Showing posts with label احادیث کی تحقیق. Show all posts
Showing posts with label احادیث کی تحقیق. Show all posts

Sunday, 24 June 2018

اللہ پاک کا ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنا

◾ *ﷲ تعالی کا ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنا*❗

  ہم نے بکثرت سنا ھے: کہ ﷲ تبارک و تعالی اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتے ہیں,  اسکی کیا حقیقت ھے؟

➖➖➖➖➖➖➖
••• *باسمہ تعالی*•••
*الجواب وبہ التوفیق:* 

   اللہ تعالی کا بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنا (عدد کی تخصیص کے ساتھ) حدیث میں مذکور نہیں ھے؛ لیکن اس سلسلے میں ایک روایت "بخاری و مسلم " کی پیش کی جاتی ھے, کہ جس میں اللہ تعالی کا بندوں سے ماں سے زیادہ محبت کا ذکر ملتا ھے,
➖➖➖➖➖➖➖

 قدِمَ على النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم سَبيٌ، فإذا امرأةٌ من السبيِ قد تحلُبُ ثَديَها تَسقي، إذا وجدَتْ صبيًّا في السبيِ أخذَتْه، فألصقَتْه ببَطنِها وأرضعَتْه، فقال لنا النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم : ( أترَونَ هذه طارحَةً ولدَها في النارِ ) . قُلنا : لا، وهي تقدِرُ على أن لا تطرَحَه، فقال : ( لَلّهُ أرحَمُ بعبادِه من هذه بولَدِها ) . .

 الراوي: عمر بن الخطاب
 المحدث: البخاري
 المصدر: صحيح البخاري
 الرقم: 5999 
خلاصة حكم المحدث: [صحيح]

ترجمہ: 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہو تھا اور وہ دوڑ رہی تھی ، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا اس نے جھٹ اپنے پیٹ سے لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی ۔ ہم سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال سکتی ہے ہم نے عرض کیا کہ نہیں جب تک اس کو قدرت ہوگی یہ اپنے بچہ کو آگ میں نہیں پھینک سکتی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہو سکتی ہے ۔
➖➖➖➖➖➖➖

قدم على رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ بسَبيٍ . فإذا امرأةٌ من السَّبيِ ، تبتغي ، إذا وجدتْ صبيًّا في السَّبيِ ، أخذتْه فألصقَته ببطنها وأرضعتْه . فقال لنا رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ " أَتَرون هذه المرأةَ طارحةً ولدَها في النار ؟ " قلنا : لا . واللهِ ! وهي تقدر على أن لا تطرحَه . فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ " لَلَّهُ أرحمُ بعباده من هذه بولدها " . .

 الراوي: عمر بن الخطاب
 المحدث: مسلم 
 المصدر: صحيح مسلم 
 الرقم: 2754 
خلاصة حكم المحدث: صحيح.


🔰البتہ مسلم شریف کی ایک روایت میں ھے: کہ اللہ کی رحمت کے 100 درجہ  ھیں جن میں سے ایک درجہ رحمت اللہ نے انسانوں جناتوں چوپاؤں وغیرہ میں رکھی ھے اسی کی بنا پر وہ آپس میں محبت و الفت اور باہمی رحمدلی اور نرمی, اور اپنے بچوں پر شفقت  کرتے ہیں, اور باقی 99 درجہ رحمت اللہ نے قیامت کے لیے رکھ چھوڑی ہے جسکے ذریعہ ﷲ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمایئگا۔

🌀 في صحيح مسلم عن أبي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( إن لله مائة رحمة ، أنزل منها رحمة واحدة بين الجن والإنس والبهائم والهوام ، فبها يتعاطفون ، وبها يتراحمون ، وبها تعطف الوحش على ولدها ، وأخر الله تسعا وتسعين رحمة ، يرحم بها عباده يوم القيامة ) 

مسلم / 6908 .

   ⚫ خلاصہ: 


مذکورہ روایت کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے: کہ اللہ تعالی ماں کی رحمدلی سے زیادہ اپنے بندوں پرمہربان ہے؛ مگر عدد مخصوص کرنا صحیح نہیں ہے.


 وﷲ تعالی اعلم۔
✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*

Sunday, 1 April 2018

سورہ انعام کی آیت کی فضیلت

◼سورہ انعام کی آیات کی فضیلت◼

کیا سورہ انعام کی ابتدائی تین آیات کی یہ فضیلت مستند ھے؟کہ
🌴حضور ﷺ نے فرمایا:
جو شخص نماز فجر پڑھ کر *سورۂ انعام* کے شروع سے  وَ یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوۡنَ (*پہلی 3 آیتیں*) تک پڑھتا ہے اسکے یہاں 40 ہزار فرشتے اُترتے ہیں ۔اس کیلئے 40 ہزار فرشتوں کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے ۔اور اسکے پاس سات آسمانوں کے اوپر سے ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے اس  کےساتھ لوہے کا ایک ہتھوڑا ہو تا ہے۔ اگر شیطان اسکے دل میں کوئی بُری بات ڈالتا ہے تو فرشتہ اسے اتنا زور سے مارتا ہے کہ اسکے اور اس شیطان کے درمیان 70 پردے حائل ہو جاتے ہیں ۔پھر جب قیامت کا دن ہوگا ، اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا:میں تیرا پروردگا ر ہوں اور تم میرے بندے ہو۔تم میرے سایہ (رحمت ) میں چلو اور کوثر سے پیواور سلسبیل سے غسل کرو اور بلا حساب و عذاب جنت میں داخل ہو جائو۔

(🌴بروایت:حضرت جابرؓ بن عبدﷲ)
(📚 تفسیر قرطبی )
➖➖➖➖➖➖
 ••• *باسمہ تعالی* •••
*الجواب وبہ التوفیق:* 

♧   مذکورہ سورہ انعام کی شروعاتی تین آیات کی جو فضیلت ھے یہ تفسیر در منثور اور تفسیر قرطبی میں موجود ھے؛ لیکن اسکی جو سند ھے وہ بہت زیادہ ضعیف ھے ؛ لہذا اس فضیلت کے ثبوت کو ماننے میں احتیاط احوط ھے۔
➖➖➖➖➖

   🌐 من قرأَ إذا صلَّى الغداةَ ثلاثَ آياتٍ من أوَّلِ سورةِ الأنعامِ إلى وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ نزلَ إليْهِ أربعونَ ألفَ ملَكٍ يُكتبُ لَهُ مثلُ أعمالِهم وبعثَ إليْهِ ملَكٌ من سبعِ سَمواتٍ ومعَهُ مِرزَبةِ من حديدٍ فإن أوحى الشَّيطانُ في قلبِهِ شيئًا منَ الشَّرِ ضربَهُ حتَّى يَكونَ بينَهُ وبينَهُ سبعونَ حجابًا فإذا كانَ يومُ القيامةِ قالَ اللَّهُ تعالى أنا ربُّكَ وأنتَ عبدي امشِ في ظلِّي واشرَبْ منَ الكوثرِ واغتسل منَ السَّلسَبيلِ وادخلِ الجنَّةَ بغيرِ حسابٍ ولا عذابٍ.


 ♤   الراوي: جابر بن عبدﷲ 
    المحدث: القرطبی
    المصدر:  تفسیر القرطبی
    المجلد: 8
    الصفحة: 312
    الناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان
    خلاصة حكم المحدث:  إسناده ضعيف، وبعضها موضوع.  


