Showing posts with label عید میلاد النبی کی حقیقت. Show all posts
Showing posts with label عید میلاد النبی کی حقیقت. Show all posts

Wednesday, 14 November 2018

کیا میلاد منانا جائز ہے؟

سوال:کیا عید میلادالنبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالگرہ ہے؟

جواب:آنحضرت ﷺ کی سیرت ِ طیبہ کا تذکرہ کرنا اور اس سے لوگوں کو آگا ہ کرنا افضل ترین عبادت،موجب ِ خیر وبرکت اور سعادت ِ دنیا وآخرت ہے ،ہر مسلمان کو اس میں حصہ لینا چاہیے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی جان لینا ضروری ہے کہ بارہ ربیع الاول کو خصوصیت کے ساتھ محفل ِ میلاد یا عید میلاد النبی منعقد کرنے کی جو رسم پڑگئی ہےاس کا کوئی ثبوت حضرات ِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ،تابعین ،تبع تابعین اور ائمہ کرام کے مبارک دور میں نہیں ملتا ،بلکہ یہ بہت بعد کی ایجاد کردہ رسم ہے اور چونکہ لوگ اس رسم کو دین کاحصہ ا ور باعث ِ ثواب سمجھتے ہیں اور شرکت نہ کرنے والوں کو ملامت کی جاتی ہے ،یہاں تک کہ اب لوگ اس کو عید الاضحی اور عید الفطر کی طرح ہی تصور کرنے لگے ہیں ،لہٰذایہ مروجہ محفلیں بدعت اور واجب الترک ہیں ۔(مأخذہ ٗ تبویب بتصرف :۵۴۱ /۱۱۵)

اسی طرح دیگر انبیاءعلیھم السلام کے پیدائش کے دن منانے کو بھی لوگوں نے دین کا حصہ سمجھ لیا ہےحالانکہ اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے لہٰذا اس کے منانے سے بھی اجتناب ضروری ہے ۔البتہ میلاد کی محافل اور سالگرہ کی تقریبات میں فرق یہ ہے کہ سالگرہ محض یادگار کے طور پر منائی جاتی ہے ،اس کو دین کاحصہ یا باعث ِ ثواب نہین سمجھا جاتا اس کے برخلاف میلاد کی محافل کو لوگ دین کاحصہ اور باعث ِ ثواب سمجھتے ہیں اس لئے ان میں دین کا پہلو غالب ہے لہٰذا یہ محافل اورسالگرہ ایک جیسے نہیں ہیں ۔
مشكاة المصابيح – (ج 1 / ص 464)
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:” لا تختصوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي ولا تختصوا يوم الجمعة بصيام من بين الأيام إلا أن يكون في صوم يصومه أحدكم ” . رواه مسلم
الحاوي للفتاوى للسيوطي:(ج 1 / ص 226دارالفكر)
ومن جملة ما أحدثوه من البدع مع اعتقادهم أن ذلك من أكبر العبادات وإظهار الشعائر ما يفعلونه في شهر ربيع الأول من المولد وقد احتوى ذلك على بدع ومحرمات جملة فمن ذلك استعمال المغاني ومعهم آلات الطرب من الطار المصرصر والشبابة وغير ذلك مما جعلوه آلة للسماع ومضوا في ذلك على العوائد الذميمة في كونهم يشغلون أكثر الأزمنة التي فضلها الله تعالى وعظمها ببدع ومحرمات .
الحاوي للفتاوي للسيوطي ( 1 / 282 دار الفكر):
سئل شيخ الإسلام حافظ العصر أبو الفضل بن حجر عن عمل المولد فأجاب بما نصه: أصل عمل المولد بدعة لم تنقل عن أحد من السلف الصالح من القرون الثلاثة
حاشية ابن عابدين – (ج 1 / ص 544)
قوله ( ويكره التعيين إلخ ) هذه المسألة مفرعة على ما قبلها لأن الشارع إذا لم يعين عليه شيئا تيسيرا عليه كره له أن يعين وعلله في الهداية بقوله لما فيه من هجر الباقي وإيهام التفضيل
الاعتصام للشاطبي (1 / 53):
منها: وضع الحدود; كالناذر للصيام قائما لا يقعد، ضاحيا لا يستظل، والاختصاص في الانقطاع للعبادة، والاقتصار من المأكل والملبس على صنف دون صنف من غير علة.
ومنها: التزام الكيفيات والهيئات المعينة، كالذكر بهيئة الاجتماع على صوت واحد، واتخاذ يوم ولادة النبي صلى الله عليه وسلم عيدا، وما أشبه ذلك.
ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته.
وثم أوجه تضاهي بها البدعة الأمور المشروعة، فلو كانت لا تضاهي الأمور المشروعة لم تكن بدعة، لأنها تصير من باب الأفعال العادية.
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم بالصواب

Monday, 11 December 2017

مروجه جشن میلاد په دیے گۓ رضاخانی دلائل کا محاسبه*

*مروجه جشن میلاد په دیے گۓ رضاخانی  دلائل کا محاسبه*


*الجواب وبالله التوفیق*


رضاخانی مولوی کا جو کلپ آپ نے بھیجا که اسکا جواب دے دیں 
عرض یه هیکه ساری باتیں اپنی جاهل عوام کو خوش کرنے ان سے داد لینے اور اپنے حلوے کهیر جاری رکھنے کیلۓ  کی هیں اسکے دلائل محض عوام کو سواۓ دھوکه دینے کے کچھ بھی نهیں هے  

بھر حال جواب عرض هے 


پهلی بات اس نے یه کی که  همیں کهتے هیں صحابه نے میلاد نهیں منایا فلاں کے زمانے میں اتنی بار ربیع اول آیا لیکن کسی نے میلاد نهیں منایا ......

اس بات کا جواب دیتے هوۓ کهتا هے 

صحابه نے منایا نهیں تو منع بھی نهیں کیا 
لهذا یه جائز هے ...

*جوابا عرض هے*

* یه تو آپ نے تسلیم کر لیا نا که صحابه نے نهیں منایا تو سمجھ لیں که دیوبندی بھی نه منا کر صحابه کے نقش قدم په چل رهے هیں ..
جو حوالے آپ نے پیش کیۓ وه بے ثبوت هیں اگر صحابه نے منایا هوتا تو تاریخ ولادت میں اختلاف کیوں جب تسلسل چلا آتا هے  تو پهر اختلاف کیوں هوا ایک هی تاریخ متعین هوتی 
آپ نے جو عبارت پیش کی هے اگر وه صحیح هے تو پهر ثابت کریں که خلفاۓ راشدین نے مدینه کی کس گلی کو سجایا اور کس بازار میں جلوس نکالا تھا ?



پهر آپ نے بدعت کی تعریف میں جو حواله پیش کیا که بدعت وه هے جس سے سنت مٹتی هے ..

تو مولوی صاحب عرض هیکه وه تمهاری دلیل نهیں بن سکتی 
چلیں اسی بات په آجائیں فیصله کر لیتے هیں که بدعت وه هے جس سے سنت مٹتی هے تو بابا آپکے مروجه جشن سے ایک نهیں بے شمار سنتیں مٹتی هیں بلکه سنت کیا فرض مٹ رهے هیں  جلوس والے دن نمازیں ضائع هوتی هیں 
حرام کام کیۓ جاتے هیں مردوں عورتوں کا احتلاط هوتا هے انڈیا کے گانے ناچ ڈانس چلاۓ جاتے هیں راستے بند کیے جاتے هیں مریض راستوں میں تڑپ تڑپ کر مرتے هیں 
لوگوں کی نیندیں حرام کی جاتی هیں گلی کوچوں میں شوروغل نعرے بازی مساجد مدارس په حملے (همارے پاس ثبوت موجود هیں )
جب اتنے مفاسد هوں تو پهر بھی یه بدعت نهیں ? حلوے کھیر سے لگتا هے ذهن ماؤف هو چکا هے ....

صحابه په جھوٹ بولنا چھوڑیں که وه بھی مناتے تھے أپکے عبدالسمیع رامپوری لکھتے هیں 
یه میلاد سلطان اربل نے ایجاد کیا هے (انوارساطعه) اورتم کهتے هو صحابه کرتے تھے اب تم سچے یا تمهارا بڑا?


پهر رضاخانی صاحب کهنے لگے جس کام سے منع نه کیا هو وه جائز هوتا هے 


جوابا عرض هے پهر مغرب کے چار فرض پڑ ھنے کی ممانعت کهاں هے

اگر یهی اصول هے تو شیعه کهیں گے اذان 
میں علی کا نام لینے کی ممانعت کهاں هے ?

غیر مقلد کهے گا هاتھ سینے په باندھنے کی ممانعت کهاں هے ?

اور میں پوچھتا هوں آپ سے بتائیں عیدین اور نماز جنازه سے قبل اذان اور اقامت کی ممانعت کهاں هے ?

