، جیسا کہ بیوی سے ظہار کر نے والے پر بطور عقوبت کفارہ لازم ہوتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تینوں طلاق نافذ کر کے طلاق دینے والے کو سزادی ہے اور اس کے سامنے راستہ مسدود کردیا ہے ، اس لئے کہ اس نے اللہ سے خوف نہیں کیا خود پر ظلم کیا او ر اللہ کی حدود سے تجاوز کیا۔
صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے : ان رجلا طلق امرأتہ ثلاثا فتزوجت فطلقت فسئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للاول؟ قال: لا حتی یذوق عسیلتہا کما ذاق الاول۔ ’’ ایک شخص نے اپنی بی بی کو تین طلاقیں دیدیں، اس نے دوسرے سے نکاح کر لیا ، دوسرے شوہر نے قبل خلوت کے طلاق دیدی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اب پہلے کے لئے حلال ہوگئی یا نہیں؟ فرمایا کہ نہیں تاوقتیکہ دوسرا شوہر پہلے کی طرح لطف اندوزِ صحبت نہ ہو ، پہلے کے لئے حلال نہیں ہوسکتی ‘‘۔
بخاری ؒ نے یہ حدیث ’’ باب من اجاز الطلاق ثلاثاً ‘‘ کے تحت ذکر کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ انہوں نے بھی اس سے یکجا تین طلاق ہی سمجھا ہے ؛ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ رفاعہ قرظی کے واقعہ کا مختصر ہے ، جس کی بعض روایات میں آیا ہے کہ انھوں نے تین طلاقوں میں کی آخری طلاق دی ۔ حافظ ابن حجرؒ نے اعتراض کو اس طرح رد کیا ہے کہ رفاعہ قرظی کے علاوہ بھی ایک صحابی کا ایسا ہی واقعہ اپنی بیوی کے ساتھ پیش آیا ہے اور دونوں ہی عورتوں سے عبد الرحمن ابن الزبیرؓ نے نکاح کیا تھا اور صحبت سے پہلے ہی طلاق دیدی تھی ، لہذا رفاعہ قرظی کے واقعہ پر اس حدیث کو محمول کر نا بے دلیل ہے ۔ اس کے بعد حافظ ابن حجرؒ نے کہا کہ ’’ اس سے ان لوگوں کی غلطی ظاہر ہوگئی جو دونوں واقعہ کو ایک کہتے ہیں ،،۔
جب حدیث عائشہؓ کا حدیث ابن عباسؓ کے ساتھ تقابل کیا جائے تو دو حال پیدا ہوتے ہیں ، یا تو دونوں حضرات کی حدیث میں تین طلاق مجموعی طور پر مراد ہے یا متفرق طور پر ، اگر تین طلاق یکجائی مراد ہے تو حدیث عائشہؓ متفق علیہ ہونے کی وجہ سے اولی ہے ، اور اس حدیث میں تصریح ہے کہ وہ عورت تین طلاق کی وجہ سے حرام ہوگئی تھی اور اب شوہر ثانی سے وطی کے بعد شوہر اول کے لئے حلال ہوسکتی ہے اور اگر متفرق طور پر مرادہے تو حدیث ابن عباسؓ میں یکجائی تین طلاقوں کے واقع نہ ہونے پر استدلال صحیح نہیں ہے ؛ اس لئے کہ دعوی تو یہ ہے کہ ایک لفظ کی تین طلاق سے ایک طلاق پڑتی ہے اور حدیث ابن عباسؓ میں متفرق طلاقوں کا ذکر ہے اور یہ کہنا کہ حدیث عائشہؓ میں تین طلاق متفرق اور حدیث ابن عباسؓ میں مجموعی طور پر مراد ہے ، بلا وجہ ہے۔ اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔
حضرت عائشہؓ کی مذکور ہ حدیث کے علاوہ بھی بہت سی احادیث ہیں ، جو یکجائی تین طلاق کے نافذ ہو نے پر دلالت کرتی ہیں ، ان میں سے :
۱۔ حضر ت ابن عمرؓ کی حدیث ابن ابی شیبہ بیہقی ، دار قطنی نے ذکر کی ہے۔
۲۔ حضرت عائشہؓ کی ایک حدیث دارقطنی نے ذکر کی ہے ۔
۳۔ حضرت معاذ ابن جبلؓ کی حدیث بھی دار قطنی نے روایت کی ہے ۔
۴۔ حضرت حسنؓ بن علیؓ کی حدیث بھی دار قطنی نے روایت کی ہے ۔
۵۔ عامر شعبیؒ سے فاطمہ بنت قیسؓ کے واقعۂ طلاق کی حدیث ابن ماجہ نے روایت کی ہے ۔
۶۔ حضرت عبادہ بن صامت کی ایک حدیث دار قطنی ومصنف عبد الرزاق میں مذکور ہے ۔
ان تمام احادیث سے تین طلاق کا لازم ہونا مفہوم ہوتا ہے ، تفصیل کے لئے دیکھئے حضرت الاستاذ محدث جلیل مولانا حبیب الرحمن الاعظمی صاحب کا رسالہ اعلام مرفوعہ/ ۴ تا ۷ ۔
بعض فقہاء مثلاً ابن قدامہ حنبلیؒ نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ نکاح ایک ملک ہے ، جسے متفرق طورپر زائل کیا جاسکتا ہے ، تو مجموعی طور پر بھی زائل کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ تمام ملکیتوں کا یہی حکم ہے۔ قرطبی نے کہا ہے کہ جمہور کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اگر شوہر نے بیوی کو تین طلا ق دی ، تو بیوی اس کے لئے اس وقت حلال ہوسکتی ہے ، جب کسی دوسرے شوہر سے ہم صحبت ہولے۔ اس میں لغۃً اور شرعاًشوہر اول کے تین طلاق مجموعی یا متفرق طور پر دینے میں کوئی فرق نہیں ہے ، فرق محض صورۃً ہے جس کو شارع نے لغو قرار دیا ہے ؛ اس لئے کہ شارع نے عتق ، اقرار اور نکاح کو جمع اور تفریق کی صورت میں یکساں رکھا ہے ۔ مولیٰ اگر بیک لفظ کہے کہ میں نے ان تینوں عورتوں کا نکاح تم سے کردیا ، تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے جیسے الگ الگ یوں کہے کہ اس کا اور اس کا نکاح تم سے کردیا تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے ۔اسی طرح اگر کہے کہ میں نے ان تینوں غلاموں کو آزاد کردیا تو سب کی آزادی نافذ ہوجائے گی ، جیسے الگ الگ یوں کہے کہ میں نے اس کو اور اس کو اور اس کو آزاد کیا تو سب کی آزادی نافذ ہوجاتی ہے ۔ یہی حال اقرار کا بھی ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جمع وتفریق میں کوئی فرق نہیں ، زیادہ سے زیادہ یکحائی تین طلاق دینے والے کو اپنا اختیار ضائع کرنے میں انتہا پسندی پر ملازمت کا مستحق ٹھرایا جاسکتا ہے ۔
بعض مخالفین کے علاوہ تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ ہازل کی طلاق حضرت ابوہریرہؓ وغیر ہ کی اس حدیث کی وجہ سے واقع ہوجاتی ہے جسے تمام امت نے قبول کیا ہے۔ ثلاث جدہن جد وھزلہن جد الطلاق والنکاح والرجعۃ ۔ ’’ تین چیزیں ہیں جن کا واقعی بھی حقیقت ہے اور مذاق بھی حقیقت ہے ۔ طلاق ، نکاح اور رجعت‘‘۔ مذاق میں طلاق دینے والے کا دل بھی قصد وارادہ کے ساتھ طلاق کا ذکر کرتا ہے ، لہذا جو طلاق ایک سے زائد ہوگی ، وہ مسمّٰی طلاق سے خارج نہیں ہوگی ، بلکہ وہ بھی صریح طلاق ہوگی اور تین طلاق کو ایک سمجھنا گویا بعض عدد کو زیر عمل لاکر باقی کو چھوڑ دینا ہے ، لہذا یہ جائز نہ ہوگا ۔
یکجائی تین طلاق دینے سے تین واقع ہونا اکثر اہل علم کا قول ہے ، اسی کو حضرت عمرؓ ، عثمانؓ، علیؓ، ابن عباسؓ، ابن عمرؓ اور ابن مسعودؓ وغیرہ اصحابِ رسول نے اختیار کیا ہے اور ائمہ اربعہ ابوحنیفہؒ ، مالکؒ ،شافعیؒ اور احمدؒ کے علاوہ دوسرے فقہاء مجتہدین ابن ابی لیلیٰ ؒ ، اوزاعیؒ وغیرہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔ ابن عبد الہادی ؒ نے ابن رجبؒ سے نقل کیا ہے کہ میرے علم میں کسی صحابی اور کسی تابعی اور جن ائمہ کے اقوال حلال وحرام کے فتویٰ میں معتبر ہیں ، ان میں سے کسی سے کوئی ایسی صریح بات ثابت نہیں جو بیک لفظ تین طلاق کے ایک ہونے پر دلالت کر ے ، خود ابن تیمیہؒ نے تین طلاق کے حکم میں مختلف اقوال پیش کر نے کے دوران کہا:
دوسرا مذہب یہ ہے کہ یہ طلاق حرام ہے اور لازم ونافذ ہے ، یہی امام ابوحنیفہؒ ، امام مالک ؒ اور امام احمدؒ کا آخری قول ہے ، ان کے اکثر تلامذہ نے اسی قو ل کو اختیار کیا ہے ، اور یہی مذہب سلفِ صحابہ وتابعین کی ایک بڑی تعداد سے منقول ہے ‘‘۔
اور ابن قیم ؒ نے کہا: ’’ ایک لفظ کی تین طلاق کے بارے میں لوگوں کا چار مذہب ہے ۔ پہلا مذہب یہ ہے کہ تین طلاق واقع ہوجاتی ہے۔،یہی مذہب ائمہ اربعہ ، جمہور تابعین اور بہت سے صحابۂ کرام کا ہے ۔
علامہ قرطبیؒ نے فرمایا : ’’ہمارے علماء نے فرماکہ یا تمام ائمہ فتاویٰ ایک لفظ سے تین طلاق کے لازم ہونے پرمتفق ہیں اور یہی جمہور سلف کا قول ہے ‘‘۔ ابن عربی ؒ نے اپنی کتاب الناسخ والمنسوخ میں کہا ہے اور اسے ابن قیمؒ نے بھی تہذیب السنن میں نقل کیا ہے : ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الطلاق مرتان (یعنی طلاق دومرتبہ ہے) آخر زمانہ میں ایک جماعت نے لغزش کھائی اور کہنے لگے: ایک لفظ کی تین طلاق سے تین نافذ نہیں ہوتی ، انھوں نے اس کو ایک بنادیا اور اس قول کو سلف اول کی طرف منسوب کردیا۔ علیؓ ، زبیرؓ، ابن عوفؓ، ابن مسعودؓ اور ابن عباسؓ سے روایت کیا اور حجاج بن ارطاۃ کی طرف روایت کی نسبت کردی ؛ جن کا مرتبہ ومقام کمزور اور مجروح ہے ، اس سلسلہ میں ایک روایت کی گئی جس کی کوئی اصلیت نہیں‘‘۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ : ’’ لوگوں نے اس سلسلہ میں جواحادیث صحابہ کی طرف منسوب کی ہیں ، وہ محض افتراء ہے ، کسی کتاب میں اس کی اصل نہیں اور نہ کسی سے اس کی روایت ثابت ہے ‘‘۔ اور آگے کہا : ’’حجاج بن ارطاۃ کی حدیث نہ امت میں مقبول ہے اور نہ کسی امام کے نزدیک حجت ہے ‘‘۔
حدیث ابن عباسؓ کے جوابات: حضرت ابن عباسؓ کی اس حدیث پر کہ ’’ عہد نبوی، عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دوسال میں تین طلاق ایک تھی ‘‘ کئی اعتراضات وارد ہوتے ہیں ،جن کی بناپر اس حدیث سے استدلال کمزور پڑجاتا ہے ۔
اس حدیث کے سند ومتن میں اضطراب ہے ، سند میں اضطراب یہ ہے کہ کبھی ’’عن طاؤس عن ابن عباس‘‘کہاگیا ، کبھی ’’ عن طاؤس عن ابی الصہباء عن ابن عباس‘‘ اور کبھی ’’عن ابی الجوزاء عن ابن عباس ‘‘ آیا ہے
متن میں اضطراب یہ ہے کہ ابو الصہباء نے کبھی ان الفاظ میں روایت کیا ہے : الم تعلم أن الرجل کان اذا طلق امرأتہ ثلاثا قبل أن یدخل بہا جعلوہا واحدۃً ۔’’کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مرد جب ملاقات سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا تھا ، تو لوگ اسے ایک شمار کر تے تھے ‘‘۔ اور کبھی ان الفاظ میں روایت کیا ہے: الم تعلم ان الطلاق الثلاث کان علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و ابی بکر وصدر من خلافۃ عمر واحدۃ ۔ ’’ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور حضرت ابو بکرؓ کے زمانے میں اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی دورِ خلافت میں تین طلاق ایک تھی ‘‘۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت کر نے میں طاؤس منفرد ہیں اور طاؤس میں کلام ہے ، اس لئے کے وہ حضرت ابن عباسؓ سے مناکیر روایت کرتے ہیں ۔قاضی اسماعیلؒ نے اپنی کتاب احکام القرآن میں کہا ہے کہ ’’طاؤس اپنے فضل وتقوی کے باوجود منکر باتیں روایت کرتے ہیں اور انھیں میں سے یہ حدیث بھی ہے ‘‘۔ ابن ایوب سے منقول ہے کہ وہ طاؤس کی کثرت خطا پر تعجب کر تے تھے۔ ابن عبد البر مالکی نے کہا کہ ’’ طاؤس اس حدیث میں تنہا ہیں‘‘۔ ابن رجب نے کہا کہ ’’ علماء اہل مکہ طاؤس کے شاذ اقوال کا انکار کرتے تھے ‘‘۔ قرطبی نے عبد البر سے نقل کیا ہے کہ ’’ طاؤس کی روایت وہم اور غلط ہے ، حجاز ، شام اور مغرب کے کسی فقیہ نے اس پر اعتماد نہیں کیا ہے ‘‘۔
بعض اہل علم نے کہا ہے کے حدیث دو وجہ سے شاذ ہے ، ایک تو اس وجہ سے کہ اس کی روایت کرنے میں طاؤس منفرد ہیں اور کوئی ان کا متابع نہیں ۔امام احمدؒ نے ابن منصور کی روایت میں کہا ہے کہ’’ ابن عباسؓ کے تمام تلامذہ نے طاؤس کے خلاف روایت کیا ہے ‘‘ جوزجانی نے کہا ہے کہ ’’ یہ حدیث شاذ ہے ‘‘ ۔ ابن عبد الہادی نے ابن رجب سے نقل کیا ہے کہ’’ میں نے بڑی مدت تک اس حدیث کی تحقیق کا اہتمام کیا، لیکن اس کی کوئی اصل نہ پاسکا‘‘۔
شاذ ہونے کی دوسری وجہ وہ ہے جس کو بیہقی نے ذکر کیا ہے انہوں نے ابن عباسؓ سے تین طلاق لازم ہونے کی روایات ذکر کر کے ابن المنذر سے نقل کیا ہے کہ ’’ وہ ابن عباسؓ کے بارے میں یہ گمان نہیں کرتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انھوں نے کوئی بات محفوظ کی ہو اور پھر اس کے خلاف فتویٰ دیں ‘‘۔ ابن ترکمانی نے کہا کہ ’’ طاؤس کہتے تھے کہ ابوالصہباء مولیٰ ابن عباسؓ نے ان سے تین طلاق کے بارے میں پوچھا تھا ؛ لیکن ابن عباسؓ سے یہ روایت اس لئے صحیح نہیں مانی جاسکتی کہ ثقات خود انھیں سے اس کے خلاف روایت کر تے ہیں اور اگر صحیح بھی ہو ، تو ان کی بات ان سے زیادہ جاننے والے جلیل القدر صحابہ حضرت عمرؓ ، عثمانؓ، علیؓ ، ابن مسعودؓ، ابن عمرؓ وغیرہم پر حجت نہیں ہوسکتی ‘‘۔
حدیث میں شذوذ ہی کی وجہ سے دو جلیل القدر محدثوں نے اس حدیث سے اعراض کیا ہے ۔امام احمد ؒ نے اثرم اور ابن منصور سے کہا کہ میں نے ابن عباسؓ کی حدیث قصداً ترک کر دی ؛ اس لئے کہ میری رائے میں اس حدیث سے یکجائی تین طلاق کے ایک ہونے پر استدلال درست نہیں ؛ کیوں کہ حفاظِ حدیث نے ابن عباسؓ سے اس کے خلاف روایت کیا ہے اور بیہقی نے امام بخاریؒ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حدیث کو اسی وجہ سے قصداً چھوڑدیا، جس کی وجہ سے امام احمدؒ نے ترک کیا تھا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ دو امام فن حدیث کو اسی وقت چھوڑسکتے ہیں جب کہ چھوڑنے کا سبب رہاہو۔
حضرت ابن عباسؓ کی حدیث ایک اجتماعی حالت بیان کرتی ہے ، جس کا علم تما م معاصرین کو ہونا چاہئے تھا اور متعدد طرق سے اس کے نقل کے کافی اسباب ہونے چاہئے تھے ، جس میں اختلاف کی گنجائش نہ ہوتی ، حالانکہ اس حدیث کو ابن عباسؓ سے بطریقِ آحاد ہی روایت کیا گیا ہے ، اسے طاؤس کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا ہے ، جب کہ وہ مناکیر بھی روایت کرتے ہیں ۔
جمہور علماء اصول نے کہا ہے کہ اگر خبر آحاد کے نقل کے اسباب وافر ہوں ، تو محض کسی ایک شخص کا نقل کر نا اس کے عدم صحت کی دلیل ہے ۔صاحب جمع الجوامع نے خبر کے عدم صحت کے بیان میں اس خبر کو بھی داخل کیا ہے جو نقل کے اسباب وافر ہونے کے باوجود بطریق آحاد نقل کی گئی ہو ۔ ابن حاجبؒ نے مختصر الاصول میں کہا ہے :
’’ جب تنہا کوئی شخص ایسی بات نقل کرے ، جس کے نقل کے اسباب کافی تھے ، اس کے نقل میں ایک بڑی جماعت اس کے ساتھ شریک ہونی چاہئے تھی ، مثلاًوہ تنہا بیان کرے کہ شہر کی جامع مسجد میں منبر پر خطبہ دینے کی حالت میں خطیب کو قتل کر دیا گیا ، تو وہ جھوٹا ہے ، اس کی بات بالکل نہیں مانی جائے گی‘‘۔
جس بات پر عہد نبوی ، عہد صدیقی اور عہدفاروقی میں تمام مسلمان باقی رہے ہوں، تو اس کے نقل کے کافی اسباب ہوں گے ؛ حالانکہ ابن عباسؓ کے علاوہ کسی صحابی سے اس کے بارے میں ایک حرف بھی منقول نہیں (اور اس کو بھی حضرت ابن عباسؓ نے ابوالصہباء کے تلقین کرنے پر بیان کیا ہے ) صحابۂ کرام کی خاموشی دو بات پر دلالت کر تی ہے ۔ یاتو حدیث ابن عباسؓ میں تینوں طلاقیں بیک لفظ نہ مانی جائیں ؛ بلکہ اس کی صورت یہ ہے کہ بیک لفظ تین الفاظ میں تین طلاق دی گئی اور لفظ کا تکرار تاکید پر محمول کیا جائے ، یا یہ حدیث صحیح نہیں ، اس لئے کہ نقل کے کافی وسائل ہونے کے باوجود آحاد نے اسے روایت کیا ہے ۔
جب ابن عباسؓ جانتے تھے کہ عہد نبوی، عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دور میں تین طلاق ایک سمجھی جاتی تھی ، تو ان کے صلاح وتقویٰ ، علم و استقامت ، اتباع سنت اور برملا حق گوئی کے پیش نظر یہ نہیں سوچا جاسکتا کہ انھوں نے یکجائی تین طلاق سے تین نافذ کرنے میں حضرت عمرؓ کے حکم کی اتباع کی ہوگی ۔ تمتع حج ، دو دینار کے عوض ایک دینار کی خرید وفروخت ، ام ولد کی خرید وفروخت وغیرہ کے مسائل میں حضرت عمرؓ سے ان کا اختلاف پوشیدہ نہیں ، لہذا کسی ایسے مسئلہ میں وہ حضرت عمرؓ کی موافقت کیسے کرسکتے ہیں ، جس کے خلاف وہ خود روایت کرتے ہوں، تمتع حج کے بارے میں حضرت عمرؓ سے ان کا جو اختلاف ہوا ہے ، اس سلسلہ میں ان کا یہ مشہور قول ان کی بر ملا حق گوئی کی واضح دلیل ہے ، انھوں نے فرمایا کہ : ’’ قریب ہے کہ تم پر آسمان سے پتھر برسیں ، میں کہتاہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااور تم لوگ کہتے ہو ابوبکر نے کہا ، عمر نے کہا ‘‘۔
اگر ابن عباسؓ کی حدیث کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے ، تو قرون اولیٰ میں صحابۂ کرام کے صلاح وتقویٰ ، علم واستقامت اور غایت اتباع کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انھوں نے تین طلاقوں کو ایک جانتے ہوئے حضرت عمرؓ کا حکم قبول کرلیا ہوگا ، اس کے باوجود کسی سے بہ سند صحیح یہ ثابت نہیں کہ اس نے حدیث ابن عباسؓ کے مطابق فتویٰ دیا ہو۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ حضرت عمرؓ نے تین طلاق سے تین کے نفاذ کا حکم سزا کے طور پر جاری کیا تھا ؛ اس لئے کہ ایسے کام میں جس پر بڑے غور وفکر کے بعد اقدام کرنا چاہئے تھا ، لوگوں نے عجلت سے کام لینا شروع کر دیا تھا ؛ لیکن یہ بات تسلیم کرنا موجب اشکال ہے ، اس لئے کہ حضرت عمرؓجیسا متقی عالم وفقیہ کوئی ایسی سزا کیسے جاری کرسکتا ہے ، جس کے اثرات مستحق سزا تک ہی نہیں محدود رہتے ؛ بلکہ دوسری طرف (یعنی بیوی کی طرف) بھی پہونچتے ہیں ۔ حرام فرج کو حلال کرنا اور حلال فرج کو حرام کرنا اور حقوق رجعت وغیرہ کے مسائل اس پر مرتب ہوتے ہیں ۔
مجلس کا فیصلہ: مجلس ہیئت کبار علماء نے جو فیصلہ کیا ہے ، اس کے الفاظ یہ ہیں :
بعد دراسۃ المسئلۃ وتداول الرأی واستعراض الأقوال التی قیلت فیہا ومناقشۃ ما علی کل قول من إیراد توصل المجلس بأکثریتہ إلی اختیار القول بوقوع الطلاق الثلاث بلفظٍ واحدٍ ثلاثاً ۔ (مجلۃ البحوث الإسلامیۃالمجلد الأول ، العدد الثالث ، ص: ۱۶۵)
مسئلہ موضوعہ کے مکمل مطالعہ ، تبادلۂ خیال اور تمام اقوال کا جائزہ لینے اور ان پر وارد ہونے والے اعتراضات پر جرح ومناقشہ کے بعد مجلس نے اکثریت کے ساتھ ایک لفظ کی تین طلاق سے تین واقع ہو نے کا قول اختیارکیا۔ لجنہ دائمہ نے تین طلاق کے مسئلہ میں جو بحث تیار کی ہے ، اس کے اخیر میں مندرجہ ذیل اراکین مجلس کے دستخط بھی موجود ہیں ۔
ابراہیم بن محمد آل الشیخ صدر لجنہ
عبد الرزاق عفیفی نائب صدر
عبد اللہ بن عبد الرحمن بن غذیان عضومجلس
عبد اللہ بن سلیمان بن منیع عضو مجلس
تنبیہ: اس مجلس کے جن علماء نے تین طلاق کو ایک قرار دیا ہے ، انھوں نے صرف اس صورت کا یہ حکم بیان کیا ہے ’’ جب کوئی شخص یوں طلاق دے کہ میں نے تین طلاق دی (یا دیا) ؛ لیکن جب کوئی یوں کہے کہ میں نے طلاق دیا، میں نے طلاق دیا، میں نے طلاق دیا، تو اس صورت میں وہ بھی نہیں کہتے کہ ایک طلاق پڑے گی‘‘۔ (یعنی اس صورت میں ان کے نزدیک بھی تین طلاق واقع ہوگی) ۔