والله تعالي أعلم،
كتبه: *محمد عدنان وقار صديقي*
1اپریل، 2018
009182732278

Wednesday, 28 March 2018

اذان کی فضیلت

*اذان کے جواب کی فضیلت*

    کیا اذان کے جواب دینے کی يه فضیلت ثابت ھے جو درج ذیل ھے:
 اذان و اقامت کا جواب دینے والے مرد کے لیے ہر کلمہ پر دو لاکھ جبکہ عورت کے لیے ہر ایک کلمہ پر ایک لاکھ نیکیوں کا ثواب  ملتاہے، چنانچہ فرمانِ مُصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: اے عورَتوں!جب تم بِلال  کواذان واِقامت کہتے سنوتوجس طرح وہ کہتاہے تم بھی کہوکیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہارے لئے ہرکلمے کے بدلے ایک لاکھ(100000) نیکیاں لکھے گا اور ایک ہزار(1000)دَرَجات بُلند فرمائے گا اورایک ہزار(1000)گناہ مٹائے گا۔خواتین نے یہ سُن کر عرض کیا:یہ توعورتوں کیلئے ہے مردوں کیلئے کیاہے؟فرمایا:مردوں  کیلئے دُوگنا ۔

(تاریخ دِمشق لابنِ عَساکِر ج۵۵ص۷۵) 

➖➖➖➖➖➖➖

♧ *باسمه تعالى*
*ألجواب وبه التوفيق*

مذکورہ فضیلت ابن عساکر کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی اپنی کتب میں ذکر کی ھے؛ لیکن وہ روایات سندی لحاظ سے بہت کمزور ہیں, ناقابل احتجاج ہیں؛کیونکہ ان کی سند میں ایک راوی __ *عباد بن کثیر* __ ہے, جن پر امام بخاری, یحیی ابن معین اور ابن ابی رزمہ نے سخت جرح فرمائی ھے,

♤  جن کتابوں میں یہ روایت مذکور ھے ان کی عربی عبارت:

1)  🌐  أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم قامَ في صفِّ الرجالِ والنساءِ فقال يا معشرَ النساءِ إِذَا سَمِعْتُنَّ أذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ وإقامَتَهُ فقلْنُ كمَا يقولُ فإِنَّ لكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ ألفَ ألفِ درجةٍ فقال عمرُ فهذا للنساءِ فما للرجالِ فقال ضِعْفانِ يا عمرُ ثمَّ أقبلَ علَى النساءِ فقال إِنَّهُ لَيْسَ مِنِ امْرَأَةٍ أَطَاعَتْ وأدَّتْ حَقَّ زَوْجِها وتَذْكُرَ حُسْنَهُ ولا تخونُهُ في نفسِها ومالِهِ إلَّا كانَ بينَها وبينَ الشهداءِ درجةٌ واحدةٌ في الجنةِ فإنْ كان زَوْجُهَا مؤمِنٌ حسنُ الخُلُقِ فهِيَ زوجتُهُ في الجنةِ وإلَّا زَوَّجَها اللهُ مِنَ الشهداءِ.


    الراوي: ميمونة بنت الحارث زوج النبي صلى الله عليه وسلم
    المحدث: الهيثمي
    المصدر:  مجمع الزوائد
    المجلد: 1
    الصفحة: 331
    الناشر: دار الكتاب العربي،بيروت، لبنان.
    خلاصة حكم المحدث:  [روي] بإسنادين في أحدهما منصور بن سعد ولم أعرفه وفيه عباد بن كثير وفيه ضعف كبير وقد ضعفه جماعة ، وبقية رجاله ثقات ، والإسناد الآخر فيه جماعة لم أعرفهم.

2) ♻ اِذا سمعتم أذَانَ هَذَا الْحَبَشِيُِّ فقلْنَ كمَا يقولُ فإِنَّ لكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ ألفَ ألفِ حسنة،ويرفع لكن ألف ألف درجة، ويمحي عنكن ألف ألف سيئة  فقال عمرُ بن الخطاب: هذا للنساءِ فما للرجالِ قال ضِعْفانِ.


    الراوي: ميمونة بنت الحارث زوج النبي صلى الله عليه وسلم
    المحدث: أبو شجاع الديلمي،
    المصدر:  مسند الفردوس
    المجلد: 1
    الصفحة: 275 
    رقم الحديث: 1072
    الناشر: دار الكتب العربية، بيروت، لبنان.

 
3) 🛑   أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم قامَ في صفِّ الرجالِ والنساءِ فقال يا معشرَ النساءِ إِذَا سَمِعْتُنَّ أذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ وإقامَتَهُ فقلْنُ كمَا يقولُ فإِنَّ لكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ ألفَ ألفِ درجةٍ فقال عمرُ فهذا للنساءِ فما للرجالِ فقال ضِعْفانِ يا عمرُ ثمَّ أقبلَ علَى النساءِ فقال إِنَّهُ لَيْسَ مِنِ امْرَأَةٍ أَطَاعَتْ وأدَّتْ حَقَّ زَوْجِها وتَذْكُرَ حُسْنَهُ ولا تخونُهُ في نفسِها ومالِهِ إلَّا كانَ بينَها وبينَ الشهداءِ درجةٌ واحدةٌ في الجنةِ فإنْ كان زَوْجُهَا مؤمِنٌ حسنُ الخُلُقِ فهِيَ زوجتُهُ في الجنةِ وإلَّا زَوَّجَها اللهُ مِنَ الشهداءِ.


    الراوي: ميمونة بنت الحارث 
    المحدث: سليمان بن احمد الطبراني
    المصدر:  المعجم الكبير
    المجلد: 24
    الصفحة:16/11
    رقم الحديث: 28/15
    الناشر: مكتبه ابن تيمية القاهرة، مصر.
    خلاصة حكم المحدث:  [روي] بإسنادين في أحدهما منصور بن سعد ولم أعرفه وفيه عباد بن كثير وفيه ضعف كبير وقد ضعفه جماعة ، وبقية رجاله ثقات ، والإسناد الآخر فيه جماعة لم أعرفهم

4) ❇ قام النبي بين صف الرجال والنساء، فقال: { يا معشرَ النساءِ إِذَا سَمِعْتُنَّ هذا الْحَبَشِيِّ يؤذن ويقيم _ يعني بلالا _  فقلْنُ كمَا يقولُ فإِنَّ الله يكتب  لكُنَّ بكل كلمةٍ مأة ألفِ حسنة، ويرفع لكن ألف درجة، ويحط عنكن ألف سيئة، ٍقال: فقلن يا رسول الله!  هذا للنساءِ فما للرجالِ؟ قال للرجال ضِعْفينِ،


    المحدث: ابن عساكر
    المصدر:  تاريخ مدينة دمشق
    المجلد:  55
    الصفحة: 75
    رقم الحديث: 6892
    الناشر: دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت، لبنان.
    خلاصة حكم المحدث:  [روي] بإسنادين في أحدهما منصور بن سعد ولم أعرفه وفيه عباد بن كثير وفيه ضعف كبير وقد ضعفه جماعة ، وبقية رجاله ثقات ، والإسناد الآخر فيه جماعة لم أعرفهم
_____________
   خلاصۂ کلام : یہ روایت فضائل میں بیان کرنے کے لائق نہیں ھے؛ لہذا اذان و اقامت کا جواب دینے میں اس فضیلت کا خیال نہ کیا جائے۔
   البتہ اذان کا جواب دینا باعث ثواب ھے اور اسکی جو صحیح فضیلت حدیث میں مذکور ہے ہم ان کو ذکر کرتے ہیں

صحیح مسلم میں روایت ہے: کہ نبی کریم کا ارشاد ھے جب تم اذان سنو تو مؤذن کی طرح ہی اسکا جواب دو, پھر مجھ پر درود پڑھو؛ کیونکہ جو مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ھے ﷲ تعالی اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرماتا ھے, پھر جب اذان ہوچکے تو میرے لیے وسیلہ کی دعا کرو, کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام و مرتبہ ہے جو اللہ کے کسی بہت خاص بندے کو مرحمت کیا جایئگا اور مجھے امید قوی ھے کہ وہ خاص بندہ میں ہی ہوں, چنانچہ جو میرے لیے وسیلہ کی دعا کرے گا اسکے لیے میری شفاعت ثابت ہوگی۔


🔆 عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول : ( إِذَا سَمِعْتُمْ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لا تَنْبَغِي إِلا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ.
    الراوی: عبد ﷲ بن عمرو بن العاص
   المحدث: مسلم بن حجاج
   المصدر:  صحیح مسلم
   المجلد: 2
   الصفحة: 226
   رقم الحديث: 849
   الناشر:  مكتبه البشريٰ، كراچي، پاكستان.