اذان میں الله اکبر کے بعد جل جلاله کهنے کی ممانعت کهاں هے ?
ایسے تو سوالات کے آپ په انبار لگ جائیں گے

اور  اگر ھدایه هی پڑھی هوتی تو آپکو معلوم هو که حضور اور صحابه کا کسی کام کو نه کرنا بھی عدم جواز کی دلیل هے (ص127/1 وغیره)

مزید دیکھیں ان سب اکابرین نے کسی کام کے عدم ثبوت کو عدم جواز لکھا هے 
( غنیت الطالبین شیخ جیلانی کی جنکی گیارهویں کھاتے 
هو اور اعلی حضرت جو شیخ جیلانی کی نه مانیں اسکے بارے کهتے هیں اسکادین بھی برباد دنیا بھی برباد انھوں نے بھی ایسے فعل کو بدعت لکھا هے  ( غنیه94/2)

نیز
علامه شاطبی الاعتصام 239/307/226
مجالس الابرار 17
وغیره

*ابن کثیر لکھتے هیں* 
بدعت په دلیل دیتے هوۓ یه بدعت اس لیۓ هیکه رسول الله صلی الله علیه وسلم صحابه اور تابعین سے ثابت نهیں (تفسیر ابن کثیر 156/4)
 اپنے گھر کی سن لیں

 *احمد رضا بریلوی نے لکھا هے*
 جس امر سے مصطفی صلی الله علیه وسلم بے عذرمانع بالقصد اختراز فرمائیں وه مشروع نهیں هوسکتا ( فهارس فتاوی رضویه ص 165)

*امام مالک*فرماتے هیں جو بات صحابه کے زمانے میں دین نهیں تھی وه آج بھی دین نهیں بن سکتی ( الاعتصام 259)
_____________ *رضاخانی کی اگلی دلیل*

پهر کهتا هے حضور سوموار کو روزه رکھتے تهے که یه میری پیدائش کا دن هے اور وحی بھی اسی دن آئ



تو عرض هے که پهر ایک دن جشن وحی کا بھی رکھ لو 

*دوسری بات* 
حضور جو عمل خود کریں اور صحابه اسے نه کریں نه انھیں حکم دیا هو تو وه حضور کی تحصیص هوا کرتا هے 

*تیسری بات* 
*حضور نے پیر کو روزه رکھ کر یه ثابت کردیا که میری ولادت کا دن عید نهیں هو سکتا کیونکه عید کے دن روزه نهیں رکھا جاتا*

اور تف یه که تم باره ربیع اول کو عید اکبر کهتے هو اور مساجد میں سحری کے اعلانات بھی کراتے هو 
یه تو هے تمهارا علم اور الزام دوسروں په

 اور اپنی انوار ساطعه دیکھ لیتے که میلاد کا جشن ایجاد کرنے والے غیر مقلد تھے  ص 184
اور خان صاحب بریلوی نے لکھا هے غیر مقلد بے دین هیں ( ازالت العار ص 30)
تو بتائیے آپ بے دینوں کی ایجاد کرده کام کی تقلید کیوں کرتے هیں ??

اور احمد رضا کی بات جو نهیں مانتا وه اسے کافر سمجھتے تھے  (دیکھے انوار شریعت اور فتاوی صدرالافاضل) 

_____________
رضاخانی صاحب نے ایک دلیل یه دی که  ابولھب نے پیدائش کی خوشی میں باندهی ازاد کی اور جب مر گیا تو حضرت عباس نے خواب میں دیکھا. ..پیر کو عذاب نهیں هوتاانگلی چوستا هوں 
جس سے اشاره کیا تھا توقطرے پیٹ میں جاتے هیں . ..


*جواب*
 **********

*اولا*.

اس بات په اجماع هیکه صرف نبی کا خواب حجت هوتا هے 

*ثانیا*...

یه خواب  حضرت عباس نےاسلام قبول کرنے سے پهلے دیکھا تو جب مسلمان نه هوۓ تھے اسوقت کا خواب حجت کیسے ?

*ثالثا*..
قران اور حدیث کهتی هیکه کافر کفر په هی مر جاۓ تو اسکے نیک اعمال په کچھ ثواب نهیں ملتا

عبدالله بن جدعان کے بارے حضرت عائشه کا نبی کریم ص سے پوچھنا که هر حج په هزار انٹ ذبح کرتا تھا هزار آدمیوں کو حلے پهناتا تها کیا یه چیزیں اسے فائده پهنچائیں گی ?آپ نے فرمایا نهیں ...

*رابعا*..

ابو لھب کی خوشی امر طبعی تھی مومن نبی په هر وقت هر لمحه خوش رهتا اور اپنے نبی کی اتباع کرتا هے 

اور تمهیں کیا سوجی که ابولھب کی تقلید کرتے هو ??
یهی جشن منانے والا جب مشن پیش کیا تو اس نے پتھر اٹھایا حضور کی طرف 

افسوس هے اهل بدعت په ابولھب کی تقلید کرتے هیں چھ سو سال تک تو صحابه تابعین ائمه دین اور خیرالقرون کے مسلمانوں نے تو اسکی تقلید نهیں کی  ورنه ثابت کرو کسی  صحابی تابعی  نے باره ربیع اول کو کنیز ازاد کی هو?

*اکابرین امت کا مروجه میلاد کے بارے موقف پڑھ لیجۓ* *حافظ ابو احسن علی بن فضل مقدسی مالکی رحمہ الله علیه جو بقول ابن نجار ائمه دین میں سے تهے.اور ان کامیلادی کتاب کے پهلے مصنف ابن دحیه سے بهی سابقه پڑ جکا تها.وہ اپنی کتاب "جامع المسایل"میں فرماتے ہیں:* 
   "عمل مولود سلف صالحین سے منقول نہیں ہے.اور وہ قرون ثلاثه کے بعد برے زمانے میں ایجاد ہوا ہے.اور جس عمل کو سلف نے نہ کیا اس میں ہم خلف کی پیروی نہ کریں گے.اس لیے کہ ہمیں سلف کی اتباع کافی ہے،پهر خلف کی ابتداع کی کیا حاجت."

*علامه ابو عبدالله ابن الحاج  مالکی رحمه الله علیه جو کہ علامه تقی الدین سبکی رحمہ الله علیہ کے شیوخ میں سے ہیں.اور جن کی علمی دلالت پر فریقین کا اتفاق ہے.اپنی مشہور اور مقبول کتاب "المدخل"میں فرماتے ہیں که*

  "اور منجمله ان بدعات کے جن کو لوگوں نے ایجاد کیا ہےاور باوجود اس کے اعتقاد کرتے ہیں کہ افضل عبادات اور شعایر سے ہیں.وہ چیز جو ربیع الاول میں کرتے ہیں یعنی مجلس مولود،حالانکہ وہ بدعات اور محرمات پر مشتمل ہیں(حتی که مفاسد بیان کرنے کے بعد کہا)یہ سب مفاسد اور قبایح مرتب ہیں.مولود کے کرنے پر جب اسے راگ کے ساتھ کرے اور اگر راگ سے خالی ہوںصرف کهانا کیا جائے اور اس سے نیت مولود کی ہو اور بهائیوں کو دعوت دی جائے اور کوئ خرابی نہ ہوجن کا پہلے ذکر ہوا تو بهی بدعت ہے.اس لیے کہ یہ دین میں زیادتی ہے سلف کا معمول نہیں ہے.حالانکہ ہمارے لیے سلف کی پیروی ہی بہتر ہے.اور سلف صالحین میں سے کسی سے بهی منقول نہیں ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہو."

*حضرت مجد د الف ثانی رح فرماتےهیں*

میرے محترم  میں سمجھتا هوں جب تک اس قسم کی محفل میلاد کادروازه بند نه کیا جاۓ گا هوس پرست باز نهیں آئیں گے
( مکتوبات امام ربانی  مکتوب نمبر273 حصه 5 جلد 1)

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمه الله علیه نے "ما ثبت بالسنه "میں ابن الحاج مکی رحمه الله علیه کی اس  اصلاحی کوشش پران کو دعا دی اور فرماتے ہیں کہ:
  "بے شک ابن الحاج نے اس پر المدخل میں زبردست رد کیا ہے.جو لوگوں نے بدعتوں اور ہوا ہوس اور حرام مزامیروں سے گانا بجانا عمل میلاد کے وقت نکال کر مقرر کر رکها ہے.پس الله تعالی ابن الحاج کو انکی اچهی نیت کا ثواب دے اور ہم کو راہ سنت پر چلائے."

  *شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ الله(جنکی جلالت اور امامت کی شهادت علامه سیوطی اور ملا علی قاری رحمهما اللہ علیہما جیسے بزرگوں  نے بهی دی ہے.)اپنی بہترین کتاب "الصراط المستقیم"میں فرماتے ہیں کہ*

  "اور ایسے ہی وہ عمل مولود جس کو ایجاد کیا ہے بعض لوگوں نےیا تو "میلاد مسیح"میں نصاری کینقل اتارنے کے واسطے یا باسبب نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی تعظیم و محبت کے.حالانکه الله تعالی نے بذریعہ کامل اتباع کے آپ کی عظمت اور محبت کا حکم دیا ہے.نہ که ان بدعتوں کا کہ آپ کی یوم ولادت کے دن عید بنایا جائے.حالانکه ولادت کی تاریخ میں لوگوں کا اتفاق بهی نہیں."

  *قاضی شهاب الدین حنفی دولت آبادی رحمه الله"تحفة القضاة" میں لکهتے ہیں کہ*
  "بے شک مولود کرنا بدعت ہے.رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور خلفاء اور ائمه نے نہ اس کو کہا نہ کیا." 

 *امام نصیر الدین شافعی رحمه الله علیه نے ایک سائل کے جواب میں فرمایا کہ*

 "مولود نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ سلف صالحین نہیں کرتے تهے.اور وہ بےشک قرون ثلا ثہ کے بعد برے زمانے میں ایجاد ہوا ہے.اور ہم اس چیز میں بعد والوں کی پیروی نہیں کرتے جن کو سلف نے نهیں کیا ہو.اس لیے کہ سلف کی اتباع کافی ہے پهر  اس بدعت ایجاد کی کیا حاجت ہے.".(شرعة الہية)
  

 *علامہ حسن ابن علی رحمه الله کتاب "طریقہ فی رد اہل البدعہ" میں لکهتے ہیں کہ*

 "جاہل صوفیوں نےماہ ربیع الاول میں جو میلاد نکالی ہے شریعت میں اس کی کچه اصل نہیں بلکه وہ "بدعت سیئہ" ہے.اور اس میں بہت برائیاں ہیں."
   
