Showing posts with label عقائد و ایمانیات. Show all posts
Showing posts with label عقائد و ایمانیات. Show all posts

Wednesday, 14 March 2018

ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے عقائد

ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے نظریات کا جائزہ..مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلھم کا فتویٰ.
﴿فتویٰ نمبر: 486؍1﴾
سوال:
سائلہ نے اسلام آباد کے ایک ادارے ‘‘الہدیٰ انٹرنیشنل ’’سے ایک سالہ ڈپلومہ کورس ان اسلامک اسٹڈیز (one year diploma course in I.S) کیا ہے سائلہ اس ادارے میں طلب علم کی جستجو میں گئی تھی اور ان کے خفیہ عقائد سے ناواقف تھی ،ایک سالہ کورس کے بعد ان کے عقائد کچھ صحیح معلوم نہ ہوئے تو سوچا کہ علماء کرام سے فتویٰ طلب کیا جائے تاکہ امت مسلمہ کی بیٹیوں تک عقائد صحیحہ کو پہنچا کر ان کو گمراہی سے بچایا جاسکے ،ہماری استاد اور الہدیٰ انٹر نیشنل کی نگران محترمہ فرحت ہاشمی صاحبہ کے نظریات کا نچوڑ پیش خدمت ہے ۔
۱۔اجماع امت سےہٹ کر ایک نئی راہ اختیار کرنا
۲۔غیر مسلم اور اسلام بیزار طاقتوں کے نظریات کی ہمنوائی
۳۔تلبیس حق و باطل
۴۔فقہی اختلافات کے ذریعے دین میں شکوک و شبہات پیدا کرنا
۵۔آسان دین
۶۔ آداب و مستحبات کو نظر انداز کرنا
اب ان بنیادی نقاط کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے:
۱۔اجماع امت سے ہٹ کر نئی راہ اختیار کرنا
۱۔قضائے عمری سنت سے ثابت نہیں صرف توبہ کرلی جائے قضا ء ادا کرنیکی ضرورت نہیں ہے
۲۔۳ طلاقوں کو ایک شمار کرنا
۳۔نفل نمازیں صلوٰۃ التسبیح ، رمضان میں طاق راتوں خصوصاً ۲۷ ویں شب میں اجتماعی عبادت کا اہتمام اور خوتین کے جمع ہونے پر زور دینا
۲۔غیر مسلم ،اسلام بیزار طاقتوں کے خیالات کی ہمنوائی:
۱۔مولوی(عالم)،مدارس اور عربی زبان سے دور رہیں،
۲۔علماء دین کو مشکل بناتے ہیں آپس میں لڑتے ہیں ،عوام کو فقہی بحثوں میں الجھاتےہیں ، بلکہ ایک موقع پر تو فرمایا کہ اگر آپ کو کسی مسئلے میں صحیح حدیث نہ ملے تو ضعیف لے لیں لیکن علماء کی بات نہ لیں ،
۳۔مدارس میں گرائمر ،زبان سکھانے،فقہی نظریات پڑھانے میں بہت وقت ضائع کیا جاتا ہے، قوم کو عربی زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ لوگوں کو قرآن صرف ترجمہ سے پڑھادیا جائے،
ایک موقع پر کہا (ان مدارس می جو ۷،۷،۸،۸ سال کے کورس کرائے جاتے ہیں یہ دین کی روح کو پیدا نہیں کرتے ہیں) اشارہ درس نظامی کی طرف ہے ،
۴۔وحید الدین خان کی کتابیں طالب علموں کی تربیت کیلئے بہترین ہیں نصاب میں بھی شامل ہیں اور اسٹالز پر بھی رکھی جاتی ہیں ،کسی نے احساس دلایا کہ ان کے بارے میں علماء کرام کی رائے کیا ہے تو کہا کہ ‘‘حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے’’
۳۔تلبیس حق و باطل :
۱۔تقلید شرک ہے (لیکن کونسی بر حق ہے اور کس وقت غلط ہے یہ کبھی نہیں بتایا )
۲۔ضعیف حدیث پر عمل کرنا تقریباً ایک جرم بناکر پیش کیا جاتا ہے (کہ جب بخاری صحیح ترین احادیث کا مجموعہ ہے تو ضعیف کیوں قبول کی جائے )
۴۔ فقہی اختلافات کے ذریعہ دین میں شکوک و شبہات پیدا کرنا:
۱۔اپنا پیغام ،مقصد اور متفق علیہ باتوں سے زیادہ زور دوسرے مدارس اور علماء پر طعن و تشنیع ،
۲۔ ایمان، نماز،روزہ ،زکوٰۃ ،حج ،کے بنیادی فرائض ،سنتیں ،مستحبات ،مکروہات سکھانے سے زیادہ اختلافی مسائل میں الجھایا گیا (پروپیگنڈا ہے کہ کسی تعصب کا شکار نہیں اور صحیح حدیث کو پھیلا رہے ہیں ،