 ✧ ایک اور روایت میں ھے: کہ جب تم مؤذن کی اذان سنو تو جواب میں وہی کلمات دہراؤ جو مؤذن کہہ رہا ھے.

🔘 اذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما یقول المؤذن.

   الراوی: ابو سعید الخدری
   المحدث: مسلم
   المصدر:  صحیح مسلم
   المجلد: 2
   الصفحة: 226
   رقم الحدیث: 848
   الناشر: مکتبہ البشریٰ, کراچی پاکستان.

  ♤ اور ایک روایت میں ھے: کہ جس نے اذان کے بعد یہ دعاء پڑھی تو اسکے لیے بروز حشر میری شفاعت ثابت ہوگی۔ وہ دعا یہ ھے:

☪وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ( مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ : *اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَه*ُ حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ )
 
الراوی: ابوالدرداء، وجابر
المحدث: الطبرانی،وابوداود
المصدر: المعجم الأوسط
المجلد: 4
الصفحة:78
رقم الحدیث: 3662
الناشر: دار الحرمین للطباعة والنشر، قاهره،


⏪  نیز ایک روایت میں ھے: کہ ایک صحابی نے حضور پاک سے عرض کیا کہ مؤذنین حضرات تو ہم سے ثواب و نیکیوں میں بڑھ گئے, تو حضور نے ارشاد فرمایا: کہ تم بہی اس کے کلمات کو دہرالیا کرو, اور جب کلمات پورے ہوجایئں تو دعا مانگ لیا کرو؛ جو مانگوگے قبول کرلیا جایئگا۔

💟 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُونَنَا ، فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( قُلْ كَمَا يَقُولُونَ فَإِذَا انْتَهَيْتَ فَسَلْ تُعْطَهْ )

  الراوی: عبد ﷲ بن عمرو
  المحدث: ابوداود
  المصدر: سنن ابی داود
  المجلد: 1
  الصفحة: 89
  رقم الحدیث: 524
  الناشر: مکتبة رحمانیة, لاھور, پاکستان۔


♡حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم سرور کائنات ﷺ کے ہمراہ تھے کہ حضرت بلال کھڑے ہوئے اور اذان کہنے لگے۔ جب وہ (اذان دے کر) خاموش ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے اسی طرح یقیناً (یعنی خلوص دل سے) کہا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔

🌟 كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي، فَلَمَّا سَكَتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ مِثْلَ هَذَا يَقِينًا دَخَلَ الْجَنَّةَ»

   الراوی: ابو ہریرہ
   المحدث: نسائی
   المصدر: سنن نسائی
   الصفحة: 87
   رقم الحدیث: 674
   الناشر: بیت الافکار الدولیة۔ ریاض، السعودية.
    خلاصة الرواية  : حسن

◆ *اذان واقامت کے جواب دینے کا طریقہ:*

 اذان کا جواب دینا مستحب ہے اور بعض نے واجب بھی کہا ہے یعنی جو لفظ مؤذن کی زبان سے سنے، وہی کہے مگر (( حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوۃ )) اور (( حَیَّ عَلیَ الْفَلاَح )) کے جواب میں (( لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃ اِلاَّ بِااللّٰہ )) بھی کہے۔

☀  عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ أَحَدُكُمْ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ . ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ . ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ قَالَ : لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ . ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ قَالَ : لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ . ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ )


الراوی: حفص بن عاصم بن عمر عن ابیه عن جدہ عمر بن الخطاب
المحدث: ابوداود
المصدر: سنن ابی داود
المجلد: 1
الصفحة: 89
رقم الحدیث: 527
الناشر: مکتبة رحمانیة۔لاھور پاکستان۔

◼ اور (( الصَّلٰوۃ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم )) کے جواب میں (( صَدَقْتَ وَ بَررْتَ ))کہے؛ لیکن یہ جملہ ثابت بالحدیث نہیں ھے, اور جن روایات کی جانب فقہاء نے اشارہ کیا ھے وہ روایات محدثین کے نزدیک بے اصل ہیں؛ البتہ مالکیہ کے علاوہ احناف و شوافع اور حنابلہ کے یہاں اسکا کہنا مستحسن ھے۔

  [فتاوی دار العلوم  زکریا, جلد:2, صفحہ: 91, ناشر : زمزم پبلشرز اردو بازار کراچی پاکستان]

💎 اقامت کے وقت مقتدیوں کے لئے مستحب یہی ہے کہ مؤذن کے ساتھ ساتھ اسی طرح اقامت کا جواب دیں جس طرح اذان کا جواب دیا جاتا ہے اور حیعلتین پر ’’لاحول ولا قوۃ الا باﷲ‘‘ کہیں۔ اور جب اقامت کہنے والا ’’قد قامت الصلوۃ‘‘ پر پہنچے تو ’’أقامہا اللہ وأدامہا‘‘ کہے۔ اور صرف ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ پڑھنا ثابت نہیں ہے، یہ عوام کا اپنا اجتہاد ہے۔


🔰 عن أبي أمامۃ، أو عن بعض أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم أن بلالا أخذ في الإقامۃ، فلما أن قال: قد قامت الصلوۃ، قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: أقامہا اللہ وأدامہا، وقال في سائر الإقامۃ، کنحو حدیث عمر في الأذان۔

  الراوی: ابو امامة
  المحدث: ابوداود
  المصدر:سنن ابی داود
  المجلد: 1
  الصفحة:89
  رقم الحدیث: 528
  الناشر: مکتبة رحمانیة لاھور, پاکستان۔

🔷 (فائدہ) اگر کوئی شخص اذان کا جواب دینا بھول جائے یا قصداً نہ دے اور اذان ختم ہونے کے بعد خیال آئے یا جواب دینے کا ارادہ کرے تو اگر زیادہ دیر نہ ہوئی ہو توجواب دے دے، ورنہ نہیں۔


[مسائل بہشتی زیور جلد 1
مؤلف : حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحب
 ناشر : مجلس نشریات اسلام کراچی پاکستان]


والله تعالىٰ أعلم،
كتبه: محمد عدنان وقار صديقي،
27 مارچ 2018
00.+91-8273222278

Tuesday, 6 February 2018

گھر جاؤ تو سلام کرو کی تحقیق

*باسمہ تعالی*
*الجواب وبہ التوفیق:* 

   حضرت سہل بن سعد رضی ﷲ عنہ کی روایت کہ جب گھر میں جاؤ تو سلام کرو! اگر وہاں کوئی ہو اور اگر  نہ ہو, تو مجھے سلام کرو, اور سورہ اخلاص پڑھو, اس شخص نے ایسا ہی کیا جسکانتیجہ یہ ہوا کہ اس شخص کے ساتھ ساتھ اسکے پڑوسی بھی خوش عیش ہوگئے۔

 یہ روایت ضعیف سند کے ساتھ مروی ھے۔

 روایت کے الفاظ:

 🌀  جاء رجلٌ إلى النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم فشكا إليه الفقرَ وضيقَ العيشِ أو المعاشِ ، فقال له رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم : إذا دخلتَ منزلَك فسلِّمْ إن كان فيه أحدٌ أو لم يكنْ فيه أحدٌ ، ثمَّ سلِّم عليَّ واقرأْ { قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ } مرَّةً واحدةً . ففعل الرَّجلُ فأدرَّ اللهُ عليه الرِّزقَ حتَّى أفاض على جيرانِه وقراباتِه.


    الراوي: سهل بن سعد الساعدي 
    المحدث: السخاوي
    المصدر:  القول البديع
    الصفحة: 135 
     الناشر : دار الریان للتراث, مصر
    خلاصة حكم المحدث:  إسناده ضعيف.



♻ نیز اس میں جو حضور کو سلام کرنے کاذکر ھے یہ متعین نہیں یعنی دوسری جگہ الفاظ یہ ہیں کہ اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہو تو خود داخل ہونے والا اپنے آپ کو سلام کرے۔

💠 عن سهل بن سعد الساعديّ قال: شكا رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الفقر وضيق المعيشة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا دخلتَ البيت فسلِّمْ إن كان فيه أحد، وإن لم يكن فيه أحد فسلم عليّ، واقرأ: قُلْ هُوَ الله أَحَدٌ مرة واحدة ـ ففعل الرجل فأدرّ الله عليه الرزق، حتى أفاض على جيرانه ـ 

قال محقق الكتاب: أورده الرازي في تفسيره وفيه: وإن لم يكن فيه أحد فسلم على نفسك بدل .... فسلم عليَ، ولم نقف عليه في مصادر التخريج، وهذا هو اللفظ الثاني وهو: فسلم على نفسك.....