*علامہ ابن حسن رحمه الله اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ*

  "عمل مولود سلف سے منقول نہیں اور سلف نے جس کام کو نه کیا ہو اس میں بہتری نہیں."(شرعةالہیة نقلا عن الصواعق)
  

  *الشیخ احمد بن محمد مصری مالکی رحمه الله علیہ نے"قول معتمد"میں لکها ہے کہ*

  "ساتھ ہی اس کے علماء مذاہب اربعہ(حنفی،مالکی،شافعی، حنبلی)نے مذمت عمل مولود پر اتفاق کیا ہے."
    
*الشیخ محمد ابن ابی بکر مخزومی مالکی رحمہ الله علیه کتاب "البدع والحوادث" میں لکهتے ہیں کہ* 
  "منکرات قبیحہ اور مکروہات فصیحہ(دین کے اعتبار سے برے کام)میں سےاس زمانے میں عمل مولود ہے جو بعض جگہ ہوتا ہے.اور کوئ امت اگلے رسولوں کی تباہ نہیں ہوئ مگر دین میں نئ باتیں پیدا کرنے سے."


  *علامه علاء الدین ابن اسماعیل شافعی رحمه الله علیه"البعث والنشور"میں لکهتے ہیں که*
  
   " مولود بدعت ہے.اس کے کرنے والا قابل مذمت ہے."

  

  حافظ ابو بکر ابن عبد الغنی رحمه الله علیہ مشہور بہ ابن ابی نقطہ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں که
  "بے شک عمل مولود سلف سے منقول نییں اور جس کو سلف نے نہیں کیا اس میں  خیر نہیں." 


  صاحب "طریقہ محمدیه نے"
بیان بدعات"نے اپنی منہیات میں لکها ہے کہ
   "(من جملہ بدعتوں کے) عورتوں کا مولود پڑهنابلند آواز سےاس طرح کہ لوگ اس کو گهر کے باہر سنے(جائز نہیں)
    

 صاحب "نور الیقین نے "شرعة الہیہ"میں لکها ہے کہ
    پس جان لو که خراب بدعت جو ملکوں اور شہروں میں رائج ہے محفل مولود ہے، که یہ نہیں ثابت ہےادلہ شرعیہ سے اور نہ قران و حدیث سے." 

*غلام رسول سعیدی کی رائے*


مسلک بریلویہ کے شیخ الحدیث مولوی غلام سعید لکهتے ہیں کہ
     بعض شہروں میں عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم کے جلوس کے تقدس کو بالکل پامال کر دیا گیا ہے .جلوس تنگ راستوں سے گزرتاہےاور مکانوں کی کهڑکیوں اور بالکونیوں سے نوجوان لڑکیاں اور عورتیں شرکاء جلوس پر  پهول وغیرہ پهینکتی ہیں.اوباش نوجوان فحش حرکتیں کرتے ہیں.جلوس میں مختلف گاڑیوں میں فلمی گانوں کی ریکارڈنگ ہوتی ہےاور نوجوان لڑکے فلمی گانوں کی دهنوں پر ناچتے ہیں.نماز کے اوقات میں جلوس چلتا رہتا ہے. مساجد کے اگے سے گذرتا ہے اور نماز کا کوئ اہتمام نہیں کیا جاتا.اس قسم کے جلوس میلادنبی کے تقدس پر بدنما داغ ہیں.ان کی اگر اصلاح نہ ہو سکے تو انکو فورا بند کرا دینا چاہیے.کیوں کہ ایک امر مستحسن کہ نام پران محرمات کے ارتکاب کی شریعت میں کوئ اصل نہیں" 

(شرح مسلم ،کتاب الصوم، جلد 3، صفحہ 170)

همارے نزدیک نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی سیرت کے جس پهلو کا بھی ذکر کیا جاۓ ولادت سے وفات تک باعث اجر وثواب اور عظیم سعادت هے مگر
یه بات روشن هوگئ که مروجه جشن میلاد وجلوس بدعت اور ناجائز هیں جب اتنے مفاسد هیں تو اسکا ترک لازم هے 
فقها کی صراحت کے مطابق تو مستحب په بھی جب اتنا دوام اور اصرار هو تو اسکا بھی ترک کرنا لازم هے 

الله تعالی هم سب کو سنتوں په عمل کرنے کی توفیق سے نوازے اور بدعات سے بچاۓ
(آمین)


کتبه ✍🏻
*مفتی ابوغزالی عبدالواجد نقشبندی عفی عنه*
*١٠/١٢/٢٠١٧*

Monday, 27 November 2017

میلاد کی تحقیق حقیقت میلاد ، میلاد منانا چاہیے

👈سوال2: رحمت کائنات ﷺ کی ظاہری حیات میں ربیع الاول کا مہینہ کم و بیش 63 مرتبہ آیا۔ کس حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آپﷺ نے اپنی ولادت کا دن منایا؟

جواب: سب سے پہلے میلاد کا لغوی معنی اور اصطلاحی معنی ملاحظہ فرمائیں:

لفظ میلاد کی لغوی تحقیق

میلاد عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مادہ ’’ولد (و۔ل۔د)‘‘ ہے۔ میلاد عام طور پر اس وقت ولادت کے معنوں میں مستعمل ہے۔ میلاد اسم ظرف زمان ہے۔ قرآن مجید میں مادہ ولد کل 93 مرتبہ آیا ہے اور کلمہ مولود 3 مرتبہ آیا ہے۔

(المعجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم ص 764-763)

احادیث نبویﷺ میں لفظ میلاد و مولد کا استعمال

احادیث نبویﷺ میں مادہ ولد (و۔ل۔د) بے شمار مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وضاحت المعجم المفہرس لالفاظ الحدیث النبوی میں موجود ہے

(المعجم المفہرس لالفاظ الحدیث النبوی الجز السابع ص 320-308)

اردو میں لفظ میلاد

نور اللغات میں لفظ میلاد مولود۔ مولد کہ یہ معنی درج کئے گئے ہیں

1: میلاد ۔۔۔ پیدا ہونے کا زمانہ، پیدائش کا وقت

2: وہ مجلس جس میں پیغمبر حضرت محمدﷺ کی ولادت باسعادت کا بیان کیا جائے۔ وہ کتاب جس میں پیغمبر کی ولادت کا حال بیان کیا جاتا ہے۔

اصطلاحی مفہوم

میلاد کے لغوی مفہوم میں اس بات کی وضاحت ہوچکی ہے کہ اردو زبان میں اب یہ لفظ ایک خاص مفہوم کی وضاحت و صراحت اور ایک مخصوص اصطلاح کے طورپر نظر آتا ہے۔ حسن مثنی ندوی لکھتے ہیں ’’حضور اکرم نور مجسم محمدﷺ کی ولادت باسعادت کے تذکرے اور تذکیر کا نام محفل میلاد ہے۔ اس تذکرے اور تذکیر کے ساتھ ہی اگر دلوں میں مسرت و خوشی کے جذبات کروٹ لیں۔ یہ شعور بیدار ہوکہ کتنی بڑی نعمت سے اﷲ تعالیٰ نے ہمیں سرفراز کیا اور اس کا اظہار بھی ختم الرسلﷺ کی محبت و اطاعت اور خداوند بزرگ و برتر کی حمدوشکر کی صورت میں ہو اور اجتماعی طور پر ہو تو یہ عید میلاد النبیﷺ ہے۔

(سیارہ ڈائجسٹ لاہور رسول نمبر 1973ء (جلد دوم) ص 445)

قرآن مجید سے جشن ولادت منانے کے دلائل

* ﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ترجمہ ’’اور اپنے رب کی نعمت کے خوب چرچے کرو‘‘ (سورۂ وَٱلضُّحَىٰ :11)
معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ حکم دے رہا ہے کہ جو تمہیں میں نے نعمتیں دی ہیں، ان کا خوب چرچا کرو، ان پر خوشیاں مناؤ۔ ہمارے پاس اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی بے شمار نعمتیں ہیں۔ کان، ہاتھ، پاؤں، جسم، پانی، ہوا، مٹی وغیرہ اور اتنی زیادہ نعمتیں ہیں کہ ہم ساری زندگی ان کو گن نہیں سکتے۔ خود اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ترجمہ ’’اور اگر اﷲ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے‘‘ (النحل:18)

 معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں کی گنتی ہم سے نہیں ہوسکتی۔ تو پھر ہم کن کن نعمتوں کا پرچار کریں۔ عقل کہتی ہے کہ جب گنتی معلوم نہ ہوسکے تو سب سے بڑی چیز کو ہی سامنے رکھا جاتا ہے۔ کیونکہ وہی نمایاں ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم سے بھی اﷲ پاک کی نعمتوں کی گنتی نہ ہوسکی تو یہ فیصلہ کیا کہ جو نعمت سب سے بڑی ہے اس کا پرچار کریں۔ اسی پر خوشاں منائیں تاکہ اﷲ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہوسکے۔ سب سے بڑی نعمت کون سی ہے؟ آیئے قرآن مجید سے پوچھتے ہیں ترجمہ ’’اﷲ کا بڑا احسان ہوا مومنوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے‘‘ (سورۂ آل عمران آیت 164)

 ﷲ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں مگر کسی نعمت پر بھی احسان نہ جتلایا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے کسی اور نعمت پر احسان کیوں نہیں جتلایا۔ صرف ایک نعمت پر ہی احسان کیوں جتلایا؟ ثابت ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ ان گنت نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت آخری نبیﷺ ہیں اور قرآن کے مطابق ہر مسلمان کو اپنے نبیﷺ کی آمد پر خوشیاں منانی چاہئیں۔

 قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔ ترجمہ ’’تم فرماؤ اﷲ عزوجل ہی کے فضل اور اسی کی رحمت، اسی پر چاہئے کہ وہ خوشی کریں۔ وہ ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے‘‘ (سورۃ یونس آیت 58)
لیجئے! اس آیت میں تو اﷲ تعالیٰ صاف الفاظ میں جشن منانے کا حکم فرما رہا ہے۔ کہ اس کے فضل اور رحمت کے حصول پر خوشی منائیں۔ قرآن نے فیصلہ کردیا کہ نبی کی آمد کا جشن مناؤ کیونکہ اﷲ کے نبیﷺ سے بڑھ کر کائنات میں کوئی رحمت نہیں۔ خود اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ترجمہ ’’اور ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لئے‘‘ (الانبیاء :107)
مسلمان اگر رحمتہ للعالمین کی آمد کی خوشی نہیں منائیں گے تو اور کون سی رحمت پر منائیں گے۔ لازم ہے کہ مسلمان رحمت دوعالمﷺ کی آمد کا جشن منائیں۔

احادیث مبارکہ سے جشن منانے کے دلائل

* اپنی آمد کا جشن تو خود آقاﷺ نے منایا ہے۔ تو ان کے غلام کیوں نہ منائیں؟ چنانچہ حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالت میں عرض کی گئی کہ ’’یارسول اﷲﷺ آپ پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں؟‘‘ آپﷺ نے جواب دیا ’’اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی‘‘ (صحیح مسلم شریف جلد 1ص 7، مشکوٰۃ شریف ص 179)

نبی کے غلامو! خوش ہوجاؤ اور خوشی سے اپنے نبی کی آمد کا جشن منایا کرو کیونکہ یہ جشن تو خود آقاﷺ نے منایا ہے۔ اس کرہ ارض پر بسنے والے کسی بھی عالم دین (اگرچہ وہ صحیح عالم ہو) سے نبیﷺ کے پیر کے روزے کے متعلق دریافت کیجئے، اس کا جواب یہی ہوگا کہ نبیﷺ نے اپنی ولادت کی خوشی میں روزہ رکھا۔ نبی علیہ السلام اپنی آمد کی خوشی منائے اور نبی علیہ السلام کے غلام اپنے آقا کا جشن نہ منائیں۔ یہ کیسی محبت ہے؟ اسی لئے تو مسلمان ہر سال زمانے کی روایات کے مطابق جشن ولادت مناتے ہیں۔ کوئی روزہ رکھ کر مناتا ہے تو کوئی قرآن کی تلاوت کرکے، کوئی نعت پڑھ کر، کوئی درود شریف پڑھ کر، کوئی نیک اعمال کا ثواب اپنے آقاﷺ کی بارگاہ میں پہنچا کر تو کوئی شیرینی بانٹ کر، دیگیں پکوا کر غریبوں اور تمام مسلمانوں کوکھلا کر اپنے آقا کی ولادت کا جشن مناتاہے۔ یعنی زمانے کی روایات کے مطابق اچھے سے اچھا عمل کرکے اپنے آقاﷺ کی ولادت کا جشن منایا جاتا ہے۔ پس جو شخص نبیﷺ کو مانتا ہے تو وہ سنت نبویﷺ سمجھ کر اپنے آقا کی ولادت کاجشن منائے گا اور جو شخص نبی کو نہیں مانتا، وہ اس عمل سے دور بھاگے گا۔

* نبی اکرمﷺ کا چچا ابولہب جوکہ پکا کافر تھا۔ جب اسے اس کے بھائی حضرت عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کے یہاں بیٹے کی ولادت کی خوشخبری ملی تو بھتیجے کی آمد کی خوشخبری لانے والی کنیز ’’ثویبہ‘‘ کو اس نے انگلی کا اشارہ کرکے آزاد کردیا۔ ابولہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ بڑے برے حال میں ہے تو اس سے پوچھا کیا گزری؟ ابولہب نے جواب دیا ’’مرنے کے بعد کوئی بہتری نہ مل سکی ہاں مجھے اس انگلی سے پانی ملتا ہے کیونکہ میں نے ثویبہ لونڈی کو آزاد کیا تھا‘‘ (بخاری شریف جلد 2ص 764)

اسی روایت کے مطابق ہمارے اسلاف جوکہ اپنے دور کے مستند مفسر، محدث اور محقق رہے ہیں ان کے خیالات پڑھئے اور سوچئے کہ اس سے بڑھ کر جشن ولادت منانے کے اور کیا دلائل ہوں گے؟

(1) ابولہب وہ بدبخت انسان ہے جس کی مذمت میں قرآن کی ایک پوری سورۃ نازل ہوئی ہے لیکن محض اس وجہ سے کہ اس کی آزاد کردہ باندی نے نبی اکرمﷺ کو دودھ پلایا تو اس کا فائدہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کو کچھ نہ کچھ ملتا رہا۔ سہیلی وغیرہ نے اس خواب کا اتنا حصہ اور بیان کیاہے۔ ابولہب نے حضرت عباس سے یہ بھی کہا کہ دوشنبہ پیر) کو میرے عذاب میں کچھ کمی کردی جاتی ہے۔ علماء کرام نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ حضورﷺ کی تشریف آوری کی بشارت سنانے پر ثویبہ کو جس وقت ابولہب نے آزاد کیا تھا اسی وقت اس کے عذاب میں کمی کی جاتی ہے‘‘ (تذکرہ میلاد رسول ص 18)

(2) شیخ محقق حضرت علامہ مولانا شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کا فرمان مبارک:

’’میلاد شریف کرنے والوں کے لئے اس میں سند ہے جوشب میلاد خوشیاں مناتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں۔ یعنی ابولہب کافر تھا اور قرآن پاک اس کی مذمت میں نازل ہوا۔ جب اسے میلاد کی خوشی منانے اور اپنی لونڈی کے دودھ کو آنحضرتﷺ کے لئے خرچ کرنے کی وجہ سے جزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو محبت اور خوشی سے بھرپور ہے اور میلاد پاک میں مال خرچ کرتا ہے‘‘ (مدارج النبوۃ دوم ص 26)

(3) حضرت علامہ مولانا حافظ الحدیث ابن الجزری رحمتہ اﷲ علیہ کا فرمان مبارک:

’’جب ابولہب کافر جس کی مذمت میں قرآن پاک نازل ہوا کہ حضور اقدسﷺ کی ولادت کی خوشی میں جزا نیک مل گئی (عذاب میں تخفیف) تو حضور نبی کریمﷺ کی امت کے مسلمان موحد کا کیا حال ہوگا۔ جو حضورﷺ کی ولادت کی خوشی مناتا ہو اور حضور کی محبت میں حسب طاقت خرچ کرتا ہو۔ مجھے اپنی جان کی قسم اﷲ کریم سے اس کی جزا یہ ہے کہ اس کو اپنے فضل عمیم سے جنت نعیم میں داخل فرمائے گا‘‘ (مواہب لدنیہ جلد 1ص 27)

(4) جلیل القدر محدث حضرت علامہ ابن جوزی رحمتہ اﷲعلیہ کا فرمان مبارک:

’’جب ابولہب کافر (جس کی قرآن میں مذمت بیان کی ہے) آپﷺ کی ولادت پر خوش ہونے کی وجہ سے یہ حال ہے تو آپﷺ کی امت کے اس موحد مسلمان کا کیا کہنا جو آپﷺ کی ولادت پر مسرور اور خوش ہے‘‘ (بیان المولد النبوی ص 70 بحوالہ مختصر سیرۃ الرسول ص 23)

ان محدثین کرام اور اسلاف کے خیالات سے ثابت ہے کہ جشن ولادت منانا اسلاف کا بھی محبوب فعل رہا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ جب کافر محمد بن عبداﷲﷺ کی آمد کی خوشی مناکر فائدہ حاصل کرسکتا ہے تو مسلمان محمد رسول اﷲﷺ کی آمد کا جشن مناکر کیوں فائدہ حاصل نہیں کرسکتا؟ بلکہ ابن الجزری نے تو قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ میلاد منانے والوں کی جزا یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں جنت میں داخل فرمادے گا۔ سبحان اﷲ

Saturday, 25 November 2017

میلاد کا ثبوت نہیں ہے Melad ka saboot nhi hai

باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:۱۲؍ ربیع الاول کو عید میلاد النبی منانے کا ثبوت دور صحابہ میں نہیں ملتا ہے اور نہ تابعین ،تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین سے ثابت ہے اور نہ ہی قرآن وحدیث اور فقہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے، لہذا بارہ ربیع الاول کی رسم میلاد النبی مناناشریعت سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے بدعت سئیہ ہے، جس کا ترک لازم ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’من أحدث فی أمرنا ہذا ما لیس منہ فہو رد‘‘۔( صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ ، باب الاحکام الباطلۃ ورد محدثات الامور ، النسخۃ الہندیۃ ۲/۷۷،بیت الافکار رقم: ۱۷۱۸)
وأما غیر العالم وہو الواضع لہا یعنی البدعۃ فإنہ لا یمکن أن یعتقدہابدعۃ بل ہی عندہ مما یلحق بالمشروعات کقول من جعل یوم الإثنین یصام لأنہ یوم مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم وجعل الثانی عشرمن ربیع الاول ملحقا بأیام الأعیاد لأنہ علیہ السلام ولد فیہ۔ (الاعتصام ۲/۲۱۴، بحوالہ جواہر الفقہ، زکریا جدید۱/۵۲۳، فتاوی محمودیہ، قدیم ۱۵/۴۲۷، جدید ڈابھیل۳/۱۲۰)فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
۲۵؍۵؍۱۴۱۵ھ
(الف فتویٰ نمبر:۳۱/۴۰۲۵)
الجواب صحیح :
احقر محمد سلمان منصور پوری
۲۵؍۵؍۱۴۱۵ھ

فتاوی قاسمیہ جلد 2۔صفحہ: 459
- مؤلف : حضرت مولانا مفتی شبیر احمد القاسمی صاحب
- ناشر : مکتبہ اشرفیہ دیوبند الھند