Three teen talaq مسلہ تین طلاق تین طلاق کا حکم حصہ part 1

تین طلاق تین ہی ہوتی ہیں ۔ احناف کے مضبوط دلائل قرآن و سنّت کی روشنی میں Part.I

۱۔پہلی دلیل اور اس کا جواب:۔

حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؒ بن عباسؓ نے فرمایا کہ آنحضرتﷺ اور حضرت ابو بکرؓ کے عہد اور حضرت عمرؓ کے ایام خلافت کے ابتدائی دو سام تین طلاقیں ایک ہی ہوتی تھیں ، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ لوگوں نے اپے معاملہ میں جلدی جلد بازی سے کام لیا ہے حالانکہ ان کو سوچنے کا وقت حاصل تھا ہم کیوں نہ انکو ان پر نافذ کر دیں تو ھضرت عمرؓ نے ان پر تین ہی نافذ کر دیں۔ (مسند احمد، مسلم شریف، و سنن کبری  جلد۷ص۲۳۶)

الجواب:۔

جمہور کی  طرف سے   اس کے کئی جوابات دیے گئے ہیں جن میں سے بعض کو ہم یہاں افادہ کے لیے نقل کرتے ہیں جن میں  سے بعض رایتی پہلو کے حامل ہیں اور بعض درایتی جانب پر حاوی ہیں،

اوّل:۔  امام بیہقیؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے اس روایت کی خریج نہیں کی محض اس لیے کہ حضرت ابن عباسؓ کی جملہ صحیح روایات اس کے خلاف ہیں۔

(سنن الکبری ج۷ ص۲۳۷)

 اور نیز فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیرؒ عطا بن ابی رباحؒ مجاہد عکمرمہ ، عممر و بن دینارؒ ، مالک بن الحویرث محمد بن ایاسؒبن کبیرؒ اور معاویہ بن ابی عیاش الانصاریؒ تمام (ثقہ اور مشہور) راوی حضرت ابن عباس ؓ سے یہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے تین طلاقوں کو تین ہی قرار دیا ہے ۔(سنن الکبری جلد ۷ص۲۳۸) اور حافظ ابن رشد ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ کے جملہ جلیل القدر شاگرد و مثلاً حضرت سعید ؒ بن جبیرؒ ، ممجاہدؒ عطاؒ عمرو بن دینارؒ اور ان کے علاوہ اان کے شاگردوں کی ایک خاصی جماعت اس  کے خلاف روایت کرتی ہے صرف طاؤس ؒ اس پوری جماعت کے خلاف روااایت کرتے ہیں۔(ہدیۃ المجتھد جلد ۲ص۶۱)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میرے چچا نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں  اب اسس کی کیا صورت ہو سکتی ہے ابن عباسؓ نے رمایا کہ تیرے چچا نے اللہ تعالٰی کی نافرمانی کی پے اور اب اس کی کوئی صورت نہیں بن سکتی وہ شخص بولا کہ کیا حلالہ کی صورت میں بھھی جوز شکل نہیں پیدا ہو سکتی ؟ اس پر حضرت  ابن عباسؓ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالٰی سے دھوکہ کرے گا اللہ رعالٰی اس کو بدلہ دیگا (سنن الکبری  جلد ۷ ص۲۲۷، و طحاوی جلد ۲ ص۲۹)  اور ان سے ایک روایت یوں آتی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباسؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں حضرت ابن عباسؓ نے اس پر سکوت اختیار کیا ہم نے یہ خیال کہ شاید وہ اس عورت کو واپس اسے دلانا چاہتے ہیں مگر ابن عباسؓنے فمایا کہ تم خود حماقت کا ارتکاب کرتے ہو اور پھرکہتے ہو اے ابن عباسؓ اے ابن عباسؓ ؟ با ت یہ ہے کہ جو شخص خدا تعالٰی  سے ننہ ڈرے تو اس کے لیے کوئی راہ نہیں نکل سکتی جب تم نے اللہ تعالٰی کی نافرمانی کی ہے تو اب رمہارے لیے کوئی گنجائش نہی نہیں تمہاری بیوی  اب تم سے بالکل علٰیحدہ ہو چکی ہے ۔(سنن الکبری) حافظ ابن حجر فرماتے ہیں اسناد ہ صحیح (تعلق المعنی ص۴۳۰) اور ان سے ایک رویت یوں آتی ہے کہ ایک شخص نے اپنی  بیوی کو سو طلاق دے دی ، حضرت ابن عباسؓ نے یہ فتویٰ دیا کہ تین طلاقیں تو واقع ہو چکی ہیں باقی ستانوے ۹۷،  کے ساتھ تم  نے اللہ تعالٰی کی کتاب کے ساتھ  مسخرہ کیا ہے۔ (معاذ اللہ ۔ مؤطا امام مالک ص۱۹۹ دارقطنی جلد ۲ص۴۳۰ و طحاوی جلد ۲ص۳۰، وسنن الکبری ص۳۳۲)

اور ان سے ایک روایت ہے اس رح آتی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی  کو ایک ہزار طلاق دے دی تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا تین طلاقیں تو واقع ہو چکی ہیں باقی نوسو ستانوے تیرے لیے وبال جان ثابت ہوں گی ۔(سنن الکبری جلد ۷ ص۳۲۳)