المصدر: تفسير الجامع لاحكام القرآن — القرطبي—
المجلد: 22
الصفحة: 566
الناشر: مؤسس الرسالة، بيروت، لبنان. 

☪ معلوم ہوا کہ حضور کو سلام کرنے کی اصل بقول امام رازی غیر معلوم ھے۔ یعنی اسکی اصل  نہیں ھے۔ اور سخاوی رح کی روایت کردہ بات کو   دیگر محدثین کرام نے بہت ھی زیادہ کمزور بتایا ھے ۔اسلئے اسکو بیان کرنے سے بچنا چاھئے۔

⏺ اور اس سے ملتی جلتی ایک روایت اور ھے کہ اگر تم مسجد میں داخل ہوؤ اور وہاں کوئی نہ ہو تو پڑھو: *السلام علی رسولﷲ*  اور گھر میں داخل ہوؤ اور وہاں کوئی نہ ہو تو پڑھو *السلام علینا وعلی عبادہ الصالحین*  
  اس روایت کے بارے میں  علامہ سخاوی رح فرماتے ہیں کہ مجھے اسکی اصل نہیں مل سکی۔

( القول البدیع /صفحة: 217.ط: دار الريان للتراث، مصر. ) 

والله تعالى اعلم
 ✍🏻...كتبه: *محمد عدنان وقار صديقي*

Sunday, 7 January 2018

بچوں کا رونا ذکر الہی؟*

*بچوں کا رونا ذکر الہی؟*

    ایک روایت "نزھت المجالس" کے حوالے سے گردش کر رہی ھے کہ: اپنے بچوں کو ان کے رونے پر سال بھر تک نہ مارو؛ کیونکہ شروع کے چار ماہ ان کا رونا در اصل کلمہ شہادت پڑھنا ھے, اور دوسرے چار ماہ ان کا رونا میری ذات پر درود پڑھنا ھے, اور تیسرے چار ماہ کا رونا اپنے والدین کے حق میں دعا کرنا ھے,
   اس روایت کی تحقیق اور سندی حیثیت کیا ھے؟
➖➖➖➖➖➖➖ 

••• *باسمہ تعالی* ••••
*الجواب وبہ التوفیق:* 

 یہ روایت - خطیب - نے "تاریخ بغداد" میں اور - ابن جوزی - نے "موضوعات ابن جوزی"  میں کر کی ھے۔ اور اس روایت پر کلام کرتے ھوئے فرمایا ھے کہ مذکورہ روایت بہت زیادہ منکر ھے۔اسکا بیان کرنا صحیح نہیں؛ اور اسکی نسبت حضور کی جانب کرنے میں بہی شدید احتیاط کی ضرورت ھے۔  کتاب نزھت المجالس  امام عبد الرحمن الصفوری الشافعی رح کی ھے؛ لیکن اس کتاب میں رطب و یابس سبہی کچھ جمع ھے۔ انہوں نے جمع روایات میں تحقیق کو مد نظر نہیں رکھا ھے۔

*روایت کے عربی الفاظ:*

⏺ لا تضرِبوا أولادَكُم على بُكائِهِم ، فبُكاءُ الصَّبيِّ أربعةُ أشهرٍ شَهادةُ أن لا إلَهَ إلا اللَّهُ ، وأربعةُ أشهرٍ الصَّلاةُ على محمَّدٍ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ ، وأربعةُ أشهرٍ دعاءٌ لوالِدَيهِ.


 الراوي: عبدالله بن عمر 
 المحدث: ابن الجوزي
 المصدر:  موضوعات ابن الجوزي
المجلد: 1
الصفحة: 152
الناشر: المكتبه السلفيه، بالمدينة المنورة، السعودية العربية.


  حكم الرواية: منكر جدا.


■ *امام صفوری کا تعارف:*
شیخ صفوری ایک مؤرخ اور ادیب تھے.
- نام: عبدالرحمن بن عبدالسلام الصفوري.
- تاريخ الوفاة: 894ھ.

*◇ ترجمة المصنف الصفوري (المتوفی 894هـ =1489م)*
عبدالرحمن بن عبدالسلام بن عبدالرحمن بن عثمان الصفوري الشافعي: مؤرخ أديب من أهل مكة، نسبته إلى صفورية في الأردن.

*• من كتبه:*
- (المحاسن المجتمعة في الخلفاء الأربعة - خ) في الظاهرية (229 ورقة)
- (نزهة المجالس، ومنتخب النفائس - ط)
- كتاب (الصيام - خ) في الأزهرية.
- (صلاح الأرواح والطريق إلى دار الفلاح - خ) فقه، في البصرة (العباسية).

■ *کتاب نزہت المجالس کی حیثیت:*
یہ کتاب ہر موضوع پر مشتمل مواد سے بھری پڑی ہے اور اس کتاب میں ہر طرح کی صحیح اور غلط روایات کی بہت بڑی تعداد موجود ہے، ابتداء سے ہی علمائے کرام نے اس کتاب پر اعتماد نہیں کیا.
بلکہ اس کتاب میں ذکر کردہ موضوع روایات کی بنیاد پر شیخ شہاب الدین الحمصی نے جامع اموی سے ان کی درس کی کرسی ہٹانے کا حکم دیا تھا.
*وبسبب كتابه هذا حكم عليه الشهاب الحمصي برفع كرسيه من الجامع الأموي يوم 15 جمادى الأولى 899هـ كما حكى في كتابه "حوادث الزمان". وذلك بسبب ما حشره فيه من الحديث الموضوع.*

- مشاهير كتب الرقائق. يكاد يكون خلاصة لكل ما ورد فيها من حكايا الصالحين، ونوادر أخبارهم. ألفه الصفوري كما يبدو في مدة طويلة، بعد تأليف كتابه "صلاح الأرواح". ورتبه على أركان الإسلام وشعب الإيمان، وختمه بخصائص النبي صلی اللہ علیه وسلم سيما في المولد والمعراج، ثم مناقب أمهات المؤمنين، والعشرة المبشرين، وحشده بما انتخبه من نفائس الكتب والتفاسير المشهورة.
طبع الكتاب لأول مرة بالمطبعة الأزهرية بمصر في جزئين (سنة:1346هـ) بعناية إبراهيم الفيومي.

■ *اس کتاب پر علمائےکرام کے تبصرے:*

*١. یہ کتاب ہر طرح کی موضوعات سے بھری ہوئی ہے.*

○ والكتاب المذكور المسمى "نزهة المجالس" فيه موضوعات وأشياء لا أصل لها، وقد نبه على هذا السيوطي في فتاواه وخرج بعض تلك المرويات، والواجب الحذر من هذا الكتاب.

*٢. اس کتاب کے مصنف شافعی تھے، لیکن حضرات شوافع نے اس کتاب کو باطل لکھا ہے.*

○ الكتاب متكلم فيه حتى من السادة الشافعية أنفسهم وكنت قد طالعت بعض كلام الشافعية ممن وقف على الكتاب ونبه على بطلان ما فيه وعلى عدم الاعتماد على صاحبه لكونه حشى كتابه بالبواطل.

*٣. اس کتاب میں ہر طرح کی چیزیں اور اسرائیلیات موجود ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے.*

● *السؤال:*
كتاب نزهة المجالس للصفوري ھل ھو كتاب معتمد أستطيع أن أتبع منهجه أو أنه من الكتب الممنوعة حسب ما قيل لي؟ من فضلکم أفيدوني؟...وجزاكم الله خيراً.
● *الجواب:*
فإن هذا الكتاب مليء بالقصص الإسرائيلية والأحاديث التي لا تثبت، ولهذا فإنه لا يمكن أن يعتمد عليه ولا أن يتبع منهجه، بل الواجب الاستغناء عنه بالقرآن وكتب التفسير المعتمدة وكتب الحديث، ومؤلفات العلماء المحققين في المواعظ والرقائق والأخلاق.