۳۔نماز کے اختلافی مسائل رفع یدین فاتحہ خلف الامام ،ایک وتر ،عورتوں،کو مسجد جانے کی ترغیب، عورتوں کی جماعت ان سب پر صحیح حدیث کے حوالہ سے زور دیا جاتا ہے،
۴۔زکوٰۃ میں غلط مسائل بتائے جارہے ہیں ،خواتین کو تملیک کا کچھ علم نہیں ،
۵۔آسان دین:
۱۔دین مشکل نہیں ،مولویوں نے مشکل بنادیا ہے ،دین کا کوئی مسئلہ کسی بھی امام سے لے لیں اس بھی ہم دین کے دائرے میں ہی رہتے ہیں ،
۲۔حدیث میں آتا ہے کہ آسانی پیدا کرو تنگی نہ کرو ،لہذا جس امام کی رائے آسان معلوم ہو وہ لے لیں ،
۳۔روزانہ یٰس پڑھنا صحیح حدیث سے ثابت نہیں ،نوافل میں اصل صرف چاشت اور تہجد ہے، اشراق اور اوابین کی کوئی حیثیت نہیں ،
۴۔دین آسان ہے ،بال کٹوانے کی کوئی ممانعت نہیں ،امہات المؤمنین میں سے ایک کے بال کٹے ہوئے تھے،
۵۔دین کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پکنک ،پارٹیاں ،اچھا لباس ،زیورات کا شوق ،محبت ۔من حرم زینۃ اللہ ۔۔۔۔
۶۔ خواتین دین کو پھیلانے کیلئے گھر سے ضرور نکلیں ،
۷۔محترمہ کا اپنا عمل طالبعلموں کیلئے حجت ہے ،محرم کے بغیر تبلیغی دوروں پرجانا،قیام اللیل کیلئے راتوں کو نکلنا ،میڈیا کے ذریعہ تبلیغ (ریڈیو ،ٹی وی ، آڈیو)،
۶۔آداب و مستحبات کی رعایت نہیں :
۱۔خواتین ناپاکی کی حالت میں بھی قرآن پاک چھوتی ہیں ،اٰیات پڑھتی ہیں
۷۔متفرقات:
۱۔قرآن کا ترجمہ پڑھاکر ہر معاملہ میں خعد اجتہاد کی ترغیب دینا
۲ ۔قرآن و حدیث کی فہم کیلئے جو اکابر علماء کرام نے علوم سیکھنے کی شرائط رکھی ہیں ان کو بیکار ،جاہلانہ باتیں اور سازش قرار دینا ،
۳۔کسی فارغ التحصیل طالبہ کے سامنے دین کا کوئی حکم یا مسئلہ رکھا جائے تو اس کا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے یا نہیں ،
ان تمام باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ گلی گلی ،محلے محلے الہدیٰ کی برانچز کھلی ہوئی ہیں اور ہر قسم کی طالبہ ،خواہ اس کی تجوید بھی درست نہ ہوئی ہو آگے پڑھا رہی ہے ،اور لوگوں کو مسائل میں الجھایا جارہا ہے ۔
گھر کے مردوں کا تعلق مسجد سے ہے (جہاں نماز کا طریقہ فقہ حنفی کے مطابق ہے)گھر کی عورتیں مردوں سے الجھتی ہیں ہمیں مساجد کے مولویوں پر اعتماد نہیں ۔
مطلوبہ سوالات:
۱۔مذکورہ بالا تمام مسائل کی شرعی نقطہ نظر سے وضاحت فرماکر مشکور فرمائیں۔
۲۔محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے اس طریقہ کار کی شرعی حیثیت ،نیز محترمہ کی گلاسگو یونیورسٹی سے پی ۔ایچ ۔ڈی کی شرعی حیثیت کیا ہے ۔
۳۔ان کے اس کورس میں شرکت کرنا ،لوگوں کو اس کی دعوت دینا اور ان سے تعاون کرنے کی شرعی نقطہ نظر سے وضاحت فرمادیجئے ۔ جزاکم اللہ خیرا احسن الجزاء
مستفتیہ مسز سیما افتخار
(one year diploma holder from Al Huda International Islamabad)
ج:
الجواب حامدًا ومصلیاً
سوال میں جن نظریات کا ذکر کیا گیا ہے خواہ وہ کسی کے بھی نظریات ہوں ان میں سے اکثر غلط ہیں ،بعض واضح طور پر گمراہانہ ہیں ،مثلاً اجماع امت کو اہمیت نہ دینا،تقلید کو علی الاطلاق شرک قرار دینا ،جس کا مطلب یہ ہے کہ چودہ سو سال کی تاریخ میں امت مسلمہ کی اکثریت جو ائمہ مجتہدین میں سے کسی کی تقلید کرتی رہی ہے وہ مشرک تھی ،یا یہ کہنا کہ قضاء عمری فوت شدہ نمازوں کو قضاء کرنے کی ضرورت نہیں ،صرف توبہ کافی ہے ۔(۲،۱)