اور ایک روایت میں آٹا ہے کہ ایک شخص نے اپنی غیر مدخول بہا بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو حضرت ابن عباسؓ حضرت ابو ہریرؓ اور حضرت عبداللہ ؓ بن عمرؓ نے یہ فیسلہ صادر فرمایا کہ تین طلاقیں ہی واقع ہو چکی ہیں اوراب وہ عورت اس کے لیے حلال نہہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور مرد  سے نکاح نہ کرے (سنن الکبریٰ جلد ۷ ص۱۵۴)

نوٹ:۔  حضرت طاؤسؒ کی خود اپنی روایت میں بھی غیر مدخول بہا کی قید موجود ہے ،چنانچہ علامہ علاؤ الدین علی ؒ  بن عثمان الماردینی الحنفی (المتوفٰی ۷۴۵ھ) لکھتے ہیں کہ ۔

”محدث ابن ابی شیبہ ؒ نے سند کے ساتھ جس کے تمام راوی ثقہ ہیں حضرتۃ طاؤس عطار اور جابر بن زید ؓ سے یہ روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی غیرمدخول بہا بیوی کو تین طلاقیں دیدے تو وہ ایک  ہی ہو گی“۔ (الجواہر النقی علی البیہقی جلد۷ ص۲۳۱)

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت طاؤسؒ کی اپنی روایت  بھی مطلقاً تین طلاقوں کو ایک کرنے کے حق میں نہیں ہے بلکہ یہ غیر مدخول بہا سے مخصوص ہے۔ اس لیے حضرت طاؤسخ کی یہ روایت بھی اس شبہ کو مزید تقویت دیتی ہے کہ یہ روایت مطلق نہیں ہے اور اس کو اطلاق پر رکھنا وہم ہے یہی وجہ سے کہ حافظ ابو عمر بن عبدالبر المالکیؒ (المتوفٰی ۴۶۳ھ) فرماتے ہیں کہ :۔

ھذہ الروایۃ وھم وغلط (الجوھر النقی جلد ۷ ص۳۳۷) ”کہ مسلم کی  یہ روایت وہم اور  غلط ہے“۔

اور قاضی شوکانیؒ بھی  امام احمدؒ بن حنبلؒ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں  نے فرمایا کہ :۔

کل اصحاب ابن عباسؓ روواعنہ خلاف ماقالہ طاؤسؒ (نیل الاوطار جلد ۲ص۲۴۷) ”حضرت ابن عباسؓ کے تمام  شاگرد حضرت ابن عباسؓ سے اس کے خلاف روایت کرتے ہیں جو طاؤس نقل کرتے ہیں“۔

امام قرطبیؒ  فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مضطرب ہے (فتح الباری  جلد ۹ ص۲۹۲) امام ابن العربی مالکی ؒ شارح ترمذی فرماتے ہیں کہ روایت میں کلامم ہے لہذا یہ روایت اجماع پر کیسے ترجیح پاسکتی ہے۔ َ؟(فتح الباری  جلد ۹ص۲۹۱) علامہ ابو جعفر بن النحاسؒ اپنی کتاب الناسخ والمنسوخ میں لکھتے ہیں کہ طاؤسؒ اگرچہ مرد صالح ہیں لیکن حضرت  ابن عباسؓ سے بہت سی روایات میں متفرد ہیں، اہل علم ان روایات کو قبول نہی کرتے مجملہ ان کے ایک  روایت وہ بھی ہے جس میں انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے  تین طلاقوں کے ایک ہونے کی روایت کی ہے لیکن صحیح  روایت حضرت ابن عباسؓ اور حضرت علیؓ سے یہی  ہے کہ تین طلاقیں  تین ہی ہوتی ہیں۔ (اعلام الموفوعہ ص۲۲ از حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب اظمی) بلاشک حافظ ابن القیم ؒ اور قاضی شوکانیؒ وغیرہ نے وہم اور ااضطراب وغیرہ کا جواب دینے کی سعی کی ہے لیکن حلال و حرام کے مسئلہ میں ایسی روایت پر جس پر جمہور مطمئن نہ ہوں اور خود اس کے راوی حضرت ابن عباسؓ  بھی اس کے خلاف فتویٰ دیتے ہوں کیونکہ مدار رکھی جاسکتی ہے اور حضرت ابن عباسؓ کے شاگرد جو اس روایت کے بیان کرنے میں متفرد ہیں (یعنی حضرت طاؤسؒ) وہ بھی اس کو غیر مدخول بہا سے تقید اور مخصوص سمجھتے ہوں اور اسی پر فتویٰ دیتے ہوں۔ پھر بھلا کیونکر اس کو مدار بنایا جا سکتا ہے؟

یہ یاد رہے کہ  اس روایت میں ابو الصہباؒ کا ذکر بھی آایا ہے لیکن  وہ راوی نہیں یہ روایت حضرت ابن عباسؓ سے تنہا حضرت طاؤسؒ کررہے ہیں ابو الصہباؒ کا ذکر صرف  سائل کے طور پر آیا ہے جنہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے سوال کیا ہے اور مختلف فیہ ہیں بعض محدثین انکو ثقہ کہتے ہیں لیکن امام ابن عبدالبر ؒ ان کو مجہول کہتے ہی ں (الجوہر النقی جلد ۷ ص۲۲۷) اور امام نسائی ان کو ضعیف کہتے ہیں (میزان جلد ۱ ص۴۶۹ و تہذیب التہذیب جلد ۴ ص۴۳۹) اور یہ تو یقینی امر ہے کہ وہ صحابی ہرگز نہ تھے لیکن حیرت کی بات ہے کہ ان کو تو یہ مسئلہ معلوم تھا کہآنحضرت ﷺ کے زمانہہ مبارک میں عہد صدیقی اور حضرت فاروق ؓ کے ابتدائی دور خلافت میں تین طلاقوں کو ایک یا جاتا تھا مگر حضرت صحابہ کرامؓاس حکم سے بالکل ناواقف رہے یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے تین طلاقوں کو تین ہی نافذ کیا تو کسی صحابی نے اس کے خلاف ایک حرف بھی نہ کہا کہ حضرت ! آہپ کیا کرتے ہیں؟ سنت نبوی ؒ تو یوں ہے اور دور وہ تھا جس میں عورتیں بھی حضرت عمرؓ کو مسائل میں روک لیتی تھیں چنانچہ ایک بی بی نے حضرت عمرؓ کو زیادہ مہر نہ مقرر کرنے کی تلقین پر عین خطبہ کے موقع پر روکا تھا ۔(دیکھئے رفع المالم عن ائمۃ  الاعلام ص۶۰ لحافظ ابن تیمیہؒ) اور پھر لطف کی بات یہ ہے کہ ابو الصہباؒ بھی اس کو انوکھی عججیب و غیرہب اور نرالی بات سے تعبیر کرتے ہیں اگر یہ ابت سابق اوروں میں معمول بہ ٖ ہوتی تو یہ کوئی نرالی اوور انوکھی بات تو نہ تھی اور یہی وجہ  ہے کہ جمہور اس کے ظاہری الفاظ سے نہ تو  مطمئن ہیں اور نہ اس پر عمل پیرا ہیں اور حدیث میں آیا ہے کہ ”یہ اللہ علیٰ الجماعۃ “

عہا حضرت ابن عباؓ کا ہاں کہہ کر اثبات میں جواب دینا تو بجا ہے مگر یہ مطلق نہیں بلکہ یہ حکم غیر مدخول بہا سے متعلق ہے اور وہ  بھی جب کہ اس کو متفرق طور پر ایک ہی مجلس میں انت طالق انت طالق انت طالق کہہ کر تین طلاقیں دی گئی ہوں۔

فائدۃ:۔

اگر غیرمقلدین حضرات کے نزدیک مسلم میں حضرت ابو موسیٰ الاشعریؓ کی حدیث میں واذا قرأفانصتوا کا جملہ (جو اپنے مقام پر دلائل قاطعہ سے ثابت ہے ) شاذ ہو سکتا ہے حالانکہ اس حدیث کا راوی متفرد بھی نہیں تو طاؤسؒ کی روایت  میں ایسا وہمم کیوں نہیں ہو سکتا؟ آخر اس کی کیا وجہ ہے۔

۲۔ دوم:۔

کسی چیز کا آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں ( اور اسی طرح عہد صدیقی میں) ہونا اس کا مققنی نہیں کہ وہ کام آنحضرت ﷺ کے حکم اور اجازت سے ہوا ہو بعض کام ایسے بھی تھے جو آپ کے عہد  مبارک میں ہوتے تھے لیکن آپکو ان کی خبر تک نہ تھی تو ایسے امور کا جواز کیونکر ثابت ہو سکتا ہے؟

حضرت عمارؓ نے آنحضرت ﷺ  کے عہد مبارک میں جنابت کے لیے تیمم کرتے وقت سر سے پاؤں تک سارے بدن کھاکھا مٹی ملی تھی مگر جب آپکو اس کا علم ہوا تو آپ نے ان کی اس کاروائی میں تغلیط کی (بخاری جلد ۱ ص۵۰)

اور حضرت عمرؓ نے بحالت جنابت پانی نہ  ملا  تو نماز ہی  نہ پڑھی (بخاری ج۱ص۴۸) اور اس قسم کے بیسیوں واقعات کتب حدیث میں موجود ہیں۔ تو کیا آپ کے عہد میں ہونے کی وجہ سے  یہ سب کام جائز ہو گئے ؟ اور حدیث مذکور نہ تو آنحضرت ﷺ کا قول ہے اور نہ فعل پھر اس کو کیونکر حجت گروانا جاسکتا ہے؟ چنانچہ مشہور ظاہری محدث علامہ ابن حزم ؒ لکھتے ہیں کہ:۔

فلیس شئی منہ انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ھوالذی جعلھا واحدۃ اوردھا الٰی الواحدۃ ولا انہ علیہ الصلٰوۃ والسلام علم بذلک فاقرۃ ولا حجۃ الا فیما صح انہ علیہ الصلٰوۃ والسلام قائم اور فعلہ اور علمہ فلم ینکرو اھ (محلی جلد ۱۰ ص۲۰۶)

”اس حدیث میں کوئی چیز اییس نہیں جو اس پر دلالت کرتی ہو کہ آنحضرت ﷺ نے تین طلاقوں کوایک کیا تھا یا ان کو ایک کی طف لوٹا یا تھا اور نہ اس میں یہ چیز  مموجود ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس کا علم ہوا اور آپ نے اس کو برقرار رکھا اور حجت تو صرف اسی چیز میں ہے جو آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہویا کوئی کام کیا ہو یا آپکو اس کا علم ہؤا ہو اور ُ نے اس پر نکیر نہ فرمائی ہو“۔

علامہ ابن حزم ؒ کے اس بیان سے معلوم ہوا کہ حدیث سرے سے مرفوع  ہی نہیں ہے کیونکہ مرفوع کے تینوں اقسام (قولی فعلی اور تقریری ) سے یہ خارج ہے اور حجت تو صرف آپ کی حدیث میں ہے کسی غیر معصوم کے غیر معصوم قول میں تو حجت نہیں  ہے کہ جو کچھ اس نے کہہ دیا وہ حرف آخر ہو گیا اور یہی وجہ ہے کہ نہ تو حضرت عمرؓ نے اس مفروض حکم کی مخالفت کی کچھ پروا کی اور نہ خود راوی حدیث حضرت ابن عباس نے اس کی فکر کی اگر حضرت ابن عباسؓ کو یہ معلوم ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کے مبارک زمانہ اور عہد صدیقی میں بلا کسی متعین  صورت کے مطلقاً تین  طلاقؤں کو ایک  کیا جاتا تھا اور پھر  جب حضرت عمرنے اس کے خلاف حکم صادر فرمایا تھا تو حضرت ابن عباسؓ پر لازم تھا کہ وہ بفجوائے حدیث من رای منکم منکر فلیغیرہ الحدیثؔ اس کے خلاف ضرور آواز بلند کرتے  اور تعجب  تو یہ ہےکہ حضرت ابن عباسؓ فتویٰ بھی تین ہی کا دیتے رہے اور یہ طے شدہ بات ہے کہ کسی راوی کا اپنی مروی حدیث کے خلاف عمل اور فتویٰ (بشرطیکہ وہ منسوخ ہو) اس کی  عدالت وثقاہت پر اذر انداز ہوتا ہے  تو اس صورت میں حضرت ابن عباسؓ کا (معاذ اللہ تعالٰی) غیر عدول ہونا لازم آتا ہے حالانکہ حضرات صحابہ کرامؓ بھی عدوم تھے اور یہ بھی اصول کا مسئلہ ہے کہ جس حدیث سے حضرت ابن عباسؓ کی یہ حدیث اپنے ظاہر پر محمول نہیں ہے۔

۳۔ سومؔ:۔

حضرت امام بیہقی ؒ اپنی سند کے ساتھ حضرت امام شافعیؒ سے نقل کرتے ہیں کہ بعید نہیں کہ یہ روایت جو حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے منسوخ ہو ورننہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آنحضرتﷺ کا یک حکم ان کو معلوم ہو اور پھر وہ دیدہ دانستہ اس کے خلاف عمل کرتے اور فتویٰ دہتے ہوں ۔(سنن الکبری جلد ۷ ص۳۳۷) ااور ان کا یہ ارشاد بعید از قیاس نہیں ہے کیونک ہطلاق کے سلسلہ میں پہلے تین طلاقیں دے چکنے کے بعد  بھی رجوع کیا جاسکتا تھا۔ جو بعد کو منسوخ ہو گیا چنانچہ حضر ت ابن عباسؓ سے ہی روایت  ہے کہ پہلے تین طلاقوں کے بعد رجوع ہو سکتا تھا مگر بعد کو یہ حکم منسوخ ہو گیا ۔(نسائی جلد ۲ ص۱۰۲و ابو داؤد جلد ۱ ص۲۰۱۷)  اور امام ابو داؤد ؒ نے حضرت ابن عباسؓ کی مسلم والی روایت کو باب بقیہ نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث کے تحت داخل کرکے اس کی نسخ کو ثابت کیا ہے ۔ (ابوداؤد جلد ۱ ص۲۹۸) اور علامہ ابو بکر محمدؒ بن موسٰی ؒ الحازمی الشافعیؒ  فرماتے ہیں  کہ پہلے تین طلاقوں کے بعد مراجیعت کا حق پہنچتا تھا مگر بعد کو بالاجماع یہ حکم منسوخ  ہو گیا ، ظاہر قرآن و حدیث اسسہ پر دا؛ پہں ( کتاب الاعتبار ص۱۸۱ اور حافظ  ابن حجرؒ اور  علامہ آلوسیؒ وغیرہ کے حوالہ سے پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ کا اجماع بغیر نسخ کے علم کے بالکل نہیں ہو سکتا اور حافظ ابن تیمیہؒ کے حوالہ سے عرض کیا جا چکا ہے کہ جب کسی مسئلہ پر اجماع ہو گیا ہو تو لا محالہ ان کو نسخ کا علم ہو چکا ہو گا اگرچہ بعض سے نص ناسخ مخفی رہ جائے اور چونکہ حضرت ابن عباسؓ کا فتویٰ ااس حدیث کے ظاہر کے خلاف  ہے اس لیے یہ واضح قرینہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے عہد میں جب تین طلاقوں کے تین ہونے پر اجماع ہو گیا ( اور اجماع وجود ناسخ کی دلیل ہے) تو حضرت ابن عباسؓ مطمئن ہو گئے اور اس کے خلاف فتویٰ دہتے رہے  ورنہ اپنی مروی حدیث کے خلاف ان کا فتویٰ معاذ اللہ تعالٰی ان کی عدالت پر اثر مذاذ ہو گا۔