جشن عید میلاد النبی کے دلائل کا علمی جائزہ* مولانا ساجد خان قسط 2

Part 2
🔴 *جشن عید میلاد النبی کے دلائل کا علمی جائزہ*

🌟ﻣﻮﻻﻧﺎﺳﺎﺟﺪ ﺧﺎﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﻘﺸﺒﻨﺪﯼ

⚡ﺩﻟﯿﻞ 2 : 
ﻭﺍﻣﺎ ﺑﻨﻌﻤۃ ﺭﺑﮏ ﻓﺤﺪﺙ ‏
( ﺍﻟﻀﺤﯽ ۔ﺁﯾﺖ ۱۱ ‏)

ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﭼﺮﭼﺎ ﮐﺮﻭ۔ 

ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﺏ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﭼﺮﭼﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﻓﺮﻣﺎﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﻧﻌﻤﺖ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮨﻢ ﻣﯿﻼ ﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

⚡ﺟﻮﺍﺏ : 
🔺(1) ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﮐﺮﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﻒ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ’’ ﺣﺪﺙ ‘‘ ﻭﺍﺣﺪ ﮐﺎ ﺻﯿﻐﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺗﺮﺟﻤﮧ ’’ ﮐﺮﻭ ‘‘ ﺟﻤﻊ ﮐﺎﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ۱۲ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺟﺸﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ۔ 

ﻧﯿﺰ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﯿﺎ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ۱۲ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﮐﻮ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﺮﭼﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻧﺒﯽ ﷺ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﺫ ﺍﻟﻠﮧ ﺁﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﺁﮔﺌﯽ۔

ﻧﯿﺰ ﮐﯿﺎ ﺻﺤﺎﺑﮧؓ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺖ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﺗﻢ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟

🔺‏( ۲ ‏) ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﮯ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﺳﮯ ﻧﻌﻤﺖ ﭘﺮ ﺟﺸﻦ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﻨﮕﮍﮮ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ 

🍮ﺍﻟﻠﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ: 

ﻭ ﺍﻥ ﺗﻌﺪﻭﺍ ﻧﻌﻤﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﻻ ﺗﺤﺼﻮﮬﺎ 
‏( ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺁﯾﺖ ۳۴ ‏) 

یعنی ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﺷﻤﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﻮ ﮔﮯ 

ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﻻ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮨﺮ ﭘﻞ ﮨﺮ ﮔﮭﮍﯼ ﺟﺸﻦ ﺟﮭﻨﮉﯾﻮﮞ ﺟﻠﻮﺳﻮﮞ ﺭﻭﮈﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﻼﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﺸﻦ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻨﮑﺮ ﮨﻮ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﺸﺮﮎ ﮨﻮ۔

🔺‏( ۳ ‏) ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻨﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻏﻼﻡ ﺭﺳﻮﻝ ﺳﻌﯿﺪﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺍﺯﯼ ؒ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ :

’’ ﻧﺒﯽﷺ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ؟۔۔ ﻣﺠﺎﮨﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺱ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﻗﺮﺁﻥ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﮨﮯ ‘‘ ۔ ‏

( ﺗﺒﯿﺎﻥ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ﺝ۱۲ ﺹ ۸۳۶ ‏)

ﻟﻮ ﺟﯽ ﺟﺲ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﺎ ﭼﺮﭼﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺭﺏ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﻧﺒﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﺸﻦ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮨﻨﮕﺎﻣﮧ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔

🔺‏( ۴ ‏) ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺻﺪﺭ ﺍﻻﻓﺎﺿﻞ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺭﺿﺎ ﺧﺎﻥ ﻧﻌﯿﻢ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻣﺮﺍﺩ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ :

’’ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﻭﮦ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺒﯿﺐ ﷺ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ‘‘ ۔‏

( ﺧﺰﺍﺋﻦ ﺍﻟﻌﺮﻓﺎﻥ ﺹ۷۰۹ ‏)

ﻟﻮ ﺟﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﯽ ﺧﺘﻢ ﯾﮩﺎﮞ ﻧﺒﯽ ﷺ ﮐﮯ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻥ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺣﻮﺽ ﮐﻮﺛﺮ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮐﺒﺮﯼ ﻟﻮﺍﺀ ﺣﻤﺪ ﻭﻏﯿﺮﮨﺎ 

🍮ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻏﻼﻡ ﺭﺳﻮﻝ ﺳﻌﯿﺪﯼ ﻧﮯ ﻗﺮﯾﺒﺎ ﺍﯾﺴﯽ ۱۵ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ‏

( ﺗﺒﯿﺎﻥ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ﺝ۱۲ ﺹ ۸۳۷ ‏) 

ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﺎ ﭼﺮﭼﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﻼﺩ ﮐﺎ ﺍﺏ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﻮﻥ ﺍﻗﺮﺍﺭﯼ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺑﻨﺎ؟ 

ﻏﺮﺽ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﻒ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﻮﺩ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﮐﺎﺑﺮ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ۔
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹

Friday, 24 November 2017

عید میلاد النبی مقالمہ Dialogue on eid melad

🔹عید ملاد النبی منانا کیسا هے🔹

♦جُنید:
السلام علیکم۔

🔹عبداللہ:
وعلیکم السلام ۔ سنائیے آج کیسے صبح صبح آگئے، دکان پر نہیں گئے؟

♦جُنید:
آج تو عید میلادالنبی ہے، بازار، دکانیں سب بند ہیں۔

🔹عبداللہ :
اچھا تو آپ آج عید منا رہے ہیں۔

♦جُنید:
کیا آپ نہیں منا رہے ہیں؟

🔹عبداللہ:↓
عیدیں تو اسلام میں صرف دوہی ہیں، (١)عید الفطر اور (٢)عیدلاضحی۔

♦جُنید:↓
یہ تیسری عید بھی تو ہے جسے عید میلاد النبی کہتے ہیں۔

🔹عبداللہ:↓
اچھا آپ ذرا یہ بتائیں یہ جو تیسری عید ہے ، کیا اس عید والے دن عید گاہ جاکر نماز عید ادا کی جاتی ہے ؟

♦جُنید:↓
عید میلادالنبی کی نماز تو ہوتی ہی نہیں ہے۔

🔹عبداللہ:↓
باقی دوعیدوں کی نمازیں پھر آپ کیوں پڑھتے ہیں؟

♦جُنید:↓
وہ تو پڑھنی چاہیئے؟

🔹عبداللہ:↓
وہ کیوں پڑھنی چاہیئے۔

♦جُنید:↓
اس لئے کہ ان کے پڑھنے کا حکم ہے ۔

عبداللہ:↓
کیا عید میلادالنبی کی نماز پڑھنے کا حکم نہیں ہے ؟

♦جُنید:↓
نہیں ہوگا اس لئے تو کوئی نہیں پڑھتا۔

🔹عبداللہ:↓
کیا عید میلادالنبی منانے کا کہیں حکم ہے ؟

♦جُنید:↓
سنا تو نہیں کہیں حکم، منع بھی تو نہیں ہے ۔

🔹عبداللہ:↓
کیا اس کی نماز ِعید منع ہے ؟

♦جُنید:↓
منع تو وہ بھی نہیں ہے۔

🔹عبداللہ:↓
پھر آپ کیوں نہیں پڑھتے؟

♦جُنید:↓
آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟

🔹عبداللہ:↓
میں بتانا چاہتاہوں کہ اسلام میں اس عید کا کوئی ثبوت نہیں، اگر یہ عید اسلام میں ہوتی تو باقی دوعیدوں کی طرح اسکی نماز بھی ہوتی، اس کی فضیلت حدیث میں پائی جاتی۔ الله ﷻ کے رسول ﷺ نے اس کے احکام اور مسائل بیان فرمائے ہوتے۔

♦جُنید:↓
جو لوگ یہ عید مناتے ہیں کیا وہ غلطی کرتے ہیں؟

🔹عبداللہ:↓
اسلام مسلمانوں کے عمل کا نام نہیں، اسلام قرآن اور حدیث کا نام ہے، جو بات قرآن وحدیث سے ثابت ہے وہ دین ہے، جو ثابت نہیں وہ دین نہیں۔ اگر کوئی اس کو دین بناتا ہے تو وہ دین میں اضافہ کرتا ہے جو ایک سنگین جرم ہے، اسی کو بدعت کہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کو بدعت سے بہت ڈرایا ہے

♦جُنید:↓
کیا صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں عیدمیلاد النبی کوئی مناتا تھا؟

🔹عبداللہ:↓
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، صحابہ اور تابعین کے بعد کسی امام ومحدث نے بھی یہ عید نہیں منائی، اہل سنت کے چاروں اماموں نے تو اس عید کا نام بھی نہ سنا تھا۔ یہ بدعت ٦٢٥ھ سے شروع ہوئی ہے۔

♦جُنید:↓
یہ کیسے ہوسکتا ہے ایک مسلمان الله ﷻ کے رسول ﷺ سے محبت بھی کرتا ہو اور آپ ﷺ کی پیدائش کا دن خاموشی سے گزار دے۔

🔹عبداللہ:↓
ایسا ہوسکتا ہے اور ہوا ہے۔ آپ کبھی کسی تاریخ میں نہیں دکھا سکتے کہ صحابہ و تابعین اور ائمہ سلف نے یہ عید منائی ہو۔نبی كريم ﷺ سے محبت کتاب وسنت پر عمل کرنے سے ظاہر ہوتی ہے نہ کہ عید منانے سے۔ کیا ٦٢٥ھ سے پہلے کے لوگوں کو نبی ﷺ سے محبت نہیں تھی؟ حالانکہ نبی ﷺ نے تو اس زمانے کو بہترین زمانہ قرار دیا ہے ۔