والله تعالى أعلم،
✍🏻...كتبه: *محمدعدنان وقار صديقي*  مع الاستفاد حول الكتاب: نزهة المجالس  من السطور التي الفها: *الاستاذ الباحث الشيخ عبد الباقي اخوند زاده،*

Friday, 22 December 2017

قبر میں نیک عمل کا آنا

◾قبر میں نیک عمل کا آنا◾

   کیا یہ بات درست ھے :کہ جب ہم دفن کردئے جاتے ہیں اور سوال و جواب کے لیے نکیرین آتے ہیں تو ایک شخص قبر میں آکر کہتا ھے : کہ اے صاحب قبر! تم آرام کرو؛ تمہارے سوالوں کا جواب میں دونگا! پھر جب فرشتے چلے جاتے ہیں تو یہ شخص بہی جانے لگتا ھے تو صاحب قبر اس سے معلوم کرتا ھے کہ آپ کون ہیں؟
  تو وہ شخص کہتا ھے کہ میں قرآن مجید ہوں!

   حضور نے فرمایا: کہ بے نور ہوجائے اسکا چہرہ جو حدیث سن۔کر آگے نہ پہونچائے۔
➖➖➖➖➖➖➖

••• *باسمہ تعالی*•••
*الجواب وبہ التوفیق:* 

   اس سلسلے میں ہمکو دو روایت ملتی ہیں:
1)  ایک طویل حدیث ھے: جس میں مذکور ھے کہ قبر میں ایک وجیہ , عمدہ لباس والا, بہترین خوشبو والا, شخص وارد ہوتا ھے اور کہتا ھے اے صاحب قبر ! خوش ہوجاؤ؛ یہ وہ دن ھے جسکا تم سے وعدہ کیا جاتا تہا, تو وہ شخص معلوم کرتا ھے تم کون ہو؟  تو وہ خوبصورت شخص جواب میں کہتا ھے : کہ میں تمہارا نیک عمل ہوں۔

🔵عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قَالَ :

( إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنْ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنْ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنْ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الشَّمْسُ ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ ، وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ...إلى أن قال – في وصف حال المؤمن في القبر - :

فَيُنَادِي مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِي فَأَفْرِشُوهُ مِنْ الْجَنَّةِ ، وَأَلْبِسُوهُ مِنْ الْجَنَّةِ ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ .

قَالَ : *وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ ، حَسَنُ الثِّيَابِ ، طَيِّبُ الرِّيحِ ، فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ . فَيَقُولُ لَهُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ . فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ . فَيَقُولُ : رَبِّ أَقِمْ السَّاعَةَ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي* )

رواه أحمد (4/362)  صحیح.

2)  بروز حشر جب قبریں پھٹے گیں, تو قرآن صاحب قرآن سے ملیگا اس حال میں کہ وہ پراگندہ بال ہوگا, اور کہےگا: مجھے پہچانا؟ 
 تو انسان کہےگا :نہیں!
  تو قرآن کہے گا :میں  تیرا رفیق قرآن ہوں جس نے تجہے دنیا میں سخت گرمی میں پیاسا رکہا تہا, جس نے تجھے دنیا میں راتوں کو جگایا تہا....

🔘  عن بريدة رضي الله عنه قال : سمعت النبي- صلى الله عليه وسلم - يقول :

( َإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ قَبْرُهُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ . فَيَقُولُ لَهُ : هَلْ تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ : مَا أَعْرِفُكَ . فَيَقُولُ لَهُ : أَنَا صَاحِبُكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ ، وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تِجَارَةٍ ، فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا يُقَوَّمُ لَهُمَا أَهْلُ الدُّنْيَا . فَيَقُولَانِ : بِمَ كُسِينَا هَذِهِ ؟ فَيُقَالُ : بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ اقْرَأْ وَاصْعَدْ فِي دَرَجَةِ الْجَنَّةِ وَغُرَفِهَا فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ هَذًّا كَانَ أَوْ تَرْتِيلًا )

  رواہ ابن ماجہ/  حدیث: 3781. صفحہ: 852,ط: دار الفکر, بیروت, لبنان۔

  (ورواہ احمد فی مسندہ:  رقم : 394 )





💠  سوال کا دوسرا جزء:

 بے نور ہوجائے اسکا چہرہ جو حدیث سن کر دوسروں کو نہ بتائے,  یہ بات من گھڑت ھے, کسی روایت میں یہ بد دعا مذکورنہیں ھے۔  البتہ حدیث سن کر اسکو یاد و محفوظ کرکے صحیح صحیح دوسروں کو بتانے پر حدیث میں خوشخبری اور بشارت ضرور مذکور ھے: 
   اللہ اس شخص کو آباد رکہے جو میری بات کو سنکر محفوظ کرے, اور اسکو یاد کرے پھر دوسروں تک پہونچائے۔ 

🔲 عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ( *نضر الله امرأ سمع مقالتي فوعاها وحفظها وبلغها*، فرب حامل فقه إلى من هو أفقه منه )

المصدر: الترمذي
المجلد: 5
الراوي: ابن مسعود
المحدث: ابوعىسي
 الطبع: شركة، ومطبع موسي البابي الحلبي، مصر.
حكم الرواية:  صحيح. 

⭕ خلاصۂ کلام:
   مذکورہ سوال میں جو بات مذکور ھے وہ روایات میں موجود نہیں ھے, اور جو روایات میں ھے اسکا خلاصہ ذکر کردیا گیا ھے۔ البتہ قبر میں نیک عمل کا خوبصورت انسان کی شکل میں متشکل ہوکر آنا ثابت ھے؛ تو بعید نہیں کہ قرآن بہی آجائے ؛ کیونکہ قرآن کی تلاوت بھی نیک عمل ہی ھے۔ البتہ قرآن کا قبر میں آکر جواب دینا یہ روایت میں نہیں ھے۔

ہذا ماتیسر لی, والعلم عندﷲ 

  وﷲ تعالی اعلم بالصواب

✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*

Tuesday, 19 December 2017

نبی سے مدد ، روایت کی تحقیق ازمفتی عدنان وقار صدیقی قاسمی




*باسمہ تعالی*
*الجواب وبہ التوفیق:* 

   یہ روایت امام بخاری کی  " الادب المفرد" اور  ابن السنی کی " عمل الیوم واللیلہ" میں مذکور ھے, لیکن اس روایت سے رضاخانی جو ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ مدعا کسی بہی طور پے ثابت نہیں ہوتا ھے؛ کیونکہ اس روایت پر شدید جرح ائمہ جرح و تعدیل نے کی ھے ,  اس روایت کی سند میں " ایک راوی *غیاث بن ابراہیم* ھے جسکے متعلق تاج المحدثین امام وقت امام یحی بن معین رح فرماتے ہیں: کہ غیاث بن ابراہیم  کذاب اور خبیث ھے میں اسکی روایت کو پیش کرنا بہی قبیح سمجہتا ہوں ,  واضح رھے کہ امام یحی بن معین کی جرح کسی بہی روایت کے لیے ناقابل استدلال ہونے کے لیے کافی ھے.اور امام احمد بن حنبل و امام بخاری نے اس راوی کو کہا کہ اسکی روایت محدثین قبول نہیں کرتے ہیں۔
  
      نیز عمل الیوم واللیل میں یہی بات دوسری سند سے مذکور ھے؛ لیکن وہ بہی ضعیف ھے کیونکہ اس میں ایک راوی ھیثم بن۔حنش ہے جو کہ مبہم اور ضعیف ھے۔

 اور ایک راوی محمد بن مصعب ھے جسکو امام ابن معین و نسائی نے ضعیف قرارد یا ھے اور ابن حبان  نے فرمایا: کہ مذکورہ راوی روایت کے متن اور سند کو بدلنے میں متہم ھے لہذا اسکو بہی قابل اعتبار نہیں سمجہا جاسکتا ھے۔
  
   🔵 دوسری بات:  اس روایت کے الفاظ میں غور کیا جائے اس میں یہ لفظ ھے کہ تم اپنی سب سے پسندیدہ شخصیت کو یاد کرو!  یہ نہیں کہا کہ مدد چاہو یا دعا مانگو ۔ اور یاد کرنے اور مدد چاہنے و دعا کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ھے ۔عربی کا ایک ادنی طالبعلم بہی اس فرق کو بلا بتائے سمجھ جاتا ھے ۔البتہ کسی کی عقل و آنکھ پے غفلت اور کم علم کی مہر لگی ہو تو ہم اس میں کیا کرسکتے ہیں!