غیرمقلد نواب صدیق حسن خان صاحبؒ  لکھتے ہیں کہ :۔

ومخالفت راوی از برائے مروی دلیل  است برآنکہ راوی علم ناسخ دارد چہ حمل آن برسلامت واجب است( دلیل الطالب ص۴۷۶)

قاضی شوکانی ؒ نے حضرت ابن عباسؓ کے فتویٰ کے  اس حدیث کے خلاف ہونے کی ایک وہ نسیان اور بھول جانا بھی لکھا ہے (ملاحظہ ہو نیل الاوطار جلد ۲ ص۲۴۷) مگر یہ وجہ بالکل مردود ہے کیونکہ حضرت ابن عباسؓ نے متعد و مواقع پر حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ کی موجود گی میں یہ فتویٰ دیا ہے تو کیا کسی موقر پر بھی ان کو اپنی مروی حدیث یا د نہ آئی َ جب کہ ان کے بغیر روایت صحیح سند کے ساتھ کسی اور صحابی ؓ سے مروی ہی نہیں، ہے یہی وجہ ہے کہ مشہور غیرمقلد عالم مولانا محمد عبداللہ صاحب روپڑی (المتوفٰی ۱۳۸۵ھ) لکھتے ہیں کہ امام شوکانیؒ نے جو بھولنا وجہ بیان کی ہے یہ بالکل ٹھیک نہیں  الخ ۔ (ایک مجلس کی تین طلاقیں ضمیہ تنظیم اہل حدیث روپڑ ص۳)

۴۔ چہارم:۔

حضرت ابن عباسؓ کی اس روایت کا یہ مطلب نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ اورعہد صدیقی میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک قرار دیا جاتا  تھا بلکہ یہ مطلب ہے کہ  اس عہد میں عموماً ایک وقت میں بجائے تین طلاقوں  کے صرف ایک طلاق دی جاتی تھی (اس کے بعد اگر خاوند مناسب سمجھتا تو دوسرے اور تیسرے طہر میں  مزید طلاق  دیدیتا ورنہ  ایک طلاق پر ہی اکتفا کرلیتا اور عدت گذر جانے کے بعد عورت اس کے نکاح سے آزاد ہو جاتی ) اگر چہ تین کاثبوت بھی اس مبارک عہد میں ہے جیسا کہ حضرت محمودؓ بن لبید ؓ وغیرہ کی روایت با حوالہ پہلے گذر چکی ہے مگر نسبتاً ایساکم ہوتا  تھا لیکن بعد  کو حضرت عمرؓ کے زمانہ میں تین کا رواج بکثرت  ہو گیا اور انہوں نے تین ہی کو لوگوں پر نافذ کر دیا اور حضرت عمرؓ کا یہ ارشاد اس کی تائید کرتا ہے کہ شریعت نے ان کو تدبر کا موقع یا تھا لیکن لوگوں نے جلد باز ی سے کام لینا شروع کر دیا ہے لیکن جب لوگوں نے اس کا التزام کیا ہے تو ہم بھی ان کو ان پر نافذ کئے دیتے ہیں اور ایک روایت میں تتابع الناس فی الطلاق کے الفاظ آئے ہیں کہ عہد فاروقی میں لوگوں نے لگاتار طلاق دینا روع کر دیا ۔ حضرت ابن عباسؓ کی اس رویت کا یہ مطلب نہیں کہ عدد اور گنتی کے لحاظ سے تو تین طلاقیں ہوتی تھیں مگر شمار میں ایک ہوتی تھی اور اس مطلب کے لیے مشہور تابعی ابراہیم نخعیؒ (المتوفٰی۹۵) کی وہ روایت دلیل اور قرینہ ہے جو مصنف ابن ابی شیبہ ؒ وغیرہ میں  آتی ہے۔

کانو ایستحجسون ان یطلقھا واحدۃ ثم یترکھا حتی تحیض ثلاث حیض (نصب الرأیہ جلد ۳ص۲۲۰ و رویہ ص۲۲۶)

”کہ وہ حضرات اس کو پسند کرتے تھے کہ بیوی کو صرف ایک ہی طلاق دی جائے پھر اس کو چھوڑ دییا جائے یہاں تک کہ تین حیض اس پر گذر جائیں۔



حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں یہ روایت باسناد صحیح ہے۔ (درایہ ص۲۲۶)



اور محدث جلیل امام عبید اللہ  عبدلکریم ، ابو الوزرعہ الرازی ؒ (المتوفٰی ۲۶۸ھ) اس طرض حکم  تو نہیں دیا تو لے سنت کی خلاف ورزی کی ہے سنت تو یہ ہے کہ جب طہر کا زمانہ آئے تو ہر طہر کے وقت س کو طلاق دے وہ فرماتے  ہیں کہ آنحضرت ﷺ مجھے حکم دیا کہ  تو رجوع کرلے چنانچہ میں نے رجوع کرلیا پھر آپ نے مجھ سے فرمایا کہ جب وہ طہر  کے زمانہ میں داخل ہو تو اس کو طلاق دے دینا اور مرضی  ہوئی تو بیوی بنا کر رکھ لینا۔

فقلت یارسول اللہافرأیت اوانی طلقھا ثلاثا کان یحل  لی ان ارجعھا قال لاکانت تعبین منک وتکون معصیۃ (سنن الکبری جلد ۷ ص۲۳۴ دار قطنی جلد ۲ ص۴۳۸ مجمع الزوائد جلد ۴ ص۳۳۶ و نصب الرأیہ جلد ۳ ص۲۳۰)

”اس پر میں آپ سے عرض کیا یارسول اللہ یہ تو بتلائیں کہ اگر میں اس کو تین طلاقیں دے دیتا تو کیا میرے لیے حلال ہوتا کہ میں اس کی طرف رجوع کر لیتا ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں وہ تجھ سے جد ا ہو جاتی اور یہ کاروائی معصیت ہوتی“۔

اس روایت سے معلوم ہؤا کہ تین طلاقیں دے چکنے کے بعد پھر رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی اس حدیث کے راوی جو سنن الکبری میں ہیں مع توثیق یہ ہیں ۱۔ امام ابو عبداللہ الحافظ المعروف بالحاکم صاحب المستدرک جو الحافظ الکبیر اور امام المحدثین تھے۔(تذکرۃ الحفاظ جلد ۳ ص۲۲۷) ابو بکر احمدؒ بن الحسنؒ اور ابو العباس محمد بن یعقوبؒ علامہ ذہبی ؒ  ان کو الامام الثقہ اور محدث مشرق لکھتے ہیں (تذکرہ ص۷۳ جلد ۳) ۳۔ ابو امیہ طرطوسی ؒ ، علامہ ذہبی ؒ ان کو الحافظ الکبیر لکھتے ہیں امام ابو بکر الخلال ؒ فرماتے ہیں کہ وہ ففن حدیث کے امام اور بلند شان کے مالک تھے۔ (تذکر جلد ۲ ص۱۴۴) ۴۔ معلٰی بن منصور علامہ ذہبی ؒ ان کو الحافظ الفقیہ اور احد الاعلام لکھتے ہیں۔ (تذکرہ ج۱ ص۳۴۳) ۵۔ شعیب ؒ بن رزیقؒ امام دارقطنی انکو ثقہ کہتے ہیں ابن حبان ان کو ثقات میں لکھتے ہیں مگر عطا خراسانی کے طریق سے ان کی روایت میں کلام کرتے ہیں محدث وحیم ؒ فرماتے ہیں کہ وہ لابأس بہ تھے۔(میزان جلد ۱ ص۴۴۷ و تہذیب التہذیب جلد ۴ ص۳۵۳ ) علامہ ابن حزم ؒ ان کو ضعیف کہتے ہیں لیکن ابن حزم ؒ روات کی جرح و تعدیل میں فاحش غلطیاں کرجاتے ہیں ، چنانچہ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ ابن حزم ؒ قوت حافظہ کے گھمنڈ پر جرح و تعدیل میں فاحش غلطیاں کر جاتے ہیں اور بری طرح وہم کا شکار ہو جاتے ہیں  (لسان المیزان جلد ۴ ص۱۹۸) یہی وجہ ہے کہ ابن حزم کہتے ہیں کہ امام ترمذی مجہول ہیں  (میزان جلد ۳ ص۱۱۷)

اگر امام ترمذی مجہوم ہیں تو دنیا میں معروف کون ہوگا۔  ؟ اور امام ابو القاسم بغوی ؒ وغیرہ پر بھی وہ جرح کرتے ہیں (ملاحظہ ہو الرفع والتکمیل ص۱۹) حالانکہ وہ فن حدیث کے بلا مدافعت امام ہیں، اگر بافرض اس روایت میں کچھ ضعیف بھی ہو تو جمہور ائمہ کے  تعامل سے یہ حدیث پھر  صحیح ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حزم فرماتے ہیں کہ :۔

واذا وردحدیث مرسل اوفی احد نا قلیہ ضعف فوجد ناذلک الحدیث مجمعاً علی اخذہ  والقول بہ علماً یقیناً انہ حدیث صحیح لاشک فیہ الخ (توجیا االنظر الٰی اصول الاژر ص۵۰ طبع مصر)

”اور جب کوئی مرسل روایت آئے یا کوئی ایسی روایت ہو جس کی روایت میں سے کسی میں کوئی ضعف ہو لیکن اس حدیث کو لینے اور اس پر عمل کرنے کے سلسلہ میں اجماع واقع ہو چکا ہو تو ہم یقیناً یہ جان لیں گے  کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں“۔



اور چونکہ تین طلاقوں کے تین ہونے پر اجماع ہے جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے لہذا اگر اس روایت کے کسی راوی ممیں کچھ ضعف بھی ہو تب بھی کوئی ضائقہ نہیں اور ابن حبان

دوسری دلیل ۲:۔

حضرت رکانہ ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی اور آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے رکانہ تم رجوع کر لو۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ! میں نے تو بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں تم رجوع کرلو۔(ابوداؤد جلد۱ص۲۸۹ و سنن الکبری جلد ۷ ص۳۳۹)

اس روایت سے ثابت ہوا کہ تین طلاقیوں کے بعد بھی رجوع ثابت ہے اور یہ جبھی ہو سکتا ہے کہ تین طلاقیں بیک وقت واقع نہ ہوں ورنہ رجوع  کا کیا معنیٰ۔

الجواب:۔

اس سے تین طلاقوں کے عدم وقوع پر استدلال صحیح نہیں ہے اولاً اس لیے کہ اس کی سند میں بعض نبی ابی رافع موجود ہیں جو مجہول ہیں چنانچہ امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ رکانہ ؓ کی وہ حدیث جس ممیں آتا ہے کہ انہوں نے تین طلاقیں دی تھیں وہ حدیث ضعیف ہے۔ کیونکہ اس میں مجہول راوی موجود ہیں۔ (شرح مسلم جلد ۱ ص۴۷۸)

اور علامہ ابن حزمؒؒ فرماتے ہیں  کہ بعض نبی ابی رافع مجہول ہیں اور مجہول سند سے حجت قائم نہیں ہو سکتی ۔ (محلی جلد ۱۰ ص۱۶۸) لہذا اس روایت کی سند ایسی نہیں کہ اس سے استدلال کیا جاسکے اور خصوصاً حلال و حرام کے مسئلہ میں اور وہ بھی قرآن و حدیث اور جمہور امت کے اجماع کے مقبلہ میں حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہانپوری ؒ (المتوفٰی ۱۳۴۶ھ) فرماتے ہیں کہ مستدرک میں بعض بنی ا بی رافع کی تعین بھی آئی ہے کہ وہ محمد بن عبید اللہ ن ابی رافع تھے( بزل الجمہور جلد ۳ص۶۹) لیکن یہ نہایت ہی ضعیف اور کمزور راوی ہے علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں کہ امام بخاری اس کو منکر الحدیث اور امام ابن معین لیس بشی اور امام ابو حاتم اسکو ضعیف الحدیث اور منکر الحدیث جلد کہتے ہیں اور امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ وہ متروک  ہے علامہ ذہبی ؒ فرماتے ہیں کہ محدثین انکی  تضعیف کرتے ہیں کہ ہو نہایت ہی ضعیف اور کمزور راوی ہے ۔(میزان میزان ج۳ص۹۷، تہذیب التہذیب)

 اور محدث لبن عدیؒ انکو کوفی کے شیعہ میں بیان کرتے ہیں ۔(تہذیب التہذیب ج۹ ص۳۳۱ ) جن کا مذہب  ہے کہ  وہ  تین طلاقوں کو  ایک ہی تصور کرتے ہیں اور ایک اور روایت میں بھی شیعہ رایوں نے گڑ بڑ ککی ہے چننانچہ امام دارقطنیؒ فرماتے ہیں  کہ جب راویوں نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہؒ بن عمرؓ نے بحالت حیض اپنی بیوی کو  تین طلاقیں دی تھیں وہ سب کے سب شیعہ ہیں صحیح روایت یہ ہے کہ انہوں نے صرف ایک ہی طلاق دی تھی ۔(سنن دارقطنی جلد ۲ ص۴۲۷) اور امام بخاری ؒ فرماتے ہیں کہ جس راوی کے بارے میں  میں منکر الحدیث کہوں و اس سے روایت کرنا جائز نہیں ۔(میزان الاعتدلال جلد ۲ ص۵ طبقات سبکی جلد ۳ ص۹ وتدریب الراوی ص۲۳۵) گویا امام بخاری ؒ کی تحقیق کے رو سے ااسروایت کا بیان کرنا ہی جائز نہیں ہے۔

وثانیاً ۳:۔  حضرت رکانہؓ کی صحیح روایت میں بجائے تین طلاق کے بتہ کا لفظ ہے ۔ چنانچہ ابو داؤد فرماتے ہیں کہ:۔

ھذا صح من حدیث ابن جریج ان رکانۃ طلق امرأتہ مثلاثا لانھم اھل بیتہ وھم  اعلم بہ ۔۔ الخ (جلد ۱ ص۳۰۱ وکذا فی سنن الکبری جلد ۷ص۳۳۹)

”حضرت رکانہ ؓ کی یہ روایت (جس ممیں ربتہ کا لفظ موجود ہے) ابن جریج ؒ کی روایت کے زیادہ  صحیح ہے جس میں آتا ہے کہ انہوں نے تین  طلاقیں دی تھیں کیونکہ بتہ والی حدیث ان ک گھر والے بیان کرتے ہیں اوور  وہ اس کو زیادہ جانتے ہیں۔