بعض نظریات جمہور امت کے خلاف ہیں مثلاً تین طلاقوں کو ایک قرار دینا،بعض بدعات ہیں مثلاً صلاۃ التسبیح کی جماعت (۳)،یا قیام اللیل کیلئے راتوں اہتمام کے ساتھ لوگوں کو نکالنا ،یا خواتین کو جماعت سے نماز پڑھنے کی ترغیب ، بعض انتہائی گمراہ کن ہیں مثلاً قرآن کریم کو صرف ترجمہ سے پڑھ کر پڑھنے والے کو اجتہاد کی دعوت ،یا اس بات پر لوگوں کو آمادہ کرنا کہ وہ جس مذہب میں آسانی پائیں اپنی خواہشات کے مطابق اسے اختیار کرلیں یا کسی کا اپنے عمل کو حجت قرار دینا (۴)۔اور ان میں سے بعض نظریات فتنہ انگیز ہیں مثلاًعلماء و فقہاء سے بد ظن کرنا ،دینی تعلیم کے جو ادارے اسلامی علوم کی وسیع و عمیق تعلیم کافریضہ انجام دے رہے ہیں ،ان کی اہمیت ذہنوں سے کم کر کے مختصر کورس کو علم دین کیلئے کافی سمجھنا ،نیز جو مسائل کسی امام مجتہد نے قرآن و حدیث سے اپنے گہرے علم کی بنیاد پر مستنبط کئے ہیں ان کو باطل قرار دیکر اسے قرآن و حدیث کے خلاف قرار دینا اور اس پر اصرار کرنا ۔
جو شخصیت یا ادارہ مذکورہ بالا نظریات رکھتا ہو اور اس کی تعلیم و تبلیغ کرتا ہو وہ نہ صرف گمراہانہ ،گمراہ کن یا فتنہ انگیز نظریات کا حامل ہے بلکہ اس سے مسلمانوں کے درمیان افتراق و انتشار پیدا ہونے کا قوی اندیشہ ہے ، اور اگر کوئی شخص سہولتوں کی لالچ میں اس قسم کی کوششوں سے دین کے قریب آئیگا بھی تو مذکورہ بالا فاسد نظریات کے نتیجے میں وہ گمراہی کا شکار ہوگا۔لہٰذا جو ادارہ یا شخصیت ان نظریات کی حامل اور مبلغ ہو ،اور اپنے دروس میں اس قسم کی ذہن سازی کرتی ہو اس کے درس میں شرکت کرنا ،اور اس کی دعوت دینا ان نظریات کی تائید ہے جو کسی طرح جائز نہیں (5)،خواہ اس پاس کسی قسم کی ڈگری ہو ،اور گلاسگو یونیورسٹی کی ڈگری بذات خود اسلامی علوم کے لحاظ سے کوئی قیمت نہیں رکھتی ،بلکہ غیر مسلم ممالک کی یونیورسٹیوں میں مستشرقین نے اسلامی تحقیق کے نام پر اسلامی احکام میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور دین کی تحریف کا ایک سلسلہ عرصہ دراز سے شروع کیا ہوا ہے ۔ان غیر مسلم مستشرقین نے (جنہیں ایمان تک کی توفیق نہیں ہوئی)اس قسم کے اکثر ادارے در حقیقت اسلام میں تحریف کرنے والے افراد تیار کرنے کیلئے قائم کئے ہیں ، اور ان کے نصاب و نظام کو اس انداز سے مرتب کیا ہے کہ اس کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے (الا ماشاءاللہ )اکثر دجل و فریب کا شکار ہو کر عالم اسلام میں فتنے برپا کرتے ہیں ۔لہٰذا گلاسگو یونیورسٹی سے اسلامی علوم کی کوئی ڈگری نہ صرف یہ کہ کسی شخص کے مستند عالم ہونے کی کوئی دلیل نہیں بلکہ اس سے اس کی دین فہمی کے بارے میں شکوک پیدا ہونا بھی بیجا نہیں ۔دوسری طرف بعض اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان یونیورسٹیوں سےڈگریاں حاصل کیں ۔اور عقائد فاسدہ سے محفوظ رہے ،اگرچہ ان کی تعداد کم ہو ۔لہٰذا یہ ڈگری نہ کسی کے مستند عالم ہونے کی علامت ہے اور نہ محض اس ڈگری کی وجہ سے کسی کو مطعون کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس کے عقائد و اعمال درست ہوں ۔
مذکورہ بالا جواب ان نظریات پر مبنی ہے جو سائلہ نے اپنے استفتاء میں ذکر کئے ہیں اب کون شخص ان نظریات کا کس حد تک قائل ہے ؟اس کی ذمہ داری جواب دہندہ پر نہیں ہے۔۔
واللہ سبحانہ اعلم
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
دار الافتاء دار العلوم کراچی۱۴
۲۱۔۴۔۱۴۲۲ھ