    امام نووی نے صراحت فرمائی ھے کہ اس طرح کی بیماری میں عرب ایسا کیا کرتے تہے کہ جو سب سے۔زیادہ پسندیدہ شخصیت ہو اسکو یاد کرتے تہے اور ابن عمر کے لیے سب سے زیادہ محبوب رسول ﷲ تہے ۔ 
یہ بات آپ " علامہ آلوسی کی کتاب " بلوغ الارب فی معرفہ احوال العرب " میں دیکھ سکتے ہیں۔

    اور عقلا بہی یہ بات محال اور بعید از عقل ھے کہ ابن عمر جیسا صحابی اللہ کو چھوڑ کر غیر ﷲ سے مدد طلب کرے جبکہ خود نبی کو اللہ نے کہا ھے کہ ہر موقعہ پر اللہ کو پکارو! 
 ( وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا . وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا . قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا . قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا ) الجن/18-20.)

  نیز شیخ ابوبطین فرماتے ہیں: کہ ہو سکتا ھے کہ  اللہ نے حضور کریم کے اسم گرامی میں ایک تاثیر و خاصیت رکہی ہو۔

  قابل غور ھے کہ ابن عمر نے : یا محمد  أزل خدري ، أو أشكو إليك خدر رجلي نہیں کہا کہ جس سے ثابت ہو کہ انہوں نے حضور سے شفا یابی طلب کی ہو۔

🔘 تیسری بات:  امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ حضور کو یا محمد کہنا فقط استحضار قلبی کے لیے ھے جیساکہ التحیات میں کہا جاتا ھے" السلام علیک ایہا النبی"  یہ فقط دلی استحضار کے لیے ھے کوئی اور جذبہ پیش نظر نہیں رہتا ھے۔

  ◾ چوتہی بات: 
  عربوں کے یہاں ان احوال میں اپنی پسندیدہ شخصیت کو یاد کیا جانا معروف ھے  جیساکہ ہم علامہ آلوسی کے حوالے سے ذکر کر چکے ہیں تو اگر کوئی اس حالت میں اپنی بیوی , باپ, والدہ, استاذ, کو یاد کرے تو کیا اس سے یہ لازم آئگا کہ وہ ان لوگوں سے مدد طلب کر رہا ھے حالانکہ وہ دنیا میں موجود نھیں ھیں یا دنیا میں ہیں تو اسکے پاس  فی الوقت موجود نہیں ہیں ,  اگر آپ یہ کہتے ہو یہ یاد کرنا مدد طلب کرنا ھے تو مدد طلب کرنیوالا بیوقوف شمار ہوگا اور پھر سارا عرب بیوقوف شمار کیا جایئگا ۔ اور مجھ کو لگتا ھے کہ سارے عرب کو پاگل کہنے والا خود اپنی عقل کا جائزہ لے تو بہتر ہوگا۔

  إسرائيلُ ، عن أبي إسحاق ، عن الهيثم بن حنش ، قال : ( كنا عند عبد الله بن عمر رضي الله عنهما ، فخَدِرَت رِجلُه ، فقال له رَجُل : اذكر أحبَّ الناس إليك : فقال : يا محمد ، قال : فقام ، فكأنما نَشِطَ من عِقال ) 
رواه ابنُ السني في " عمل اليوم والليلة " (رقم/169) ۔صفحہ: 88. ط:  مکتبہ دار البیان ۔الطائف)
⭕خلاصہ کلام:
  یہ روایت انتہائی ضعیف ھے ناقابل استدلال ھے۔ اور اگر اسکو صحیح مان لیا جائے تو اس سے رضاخانیوں کا مقصد کسی صورت ثابت نہیں ہوتا ۔ 

وﷲ تعالی اعلم 

✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*

Friday, 1 December 2017

انبیاءورسولوں کی تعداد

◼انبیاءورسولوں کی تعداد◼

  دنیا میں کتنے انبیاء اور رسول تشریف لائے مجھے ان کی تعداد حدیث مبارکہ کی روشنی میں مطلوب ھے...!
➖➖➖➖➖➖
••• *باسمہ تعالی*•••
*الجواب وبہ التوفیق:* 

   حدیث سے ثابت ھے کہ دنیا میں " ایک لاکھ چوبیس ھزار"انبیاء کرام تشریف لائے ہیں,جن میں سے ٣١٣ رسول ہیں, 
➗➗➗➗➗➗➗
 الراوی : ابو ذر الغفاری 
 المحدث: أبو نعيم 
المصدر: حلية الأولياء
المجلد : 1
الصفحة :167
خلاصة حكم المحدث: تفرد به يحيى بن سعيد العبشمي عن ابن جريج.
الناشر: مکتبہ, الخانجی ۔قاھرہ مصر۔

⬅ صحیح ابن حبان میں حضرت ابوذر رض سے یہی روایت مروی ھے اس میں انبیاء کی تعداد ایک لاکھ بیس ھزار مذکور ھے۔ تطبیق کی صورت یہی ہوگی کہ جہاں ایک لاکھ بیس ھزار کا ذکر ھے وہ کسر کے ذکر کے بغیر ھے اور جہاں ایک لاکھ چوبیس ہزار ھے وہ مکمل تعداد ھے۔

المصدر: صحیح ابن حبان
الراوی : ابوذر الغفاری 
المحدث: ابن حبان
المجلد: 2
الصفحہ:76
رقم الحدیث: 361
الناشر: مؤسسہ الرسالہ
  ÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷

📝 (نوٹ)  جن انبیاء کا قرآن کریم میں ذکر ھے وہ کل " پچیس" ہیں:

   جن میں سے 18 نبیوں کا ذکر سورہ انعام/6 میں ھے۔

⬅1)ابراهيم. 2)اسحاق. 3)يعقوب. 4)نوح. 5)داوود. 6)سليمان. 7)أيوب. 8)يوسف. 9)موسى. 10)هارون. 11)زكريا 12)يحيى.13)عيسى. 14)الياس. 15)إسماعيل. 16)اليسع. 17)يونس. 18)لوط،

  🔘 بقیہ سات انبیاء کرام کا ذکر متفرق مقامات پر ھے۔

آدم: سورہ آل عمران۔
ھود: سورہ ھود
صالح: سورہ ھود
شعیب: سورہ ھود
ادریس و ذوالکفل: سورہ انبیاء
محمد عربی: سورہ آل عمران اور بہی تین جگہ 

  نیز حضرت خضر ع راجح قول کے مطابق نبی ہیں؛لیکن ان کا اسم گرامی صراحتا قرآن میں مذکور نہیں۔

🔵 فائدہ: جن انبیاء کرام کا اسم گرامی قرآن کریم میں ہے ان میں سے چار انبیاء عربی ہیں:

1) حضرت ھود, 2) حضرت صالح, 3) حضرت شعیب , 4) حضرت محمد عربی صلی علیہ وسلم۔

➗➗➗➗➗➗➗

قرآن میں موجود انبیاء کرام کے ذکر کی تعداد: 

حضرت موسی:136 بار
حضرت ابراہیم:69بار
حضرت نوح: 43
حضرت لوط:27
حضرت عیسی:25
حضرت آدم :25
حضرت ھارون:20
حضرت اسحاق:17
حضرت:سلیمان:17
حضرت یعقوب:16
حضرت داوود:16
حضرت اسماعیل:12
حضرت شعیب 11
حضرت صالح;9
حضرت زکریا:7
حضرت ھود:4
حضرت زکریا:4
حضرت یونس:4
حضرت ذوالکفل اور الیسع والیاس دو بار
حضرت خاتم النبیین محمد صلی ﷲ علیہ وسلم:4 بار 