اور قاضی شوکانی ؒ لکھتے ہیں کہ:۔

واثبت ماروی فی قصتہ دکانہ ؓ انہ طلقھا البۃ لاثلاثا۔ ۔۔ الخ (نیل الاوطار جلد ۲ص۲۴۶)

حضرت رکانہؓ کے واقعہ میں ثابت اور صحیح روایت یہ ہے کہ انہوں نے بتہ طلاق دی تھی نہ کہ تین ۔

امام نووی ؒ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض روایت نے لفظ بتہ کو تین سمجھ کر ثلاثا کا لفظ اپنی غلط سمجھ  کے مطابق کہہ دیا ہے۔ (محصلہ جلد ۱ص۴۷۸)



الغرض اس روایت سے تین  طلاقوں کا اثبات اور ٌھر تین کو ایک قرار دینا اور پھر خاوند کو رجوع کا حق دلوانا ظلمات بعضھا فوق بعض کا مصداق ہے اور حلال و حرام کے بینادی مسئلہ میں ایسی ضعیف و کمزور اور مجمل روایتوں پر اعتماد بھی کب جائز ہے ؟ اور پھر وہ بھی صحیح اور صریح روایات اور اجماع امت کے مقابلہ میں۔

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ الْکَبِیْرُ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمٰعِیْلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یُوْسُفَ قَالَ اَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ اَنَّ سَھْلَ بْنَ سَعْدٍ السَاعِدِیَّ اَخْبَرَہُ…قَالَ عُوَیْمَرُکَذِبْتُ عَلَیْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْ اَمْسَکْتُھَا فَطَلَّقَھَا ثَلاَ ثًا قَبْلَ اَنْ یَّامُرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ {وَفِیْ رِوَایَۃ ٍ}قَالَ فَطَلَّقَھَاثَلاَثَ تَطْلِیْقَاتٍ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَنْفَذَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔



(صحیح البخاری ج2ص791 باب من اجاز اطلاق الثلاث، سنن ابی داود ج1ص324 باب فی اللعان)



ترجمہ: حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اس کو اپنے پاس روکوں اور بیوی بناکر رکھوں تو میں نے پھر اس پر جھوٹ کہا پھراس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم صادر فرمانے سے پہلے ہی اس کو تین طلاقیں دے دیں۔(سنن ابی داود کی روایت میں ہے کہ) اس نے اس کو (یعنی عویمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین طلاقیں دیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کونافذکردیا۔

قَالَ الْاِمَامُ اَبُوْبَکْرٍاَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْھَقِیُّ اَخْبَرَنَا اَبُوْزَکَرِیَّا بْنُ اَبِیْ اِسْحَاقَ الْمُزَکِّیُّ اَنَا اَبُوالْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ نَاعُثْمَانُ بْنُ سَعِیْدٍنَاعَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہٖ تَعَالٰی {فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ} یَقُوْلُ اِنْ طَلَّقَھَا ثَلَاثًا فَلَا تَحِلُّ لَہُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًاغَیْرَہُ۔



(سنن کبریٰ بیہقی ج7ص376 باب نکاح المطلقۃ ثلاثا)



ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’’اگر کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہوں وہ اس کے لیے حلال نہیں حتی کہ وہ کسی اورمرد سے نکاح نہ کرلے۔‘‘

--







ایک بات سمجھیں ایک یہ ہے کہ اس طرح کہا جائے تجھے تین طلاق ، یہ تین  کا ہندسہ واضح ہے اس کا معنی  قطعاً ایک نہیں ہوتا  ۔ تین کا معنی دو نہیں ہو سکتا، دوسرا طریقہ  یہ ہے کہ اس طرح کہا جائے طلاق، طلاق،طلاق اس میں دو نیتیں ہو سکتی ہیں ۔ تاکید کی نیت بھی ہو سکتی ہے۔ اور ہر مرتبہ طلاق کی نیت بھی ہو سکتی ہے۔



 اس کو مثال سے سمجھیں ایک بچہ شور مچا رہا ہے سانپ سانپ سانپ سانپ اس سے کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ اس بچہ نے چا دفعہ سانپ کہا ہے لہذا سانپ چار ہیں، اگگر بچہ نے پانچ مرتبہ کہا تو سانپ پانچ ہیں نہیں بلکہ بچہ سے پوچھتے ہیں سانپ کتنے ہیں ؟ وہ کہتا ہے ایک، کیونکہ یہ لفظ تاکید کے لئے بھی ہو سکتا ہے۔ لوگ شور کر رہے ہیں چور چور  چور چور  لیکن  ان الفاظ سے یہ پتا نہیں چلے گا کہ چور ہیں کتنے پوچھنا پڑے گا، لیکن اگر کوئی پہلے ہی یہ کہہ رہا ہو دو سانپ، دو سانپ دو سانپ اب کوئی بے وقوف ہی پوچھے گا کہ کتنے سانپ ہیں اگر کوئی کہہ رہا ہو تین چور تین چور کیا اب بھی کوئیپوچھے گا کہ تین کا کیا مطلب ؟ نہیں کیونکہ تین کا عدد واضح ہے۔

وقوع طلاق ثلاثہ بجواب (ایک وقت کی تین طلاقیں دین یا بدعت)



محتر م جناب عمران احمد راجپوت کا کالم ایک وقت کی تین طلاقیں دین یا بدعت کے عنوان سے ہماری ویب میں چھپا جس میں فاضل کالم نگار نے عورت کی عفت و عصمت اس کی بے بسی کا حل اس بات میں تلاش کیا ھے کہ اگر رشتہ ازدواج میں کہیں رخنہ آجائے اور نوبت طلاق تک پہنچ جائے آن واحد کی یا مجلس واحد کی تین طلاقیں ایک شمار کی جائیں۔انہوں نے اپنا مدعٰی ثابت کرنے کے لٔے قرآن و سنت ،امام ابن تیمیہؒاورامام ابن قیمؒکے اقوال فقہ حنفی کی شہرۂ آق کتاب ہدایہ اورامام ابوبکرجصاصؒکے قول نیزچند اسلامی ممالک کی شرعی عدالتوں کا ذکر کرتے ہوے اپنے دلائل مکمل کیے۔اس اندازسے اس مسٔلے کو پیش کیا گویا امت مسلمہ کا اجماعی مسٔلہ ایسا ہی ہے جیسا صاحب کالم نے لکھا ہے اور اس کے مد مقابل مؤقف رکھنے والے اندھے مقلداپنے نظریات کے تحفظ کے لٔے قرآن و حدیث کی واضح نصوص میں تاویلات کرکے شکوک و شبہات پیدا کر کے عوام الناس کو الجھا کر اصل دین سے کوسوں دورلے جاتے ہیں ۔کالم نگار نے دوواقعات سے اپنے کالم کو مزین کیا ہے اور انہیں کا سہارا لیکر اپنا کالم شروع کیا ہے۔



۱۔پہلا واقعہ کسی اداکارعثمان پیرزادہ اور انکی اہلیہ کا ہے جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تھی ایک ہی مجلس میں بقول ان کے حنفی علما ٔ نے طلاق مغلظہ کا فتوٰی جاری کیا جبکہ اھل حدیث کے فتوٰے کے باعث آج بھی وہ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔



۲۔دوسراواقعہ کسی کامران نامی شخص اور ان کی اہلیہ کا ہے ،یہاں بھی اسی طرح کا فتوٰی سامنے آیا ۔ آغاز دلائل میں کالم نگا ر نے آیت:اطیعوااﷲ واطیعوالرسول واولی الامر منکم۔اس کا ترجمہ کیا اطاعت کرو میری اور رسول کی تابعین وتبع تابعین کی اور وقت کے حکمرانوں کی اور اگر جھگڑپڑو تو لوٹ آؤ اﷲ اور اس کے رسول کی طرف۔



جواب ۔یہی آیت جمہور کی بھی دلیل ہے اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔



دلیل ۲۔الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان۔



جواب ۔جمہور کے نزدیک اس کے بعدکی آیت میں حکم خداوندی ہے، فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتٰی تنکح زوجا غیرہ۔یہاں فا تعقیب کے لٔے ہے مطلب دو طلاق کے بعد اگر فی الفور تیسری طلاق بھی کسی نادان نے دی تو اس کے لٔے اس کی بیوی حلال نہیں۔یہ آیت مبارکہ متفرق تین طلاقوں ہی کے لئے متعین نہیں اور نہ اس میں یہ نص ہے کہ یہ دفعتہ تین طلاقوں کو شامل نہ ہو۔لہذا اس کو اپنے مسلک کے لئے واضح نص کہنا ٹھیک نہیں ہے۔چنانچہ علامہ ابن حزمؒکا قول اس آیت سے متعلق فھذا یقع علٰی الثلاث مجموعۃ ومتفرقۃ ۔محلٰی ج ۱۰ ص ۲۰۷ ۔رئیس المفسرین حضرت عبداﷲ بن عباسؓاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں یقول ان طلقہاثلاثافلاتحل لہ من بعدحتٰی تنکح زوجا غیرہ(سنن الکبریٰ جلد ۷ص۳۷۶۔



دلیل۳۔سنن نسأی،کتاب الطلاق ج۲ص۸۹۔ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دیں آپﷺکو خبر دی گئی آپ نے اظہار ناراضگی فرمایا اور فرمایا کے میری موجودگی میں کتاب اﷲ کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ جواب ۔آپﷺنے ناراضگی کا اظہار تو ضرور فرمایا لیکن اس کے باوجود تین طلاقوں کو نافذ بھی فرمادیا جیسا کہ حضرت عویمرؓکی حدیث میں ہے،ابو داؤد ج۱ص۳۰۶۔میں ہے ۔فطلقہاثلاث تطلیقات عند رسول اﷲ ﷺفانقذہ رسول اﷲﷺ۔باوجود غیر مستحسن اور ناراضگی کے تینوں کو نافذ فرما دیا۔



دلیل ۳۔فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ ج۲ص۳۵۵۔باب الطلاق السنہ کا حوالہ دیتے ہوے فرمایا ایک مجلس کی تین طلاقیں بدعت ھیں اور اس طرح طلاق دینے والاعاصی و گنہگار ہو گا۔



جواب۔یہ بات درست ہے کہ اس طرح طلاق دینا خلاف سنت ہے لیکن باوجود گناہ کے وقوع طلاق ہو جاتا ہے۔جو کہ خود ہدایہ میں ہے۔



دلیل ۴۔امام ابن تیمیہؒکا مؤقف ایک طہر میں تین یا زیادہ طلاقیں ایک شمار ہونگی ایک طہر میں اگر ہزارطلاقیں بھی دیں تو بھی اسے رجوع کا حق حاصل ہو گا۔فرمان باری تعالٰی الطلاق مرتان میں دو طلاق نہیں بلکہ دو مرتبہ کا ذکر ہے۔



دلیل ۵۔حافظ ابن قیم ؒ کے نزدیک صرف لفظی تکرار نہیں بلکہ ایک کے بعد دوسری دفعہ طلاق کا ذکر ہے ۔الطلاق مرتان ،لغت عرب اوردنیا کی تما م زبا نوں میں مرتان کا یہی مطلب ہے۔اورقرآن و حدیث اس کی تائید کرتی ہے۔علامہ ابوبکر جصاصؒکے قول سے بھی تائیدلی۔



جواب ۔ان تینوں دلیلوں کا مقصد ایک ہی ہے اور اس کا جواب اوپر دیا جا چکا ہے کہ الطلاق مرتان کے بعد والی آیت میں فان طلقہاالخ جس طرح متفرق طلاقوں کو شامل ہے اسی طرح اگٹھی تین کو بھی شامل ہے۔ دلیل۶۔حضرت عبداﷲ بن عباس ؓکی روایت ہیکہ آپﷺکے مبارک دور ابوبکرؓاور عمرؓ کے دورکے ابتدائی دوسال تک تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں،مسلم شریف ج۱،اور ایک روایت میں ابوالصہباءؒکے سوال کے جواب میں یہی بات ارشاد فرمائی۔



جواب۔طاؤسؒجوروایت کرتے ابن عباسؓ سے اس روایت کو مطلقا نہیں مانتے بلکہ کہتے ہیں یہ مخصوص ہے غیر مدخول بہا کے ساتھ(جواہر النقی علٰی البہیقی ج۷ص۳۳۱) اس کے علاوہ ابن عباس کے دیگر شاگردسعید ابن جبیرؒ عطاء بن ابی رباحؒ،مجاہدؒعکرمہؒ،عمربن دینارؒ،مالک بن الحویرثؒ،محمد بن ایاس بن بکیرؒاور معاویہ بن ابی عیاشؒ روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس ؓنے تین طلاق کو تین ہی قرار دیا۔(سنن الکبرٰی ج۷ص۳۳۸)،جب خود ابن عباسؓ کا نظریہ تین کے تین ہی ماننے کا ہے تو اس روایت کااطلاق ثابت نہیں ہوتا۔امام بہیقیؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاری ؒنے اس روایت کی تخریج اس لئے نہیں کی کہ ابن عباسؓ کی جملہ صحیح روایت اس کے خلاف ہیں۔(محصلہ سنن الکبرٰی ج۷ص۳۳۷)لہذٰااس روایت کو اپنا مدعٰی ثابت کرنے کیلئے دلیل بنا نا جبکہ خود راوی کا فتوٰی اس کے خلاف ہواورطاؤس روایت بیان کرنے میں متفرد بھی ہیں۔وہ اس روایت کو مقید اور مخصوص سمجھتے ہوں اور اسی پر فتوٰی بھی دیتے ہوں تو ایسی روایت کو سب سے بڑی دلیل مانناجس پر حلال وحرام کا مدار ہومحض ضد بازی وتحکم کے سوا کچھ نہیں۔ دلیل۷۔ابن عباس کی روایت ہے رکانہ ؓنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں ایک ہی مجلس میں آپﷺنے فرمایا رجوع کر لواور یہ آیت یاایھاالنبی اذاطلقتم النساء الخ پڑھی۔



جواب۔اس کی سند میں محمد بن اسحاق ضعیف ہے،امام ابو حاتمؒ(کتاب العلل ج ۱ص۴۳۳) امام مالک اس کو دجال کہتے ہیں،یحیٰ بن معینؒ اس کو کذاب کہتے ہیں علامہ ذھبیؒ کہتے ہیں حلال و حرام کے بارے میں اس سے احتجاج صحیح نہیں۔رکانہ ؓکی صحیح روایت میں ثلاث کے بجائے البۃ کا لفظ ہے۔قاضی شوکانیؒ نیل الاوطارج۶ص۲۴۶میں لکھتے ہیں،واثبت ما روی فی قصتہ رکانۃانہ طلقہا البۃ لا ثلاثاالخ رکانہ نے البۃ طلاق دی نہ کہ تین۔