Saturday, 25 November 2017

تبلیغ مستورات کی جماعت خواتین کی جماعت میں جانا

عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ
Indiaسوال # 59863
ہماری تحصیل کاایک گاؤں ”واہ پور “ ہے، وہاں پر ایک صاحب جو کہ تبلیغ سے جڑے ہوئے ہیں، گاؤں والوں کو ایک فتوی دکھارہے ہیں کہ مستورات کی جماعت میں ْجانا غیر مناسب ہے اور فتوی دارالافتاء دیوبند ہی کا بتا رہے ہیں ، اس سے وہاں کام کو نقصان پہنچے کا اندیشہ ہے۔ اس کے ذیل میں یہ بتانے کی زحمت کرے کہ کیا مستورات کی جماعت میں جانا یا ان جماعتوں کو بنوانے کی محنت کرنا غیر مناسب ہے یا باعث مسرت اور ثواب کا کام ہے؟
Published on: Jun 24, 2015 جواب # 59863
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 734-731/N=9/1436-U

مستورات کی مروجہ تبلیغی جماعت کے متعلق دارالعلوم دیوبند اور مظاہر علوم سہارنپور کا متفقہ فتوی ارسالِ خدمت ہے؛ لہٰذا اسے ملاحظہ فرمالیں۔
-------------------------------------
مستورات کا دعوت وتبلیغ کے لیے سفر کرنا
حضرت مولانا مفتی سید مہدی حسن صاحب (صدر مفتی دارالعلوم دیوبند) کا فتویٰ اور حضرت مولانا مفتی سعید ا حمد صاحب (مفتی اعظم مظاہر علوم سہارن پور) نیز حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب  (ناظم اعلیٰ مظاہر علوم سہارنپور) کی تائید وتصدیق۔
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ کیا عورتوں کا تبلیغ کے لیے سفر کرنا مع محرم کے درست ہے؟
المستفتی:
حافظ عبد الرحیم مسجد کوٹھے والی صدر بازار دہلی
۱۷/۲/۱۳۷۱ھ
(۱۰۹/د)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کے زمانہ میں تبلیغ کیا لیے عورتیں سفر نہ کرتی تھیں، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور نہ صحابہ نے تبلیغ کے لیے عورتوں کو سفر کرنے کا حکم فرمایا، نہ خود تبلیغ کے لیے سفر میں روانہ کیا، اس عمل سے ثابت ہے کہ عورتوں کو تبلیغ کے لیے سفر کرنا جائز نہیں، خیر القرون کے زمانہ میں اگر کسی عورت کو کسی مسئلہ کی ضرورت ہوتی تھی، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا ازواجِ مطہرات یا صحابہ کی بیویوں سے آکر دریافت کرلیتی تھیں، تبلیغ مردوں کے ذمے اس زمانے میں مقرر تھی، اور عورتیں پردہ کے ذریعہ سے احکام کو معلوم کرکے دین کی باتیں سکھتی تھیں، مردوں کا کام یہ تھا کہ وہ اپنی عورتوں کو دین سے واقف کرائیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام تبلیغ کے لیے سفر کرتے تھے، جہاد میں جاتے تھے؛ لیکن عام طور پر سب عورتوں کو اپنے ساتھ نہ لے جاتے تھے۔
جب اس خیر کے زمانے میں یہ صورت حال رہی ہے، تو اس شر اور فتنوں کے زمانے میں عورتوں کو تبلیغ کے لیے سفر کرنا، اگرچہ محرم کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو کیوں کر جائز ہوسکتا ہے؟ ! یہ خیال کہ عورتوں کو کس طرح تبلیغ ہوگی؟ اس بنا پر صحیح نہیں کہ ان کے مرد اُن کو تبلیغ کریں، اور دین کے احکام ان کو سکھائیں، اور خود مرد دین کی باتیں دوسرے واقف کاروں سے سیکھیں یا سیکھنے اور سکھلانے کے لیے سفر کریں، ورنہ عام طور پر عورتوں کا تبلیغ کے لیے سفر کرنا فتنے کے دروازوں کا کھول دینا ہے، جو آج دنیا پر نظر ڈالنے سے مشاہد بھی ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سید مہدی حسن غفر لہ 
(صدر مفتی دارالعلوم دیوبند)
۲۵/۲/۱۳۷۱ھ
الجواب صحیح: سعید احمد غفرلہ (مفتی اعظم مظاہر علوم سہارنپور)
الجواب صحیح: عبداللطیف (ناظم اعلیٰ مظاہر علوم سہارنپور)
نوٹ: ان دونوں حضرات کی تصدیق مظہر علوم سہارن پور کے دارالافتاء کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔
(مفتی) حبیب الرحمن عفا اللہ عنہ
۲۳/۳/۱۴۳۲ھ
نقل مطابق اصل ہے۔ زین الاسلام قاسمی نائب مفتی دارالعلوم دیوبند
۲۸/۱۱/۳۲ھ
_________________________________________________________________
حضرت مولانا مفتی سید عبدالرحیم صاحب لاجپوری (مفتی اعظم گجرات) کا فتویٰ:
سوال: (۱۶۷) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں اپنی اہلیہ کو لے کر تبلیغی جماعت میں جاسکتا ہوں؟ عورتوں کو جماعت میں لے جانا چاہیے یا نہیں؟
الجواب: حامدا ومصلیا ومسلما: عورتوں کو جماعت میں لے جانا مطلوب اور پسندیدہ نہیں ہے، اور ”وَاِثْمُہُمَا اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا“ (سورہٴ بقرہ، آیت: ۲۱۹) کا مصداق ہے، عورتیں غیر محتاط ہوتی ہیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب (۱۰/۴۹۸) (فتاویٰ رحیمیہ کامل: ۲/۱۳۶-۱۳۷، باب الدعوة والتبلیغ)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند: ۱۶/۲۰۸-۲۱۰)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

نبی علیہ السلام کے والد والدہ کے ایمان کے بارے

نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم کے والدین کے بارے میں اھل سنت والجماعت کا کیا عقیده ھے



*باسمہ تعالی*
*الجواب وبہ التوفیق:* 

اس مسئلہ میں سب سے زیادہ اسلم طریقہ یہ ہے کہ توقف كیا جائے، کیونکہ علماء کے نزدیک خود یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین ایمان نہیں لائے تھے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ وہ دونوں ایمان لے آئے تھے۔ دلائل میں دونوں کے پاس متعدد احادیث ہیں۔ اس لیے سلامتی اسی میں ہے کہ ہم سکوت اختیار کریں۔ یہ مسئلہ عقائد اسلام میں سے نہیں ہے، نہ ہی عمل سے اس کا کوئی تعلق ہے، لہٰذا خاموشی اختیار کرنا سب سے بہتر راستہ ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

✍🏻...کتبہ: *محمد عدنان وقار صدیقی*

تعویز کا حکم Taveez ka hukam

kia taviz ka galy ma phan na jaiz hai


… جائز کام کے لئے تعویذ جائز ہے اور ناجائز کام کے لئے ناجائز۔ ناجائز تعویذ کرنے اور کرانے والے دونوں برابر کے گناہ گار ہیں۔

دم اور تعویذ شرک نہیں بلکہ جائز ہیں اور اسی پر اجماع ہے۔ البتہ دم اورتعویذ کے لئے تین شرطوں کا تحقق لازمی ہے‘ اگر وہ تین شرطیں مفقود ہوجائیں تو پھر اس کے عدم جواز میں کوئی شک و شبہ نہیں مطلقاً دم اور تعویذ کو شرک کہنا غلط ہے۔ وہ شرائط یہ ہیں:
۱…تعویذات اللہ کے کلام یعنی قرآن کریم سے ہوں یا اللہ کے اسماء و صفات سے ہوں۔
۲…عربی زبان میں ہوں اور اگر کسی عجمی زبان میں ہوں تو اسکے الفاظ کے معانی معلوم ہوں۔