وﷲ تعالی اعلم

✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*

Monday, 27 November 2017

اسلام میں عمر کے مدارج

اسلام میں عمر کے مدارج

   مجھے ایک روایت کی تحقیق درکار ھے جسکے الفاظ یہ ہیں: 

⬅  جب انسان حالت اسلام میں چالیس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو (تین قسم کی بیماریوں سے) محفوظ کردیتے ہیں یعنی جنون اور جذام اور برص سے۔ جب پچاس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا حساب ہلکا کردیتے ہیں۔ جب ساٹھ سال کو پہنچتا ہے تو اللہ اس کو اپنی طرف رجوع کی توفیق دے دیتے ہیں۔ جب ستر سال کو پہنچتا ہے تو سب آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اسی سال کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حسنات کو لکھتے ہیں اور سیئات کو معاف فرما دیتے ہیں پھر جب نوے سال کی عمر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیتے ہیں اور اس کو اپنے اہل بیت کے معاملے میں شفاعت کرنے کا حق دیتے ہیں اور اس کی شفاعت قبول فرماتے ہیں اور اس کا لقب امین اللہ اور اسیر اللہ فی الارض (یعنی زمین میں اللہ کا قیدی) ہوجاتا ہے (کیونکہ اس عمر میں پہنچ کر عموماً انسان کی قوت ختم ہوجاتی ہے کسی چیز میں لذت نہیں رہتی، قیدی کی طرح عمر گزارتا ہے اور جب ارذل عمر کو پہنچ جائے تو اس کے تمام وہ نیک عمل نامہ اعمال میں برابر لکھے جاتے ہیں جو اپنی صحت و قوت کے زمانے میں کیا کرتا تھا اور اگر اس سے کوئی گناہ ہوجاتا ہے تو وہ لکھا نہیں جاتا۔
➖➖➖➖➖➖

••• *باسمہ تعالی*•••
*الجواب وبہ التوفیق:* 

   جی یہ بات درست ھے؛ یہ عبارت "معارف القرآن شفیعی" سے ماخوذ ھے.
  
⚫معارف القرآن, جلد:6, صفحہ:242, سورہ: حج, آیت:5, پارہ:17, ط: کتب خانہ نعیمیہ, دیوبند.
➗➗➗➗➗➗

🔵 اس روایت کا ماخذ: 

یہ روایت " مسند ابو یعلی" میں حضرت انس بن مالک رض سے مروی ھے, جسکے الفاظ یہ ہیں:

⬇⬇⬇⬇⬇⬇⬇

      عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((ما مِن مُعمَّر يُعمَّر في الإسلام أربعين سنة إلا دفع الله عنه أنواع البلاء: الجنون، والجذام، والبرص، فإذا بلغ الخمسين هوَّن الله عليه الحساب، فإذا بلغ الستين رزقه الله الإنابة إلى الله بما يحب الله، فإذا بلغ السبعين أحبه الله وأحبه أهل السماء، فإذا بلغ الثمانين كُتبت حسناتُه ومُحيت سيئاته، فإذا بلغ التسعين غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، وكان أسيرَ الله في أرضه، وشفع في أهل بيته)).

المصدر: مسند أبي يعلي، 
الراوی: أنس بن مالک 
المحدث: احمد بن علی 
المجلد:7
رقم الحديث: 4249,
رقم الصفحہ: 243
الناشر: دار المامون للتراث, دمشق.
حکم الروایہ: قال حسين سليم أسد: إسناده ضعيف.

÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷

🔘 خلاصۂ کلام: 

👈🏻 یہ روایت حافظ ابن کثیر نے مسند ابو یعلی سے نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے ھذا حدیث غریب جدا وفیہ نکارة شدیدة (یعنی یہ حدیث غریب ہے اور اس میں سخت نکارت ہے) پھر فرمایا و مع ھذا قد رواہ الامام احمد بن حنبل فی مسندہ موقوفاً و مرفوعاً (یعنی اس غرابت و نکارت کے باوجود امام احمد نے اپنی مسند میں اس کو موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح روایت کیا ہے؛ لہذا اس روایت کو فضائل میں بیان کرنا درست اور جائز ھے۔

وﷲ تعالی اعلم
✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*

بدھ کے دن کام شروع کرنے کی حدیث کی تحقیق work Wednesday start

بدھ کے دن کام شروع کرنے کی حدیث کی تحقیق

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

مفتیاں حضراتایک سوال ہے ہمارے اساتذہ بدھ کو کتابیں شروع کر دیتے ہیں اس کے بارے میں کوئی حوالہ چاہئے.

جواب :ما من امر يبدأ في الْيَوْمَ الأربعاء الا تم

اس حدیث سے استدلال کر کے بدھ کو پڑھائی شروع کرتے ہیں جو کہ جائز ہے بس سنت تو نہیں ہے اور نہ مستحب بزرگوں کا عمل ہے بس.

بدھ کے دن کام شروع کرنے کی حدیث کی تحقیق:

سوال:بدھ کے دن کسی کام شروع کرنے کی حدیث کی فنی حیثیت کیا ہے؟

جواب:المقاصد الحسنۃ میں ہے:

ما بدء بشیء یوم اربعاء الّا تم ،لم أقف لہ علی اصل و لکن ذکر برھان الاسلام فی کتابہ تعلیم المتعلم من شیخہ المرغینانی صاحب الھدایۃ فی فقہ الحنفیۃ انہ کان یوقف بدایۃ السبق علی یوم الاربعاء و کان یروی بذلک بحفظہ و یقول قال رسول اﷲا ما من شیء بدء یوم الاربعاء الا و قد تم،قال و ھکذایفعل ابی فیروی ھذا الحدیث باسنادہ عن القوام احمد بن عبد الرشید انتھی،و یعارضہ حدیث جابرؓ مرفوعاً!یوم الاربعاء یوم نحس مستمر اخرجہ الطبرانی فی الاوسط،و نحوہ ما یروی عن ابن عباس ؓ انہ لا اخذ فیہ و لا عطاء و کلھا ضعیفۃ و بلغنی عن بعض الصالحین ممن لقیناہ انہ

قال شکت الاربعاء الی اﷲ سبحانہ تشاؤم الناس بھا فمنحھا انہ ما ابتدیٔ بشیء فیھا الا تمّ۔(المقاصد الحسنۃ ۳۶۴ /۹۴۳،وکذا فی الاسرار المرفوعۃ ص۲۹۴/۴۰۱،وھکذا فی کشف الخفاء ۲/۱۸۱/۲۱۹۱ و فی الموضوعات الکبیر ص۱۰۳،حرف المیم) 

نیز الاسرار المرفوعۃ میں ہے:

لکن یروی عن عائشۃ ؓقالت:ان احب الایام الیّ یخرج فیہ مسافری و انکح فیہ و اختن فیہ صبییّ یوم الاربعاء۔(الاسرار المرفوعۃ ص۳۷۹)

الفوائد البھیۃ میں صاحبِ ہدایہ سے نقل کردہ روایت کے بارے میں مذکور ہے:

قال الجامع:الحدیث الذی رواہ صاحب الھدایۃ قد تکلم فیہ المحدثون حتی قال بعضھم انہ موضوع۔(الفوائد البھیۃ۲۴)

ظفر المحصلین میں ہے:

مولاناعبد الحی ؒفرماتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کے لئے ایک اصل تلاش کی ہے وہ یہ کہ امام بخاری ؒ نے ’’ الادب المفرد ‘‘ میں ،امام احمد ؒو بزار ؒ نے حضرت جابرؓسے روایت کی ہے کہ آنحضرت انے مسجد ِ فتح میں پیر،منگل اور بدھ تین دن دعا کی اور بدھ کے روز ظہر او ر عصر کے درمیان دعاء مقبول ہوئی ۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ مجھے جب بھی کوئی امرِمہم در پیش ہوا تو میں نے بدھ کے دن ظہر اور عصر کے ما بین دعاء کی اور وہ مقبول ہوئی۔

‏قال ابن القيم رحمه الله :

‏الرِّضا بالقضاء من أسباب السّعادة والتّسخُّط ُعلى القضاءِ من أسباب الشّقاوة .