دلیل۔عبداﷲ بن عمرؓ نے ابنی بیوی کو حالت حیض میں تین طلاقیں دیں عمرؓ نے آپﷺسے مسئلہ پوچھا آپ نے رجوع کا حکم دیا ابن عمرؓ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا تین طلاقیں دیں جو کہ ایک ہی ہوتی ہے۔ جواب۔واقعہ یوں ہے ابن عمرؓ نے حالت حیض میں طلاق دی تھی آپﷺنے ناپسند کیا اور رجوع کا حکم دیا،ابن عمر ؓنے پوچھا۔یا رسول اﷲ افراٗیت لو انی طلقتہا ثلاثاکان یحل لی ان اراجعہا قال لاکانت تبین منک وتکون معصیۃ(سنن الکبرٰی ج۷ص۳۳۴) اے اﷲ کے رسول اگر میں تین طلاقیں دیتا تو رجوع کر سکتا تھا آپ نے فرمایانہیں وہ تم سے جدا ہو جاتی اوریہ اقدام معصیت ہوتاتو ابن عمرؓ کا مسلک بھی تین طلاقوں کے وقوع کا ہے۔یہی فتوٰی محمدی ہے۔ اس کے بعد کالم نگارنے کہاکہ یہ مہر محمدی ہے ،مہرفقہا ء کو چھوڑ دو۔



قارئین آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ مہر محمدی اور مہر فقہاء کس فریق کے پاس ہے جمہور کے پاس یا صاحب کالم اور ان کی جماعت کے پاس جو آٹے میں نمک کا مصداق ہیں۔



مسئلہ تین طلاق یعنی ایک شخص اپنی بیوی کوایک ہی لفظ میں کہے تجھے تین طلاق یا کہے تجھے طلاق طلاق طلاق یا ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے توتین ہی شمار ہوں گی یا ایک شمار ہو گی(جیسا کہ صاحب کالم نے لکھا)؟



قراٰن کریم،مرفوع احادیث ،فتوٰی محمدی،خلفائے راشدین کے فتاوٰی جات اور پوری امت کا اجماع اسی بات پر ہے کہ تین طلاقیں واقع ہو جاتیں ہیں،چائے ایک لفظ سے دی جائیں یا متفرق،ایک مجلس میں دی جائیں یا ایک طہر میں۔اس موضوع پر دلائل کے انبار لگائے جاسکتے ہیں لیکن یہ کالم اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔اجمالاچند دلائل ذکر کئے جاتے ہیں۔



۱۔قراٰن کریم آیت۲۲۸بقرہ،فان طلقہافلاتحل لہ من بعدحتٰی تنکح زوجا غیرہ۔



۲۔مرفوع حدیث۔ان رجلا طلق امراٰتہ ثلاثاالخ(بخاری ج۲ ص۷۹۱)



۳۔مرفوع حدیث ۔عن الرجل یتزوج المراٗۃ فیطلقہاثلاثاالخ(مسلم ج۱ ص۴۱۳)



۴۔عن علی فیمن طلق امراٗتہ ثلاثا قیل ان یدخل بھا قال لا تحل لہ حتٰی تنکح زوجا غیرہ۔(سنن الکبرٰی ج ۷ص۳۳۴)



۵۔عن الحسن بن علی قال لو لا انی سمعت جدی الخ(دارقطنی ج۲ص۴۲۷)



۶۔باب من یطلق امراٗتہ ثلاثا معا ان طلاقہ قد لزمہ وحرمہا علیہ فھذا کلہ قول ابی حنیفۃؒویوسفؒ ومحمدؒ(شرح معانی الاٰثار ج۲ ص۴۱۸



۷۔شارح مسلم امام نوویؒ،شرح مسلم ج۱ص۴۷۸میں لکھتے ہیں،من قال لامراٗتہ انت طالق ثلاثافقال شافعی ؒو مالکؒ و ابوحنیفۃؒ واحمدؒ وجماھیرالعلماء من السلف والخلف یقع الثلاث۔



۸۔حضرت عمر کے دور خلافت میں اس مسٗلہ پر اتفاق ہو چکا کہ تین طلاقیں تین ہی ہیں اورصحابہ کرامؓ کا قولی و فعلی دونوں قسم کا اجماع اس پر ہے چنانچہ حافظ ابن حجرعسقلانیؒ لکھتے ہیں اب اس مسئلے پر اختلاف کرنا مردود ہے(فتح الباری ج۹ص۲۹۳)



۹۔علامہ آلوسی فرماتے ہیں صحابہ کرامؓ کا اس پر اتفاق ہو چکاتوبغیر کسی نص کے تو یہ نہیں ہو سکتایہی وجہ ہے کہ جمہور علماء کا اس پر اتفاق ہے۔(روح المعانی ج۲ص۱۱۸)



۱۰۔حافظ ابن القیم ؒ(جن کو صاحب کالم نے اپنے لیے دلیل بنایا )تحریر فرماتے ہیں جمہور نے یہی مذہب عمرؓ،علیؓ،ابن مسعوؓد،ابن عمرؒ،ابن عباسؓ،ابن عمروؓ،ابن زبیرؓ،عمران بن حصینؓ ،مغیرہ بن شعبہؓ اورحسن بن علیؓ کا نقل کیا ہے اور تابعین کا تو کوئی شمار ہی نہیں(اغاثۃ اﷲان ج۱ص۳۲۲)یہ مختصرا دس دلائل ہوےء تلکہ عشرۃ کاملۃ۔



آخر میں سعودی عرب کامتفقہ فیصلہ قارئین کی نظر کرتا ہوں تاکہ حق خوب واضح ہو جائے،کیوں کے صاحب کالم نے سعودی عرب کی عدالت کا ذکر کیا تھاتوملاحظہ کیجیے۔



حکم الطلاق الثلاث بلفظ واحد:ھیئۃکبارالعلماء۔



حکومت سعودیہ نے اپنے ایک شاہی فرمان کے ذریعہ علماء حرمین اور ملک کے دوسرے نامور ترین علماء کرام پر مشتمل ایک تحقیقاتی مجلس قائم کر رکھی ہے،جس کا فیصلہ تمام ملکی عدالتوں میں نافذہے،بلکہ خود بادشاہ بھی اس کا پابند ہے اس مجلس میں: طلاق ثلاث:کامسئلہ پیش ہوا۔مجلس نے اس مسئلہ سے متعلق قراٰن و حدیث کی نصوص کے علاوہ تفسیروحدیث کی سینتالیس کتابیں کھنگالنے اور سیر حاصل بحث کے بعدبالاتفاق واضح الفاظ میں فیصلہ دیا ہے،ایک لفظ سے دی گئی تین طلاقیں بھی تین ہی ہیں۔



یہ پوری بحث اور متفقہ فیصلہ حکومت سعودیہ نے زیر نظررسالہ میں شائع کیا ہے،غیرمقلدین اکثرمختلف فیہ مسائل میں اھل حرمین کے عمل کوبطور حجت پیش کرتے ہیں،یہ فیصلہ بھی علماء حرمین کا ہے اس لئے غیرمقلدین پر حجت ہے۔(احسن الفتاوٰی ج۵ص۲۲۵)



اس کے علاوہ اس کے تفصیل سہ ماہی مجلہ بحوث اسلامیہ،دارلافتاء ریاض ص۳ ج۱ میں دیکھا جاسکتاہے۔



پوری امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ تین طلاق تین ہی ہوتی ہیں ایک نہیں ایک تاریخی حقیقت سے بھی پردہ اٹھانا ضروری سمجھتا ہوں کہ جمہور کے اس متفقہ مسئلہ کے خلاف آٹھویں صدی میں علامہ ابن تیمیہؒنے آواز اٹھائی جس کی تردیدخود اکابر حنابلہ نے بھی کی تھی البتہ ابن قیمؒ نے اپنے استاد کی تائید کی جس کی پاداش میں انہیں حکومت وقت کی طرف سے سزا دی گئی کیونکہ اس وقت تک تین طلاق کو ایک قرار دے کر شوہر کے لئے مطلقہ ثلاثہ کو حلال قرار دینا نہ صرف جمہور کے خلاف تھا بلکہ وہ روافض کا شعار بھی تھا،اس لئے تما م علماء مذاہب وسلاطین اسلام کے متفقہ فیصلوں کی وجہ سے یہ فتنہ دب گیامگر پانچ سو سال بعد ہندوپاک کے اہل حدیث نے اس فتنے کو پھر سے جگانے کی کوشش کی اس تلبیس سے کام لیا جاتا گویا قراٰن وحدیث کے نصوص سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ تین طلاق ایک ہی ہوتی ہیں جیسے فاضل کالم نگار نے لکھا ساتھ ہی معتد اسلامی ممالک کی عدالتوں کاذکر بھی کر دیا آں جناب سے ملتمس ہوں کے بلا دلیل وحوالے کہ تومیں بھی آٹھاون اسلامی ممالک کے نام لکھ سکتا ہوں مہربانی فرماکر حوالہ دیجئے ورنہ یوں دنیا کے قلابے مارنے سے حق ثابت نہیں ہوتا۔




سعودی علماء نجدیہ وہابیہ کی راۓ

مجموعہ رسائل و مسائل علماء نجد کے جامع شيخ عبد الرحمن بن محمد بن قاسم العاصمي النجدي الحنبلي، الشيخ عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب كا فرمان لکھتے ہیں کہ: ہمارے نزدیک امام ابن القیم اوران کے شیخ (ابن تیمیہ) أهل السنة میں سے حق کے امام ہیں، اور ان کی کتابیں ہمارے نزدیک مستند کتابیں ہیں، لیکن ہم ہر مسئلہ میں ان (امام ابن القیم اور امام ابن تیمیہ) کی تقلید نہیں کرتے کیونکہ سوائے ہمارے نبی محمد صلى الله عليه وسلم کے ہر کسی کا قول لیا بهی جاتا ہے اور چهوڑا بهی جاتا ہے، لہذا ہم نے کئی مسائل میں ان دونوں (امام ابن القیم اورامام ابن تیمیہ) کی مخالفت کی ہے جو کہ ایک معلوم بات ہے، مثلا انہی مسائل میں سےایک لفظ کے ساتھ ایک مجلس میں تین طلاقوں کا مسئلے میں ہم أئمہ أربعہ (امام أبوحنیفہ، امام شافعی، امام أحمد بن حنبل، امام مالک) کی پیروی کرتے ہیں، (یعنی ایک لفظ کے ساتھ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے سے تینوں واقع ہوجاتی ہیں، یہی أئمہ أربعہ اور جمہور أمت کا اور یہی شیخ ابن عبدالوهاب اور اس کے پیروکاروں کا مسلک هے.[الدرر السنية : كتاب العقائد ، ١/٢٤٠]؛



========================================== ائمہ اربعہ اور جمہور علمائے سلف وخلف کا مسلک یہ ہے کہ ایک مجلس میں یا ایک ہی کلمہ کے ذریعہ تین طلاق دینے سے تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور ان کے ذریعہ بیوی مغلظہ بائنہ ہوجاتی ہے اور حلالہ شرعیہ کے بغیر شوہر اول کے لیے حلال نہیں ہوتی۔ یہی قول اکثر صحابہ تابعین اور بعد کے ائمہ اربعہ میں سے اکثر اہل علم کا ہے، ارو یہی قول قرآن وحدیث واجماع صحابہ سے ثابت ہے۔ 

:دلیل نمبر1

قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ۔

(سورۃ بقرۃ:230)

ترجمہ: اگر(کسی نے )اپنی بیوی کوطلاق دی تو اب(اس وقت تک کے لیے اس کے لیے ) حلال نہیں۔ یہاں تک کہ اس خاوند کے علاوہ دوسرے سے نکاح نہ کرلے۔



 قَالَ الْاِمَامُ مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ الشَّافِعِیُّ:وَالْقُرْآنُ یَدُلُّ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ عَلٰی اَنَّ مَنْ طَلَّقَ زَوْجَۃً لَّہُ دَخَلَ بِھَا اَوْلَمْ یَدْخُلْ بِھَا ثَلَاثًا لَمْ تَحِلَّ لَہُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ۔

(کتاب الام ؛امام محمد بن ادریس الشافعی ج2ص1939)

ترجمہ: امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’قرآن کریم کاظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، خواہ اس سے ہمبستری کی ہو یا نہ کی ہو تووہ عورت اس شخص کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اورمرد سے نکاح نہ کرلے۔‘‘



 قَالَ الْاِمَامُ اَبُوْبَکْرٍاَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْھَقِیُّ اَخْبَرَنَا اَبُوْزَکَرِیَّا بْنُ اَبِیْ اِسْحَاقَ الْمُزَکِّیُّ اَنَا اَبُوالْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ نَاعُثْمَانُ بْنُ سَعِیْدٍنَاعَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہٖ تَعَالٰی {فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ} یَقُوْلُ اِنْ طَلَّقَھَا ثَلَاثًا فَلَا تَحِلُّ لَہُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًاغَیْرَہُ۔

(سنن کبریٰ بیہقی ج7ص376 باب نکاح المطلقۃ ثلاثا)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’’اگر کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہوں وہ اس کے لیے حلال نہیں حتی کہ وہ کسی اورمرد سے نکاح نہ کرلے۔‘‘





:دلیل نمبر2

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْم�

Three teen talaq مسلہ تین طلاق تین طلاق کا حکم حصہ part 2

تین طلاق تین ہی ہوتی ہیں ۔ احناف کے مضبوط دلائل قرآن و سنّت کی روشنی میں Part.II

:دلیل نمبر2

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْم�







غیر شرعی طلاقیں بھی نافذ ہوجاتی ہیں



حالت_حیض میں طلاق دینا ممنوع ہے، مگر دی گئی تو طلاق ہوجاتی ہے، ورنہ رجوع کرنے کا حکم نہ ہوتا، ایسے ہی تین طلاق دینے سے بھی طلاق ہوجاتی ہیں اور بیوی حرام ہوجاتی ہے.



حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا ، ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضِهَا ، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا ، فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ لِأَحَدِهِمْ : إِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ ، حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ . وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ . عَنْ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا .  [صحيح البخاري » كِتَاب الطَّلَاقِ » بَاب وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ سورة البقرة ..., رقم الحديث: 4944(5332]؛



 قتیبہ، لیث، نافع کہتے ہیں کہ ابن عمربن خطاب رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں ایک طلاق دے دی تو ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ رجوع کرلے، پھر اس کو روکے رکھ، یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے، پھر اس کے پاس اسے دوسرا حیض آجائے، پھر اس کو رہنے دے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے، اگر وہ اس کو طلاق دینا چاہتا ہے تو طلاق دے دے جب کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے لیکن صحبت سے پہلے، یہی وہ عدت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو ایک شخص سے کہا کہ جب تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے تو وہ تجھ پر حرام ہے، یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے، اور دوسرے لوگوں نے اس میں اضافہ کے ساتھ لیث سے بواسطہ نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا کہ کاش! تو عورت کو ایک یا دو طلاقیں دیتا اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا مجھے حکم دیا تھا۔ [صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 306 (5017)    - طلاق کا بیان : اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان کا شوہر عدت میں ان کے لوٹانے کا زیادہ مستحق ہے اور کس طرح عورت سے رجوع کیا جائے جب کہ اس کو ایک یا دو طلاقیں دے دے]















حدیث میں ہے:



”عن مجاہد قال کنت عند ابن عباس فجاء ہ رجل فقال انہ طلق امراتہ ثلاثاً قال فسکت حتی ظنت انہ رآدہا الیہ ثم قال ینطلق احدکم فیرکب الحموقة ثم یقول: یا ابن عباس یا ابن عباس وان الله تعالیٰ قال ومن یتق الله یجعل لہ مخرجاً، وانک لم تتق الله فلااجد لک مخرجاً، عصیت ربک وبانت منک امراتک“۔ (سنن ابی داؤد ج:۱/۲۹۹ ط حقانیہ)؛



ترجمہ:…”مجاہد سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں (کیا حکم ہے) حضرت ابن عباس نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش ہوگئے (مجاہد کہتے ہیں) مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید ابن عباس اس کی بیوی کو واپس لوٹانے والے ہیں پھر ابن عباس نے فرمایا: کہ تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان پر حماقت سوار ہوتی ہے، پھر میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے یا ابن عباس یا ابن عباس جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لئے راستہ نکالتا ہے اور تو اللہ تعالیٰ سے ڈر انہیں (اور بیک وقت تین طلاقیں دیدی) اس لئے قرآن کے مطابق تمہارے لئے کوئی راستہ نہیں پاتا تونے خدا کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم پر حرام ہوگئی ہے اور تم سے جدا ہوگئی ہے“۔



اور ابوداؤد اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:



”روی ہذا الحدیث حمید الاعرج وغیرہ عن مجاہد عن ابن عباس… کلہم قالوا فی الطلاق الثلاث انہ اجاز ہا قال وبانت منک…“ (ابی داؤد ج:۱/۲۹۹ ط حقانیہ)؛



یعنی ان حضرات نے ابن عباس سے روایت بیان کی ہے یہ تمام رواة متفقہ طور پر نقل فرمارہے ہیں کہ ابن عباس نے تین طلاقوں کو نافذ فرمادیا اور فتویٰ دیا کہ عورت جدا ہوگئی۔اسی طرح نسائی شریف کی حدیث میں ہے:



”عن محمود بن لبید قال اخبر رسول الله ا عن رجل طلق امراتہ ثلاث تطلیقات جمیعاً فقام غضباناً ثم قال ایلعب بکتاب الله وانا بین اظہر کم حتی قال رجل وقال یا رسول الله الا اقتلہ“۔ (ج:۲/۹۹ ط قدیمی)؛



ترجمہ:…”محمود بن لبید سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ الصلاة و السلام کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اکٹھی دیدیں ہیں۔ آپ علیہ السلام نے غضبناک ہوکر تقیریر فرمائی کہ کیا کتاب اللہ کے ساتھ کھیل کیا جارہا ہے، حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں، آنحضرت اکا یہ غصہ دیکھ کر ایک صحابی کھڑے ہوگئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اسے قتل نہ کردوں“۔



حدیث مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ تین طلاقیں مجتمعاً واقع ہوجاتی ہیں۔ اگر واقع نہ ہوتیں تو آنحضرت ا غضبناک نہ ہوتے اور فرمادیتے کہ کوئی حرج نہیں رجوع کرلو۔



اسی طرح مؤطا امام مالک میں ہے؛

”عن مالک بلغہ ان رجلاً قال لابن عباس انی طلقت امرأتی مأة تطلیقة ما ذاتری علی؟ فقال لہ ابن عباس طلقت منک بثلاث وسبع وتسعون اتخذت بہا آیات اللہ ہزوا“ (ص:۵۱۰)؛



ترجمہ:…”ایک شخص نے ابن عباس سے کہا میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں ہیں، اس کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تین طلاقوں سے تو عورت تجھ سے جدا ہوگئی اور بقیہ ستانوے طلاقوں سے تونے اللہ کی آیات کا تمسخر کیا ہے“۔



اور طحاوی شریف میں ہے؛

”عن مالک بن حارث قال رجل الی ابن عباس فقال ان عمی طلق امراتہ ثلاثاً فقال: ان عمک عصی الله فاثمہ الله واطاع الشیطان فلم یجعل لہ مخرجا فقلت کیف تری فی رجل یحلہا لہ فقال من یخادع الله یخادعہ…“ (باب الرجل یطلق امراتہ ثلاثا معا ج:۲/۳۴)؛



ترجمہ:…”مالک بن حارث فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس کے پاس آیا اور کہا میرے چچا اپنی عورت کو دفعةً تین طلاقیں دے بیٹھے ہیں۔حضرت ابن عباس نے فرمایا: تیرے چچا نے خدا کی نافرمانی کی اور شیطان کی اطاعت کی اور آپ نے اس کے لئے کوئی گنجائش نہیں نکالی۔مالک بن حارث فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا :آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو اس عورت کو اس شوہر کے لئے حلال کرے؟ آپ نے فرمایا: جو اللہ سے چالبازی کرے گا اللہ بھی اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرے گا“۔



اور مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:



”عن انس قال کان عمر اذا اتی برجل قد طلق امراتہ ثلاثاً فی مجلس او جعہ ضرباً وفرق بینہما…“ (ج:۵/۱۱) وفیہ ایضا عن معمر عن الزہری فی رجل طلق امراتہ ثلاثاً جمیعاً قال ان من فعل فقد عصی ربہ وبانت منہ امراتہ“ (ج:۵/۱۱)؛



ترجمہ:…”حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروق کے پاس ایسا شخص لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہوتیں تو آپ اس کو سزا دیتے ہیں اور دونوں میں تفریق کردیتے ہیں۔ تو قرآنی آیات وتفاسیر واحادیث سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دقعةً تین طلاقیں دینے سے تین ہی شمار ہوتی ہیں۔“



لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے چونکہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں تو اس سے بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب شوہر کے لئے رجوع کرنا جائز نہیں اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ اس سے نکاح کرنا بھی جائز نہیں ہے۔



باقی غیر مقلدین کا منسلکہ فتویٰ از روئے قرآن وحدیث اور جمہور صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین اور چاروں ائمہ کے متفقہ مسلک کے خلاف ہے، جیساکہ اوپر لکھا گیا ہے اور جس حدیث کو بطور استدلال پیش کیا ہے، اس حدیث سے تین طلاقوں کو ایک شمار کرنے کا استدلال کرنا تمام فقہاء کے نزدیک باطل ہے۔مذکورہ حدیث حضرت عبد اللہ ابن عباس کی ہے اس حدیث سے استدلال کرنا اس لئے درست نہیں ہے کہ اس حدیث کو ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے اور اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت غیر مدخولہ کے متعلق ہے، عام نہیں ہے۔واضح رہے کہ عورتیں دو قسم کی ہیں؛

٢) غیر مدخولہ (جس کے ساتھ ہمبستری نہ ہوئی ہو)؛



٢) مدخولہ (جس کے ساتھ صحبت ہوچکی ہو) غیر مدخولہ عورت کو اگر الگ الگ لفظوں میں اس طرح طلاق دی جائے۔ ”تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے“تو پہلے ہی لفظ سے وہ بائنہ ہوجاتی ہے یعنی نکاح سے نکل جاتی ہے اور ایسی عورت پر عدت بھی لازم نہیں ہوتی، جب یہ عورت پہلے ہی لفظ سے بائنہ ہوگی اور اس پر عدت بھی نہیں تو اس کے بعد وہ طلاق کا محل نہ رہی، اس بناء پر دوسری اور تیسری طلاق لغو ہوتی ہے، اسی اعتبار سے حدیث میں کہا گیا ہے کہ اگر تین طلاقیں دی جائیں تو ایک شمار ہوتی ہیں۔ حضور اکرم ا حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر کے ابتدائی سالوں میں غیر مدخولہ کو طلاق دینے کا یہی طریقہ تھا۔ مگر بعد میں لوگوں نے جلد بازی شروع کردی اور ایسی غیر مدخولہ کو ایک ساتھ ایک لفظ میں تین طلاق دینے لگے تو حضرت عمر نے فرمایا کہ اب تین طلاق ہی ہوں گی۔ کہ (انت طالق ثلاثا) کہہ کر طلاق دی ہے اور یہ لفظ نکاح قائم ہونے کی حالت میں بولا ہے۔ (ابوداؤد شریف ج:۱/۳۰۶)؛

طلاق کے متعلق حضرت عمرؓ کے فیصلہ کی وضاحت ؛





دوسرا جواب یہ ہے کہ حضور اکرم ا اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر کے ابتدائی زمانہ میں جب ”انت طالق، انت طالق، انت طالق“ کہا جاتا تو عموماً لوگوں کی دوسری اور تیسری طلاق سے تاکید کی نیت ہوتی، استیناف کی نیت نہیں ہوتی تھی اور اس زمانہ میں لوگوں میں دین اور تقویٰ اور خوف آخرت اور خوف خدا غالب تھا دنیا کی خاطر دروغ بیانی کا خطرہ تک دل میں نہ آتا تھا۔ آخرت میں جوابدہی اور آخرت کے عذاب کا اتنا استحضار رہتا کہ مجرم بذات خود حاضر ہوکر اپنے جرم کا اقرار کرتا اور اپنے اوپر شرعی حد جاری کرنے کی درخواست کرتا، اس بناء پر ان کی بات پر اعتماد کرکے ایک طلاق کا حکم کیا جاتا، اسی اعتبار سے حدیث میں کہا گیا ہے کہ اس زمانے میں تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں مگر جیسے جیسے عہد نبوی سے بعد ہوتا گیا اور بکثرت عجمی لوگ بھی حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے، ان میں تقویٰ وخوف آخرت کا معیار کم ہونے لگا اور پہلے جیسی سچائی، امانت داری اور دیانت داری نہ رہی، دنیا اور عورت کی خاطر دروغ بیانی ہونے لگی، جس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایاجاسکتا ہے۔



حضرت عمر کے پاس عراق سے ایک سرکاری خط آیا کہ یہاں ایک شخص نے اپنی بیوی کو یہ جملہ کہا ہے ”حبلک علی غاربک“ (تیری رسی تیری گردن پر ہے) حضرت عمر بن خطاب نے اپنے عامل کو لکھا کہ ”ان مرہ ان یوافینی بمکة فی الموسم“ اس کو کہو کہ حج کے زمانہ میں مکہ مکرمہ میں مجھ سے ملے۔ حضرت عمر حج کے زمانہ میں کعبہ کا طواف کررہے تھے کہ اس آدمی (عراقی) نے آپ سے ملاقات کی اور سلام کیا، حضرت عمر نے فرمایا: تم کون ہو، اس نے کہا: میں وہی ہوں جس کو آپ نے حج کے زمانہ میں طلب کیا تھا، حضرت عمر نے فرمایا: تجھے رب کعبہ کی قسم سچ بتا ”حبلک علی غاربک“ سے تیری کیا نیت تھی، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے اگر اس مبارک جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ قسم لی ہوتی تو میں صحیح نہ بتاتا، حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس جملے سے فراق کا یعنی عورت کو اپنے نکاح سے الگ کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا: عورت تیرے ارادے کے مطابق تجھ سے علیحدہ ہوگئی۔



(موطأ امام مالک ص:۵۱۱ ماجاء فی الخلیة والبریة واشباء ذلک بحوالہ فتاویٰ رحیمہ ۴/۳۴۳)؛



یہ عراقی ایک عورت کے لئے جھوٹی قسم کھانے کے لئے اور دروغ بیانی کے لئے تیار تھا مگر کعبة اللہ اور حرم شریف کی عظمت وتقدس کا خیال رکھتے ہوئے کذب بیانی سے احتراز کیا۔



حضرت عمر نے عوام کی جب یہ حالت دیکھی، نیز آپ کی نظر اس حدیث پر تھی؛



”اکرموا اصحابی فانہم خیارکم، ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم، ثم یظہر الکذب حتی ان الرجل یحلف ولایستحلف ویشہد ولایستشہد…الخ“۔ (مشکوٰة المصابیح، باب مناقب الصحابة ج:۳/۵۵۴ ط سعید)؛



یعنی عہد نبوت سے جیسے جیسے دوری ہوتی چلی جائے گئی، دینداری کم ہوتی رہے گی اور کذب ظاہر ہو گا۔ حضرت عمر نے موجودہ اور آئندہ حالات کو پیش نظر رکھ کر صحابہ سے مشورہ کیا کہ جب ابھی یہ حالت ہے تو آئندہ کیا حالت ہوگی اور لوگ عورت کو الگ کردینے کی نیت سے تین طلاق دیں گے اور پھر غلط بیانی کرکے کہیں گے کہ ہم نے ایک طلاق کی نیت کی تھی۔ آپ نے اس چور دروازے کو بند کرنے کے لئے فیصلہ کیا کہ لوگوں نے ایسی چیز میں جلد بازی شروع کردی جس میں انہیں دیر کرنی چایئے تھی، اب جو شخص تین مرتبہ طلاق دے گا، ہم اسے تین ہی قرار دیں گے۔ صحابہ کرام نے اس فیصلہ سے اتفاق کیا اور کسی ایک نے بھی حضرت عمر کی مخالفت نہ کی، چنانچہ طحاوی شریف میں ہے:



”فخاطب عمربذلک الناس جمیعا وفیہم اصحاب رسول اللہ ا ورضی اللہ عنہم الذین قد علموا ما تقدم من ذلک فی زمن رسول اللہ ا فلم ینکرہ علیہ منہم ولم یدفعہ دافع…“ (ج:۲/۳۴)؛



محقق علامہ ابن ہمام رحمة اللہ فرماتے ہیں:



”ولم ینقل عن احد منہم انہ خالف عمر حین امضی الثلاث وہی یکفی فی الاجماع…“ (حاشیہ ابوداؤد ج:۱/۳۰۶)؛



یعنی کسی ایک صحابی سے بھی یہ منقول نہیں ہے کہ جب حضرت عمر نے صحابہ کی موجودگی میں تین طلاق کا فیصلہ کیا، ان میں سے کسی ایک نے بھی… حضرت عمر کے خلاف کیا ہو اور اس قدر بات اجماع کے لئے کافی ہے۔ امام نووی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:



”فاختلف العلماء فی جوابہ وتاویلہ فالاصح ان معناہ انہ کان فی اول الامر اذا قال لہا انت طالق، انت طالق، انت طالق، ولم ینو تاکیداً ولااستینافاً یحکم بوقوع طلقة لقلة ارادتہم الاستنیاف بذلک فحمل علی الغالب الذی ہو ارادة التاکید فلما کان فی زمن عمر وکثر استعمال الناس بہذہ الصیغة وغلب منہم ارادة الاستیناف بہا حملت الاطلاق علی الثلاث عملاً بالغالب السابق الی الفہم…“ (نووی شرح مسلم ج:۱/۴۷۸ ط قدیمی)؛