۳…دم کرنے اور کرانے والا دونوں یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ دم اور تعویذ میں بذاتہ کوئی تاثیر نہیں بلکہ مؤثرحقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہ دم اور تعویذ صرف سبب اور ذریعہ ہیں۔
جیسا کہ ’’فتح الباری ‘‘میں ہے:
’’وقد اجمع العلماء علی جواز الرقی عند اجتماع ثلاثۃ شروط: ان یکون بکلام اللّٰہ تعالیٰ، اوباسمائہ وصفاتہ وباللسان العربی او بما یعرف معناہ من غیرہ، وان یعتقد ان الرقیۃ لا توثر بذاتھا بل بذات اللہ تعالیٰ……‘‘ الخ۔(۱)
اور مسلم شریف میں ہے کہ جس دم اور تعویذ میں شرک نہ ہو وہ جائز ہے اس میں ممانعت نہیں۔ جیسا کہ فرماتے ہیں:
’’لابأس بالرقی مالم یکن فیہ شرک…‘‘(۲)
مذکورہ شرائط کے ساتھ دم اور تعویذ کے جواز پر چاروں ائمہ متفق ہیں، جیسا کہ ’’کتاب الاثار ‘‘میں ہے:
’’قال محمد: وبہ نأخذ إذا کان من ذکر اﷲ أو من کتاب اﷲ وھو قول أبی حنیفۃ ‘‘(۳)
اور بخاری کے حاشیہ میں ہے:
’’فیہ جواز الرقیۃ وبہ قالت الائمۃ الاربعۃ وفیہ جواز اخذ الاجرۃ‘‘…الخ(۴)
ـــــــــ
(۱)فتح الباری شرح صحیح البخاری -کتاب الطب -باب الرقی -۱۰؍۱۹۵- رقم الحدیث:۵۷۳۵- رقم الباب:۳۲-ط: رئاسۃ ادارات البحوث العلمیۃ بالمملکۃ السعودیہ ۔
(۲)الصحیح لمسلم -کتاب السلام -باب استحباب الرقیۃ من العین والنملۃ -۲؍۲۲۴-ط:قدیمی کراچی الطبعۃ الثانیہ ۱۳۷۵ھ بمطابق ۱۹۵۶ء۔
(۳) کتاب الاثار للإمام الأعظم أبی حنیفۃ نعمان بن ثابت -کتاب الحظر والاباحۃ-باب الرقیۃ من العین والاکتواء -رقم الحدیث:۸۸۹-ص:۳۷۶-۳۷۷،ط: الرحیم اکیڈمی بار اول ۱۴۱۰ھ۔وکذا فی مؤطا امام محمد ص: ۳۷۳،باب الرقی ،ابواب السیر ،ط: میر محمد کراچی۔۱۳۸۱ھ بمطابق ۱۹۶۱ء۔
(۴)حاشیۃ البخاری لأحمد علی السھارنفوری-کتاب الاجارۃ-باب یعطی فی الرقیۃ-۱؍۳۰۴-حاشیۃ:۸،ط: قدیمی کراچی،الطبعۃ الثانیہ ۱۳۸۱ھ بمطابق ۱۹۶۱ء۔
متعدد اسلافؒ سے دم کرنا اور تعویذ لکھنا ثابت ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کا تعویذ لکھ کر دینا ثابت ہے۔(۱)
حضرت عبد اﷲ بن عباسؓ بچے کی پیدائش کے لئے دو آیات قرآنی لکھ کر دیتے تھے ملاحظہ ہومصنف ابن ابی شیبہ۔                                                                        غرضیکہ مذکورہ شروط پائے جانے کے وقت جائز دم اور جائز تعویذ جائز ہے، جیسے جائز علاج جائز ہے اور ناجائز علاج ناجائز ہے۔
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ تعویذات وغیرہ بطور علاج کے لٹکائے جاتے ہیں، تو ظاہر سی بات ہے انسان کے جس حصہ اور عضو میں تکلیف ہوگی اسی حصہ اور عضو میں وہ تعویذ بطور علاج و دوا کے باندھا جائیگا، اور اس طرح باندھنا جائز ہے، اور یہی تعویذ وغیرہ اگر کپڑے یا چمڑے میں لپٹاہوا ہو تو اسے ناف‘ران‘اور جسم کے کسی بھی دوسرے حصے میں باندھنے سے اسکی اہانت نہیں ہوتی جیسا کہ انسان کے جسم کے کسی بھی حصے میں اگر درد ہوا اور اس پر کچھ پڑھ کر پھونک دینے سے اسکی اہانت نہیں ہوتی، تو اسی طرح قرآنی آیات کو اگر بطور علاج کے باندھا جائے تو اسکی اہانت نہیں ہوگی۔ البتہ کپڑے یا چمڑے میں لپیٹے بغیر تعویذ کو ران 
وغیرہ کے قریب باندھنا درست نہیں ہے، اس لئے کہ اس صورت میں قرآن کریم کی اہانت لازم آتی ہے۔ جیسا کہ ’’فتاوی شامی ‘‘میں ہے: ’’ولا بأس بان یشد الجنب والحائض التعاویذ علی العضد إذا کانت ملفوفۃ‘‘

Friday, 24 November 2017

ڈیجیٹل تصویرکا حکم Digital picture

ڈیجیٹل تصویرکا حکم

باسمہ سبحانہ وتعالیٰ

السلام علیکم

ڈیجیٹل کیمرہ  اور  موبائل  فون سے لی گئی تصاویر سے متعلق دارالافتاء جامعہ دا رالعلوم  کراچی کا موقف  جامعہ کے فتاویٰ سےواضح ہے کہ ” جب  تک  ان آلات  سے کھینچی  گئی  تصویر کسی کاغذ پر پرنٹ نہ ہو تو شرعاً  تصویر محرم میں داخل نہیں ہے “