♦جُنید:↓
عیسائی اپنے نبی علیہ السلام کی پیدائش پر کرسمس مناتے ہیں، ہمارے نبی كريم ﷺ کی شان تو سب سے اعلیٰ ہے، ہم مسلمان اپنے نبی ﷺ کا یوم پیدائش کیوں نہ منائیں؟

🔹عبداللہ:↓
عیسائی تو اپنے نبی علیہ السلام کو خدا اور خدا کا بیٹا بھی کہتے ہیں، کیا عیسائیوں کی نقالی میں ہم اپنے نبی ﷺ کو خدا یا خدا کا بیٹا بنالیں؟ میرے بھائی! عیسائیوں کو قرآن و حدیث میں اسی لئے تو گمراہ قرار دیا ہے کہ وہ سب کچھ اپنے نبی علیہ السلام کی تعلیمات کے خلاف کرتے ہیں، کرسمس منانا عیسائیوں کا اپنا مذہب ہے یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم نہیں ہے۔

♦جُنید :↓
عید میلاد النبی کوئی فضول رسم ہے ؟

🔹عبداللہ:↓
اگر یہ اچھا کام ہوتا توپھر رسول الله ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی الله عنہم اجمعین نے کیوں نہ کیا، کیا اس زمانے میں وسائل کی کمی تھی، جو لوگ دو دو عیدیں مناسکتے تھے ان کو تیسری عید منانے میں کیا حرج تھا؟

♦جُنید:↓
صحابہ کے زمانے میں بہت سے کام نہیں ہوتے تھے جو آج کل ہوتے ہیں؟ آج ہم گاڑیوں اور ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ہیں، آپ صحابہ کرام والے اسلام پر عمل کرتے ہوئے گدھوں اور گھوڑوں پر سفر کیا کریں۔

🔹عبداللہ:↓
میرے بھائی! سائنسی ایجادات سے اسلام میں ملاوٹ نہیں ہوتی، مذہبی ایجادات سے اسلام میں ملاوٹ ہوتی ہے نبی كريم ﷺ كى حديث كا مفهوم ہے کہ جس نے دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کی اسے رد کردیا جائے گا (صحیح بخاری ومسلم) حافظ ابن حجر اس کی تشریح میں لکھتے ہیں : "والمردامرالدین" 
’’اس سے دین کا امر مراد ہے۔‘‘ 
یعنی جس نے دین کے اندر کوئی نئی رسم نکالی تو وہ مردود ہے (فتح الباری٣٢٢٥)
ان سے واضح ہو گیا کہ ہر احداث برا اور مردود نہیں ہے بلکہ وہ بدعت اور احداث مردود ہے جس کا تعلق دین اور دینی معاملات سے ہو، اور اسے دین کا کام اور کارِ ثواب سمجھ کر کیا جائے، لہٰذا جتنی بدعتیں لوگوں نے دین کے اندر نکالی ہیں وہ تمام کی تمام مردود ہیں۔
جہاں تک دنیوی چیزیں ہیں، اس کے لئے الله تعالیٰ فرماتا ہے :(وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْ کَبُوْھاَ  وَزِیْنَة وَیَخْلُقُ ماَلاَ تعْلَمُوْنَ)’’ 
اور اُسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لئے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیداکرے گا جن کی تمہیں خبر نہیں۔‘‘ 
اس آیت میں الله تعالیٰ خود کہہ رہا ہے کہ وہ چیزیں بھی استعمال کرسکتے ہیں جن کا علم اس وقت کے لوگوں کو نہیں تھا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام مباح دنیاوی نئی (سائنسی) ایجاد کردہ چیزوں کو ہم استعمال کرسکتے ہیں۔

♦جُنید:↓
تو پھر آپ بچے کی پیدائش پر خوشی کیوں مناتے ہیں ؟

🔹عبداللہ:↓
خوشی منانے اور خوش ہونے میں فرق ہے۔ بچے کی پیدائش پر ہر انسان فطری طور پر خوش ہوتا ہے جبکہ مذہبی طور پر، جہاں تک خوشی منانے کا تعلق ہے تو اس کے لئے شریعت نے ساتویں دن عقیقہ کرنے کا حکم دیا ہے،اب آپ بتائیں کہ بارہ ربیع الاول کو عید منانےکا حکم شریعت نے دیا ہے یا کوئی ترغیب دلائی ہے؟ ہرگز نہیں، پھر بچے کی پیدائش پر خوشی تو صرف ایک دن منائی جاتی ہے ہر سال نہیں۔ کیا رسول الله ﷺ ہر سال بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوتے ہیں؟ بچے کی پیدائش پر خوشی بھی ساتویں دن منائی جاتی ہے اس کی پیدائش کے دن نہیں، اور وہ بھی ایک مرتبہ ہر سال نہیں۔

♦جُنید:↓
کہتے ہیں کہ ابولہب نے آپ ﷺ کی پیدائش پر لونڈی کو آزاد کیا تھا۔

🔹عبداللہ :↓
وہ ا س لئے کہ ابولہب کو اپنے بھتیجے کی پیدائش پر خوشی ہوئی تھی، اس نے لونڈی اس لئے آزاد نہیں تھی کہ ایک رسول دنیا میں تشریف لائے ہیں، یہ بات اتنی پسندیدہ تھی تو کیا آپ ﷺ نے نبوت کے اعلان کے بعد کبھی بھی ابولہب کی اس سنت کو زندہ کرنے کا حکم دیا؟ ابولہب نے تو دنیا کے عام رواج کے مطابق خوشی منائی، بچہ تو کسی گھر میں پیدا ہو خوشی ضرور ہوتی ہے، ابولہب کا لونڈی آزاد کرنا اس لئے نہیں تھا کہ اس نے اس دن کو عید تصور کیا تھا۔ اگر ابولہب کو اپنے بھتیجے کی نبوت سے محبت ہوتی تو وہ آپ کے ساتھ بدترین عداوت کا مظاہرہ نہ کرتا اور نہ اس کی اور اس کی بیوی کی مذمت میں قرآن کی پوری سورت نازل ہوتی، پھر اگر ابولہب کے عمل کو عید میلادالنبی کی دلیل شمار کیا جائے تو اس کامطلب یہ ہوا کہ عید میلادالنبی سنت نبی تو نہیں البتہ سنت ابولہبی ضرور ہے۔

♦جُنید:↓
سنا ہے کہ رسول الله ﷺ کی صحیح تاریخ پیدائش میں مؤرخین کا اختلاف ہے، آخر حقیقت کیا ہے ؟

🔹عبداللہ :↓
اللہ تعالیٰ نے جان بوجھ کر اسے ایک دن پر متفق نہیں کیا تاکہ اسلام کے خالص ہونے کی دلیل قائم رہے، لوگ اس بدعت سے بچے رہیں، یہی ہم اب تک کہتے ہیں کہ یہ دن پہلے زمانوں میں نہیں منایا جاتا تھا بعد میں ایجاد ہوا ہے، اگر بارہ ربیع الاول کا دن کسی بھی حیثیت سے آپ ﷺ یا بعد میں کسی زمانے میں منایا جاتا رہا ہوتا تو سارے مسلمان آپ ﷺ کی تاریخ پیدائش پر متفق ہوتے۔

♦جُنید:↓
چلیئے مان لیا کہ رسول الله ﷺ کی پیدائش شروع سے نہیں منائی جاتی تھی لیکن اب جدید سائنسی دور میں بھی تحقیق نہیں ہو سکی کہ آپ ﷺ کی صحیح تاریخ پیدائش کیا ہے؟

🔹عبداللہ:↓
دیکھئے تاریخ وفات پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ وہ بارہ ربیع الاول ہی ہے، لیکن آپ ﷺ کی صحیح تاریخ پیدائش کے بارے میں جدید تحقیق تو یہی کہتی ہے کہ وہ نو ربیع الاول ہے۔ قاضی سلیمان کی رحمت اللعالمین اور مولانا شبلی نعمانی کی سیرت النبی ﷺ میں ساری تحقیق موجود ہے ۔

♦جُنید:↓
آخر یہ عید میلادالنبی آئی پھر کہاں سے؟

🔹عبداللہ:↓
آپ ایک چیز ایجاد کرتے ہیں اور اس کا ثبوت ہم سے مانگتے ہیں، بہرحال یہ بات تو مُسلّم ہے کہ عہدِ رسالت سے آئمہ و محدثین کے زمانے تک اس کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ یہ رسم ٦٢٥ھ سے شروع ہوئی کچھ نادان لوگوں نے اسے ایجاد کیا۔

♦جُنید:↓
یہ تو واقعی ہم زیادتی کرتے ہیں، جبکہ ان بزرگوں نے یہ عید نہیں منائی تو پھر ہم کیوں منائیں۔

🔹عبداللہ:↓
جزاک الله خیر۔ اب آپ کی سمجھ میں میری بات آئی۔

♦جُنید:↓
بات تو میں آپ کی سمجھ گیا ہوں، اچھا یہ بھی وضاحت فرما دیجئے کہ جو لوگ عید میلاد مناتے ہیں ان میں جذبہ اور نیت تو نیک ہی ہوتی ہے اور صحیح حدیث میں ہے :" اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے"

🔹عبداللہ :↓
میرے بھائی جب آپ کو صحیح حدیث بتائی جاتی ہے اگر وہ آپ کے عمل کے خلاف ہو تو آپ لوگ یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ ہمارے مولوی صاحب نے اس طرح کہا ہے، اور ہمارے بڑوں نے اس طرح کیا ہے، ہم بھی وہی طریقہ اختیار کریں گے۔
بہرحال بدعت تو کہتے ہی اس عمل کو ہیں جو نیک نیتی سے کیا جائے، مگر عمل بذات ِ خود غلط ہو تو وہ قبول نہیں ہوتا۔
الله ﷻ کے ہاں عمل کی قبولیت کے لئے نیک نیتی کے ساتھ ساتھ عمل کا سنت کے مطابق ہونا بھی شرط ہے ورنہ وہ عمل برباد ہے۔ قرآن وحدیث میں جگہ جگہ اس کی صراحت موجود ہے ۔
.