یعنی حدیث حضرت ابن عباس کی بالکل صحیح تاویل اور اس کی صحیح مراد یہ ہے کہ شروع زمانہ میں جب کوئی انت طالق، انت طالق، انت طالق (یعنی تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق) کہہ کر طلاق دیتا تو عموماً اس زمانہ میں دوسری اور تیسری طلاق سے تاکید کی نیت ہوتی تھی، استیناف کی نیت نہ ہوتی تھی، جب حضرت عمر کا زمانہ آیا اور لوگوں نے اس جملہ کا استعمال بکثرت شروع کیا اور عموماً ان کی نیت طلاق کی دوسرے اور تیسرے لفظ سے استیناف ہی کی ہوتی تھی، اس لئے اس جملہ کا جب کوئی استعمال کرتا تو عرف کی بناء پر تین طلاقوں کا حکم کیا جاتا۔





مسئلہ تین طلاق میں حضرت ابن_عباس (رض) کی 

:مختلف معارض احادیث کا جواب

 حدیث_مسلم میں منقول قول_حضرت ابن_عباس(رض)؛ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دور خلافت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو سال تک تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھیں سو عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس حکم میں جو انہیں مہلت دی گئی تھی جلدی شروع کر دی ہے پس اگر ہم تین ہی نافذ کردیں تو مناسب ہوگا چنانچہ انہوں نے تین طلاق ہی واقعہ ہو جانے کا حکم دے دیا۔



[صحيح مسلم  » كِتَاب الطَّلَاقِ » بَاب طَلَاقِ الثَّلَاثِ، رقم الحديث: 2697 (1473)]







حدیث_طحاوی میں منقول قول_حضرت ابن_عباس(رض)؛ پھر یہی ابن_عباس رضی الله عنہما اس کے بعد فتویٰ دیتے ہیں کہ جو شخص اپنی بیوی کو بیک وقت تین (٣) طلاقیں دے تو اس کی طلاق لازم ہوجاتے گی اور وہ عورت اس پر حرام ہو جائیگی.[طحاوی:٢٢١+٢٢٢]؛  تشریح : ١  شارح_مسلم امام نووی (٦٣١-٦٧٦ھ ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: المراد أن المعتاد في الزمن الأول کان طلقة واحدة وصار الناس في زمن عمر رضي اللہ عنہ یوقعون الثلاث دفعة فنفذہ فعلی ھذا یکون إخبارا عن اختلاف عادة الناس لا عن تغیر حکم في مسئلة واحدة. یعنی مراد یہ ہے کہ پہلے ایک طلاق کا دستور تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ تینوں طلاقیں بیک وقت دینے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں نافذ کیا تو اس طور پر یہ حدیث لوگوں کی "عادتوں" کے بدل جانے کی خبر ہے نہ کہ مسئلہ واحدہ میں "حکم" کے بدلنے کی اطلاع ہے۔ (شرح مسلم: ج۱ ص۴۷۸)؛





تشریح  : ٢ 



امام بخاری و مسلم کے استاد امام ابن ابی شیبہ نے، پھر امام ابو داود اور امام بیہقی نے اس قول میں یہ بھی روایت کیا ہے کہ یہ اس عورت کے بارے میں ہے جس کی رخصتی نہیں ہوئی. امام نسائی نے بھی یہی باب بندھا ہے؛ (بیوی سے دخول/جماع سے قبل تین علیحدہ طلاقیں دینا)؛ [السنن الكبرى للنسائي  » كِتَابُ الطَّلاقِ  » طَلاقِ الثَّلاثِ الْمُتَفَرِّقَةِ قَبْلَ الدُّخُولِ ...، رقم الحديث: 5411 (5569)] اور ایسی عورت کے بارے میں خود حضرت عبدللہ بن عباس رضی الله عنہ کی وضاحت (ابن_ابی شیبہ : ٥/٢٥) پر موجود ہے کہ اگر اس کو یوں کہا جاۓ تجھے طلاق، طلاق، طلاق، تو اس کی ایک ہی طلاق پڑتی ہے (اس صورت میں دوبارہ نکاح بغیر حلالہ_شرعی کے جائز ہے اور سوچ و بچار کی گنجائش ہے) اور اگر یوں اس کو طلاقیں دی جائیں کہ تجھے تین طلاق تو اس سے تین طلاقیں ہی واقع ہوجاتی ہیں، اب بغیر حلالہ_شرعی کے اس کے نکاح نہیں ہوسکتا، یہ وہ جلدبازی ہے جس میں سوچ بچار کا موقع نہیں رہتا.



:امام ابن_رشد مالکی رح (520هـ-595هـ) فرماتے ہیں وقد احتج من انتصر لقول الجمهور بأن حديث ابن عباس الواقع في الصحيحين إنما رواه عنه من أصحابه طاوس ، وأن جلة أصحابه رووا عنه لزوم الثلاث ، منهم سعيد بن جبير ، ومجاهد ، وعطاء ، وعمرو بن دينار وجماعة غيرهم ، وأن حديث ابن إسحاق وهم ، وإنما روى الثقات أنه طلق ركانة زوجه البتة لا ثلاثا . 



جمہور (علماء کی راۓ و مذھب) کی حمایت کرنے والے یہ استدلال کرتے ہیں کہ صحیحین میں موجود حضرت ابن_عباس (رض) کی حدیث کی روایت ان کے اصحاب میں سے "طاوس" نے کی ہے، جبکہ ان کے بیشتر اصحاب نے، جن میں سعید بن جبیر رح ، مجاہد رح ، عطاء رح اور عمرو بن دینار رح ہیں اور ان کے علاوہ ایک جماعت نے تین طلاقوں کے واقع ہوجانے کا قول نقل کیا ہے اور (رکانہ کے تین طلاق کے ایک ہونے کی بواسطہ عکرمہ کے حضرت ابن_عباس کی بیان شدہ) ابن_اسحاق کی حدیث "وہم" ہے، ثقہ راویوں کے الفاظ تو یہ ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق_بتہ (طلاق_بائن) دی تھی، اس میں تین کے الفاظ نہیں ہیں. [بداية المجتهد ونهاية المقتصد  » كتاب الطلاق]

[صحيح مسلم » كِتَاب الطَّلَاقِ » بَاب طَلَاقِ الثَّلَاثِ, رقم الحديث: 2697]











معترضین سے سوالات :

١) حدیث_مسلم کے قول سے تین طلاق سے مراد ہر قسم کی تین طلاقیں ہیں تو تین الگ الگ "طهر" میں دی گئی تین طلاقیں بھی کیا ایک ہونگی؟

٢) حدیث_مسلم میں اکٹھا تین طلاق کا ترجمہ جو کرتے ہیں، وہ کس لفظ کا ترجمہ کرتے ہیں؟ اس میں نہ ہی ایک مجلس کا لفظ ہے نہ جميعاً کا.

٣) صبح ، شام، رات یا تین دنوں یا ہفتوں میں ایک ایک کرکے تین طلاقیں کوئی الگ مجلس اور الگ وقت میں دے تو کیا وہ بھی ایک ہونگی؟ ٤) اکٹھی تین طلاق دینا اللہ کی آیت سے استہزاء اور رسول الله (صلی الله علیہ وسلم) کی ناراضگی کا سبب ہے. تو کیا صحابہ_کرام (رضی الله عنھم) بلا-روک ٹوک دور_نبوت، دور_صدیقی اور دور_فاروقی کے دو ابتدائی سالوں میں یہ گناہ کرتے رہے اور بدعی طلاق دیکر بدعتی بنتے رہے؟ صحابہ_کرام (رضی الله عنھم) کے بارے میں یہ نظریہ رفض (شیعہ) کا تو ہے، کیا غیر مقلدین کا بھی ہے؟؟؟ ٥) اسی طرح کی "متعہ" پر ایک حدیث_مسلم (کتاب النکاح: نکاح_متعہ) میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی آٹے کے عوض مقررہ دنوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں متعہ کر لیتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمرو بن حریث کے واقعہ کی وجہ سے متعہ سے منع فرمایا دیا۔

اس مسئلہ پر بھی شیعہ کی طرح کیا آپ بھی یہ ثابت مانتے ہو یا مانوگے؟ کہ نبی (صلی الله علیہ وسلم) اور حضرت ابو بکر (رضی الله عنہ) کے زمانہ میں جواز_متعہ پر سب صحابہ کا اجماع تھا، حضرت عمر (رضی الله عنہ) کا روکنا ایک سیاسی حکم تھا، کوئی شرعی حکم نہیں تھا، اسی لئے حضرت ابن_عباس (رضی الله عنہ) نے پہلے اجماع کے اصل حکم_شرعی پر قائم رہتے ان سے اختلاف کیا. کیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟ تو کیوں؟

٦) حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کو یہ حق ہے کہ وہ کسی (سیاسی) ضرورت کی ماتحت الله کے حلال کو حرام کردے؟ اور کیا وہ الله کے حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرنے والے احبار و رہبان تھے یا خلیفہ راشد؟ اور کیا بقیہ صحابہ نے ان کو یہود کی طرح "ارباب من دون الله" بنایا تھا؟  ٧) حضرت عمر  (رضی اللہ عنہ) کے بعد دور_عثمانی میں کتنے صحابہ_کرام  (رضی اللہ عنہم) الله و رسول (صلی الله علیہ وسلم) کے ارشاد پر فتویٰ دیتے اور کتنے حضرت عمر  (رضی اللہ عنہ) کے قول پر؟ اور خود حضرت عثمان  (رضی اللہ عنہ) کس کے ساتھ تھے؟ ٨) حضرت علی ( (رضی اللہ عنہ) کے زمانہ_خلافت میں ان کا اپنا فتویٰ اور ان کے مفتیوں کا فتویٰ الله و رسول (صلی الله علیہ وسلم) کی شریعت پر رہا حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کی؟

نوٹ : صرف الله اور رسول ہی کے اقوال کو دلیل و حجت ماننے والے غیر-مقلد اہل_حدیث حضرات ان سوالوں کا جواب اپنے دعویٰ اور اصول کے مطابق کسی غیر-معصوم کے اقوال کے سواۓ صرف قرآن و حدیث ہی سے دیں. شکریہ











یہ ہے حدیث حضرت ابن عباس کا مطلب محدثین کی نظر میں اور یہی تشریح اور مقصد صحیح ہے۔ جو مطلب غیر مقلدین بیان کرتے ہیں، وہ صحیح نہیں۔ اس لئے کہ راوی حدیث حضرت عبد اللہ ابن عباس نے خود تین طلاقوں کے نفاذ کا فتویٰ دیا ہے، جیساکہ مذکور ہوچکا ہے۔



علامہ ابن قیم نے بھی باوجود اس تشدد وتصلب کے جوان کو اس مسئلہ میں تھا، حضرت ابن عباس کے اس فتویٰ ”ایک مجلس میں تین طلاقیں تین ہیں اور اس کے بعد رجعت جائز نہیں“ سے انکار نہیں کیا، بلکہ اس فتویٰ کے ثابت ہونے کا صاف اقرار کیا ہے۔ چنانچہ (اغاثة اللفہان) میں فرماتے ہیں:



”فقد صح بلاشک ابن مسعود وعلی ابن عباس الالزام بالثلاث ان اوقعہا جملة“۔ (ص:۱۷۹)؛



اور چونکہ یہ مسئلہ حلال وحرام کے متعلق ہے، اگر واقعی تین کو ایک سمجھا جاتا تو اس کے راوی صرف حضرت ابن عباس ہی کیوں ہیں، ان کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام سے اس کے بارے میں کوئی روایت نہیں ہے، جبکہ ان سے بڑے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق اس کے برخلاف فیصلہ فرماتے ہیں اور یہ صحابہ کرام کے سامنے کی بات ہے اور ایک صحابی نے بھی اس حکم کے خلاف نہیں کیا جس سے اس مسئلہ پر ان کا اجماع معلوم ہوتا ہے۔الغرض تین طلاقیں شرعاً واقع ہوچکی ہیں، بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ سے حرام ہوگئی ہے، گمراہ لوگوں سے فتویٰ لے کر حرام کو حلال بنانے کی کوشش کرنا بدترین گناہ ہے، لہذا دونوں میں علیحدگی ضروری ہے، بصورت دیگر اگرایک ساتھ رہے تو حرام کے اندر مبتلا ہوں گے چنانچہ حدیث میں ہے:



”من اعلام الساعة… وان یکثروا اولاد الزنا قیل لابن مسعود وہم مسلمون ! قال نعم: یاتی علی الناس زمان یطلق الرجل المرأة طلقہا فیقیم علی فراشہا منہما زانیان ما اقاما“۔ (الخصائص الکبری للسیوطی ج:۲/۲۷۰ ط حقانیہ)؛



ترجمہ:…اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ زنا کی اولاد کی کثرت ہوجائے گی، پوچھا گیا حضرت ابن مسعود سے کیا وہ مسلمان ہوں گے؟ فرمایا: ہاں! وہ مسلمان ہوں گے، ایک زمانہ آئے گا لوگوں پر کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا، لیکن پھر بھی اس کے ساتھ اس کے بستر پر رہے گا جب تک دونوں اس طرح رہیں گے زنا کار ہوں گے“۔



”قال:یاتی علی الناس زمان یطلق الرجل المرأة ثم یجہدہا طلاقہا ثم یقیم علی فرجہا فہما زانیان ما اقاما…“

(المعجم الاوسط للطبرانی ج:۵/۴۴۲)



ترجمہ:…فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دے گا پھر طلاق دینے سے انکار کرے گا پھر اس سے ہم بستری کرتا رہے گا پس جب تک وہ دونوں اس طرح رہیں گے زناکار ہوں گے“۔



لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی تھیں، سائل نے بغیر حلالہ شرعی جو دوبارہ نکاح کرکے ایک عرصہ ساتھ گذاراہے، دونوں حرام کاری میں مبتلا رہے، فی الفور علیحدگی کے بعد دونوں پر توبہ و استغفار لازم ہے۔



حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْکَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ فِي آخَرِينَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُکَانَةَ أَنَّ رُکَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِکَ وَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً فَقَالَ رُکَانَةُ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ قَالَ أَبُو دَاوُد أَوَّلُهُ لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ وَآخِرُهُ لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ



سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 442 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ 0 ابن سرح، ابراہیم بن خالد، محمد بن ادریس، محمد بن علی بن شافع، عبیداللہ بن علی بن عبد یزید، حضرت رکانہ بن عبد یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ دی پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی گئی رکانہ نے کہا واللہ میں نے ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکانہ سے پوچھا کیا تو نے واقعی ایک طلاق کی نیت کی تھی؟ رکانہ نے پھر کہا واللہ میں نے ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بیوی اس کو لوٹا دی (یعنی رجعت کا حکم فرمایا) پھر رکانہ نے دوسری طلاق حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں دی اور تیسری حضرت عثمان غنی کے عہد خلافت میں ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ کہ پہلا حصہ ابراہیم کا روایت کردہ ہے اور دوسرا ابن سراح کا ۔

قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا

• *قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا* • ایک پوسٹ گردش میں ھے: کہ حضرت عبدﷲ ابن مسعودؓ سے مروی ھے کہ جو بندہ قبرستان جائے اور قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ دع...