‏[مدارج السالكين (2/201)

قضا و قدر پر راضی ہونا سعادت (خوشی ) کے اسباب میں سے ہے جبکہ اس سے ناراض ہونا  پریشانیوں کے اسباب میں سے ہے

ملاحظہ ہومجمع الزوائد میں ہے:

عن جابرصیعنی ابن عبد اﷲ أن النبیادعا فی مسجد الفتح ثلاثا یوم الاثنین و یوم الثلثاء و یوم الأربعاء فاستجیب لہ یوم الأربعاء بین الصلاتین فعرف البشر فی وجھہ قال جابرص فلم ینزل بی أمر مھم غلیظ الا توخیت تلک الساعۃ فأدعو فیھا فأعرف الاجابۃ۔رواہ أحمد و البزار و رجال أحمد ثقات۔ (مجمع الزوائد۴/۱۲باب فی مسجد الفتح)

ظفر المحصلین میں استحباب ِ دعا کے لئے بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان کا وقت لکھا ہے ۔

اور تفسیر منیر لوھب زحیلی میں ہے:و مواقیت الدعاء وقت الاسحار و الفطر و ما بین الأذان والاقامۃ وما بین الظھر والعصرفی یوم الأربعاء۔ (تفسیر منیر۱/۱۵۵) 

علامہ سیوطی نے’’ سھام الاصابۃ فی الدعوات المستجابۃ ‘‘ میں تحریرکیا ہے کہ اس کی اسناد جید ہیں ۔نور الدین علی بن احمد سمہودی نے’’ وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی ‘‘ میں اس حدیث کو مسند احمد کی طرف منسوب کر کے لکھا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں پس اس حدیث سے یہ نکلا کہ بدھ کے روز میں ایک مستجاب ساعت ہے اسی لئے علماء نے بدھ کے روز اسباق کی ابتداء کو بہتر خیال کیا ہے۔علاوہ ازیں صحیح روایت سے ثابت ہے کہ حق تعالیٰ نے بدھ کے روز نور کی تخلیق کی ہے اور ظاہر ہے کہ علم سراسر نور ہے۔فیقاس لتمامہ ببدایتہ اذ یأبی اﷲ الا ان یتم نورہ۔(ظفر المحصلین ۱۹۳)واللہ اعلم

فتاوی دارالعلوم زکریا

Saturday, 25 November 2017

Darood e tanjeena ◾درود تنجینا کا حکم◾


◾درود تنجینا کا حکم◾

 کیا ھم درود تنجینا پڑھ سکتے ہیں؟
 جسکے الفاظ یہ ہیں:
◀اللهم صل على سيدنا محمد ، وعلى آل سيدنا محمد ، صلاة تنجينا بها من جميع الأهوال والآفات ، وتقضي لنا بها جميع الحاجات ، وتطهرنا بها من جميع السيئات ، وترفعنا بها عندك أعلى الدرجات ، وتبلغنا بها أقصى الغايات من جميع الخيرات ، في الحياة وبعد الممات انک علی کل شئی قدیر.
➖➖➖➖➖➖➖➖
••• *باسمہ تعالی*•••
*الجواب وبہ التوفیق:*

(۱) درود شریف سب سے افضل اور بہتر وہ ہیں جن کے الفاظ احادیث میں منقول ہیں اورایسے بعض درودوں کا مجموعہ بزرگوں نے یکجا کرکے رسالہ اور کتاب کی شکل میں چھاپ دیا ہے، مثلاً ”زاد السعید“، یہ احادیث میں منقول وماثور درودوں کا مجموعہ ہے۔
(۲) بعض درود ایسے ہیں جن کے الفاظ احادیث میں منقول نہیں ہیں، مگر معنی کے لحاظ سے تنوع پیدا کرنے کے لیے بزرگوں سے منقول ہیں، جیسے ”دلائل الخیرات“ان کا پڑھنا بھی جائز ہے، البتہ فضیلت نمبر ایک کی ہے۔ 
(۳) بعض درود شریف ایسے ہیں جن کے الفاظ بھی حدیث میں منقول نہیں ہیں اور معنی کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں ہیں یا ناشرین نے غیرمستند فضائل ان درودوں کے لکھ کر عوام میں پھیلادیا.

🔘 درود تنجینا دوسرے نمبر والا ھے۔ کہ اسکا پڑھنا جائز ھے۔

⚫ درود تنجینا کا ماخذ:
   مشہور ادیب اور مؤرخ امام عبد الرحمن الصفوری الشافعی رح نے اپنی مشہور کتاب" نزھت المجالس" میں اس درود کو ذکر فرمایا ھے کہ کسی اللہ والے کو سمندری سفر پیش آیا , کہ سخت طوفان شروع ہوگیا اور سب غرق ہونے کو تہے کہ ان اللہ والوں کو نیند کا جہونکا آیا اور حضور پاک صلی ﷲ علیہ وسلم کی زیارت سے شرفیابی ہوئی۔حضور نے فرمایا: کہ سب سواروں سے کہو! کہ یہ (درود تنجینا)پڑھیں۔  چنانچہ میری آنکھ کھلی اور ہم تمام لوگوں نے مذکورہ درود پڑھا ۔ ﷲ کے حکم سے طوفان تھم گیا. 
   آگے مزید لکھا ھے: کہ کثرت سے نبی کریم پر درود پڑھا کریں؛ کیونکہ اس کی برکت سے رکے معاملات حل ھوجاتے ہیں اور مصائب دور ھوجاتے ہیں۔

🔷 نزھت المجالس ومنتخب النفائس/ جلد:2. صفحہ: 86,


   وﷲ تعالی اعلم۔
✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*

Jo kese muslim ko ese place جو کسی مسلمان کو ایسی جگہ

••• *باسمہ تعالی*•••
*الجواب وبہ التوفیق:* 

    جی ہاں! یہ روایت سنن ابی داود وغیرہ دیگر کتب حدیث میں مذکور ھے۔ البتہ یہ حدیث کا ایک جزء ھے, مکمل حدیث اس طرح ھے:
⬇⬇⬇⬇⬇

 مامن امرئٍ یخذل امرءًا مسلمًا في مواقعَ يُنتهَكُ [ تُنتهَكُ ] فيه حرمتُه ويُنتقصُ فيه من عِرضِه إلَّا خذلَه اللهُ في موطنٍ يحبُّ فيه نُصرتَه وما من امرئٍ [ امرئٍ مسلمٍ ] ينصرُ مسلمًافي موضعٍ يُنتقصُ فيه من عِرضِه ويُنتهكُ فيه من حُرمتِه إلَّا نصرَه اللهُ في موطنٍ يحبُّ نُصرتَه .

📝ترجمہ: جو کسی مسلمان کو ایسی جگہ بے عزت اور رسوا کرےگا جہاں اسکی بے عزتی کی جائے اور اسکی عزت میں کمی آئے ,تو اللہ اسکو ایسی جگہ رسوا کرےگا جہاں وہ اللہ کی مدد چاھےگا۔
اور جو مسلمان کی ایسی جگہ عزت کرےگا جہاں اس کی عزت جارہی ہو اور اس کی آبرو ختم ہورہی ہو تو اللہ اسکی ایسی جگہ مدد کرے گا جہاں اسکو اللہ کی مدد محبوب ھوگی۔

المصدر: سنن ابوداود
المجلد:2
الصفحہ: 327
رقم الحدیث: 4884
الراوی: جابر بن عبدﷲ وابو طلحہ بن سھل انصاری
المحدث: ابوداود
الناشر: المکتبہ رحمانیہ, لاھور پاکستان۔
__________________
المصدر: المعجم الاوسط
المحدث: الطبرانی
الراوی: جابر و طلحہ
المجلد:8
الصفحہ: 282
رقم الحدیث: 8642
الطبع: دار الحرمین للطباعہ والنشر ۔مصر.

وﷲ تعالی اعلم۔
✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*

قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا

• *قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا* • ایک پوسٹ گردش میں ھے: کہ حضرت عبدﷲ ابن مسعودؓ سے مروی ھے کہ جو بندہ قبرستان جائے اور قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ دع...