لیکن آجکل  یہ صورتحال نظرآرہی  ہے کہ کیمرے  والے موبائل فون عام  ہونے  کی بناء پر  لوگ دانستہ  یا نادانستہ  جامعہ دارالعلوم کراچی  کے  فتویٰ کا غلط استعمال کررہے ،لوگ  اپنے  موبائل میں  غیر اخلاقی  تصاویر اورویڈیوز رکھتے ہیں  نامحرم افراد کی تصاویر کھینچتے ہیں بلاضرورت  تصاویر یا ویڈیو  بناتے ہیں جب ان کو منع کیا جاتا ہے تووہ فورا دارالافتاء دارالعلوم کراچکی کے فتویٰ کا حوالہ دیتے ہیں۔

اس حوالہ سے دارالافتاء  جامعہ دارالعلوم  کراچی  کے مفتیان کرام اور اکابر  حضرات مد ظلہم  کی طرف سے زبانی طور پر مختلف مواقع پر  لکیر سامنے  آئی ہے  لہذا اس ساری صورتحال  کے پیش نظر  چند  سوالات  کے جوابات  آپ حضرات سے مطلوب  ہیں تاکہ  دارالعلوم کراچی  کے فتویٰ کے غلط استعمال سے روک تھام کی جاسکے ۔

1۔کیا ڈیجیٹل  کیمرے  سے نامحرم کی تصاویر لینا یا نا محرم  افراد کا ایک دوسرے  کو دیکھنا شرعاً جائز ہے؟

2۔کیا ڈیجیٹل یا نان ڈیجیٹل  کیمرے  سے فحش اور ناجائز مناظر کی تصاویر  لینا اور اپنے موبائل  میں محفوظ کرنا جائز ہے ؟

3۔کیا فحش یا ہنسی مذاق پر مشتمل تفریحی  ویڈیوز دیکھنا شرعاً جائز ہے ؟

براہ کرم مذکورہ  سوالات کے جوابات عنایت فرمادیں  تاکہ ڈیجیٹل  تصویر  سے  متعلق عوام الناس میں پائی جانے والی غلط فہمی  دور ہوسکے۔اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو بہترین جزائے خیر  عطاء فرمائے ۔

والسلام 

الجواب حامداومصلیا

اصل سوال  کے جواب سے پہلے   بطور تمہید یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل کیمرہ  کی تصویر سے متعلق مسئلہ میں دو باتیں الگ الگ ہیں :

1۔ڈیجیٹل کیمرہ سے لی گئی  نفس تصویر  کا شرعی حکم

2۔ڈیجیٹل کیمرہ سے ناجائز تصاویر یا ویڈیوز بنانا

اس میں سے  سے پہلی بات  یعنی نفس تصویر  کا حکم جامعہ  دارالعلوم  کراچی کے  حضرات اکابر  حفظہم اللہ کے نزدیک وہی ہے جو سائل نے ذکر کیا ہے  یعنی ڈیجیٹل  کیمرے سے لی گئی  تصویرکا  جب تک پرنٹ  نہ لیا گیا ہو یا اسے پائیدار  طریقے سے  کسی چیز پر نقش نہ کیا گیا ہو اس وقت  تک وہ تصویر محرم  میں داخل نہیں بشرطیکہ  اس تصویر  یا ویڈیو میں نامحرم افراد نہ ہوں فحش مناظر نہ ہو ں ۔

ڈیجیٹل کیمرہ کی جس تصویر کی گنجائش دی گئی ہے  اس سے مراد اس چیز کی تصویر ہے جس کو خارج  میں بغیر تصویر کے دیکھنا بھی جائز ہے ۔اور جس چیز کو خارج  میں بغیر تصویر کے دیکھنا جائز نہیں اس کی تصویر یا وہڈیو بنانا بھی جائز  نہیں لہذا جامعہ دارالعلوم کراچی کے فتویٰ کا  تعلق اس چیز کی ڈیجیٹل تصویر سے  ہے  جس کو خارج  میں دیکھنا جائز ہو اور  جس چیز کو خارج میں دیکھنا جائز نہیں اس کی تصویر کو جامعہ  دارالعلوم کراچی  کے فتویٰ میں  ہر گز جائز قرار نہیں دیاگیا ہے لہذا جامعہ دارالعلوم   کراچی  کی طرف  مطلقا تصویر  کے جواز کی نسبت کرنا بالکل درست  نہیں۔اس تمہید کے بعد آپ  کے سوالات کے جوابات ملاحظہ ہوں :

ڈیجیٹل یا نان ڈیجیٹل کیمرہ سے  نامحرم افراد  کی تصویر لینا  یا فحش اور ناجائز مناظر  کی تصاویر  محفوظ کرنا یا موسیقی کے ساتھ  مناظر  کو محفوظ کرنا اور دیکھنا شرعاً جائز نہیں ہے ۔

ڈیجیٹل کیمرہ سے بنائی گئی  ایسی ویڈیو جس میں جائز حدودمیں تفریحی مواد  ہواسے دیکھنا شرعاً جائز ہے لیکن  جس ویڈیو کے اندر نامحرم خواتین  کی تصویر ہو یا موسیقی  ہو یا فحش مناظر  ہو ایسی تفریحی  ویڈیو دیکھنا شرعاً جائز نہیں ہے ۔

واضح رہے  کہ ڈیجیٹل کیمرہ  سے  متعلق دارالافتاء  جامعہ دارالعلوم  کراچی  کی طرف  سے جو فتویٰ دیاگیا ہے وہ حاجت شرعیہ ( ضرورت کے مواقع پر )  استعمال  کے لیے دیاگیا ہے لہذا بلا ضرورت شرعیہ  محض تفریح  یا یادگار کے لیے استعمال  کرنے سے احتیاط کرنا بہتر ہے ۔ واللہ سبحانہ  وتعالیٰ

دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی 

کیا آذان کے وقت کتا بھونکنے میں کوئ قباحت ھے Azan time Dog bark

مسلہ۔۔۔ کیا آذان کے وقت کتا بھونکنے میں کوئ قباحت ھے

*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*

✍ *_الْجَواب حامِداوّمُصلّیاً_* 

کتا اپنی طبیعت شیطانیہ کی وجہ سے ایسا کرتا ہے کیونکہ حدیث میں آتا ہے شیطان جب اذان ہوتی ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے اتنی دور جا کر دم لیتا ہے جہاں اس کو اذان کی آواز سنائی نہ دے۔ (بخاری۔الاذان۔ باب فضل الاذان۔ مسلم۔الصلاۃ۔باب فضل الاذان وہرب الشیطان عند سماعہ)یہ چونکہ کتا ہے بھاگتا نہیں صوت اذان کے بوجھ کی وجہ سے بھونکتا ہے علاج یہ ہے تعوذ پڑھا جائے اور اس کتے کو بوقت اذان کچھ دن باقاعدگی کے ساتھ بھگایا جائے۔
*_فقط وَاللہ اَعْلَمُ_*
 *_مُحمَّدشُعَیْب عُثْمانِی_*‌
 *_دارُالافتاء عشرہ مُبشّرہ چمن 🇵🇰_*

حضور نبی علیہ السلام کے بول وبراز

عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت
Pakistanسوال # 67093
پاکستان کے شہر ملتان میں جامعہ خیرالمدارس کے ایک مفتی صاحب بتا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فضلہ پاک ہے ۔یہی اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے حوالہ انہوں نے دیا ہے خیرالفتاوی جلد ۱ ۔کیا یہ عقیدہ ٹھیک ہے ؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں فضلہ پاک ہیں پیشاب ،پاخانہ؟ میں ان کی بات سے کافی حیران ہوا ہوں۔ رہنمائی کر دیں۔
Published on: Jul 17, 2016 جواب # 67093
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 889-878/Sd=10/1437

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بول وبراز کے بارے میں دونوں طرح کی روایات مروی ہیں، بعض سے طہارت کا پتہ چلتا ہے، علامہ شامی نے متعدد اقوال اس بارے میں جمع کئے ہیں، جن میں اس کو نبی اکرم علیہ الصلوٰة والسلام کی خصوصیات میں شمار کیا گیا ہے اور بعض روایات سے عدمِ طہارت کی تائید ہوتی ہے، اس لئے اس بارے میں کوئی قطعی حکم لگانا مشکل ہے، توقف اختیار کرنا مناسب ہے۔ وقد روي نحو من ہٰذا (أي عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم) فيامرأة شربت بولہ، فقال لہا: لن تشتکي وجع بطنک أبداً۔ وقیل: ہي أم أیمن وکانت تخدم النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قالت: وکان لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قدح من عیدانٍ یوضع تحت سریرہ یبول فیہ من اللیل، فبال فیہ لیلةً ثم افتقدہ، فلم یجد فیہ شیئاً۔ (شرح الشفاء للقاضي عیاض ۱/۱۷۱-۱۷۲ بیروت)کذا في شرح الزرقاني علی المواہب اللدنیة نقلاً عن الحاکم والدار قطني والطبراني وأبي نعیم من حدیث أبي مالک النخعي عن الأسود بن قیس عن نبیح العنزي عن أم أیمن رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہا۔ (شرح زرقاني ۵/۵۴۹، بحوالہ: فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۴/۴۹۶ حاشیة، نوادر الفقہ ۳۰۵-۳۰۶، افادات: شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس صاحب جونپوری)صحح بعض أئمة الشافعیة طہارة بولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وسائر فضلاتہ، وبہ قال أبوحنیفة کما نقلہ في المواہب اللدنیة عن شرح البخاري للعیني۔ وصرح بہ البیري في شرح الأشباہ۔ وقال الحافظ ابن حجر: تظافرت الأدلة علی ذٰلک۔ وعد الأئمة ذٰلک من خصائصہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ ونقل بعضہم عن شرح المشکاة للملا علي القاري أنہ قال اختارہ کثیر من أصحابنا، وأطال في تحقیقہ في شرحہ علی الشمایل في باب ما جاء في تعطرہ علیہ الصلاة والسلام۔ (شامی کراچی ۱/۳۱۸) روی أنہ قال: حجمت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وشربت الدم من الحجمة، وقلت: یا رسول اللّٰہ شربتہ؟ فقال: ویحک یا سالم! أما علمت أن الدم حرام لا تعد۔ (أسد الغابة بیروت ۲/۱۵۷) 

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
➖➖➖➖➖➖➖

    بول پینے کا ذکرھے, البتہ وہ دھوکے میں پیا گیا تہا۔ اور پینے والی کو حضور نے کچھ بشارت دی ہیں۔ البتہ یہ نہیں فرمایا : کہ تم نے جو بول پیا ھے اسکو قے کرکے الٹی کرو!

ورد شرب بول النبي صلى الله عليه وسلم في حديثين لامرأتين :
الحديث الأول : في شرب " أم أيمن " لبول النبي صلى الله عليه وسلم ، وقد جاء الحديث من طريق أبي مالك النخعي عن الأسود بن قيس عن نُبيح العَنَزي عن أُمِّ أَيْمَنَ قالت : قام رسول الله صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ إلى فَخَّارَةٍ في جَانِبِ الْبَيْتِ فَبَالَ فيها ، فَقُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ وأنا عَطْشَانَةُ فَشَرِبْتُ ما فيها وأنا لا أَشْعُرُ فلما أَصْبَحَ النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( يا أُمَّ أَيْمَنَ قَوْمِي فَأَهْرِيقِي ما في تِلْكَ الْفَخَّارَةِ ) قلت : قد وَالله شَرِبْتُ ما فيها ، قالت : فَضَحِكَ رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قال ( أما إنك لا تَتَّجِعِينَ بَطْنَكِ أبدًا ) .
رواه الحاكم في " مستدركه " ( 4 / 70 ) وأبو نعيم في " الحلية " ( 2 / 67 ) والطبراني في " الكبير " ( 25 / 89 ، 90 ) .

➗➗➗➗➗

الحديث الثاني : في شرب " بَرَكة أم يوسف " لبول النبي صلى الله عليه وسلم ، وقد جاء الحديث من طريق ابن جُرَيْجٍ قال حَدَّثَتْنِي حُكَيْمَةُ بنتُ أُمَيْمَةَ بنتِ رُقَيْقَةَ عن أُمِّهَا أنها قالت : كان النبي صلى الله عليه وسلم يَبُولُ في قَدَحِ عِيدَانٍ ثُمَّ يَرْفَعُ تَحْتَ سَرِيرِهِ فَبَالَ فيه ثُمَّ جاء فَأَرَادَهُ فإذا الْقَدَحُ ليس فيه شَيْءٌ فقال لامْرَأَةٍ يُقَالُ لها " بَرَكَةُ " كانت تَخْدُمُ أُمَّ حَبِيبَةَ جَاءَتْ بها من أَرْضِ الْحَبَشَةِ ( أَيْنَ الْبَوْلُ الذي كان في الْقَدَحِ ؟ ) قالت : شَرِبَتُهُ ، فقال ( لَقَدِ احْتَظَرْتِ مِنَ النَّارِ بِحِظَارٍ ) .
رواه البيهقي في " السنن الكبرى " ( 7 / 67 ) والطبراني في " الكبير " ( 24 / 189 ) .

حق سچ بات Haq Sach baat

*باسمہ تعالی*
*الجواب وبہ التوفیق:* 

  یہ حدیث اس طرح ھے: کہ حضرت ابوذر رض فرماتے ہیں: کہ مجھے میرے دوست یعنی حضور اکرم نے سات باتوں کی وصیت فرمائی:
1) مجھے مسکینوں سے محبت کرنے اور ان کے قریب رہنےکی تاکید فرمائی,
2) اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سے نیچے لوگوں کو دیکھوں( تاکہ شکر پیدا ہو)اور اپنے سے اوپر نظر نہ کروں(تاکہ ناشکری پیدا نہ ہو)
3) اور مجھے صلہ رحمی کی تلقین کی اگر چہ دوسرا رشتے داری کو توڑے,
4) اور مجھے فرمایا: کہ میں کسی کے۔آگے ھاتھ نہ پھیلاؤں,
5) اور مجھے کہا: کہ میں ہمیشہ حق اور سچ بات کہوں اگر چہ وہ کڑوی ہی کیوں نہ لگے۔
6) مزید ارشاد فرمایا: کہ میں ﷲ کے لئے کسی کی ملامت سے نہ ڈروں
7) اور آخر میں فرمایا: کہ میں کثرت سے لا حول ولا قوہ الا باﷲ   پڑھوں؛کیونکہ عرش کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ھے۔

 رواه أحمد والبيهقي والبزار والطبراني صحيح۔

  اسی طرح ایک روایت اور ھے: کہ حق بات کہو خواہ وہ تمہارے ہی خلاف کیوں نہ ہو! 

  البتہ حضرت علی رض سے اس طرح کا مضمون نہیں ملا۔


 مطلب اسکا فقط یہی ھے کہ انسان کو ہمیشہ سچ اور حق کا ہی ساتھ دینا چاھئے خواہ سچ بولنے میں اپنا ہی یا اپنے کا ہی نقصان ہو۔

تقلید ائمہ و مسالک Taqleed imam ki

عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک
Indiaسوال # 41625
لوگ تقلید سے کیوں گھرے ہوئے ہیں.جتنے بھی علما ہیں وہ کسی نا کسی امام کی تقلید کو فولّو کرتے ہیں۔سبھی مذھب کے علما تقلید کو جایز قرار دیتے ہیں اور جو کسی ایک امام کی تقلید نہیں کریگا تو اسکی اتبع کرنا ناجایز ہے۔ میرا سوال یہ ہے کی سبھی علما کس بنیاد پر یہ فیصلہ کرتے ہے اور کیا ان کی دلیل قران اور سنّت سے ثابت ہوتی ہے یا ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر حکم دیا بھی ہے تو وہ حدیث ہمیں فراہم کر دیجیے تاکہ مجھے کچھ رہنمایی مل جائے.
Published on: Sep 29, 2012 جواب # 41625
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1461-936/L=11/1433

تقلید کے بارے میں تفصیل کے ساتھ جاننے کے لیے آپ کو ایک چھوٹی سی کتاب ”تقلید کی شرعی حیثیت“ مولف مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم کا مطالعہ کریں، ان شاء اللہ اس کتاب کے مطالعہ سے آپ کو پوری تفصیل معلوم ہوجائے گي، کچھ جوابات آپ کو دارالعلوم کی ویب سائٹ پر بھی مل سکتے ہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا

• *قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا* • ایک پوسٹ گردش میں ھے: کہ حضرت عبدﷲ ابن مسعودؓ سے مروی ھے کہ جو بندہ قبرستان جائے اور قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ دع...