♦جُنید:↓
کیا عید میلادالنبی کا بالکل کوئی ثواب ہی نہیں؟

🔹عبداللہ:↓
بھائی! جب اس کا وجود ہی اسلام میں نہیں تو یہ کارِ ثواب کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ تو بدعت ہے، دین میں اضافہ کوئی معمولی جرم نہیں، آپ ثواب کی بات پوچھتے ہیں، قیامت کے دن تو ایسے لوگوں کو حوضِ کوثر سے پانی بھی نصیب نہ ہوگا۔ 
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم خود ان لوگوں کو قریب نہیں آنے دیں گے ۔ 
سُنيئے حدیث میں آتا ہے، نبی كريم صلی الله علیہ وسلم کچھ یوں فرماتے ہیں 
"قیامت کے روز، میں حوضِ کوثر سے اپنے اُمتیوں کو پانی پلا رہا ہوں گا، میری اُمت کے کچھ لوگوں کو فرشے گھسیٹ کر مجھ سے دور کرہے ہوں گے،(حالانکہ ان کے ہاتھ پاؤں وضو کی وجہ سے چمک رہے ہوں گے) میں پوچھوں گا ان کا کیا قصور ہے؟ انہیں میری طرف آنے دو، یہ میرے اُمتی ہیں، جواب ملے گا:
اے محمد ﷺ! آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد انہوں نے دین میں کیا کیا تبدیلیاں کردی تھیں، یہ سن کر رسول الله ﷺ خود فرمائیں گے: 
انہیں لے جاؤ، انہیں دور لے جاؤ، اس لئے کہ ان لوگوں نے میرے بعد میرے دین میں رسم ورواج اور تبدیلیاں کیں"

♦جُنید:↓
واقعی معاملہ تو بڑا خطرناک ہے، آپ نے مجھے یہ حدیث سنا کر بہت زیادہ ڈرا دیا ہے، آپ کی بڑی نوازش کہ آپ نے میرے لئے راہِ حق کی رہنمائی فرمائی۔ ان شاء الله میں اپنے دوست و احباب کی بھی صحیح رہنمائی کروں گا تاکہ وہ تمام بدعات وخرافات سے تائب ہوکر کتاب وسنت پر گامزن رہیں۔
  
🔹عبداللہ .↓
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک اعمال کی توفیق بخشے۔
الله ﷻ ہم سب کو حق بات کہنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
 آمین

Jishan e melad جشن عید میلاد النبی کے دلائل کا علمی جائزہ Part 1

Part 1
 *جشن عید میلاد النبی کے دلائل کا علمی جائزہ*

🌟ﻣﻮﻻﻧﺎﺳﺎﺟﺪ ﺧﺎﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﻘﺸﺒﻨﺪﯼ

🔰ﺩﻟﯿﻞ 1: 
ﻗﻞ ﺑﻔﻀﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﻭ ﺑﺮﺣﻤﺘﮧ ﻓﺒﺬﺍﻟﮏ ﻓﻠﯿﻔﺮﺣﻮﺍ ‏
( ﯾﻮﻧﺲ ۔ﺁﯾﺖ ۵۸ ‏)

ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻞ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻓﻀﻞ ﻭ ﺭﺣﻤﺖ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ؟

ﺟﻮﺍﺏ : 
(1) ﻣﻮلانا ﯾﮧ ﺁﯾﺖ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﺎ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﭘﺮ؟ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﮐﮯ ﺍﻭﻟﯿﻦ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﺗﻢ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ؟

ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ۱۲ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﮐﻮ ﺭﻧﮉﯾﺎﮞ ﻧﭽﺎﻧﺎ ﻣﯿﻼﺩ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﮭﻨﮉﯾﺎﮞ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺟﻠﻮﺱ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﻼﺩ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﺮ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﮔﺴﺘﺎﺥ ﮐﮩﻨﺎ ﻧﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮨﻮ ‏(ﻣﻌﺎﺫ ﺍﻟﻠﮧ ) ﺗﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻭ ﻭﺭﻧﮧ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺗﺤﺮﯾﻒ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ۔

‏( ۲ ‏) ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎﮨﮯ 

ﻓﺎﻧﻘﻠﺒﻮﺍ ﺑﻨﻌﻤۃ ﻣﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﻭ ﻓﻀﻞ ﻟﻢ ﯾﻤﺴﺴﮭﻢ ﺳﻮﺀ 
‏( ﺁﻝ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺁﯾﺖ۷۴ ‏)

ﺭﺏ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮩﺎﺩ ﺳﮯ ﻟﻮﭨﮯ ﺗﻮ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﯿﺎ ﺻﺤﺎﺑﮧؓ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﻌﻤﺖ ﻭ ﻓﻀﻞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﻣﻨﺎﺋﯽ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻢ ﻣﻨﺎﺗﮯ ﮨﻮ؟

‏( ۳ ‏) ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺻﺪﺭ ﺍﻻﻓﺎﺿﻞ ﺳﻮﺭ ﮦ ﯾﻮﻧﺲ ﮐﯽ ﺁﯾﺖ ﮐﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ :

’’ ﻓﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﭼﯿﺰ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺟﻮ ﻟﺬﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﻓﺮﺡ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﻌﻨﯽ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﺭﺣﻤﺖ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻮﺍﻋﻆ ﺍﻭﺭ ﺷﻔﺎﺀ ﺻﺪﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻭ ﺳﮑﻮﻥ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻭ ﺣﺴﻦ ﻭ ﻗﺘﺎﺩﮦ ﻧﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﻮﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﯿﮟ ‘‘ ۔‏

(ﺧﺰﺍﺋﻦ ﺍﻟﻌﺮﻓﺎﻥ ۔ﺹ : ۲۵۶ ﻧﺎﺷﺮ ﺍﻟﻤﺠﺪﺩ ﺍﺣﻤﺪ ﺭﺿﺎ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺍﻣﺠﺪﯾﮧ ﮐﺮﺍﭼﯽ‏)

ﺍﺱ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﻧﺎ ﺩﻝ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮐﮧ ﺟﮭﻨﮉﯾﺎﮞ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺟﻠﻮﺱ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﻨﮕﮍﮮ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﮐﯿﮏ ﮐﺎﭨﻨﺎ، ﻧﯿﺰ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﺳﮯ ﻣﯿﻼﺩ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﻮﺍﻋﻆ ﺣﺴﻨﮧ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﯿﺰ ﯾﮩﺎﮞ ﻓﻀﻞ ﻭ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﺁﯾﺖ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺁﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺫﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺧﻮﺷﯽ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻓﺴﺎﺩ ﻣﭽﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔

محافلِ میلاد میں منکرات کا ارتکاب, تفہیم المسائل مفتی منیب الرحمن

محافلِ میلاد میں منکرات کا ارتکاب, تفہیم المسائل

مفتی منیب الرحمن
سوال: میلاد شریف کے جلسوں میں دف کا اہتمام کیا جانا اور جشنِ میلاد شریف کے جلسوں میں تالیاں بجانا، ڈھول اور رقص پر اصرار کیا جانا، شریعتِ مطہرہ میں کیا حیثیت رکھتا ہے، کیا کہیں کوئی جواز کی صورت ہے یادودھ وشہد میں نجاست وپلیدی ڈالنا اور حلال کو حرام کرنا ہے؟ دَف والی حدیث کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے اس حدیث کی روشنی میں مباح سمجھا جائے یا حدیث کو منسوخ سمجھا جائے یا پھر خصوصیت پر محمول کیا جائے؟ بعض حضرات صوفیہ کے سازوں کے ساتھ قوالی سننے کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ (تنظیمات اہل السنت والجماعت، سرگودھا)
جواب: میلاد النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے جلسوں اور جلوس کا محرمات، مکروہات سے پاک ہونا ہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے حقیقی محبت کا ثبوت ہے کہ آپ کی بعثتِ مبارکہ کا مقصد ظلمت وجہالت کو دو رکرنا اور احکامِ الٰہی کا پابند بنانا ہے، لوگوں کی رذیل صفات کو حسنِ اخلاق میں بدل دینا ہے۔ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے دن کا اکرام انھی شرعی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم او ر صحابۂ کرام علیہم الرضوان کی مجالس میں نظر آتے ہیں اس سے ہٹ کر کسی غیر شرعی امر کا ارتکاب دعویٔ عشق و محبت رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف ہے۔ میلاد النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے جلوس نہ ضروریاتِ دین سے ہیں اور نہ ہی ضروریاتِ مسلک اہل السنت والجماعت سے البتہ یہ برصغیر میں شعائرِ اہل سنت سے ہیں، یہ اگر محرمات ، بدعات اور منکرات سے پاک ہوں تو زیادہ سے زیادہ استحباب واستحسان کے درجے میں قرار دیا جاسکتا ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے، ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اس کی خواہش میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہو جائے (شرح السنۃ للبغوی) حدیث کا واضح مفہوم یہی ہے کہ کامل ایمان کی علامت یہ ہے کہ انسان کا ہر قول و فعل ،معاملات ومعمولات اور خواہشات رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے احکام کے مطابق ہونی چاہئیں۔ ہماراا لمیہ یہ ہے کہ ہم نے دینی امور کو قرآن وسنت میں بیان کردہ حقائق کی روشنی میں طے کرنے کے بجائے اپنی وضع کردہ عقیدتوں اور خواہشات کی نذر کردیتے ہیں اور عقیدے وعقیدت کا تعین ایک ایسا طبقہ کرتا ہے جو دینی فہم سے عاری و نا بلد ہے ۔ محافلِ میلاد کے نام پر مقدس محافل کی آڑ میں بڑے بڑے کاروبار کیے جارہے ہیں بعض مقامات پر نعت خوانوں اور شعلہ بیان مقررین (جن کی اکثریت موضوع روایات کا سہارا لیتی ہے) کی ایجنٹوں کے ذریعے لاکھوں میں بکنگ ہورہی ہے، کسی زمانے میں شہر بھر میں سیاسی لیڈروں کی بڑی بڑی قد آور تصاویر لگائی جاتی تھیں، اب واعظین اور نعت خواں حضرات کی تصاویر صرف بازاروں اور چوراہوں تک محدود نہیں، بلکہ مساجد کے صدر دروازوں پر بھی آویزاں نظر آتی ہیں۔ انگلینڈ سے فون آیا کہ اب پیر صاحبان کی تصاویر مساجد کے اندر آویزاں کی جارہی ہیں۔ ہمیں حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک باریش پیر کو جبے قبے کے ساتھ غیر محرم جوان عورتوں کے ساتھ بلاحجاب رقص کرتے ہوئے دکھایا، وہ ان کے ہاتھ پکڑے ہوئے نظر آتے ہیں کبھی وہ انھیں بوسہ دیتی ہیں، یہ حرام ہے۔ جب ابتذال اس حد تک پہنچ جائے تو علمائے کرام کو تمام مصلحتوں سے بالاتر ہو کر شدت کے ساتھ اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ کفار بیت اﷲ شریف کے پاس تالیاں بجاتے اور اسے عبادت شمار کرتے تھے، قرآن مجید میں اسے کفر قرار دیا گیا ہے، اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ:’’اور بیت اﷲ کے پاس ان کی نماز اس کے سوا کیا تھی کہ یہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے، سواب عذاب کو چکھو کہ کیونکہ تم کفر کرتے تھے(الانفال:۳۵)
علامہ ابوعبداﷲ محمد بن احمد قرطبی لکھتے ہیں : قرآن مجید نے سیٹیاں بجانے اور تالیاں پٹینے کی جو مذمت کی ہے اس میں ان جاہل صوفیاء کا رد ہے، جو رقص کرتے ہیں ، تالیاں پیٹتے اور بے ہوش ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں (جسے وَجد نہیں بلکہ تواجُد سے تعبیر کیا گیا ہے) (الجامع لاحکام القرآن ، جزء ۷، ص:۳۵۹، بیروت) شریعت مطہرہ میں تالیاں بجانے کو مکروہ عمل فرمایا ہے، علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں :’’(ہر بیہودہ کھیل مکروہ ہے) یعنی ہر لہو ولعب اور عبث (بے مقصدکام) تینوں (یعنی لہو، لعب او رعبث) کے معنی ایک ہیں جیسا کہ ’’شرح التاویلات‘‘ میں ہے ۔ لہو کو مطلق (یعنی کسی قید کے بغیر) ذکر کرنا نفسِ فعل اور اس کی توجہ سے سماعت کو شامل ہے، جیسے رقص کرنا، مذاق کرنا اور تالیاں بجانا، ڈھول بجانا، ستار بجانا، سارنگی بجانا، چنگ بجانا، قانون (ایک تار والا باجا) بجانا، مزامیر کا استعمال ، جھانجھ (مجیرا) بجانا اور بگل بجانا، یہ سب مکروہ ہیں کیونکہ یہ عاداتِ کفار ہیں۔ (روالمختار علی الدرالمختار، جلد:۹، ص:۴۸۱)
گانے کی دھن پر بنائی گئی موسیقی اور آلاتِ موسیقی کے ساتھ نعت پڑھنا، پڑھوانا اور سننا سب ناجائز ہے، علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ البار ی لکھتے ہیں: ’’جس نے دَف اور ڈانڈیا کے ساتھ قرآن کی تلاوت کی (وہ توہین قرآن کی وجہ سے) کفر کا مرتکب ہوا، میں (ملاعلی قاری) کہتا ہوں : اسی حکم کے قریب دَف اور ڈانڈیا کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کا ذکر یا نعت مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم پڑھنا بھی ہے۔ (الفقہ الاکبر) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ مکمل ضابطہ اور دستور ہے ، احادیثِ مبارکہ میں صرف چند مواقع ایسے ملتے ہیں، جہاں دَف بجائی جارہی تھی، آپ نے ان مواقع پر کسی خاص سبب سے اعراض نہ کیا۔ لیکن آج تسکینِ نفس کی تکمیل کے لیے ہر شخص اسے سنت سے ثابت کرنے پر تلا رہتا ہے، جبکہ حدیث پاک میں ہے :یعنی مجھے آلاتِ موسیقی کو توڑنے والا بنا کر بھیجا گیا‘‘ کے کلمات بھی آئے ہیں۔ (کنزالعمال) حضرت بریدہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ایک معرکہ سے واپس لوٹے تو ایک سیاہ رنگ کی بچی آکر کہنے لگی: ’’یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم میں نے نذرمانی تھی کہ اﷲ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت لوٹادے تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور اشعار گاؤں گی۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے نذرمانی تھی تو ،تو پھر دَف بجالے ورنہ نہیں۔ وہ لڑکی دَف بجانے لگی، اس اثناء میں حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ تشریف لائے ، وہ دف بجاتی رہی، پھر حضرت علی رضی اﷲ عنہ تشریف لائے، وہ دف بجاتی رہی ، پھر حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ تشریف لائے، وہ تب بھی دف بجاتی رہی۔ پھر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ داخل ہوئے تو وہ دف کو اپنے سرین کے نیچے چھپا کر اس پر بیٹھ گئی۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اے عمر (رضی اﷲ عنہ)! تم سے شیطان ڈرتا ہے، میں بیٹھا تھا یہ دف بجاتی رہی، پھر ابوبکر (رضی اﷲ عنہ) آئے یہ دف بجاتی رہی ، پھر علی (رضی اﷲ عنہ) آئے یہ دف بجاتی رہی ،پھر عثمان (رضی اﷲ عنہ) آئے یہ دف بجاتی رہیاور پھر اے عمر (رضی اﷲ عنہ)! جب تم آئے تو اس نے دف رکھ دی۔ (سنن ترمذی)
امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز لکھتے ہیں:’’دف کہ بے جلاجل یعنی بغیرجھانجھ (اسے جھانجر بھی کہتے ہیں) کا ہو اور تال سم کی رعایت سے نہ بجایا جائے اور بجانے والے نہ مرد ہوں نہ ذی عزت عورتیں، بلکہ کنیزیں یا ایسی کم حیثیت عورتیں اور وہ غیر محل فتنہ میں بجائی تو نہ صرف جائز بلکہ مستحب ومندوب ہے: ترجمہ: ’’حدیث میں مشروط دف کے بجانے کاحکم دیا گیا ہے اورا س کی تمام قیود کو فتاویٰ شامی وغیرہ میں ذکر کردیا گیا اور ہم نے اپنے فتاویٰ میں اس کی تشریح کردی ہے‘‘۔ اس کے سوا ور باجوں سے احتراز کیا جائے ، واﷲ تعالیٰ اعلم۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد:۲۱)
دَف اور ڈھولک میں فرق ہے،دف ایک طرف سے کھلا ہوتا ہے، جبکہ ڈھولک دونوں طرف سے بند ہوتا ہے لہٰذا دَف سے ڈھولک کا جواز ثابت نہیں کیا جاسکتا اور امام احمد رضا قادری نے دف کے ساتھ بھی جھانجھر نہ ہونے کی شرط لگائی ہے ، جبکہ بعض لوگ جھانجھر والے دف کے ساتھ نوخیز قریب البلوغ یا بالغہ لڑکیوں سے ٹی وی پر گروپ کی شکل میں نعت پڑھواتے ہیں ، یہ درست نہیں ہے۔ بعض لوگ ہجرت کے موقع پر قبیلہ بنو نجار کی بچیوں کے ان استقبالیہ اشعار سے استدلال کرتے ہیں: طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاع وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا مَادَعَالِلّٰہِ دَاعٍ۔ (سیرۃ الحلبیہ:۲۳۵؍۲) یہکَلِمَۃُ الْحَقّ أرِیْدُ بِھَا الْبَاطِلْ‘‘ کے قبیل سے ہے۔ اوّلاً تو یہ کہ یہ ابتدائے اسلام کا دور تھا یہ بچیاں عہدِاسلام کی تربیت یافتہ نہیں تھیں، بلکہ اس عہد کے قبائلی رواج کے مطابق انھوں نے ایسا کیا اور وہ بھی ایک دائرے میں تھا جبکہ مزامیر کو توڑنے کی روایات بعد کی ہیں ۔ بعدازاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جنگی فتوحات سے واپس تشریف لائے، کئی خوشی کے مواقع آئے، لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس شعار کو رائج نہیں کی اور نہ ہی اس کی ترغیب دی۔ مغنیات سے کام لینا مشرکین مکہ کا شعار تھا۔
(مطبوعہ: روزنامہ ’’جنگ‘‘۲۵؍دستمبر۲۰۱۵)



مفتی منیب الرحمٰن
.
میلاد النبی کے جلوس نہ ضروریاتِ دین سے ہیں اور نہ ہی ضروریاتِ مسلک اہل السنۃ والجماعۃ سے ہیں،، البتہ یہ برصغیر میں شعائرِ اہلسنت سے ہیں..  اگر یہ جلوس محرمات، بدعات اور منکرات سے پاک ہوں تو زیادہ سے زیادہ استحباب اور استحسان کے درجے میں قرار دئیے جا سکتے ہیں.. رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے دن کا اکرام انہی شرعی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی مجالس میں نظر آتے ہیں.. اس سے ہٹ کر کسی غیرشرعی امر کا ارتکاب دعوئ عشق و محبتِ رسول کے خلاف ہے.. رسول اللہ کا فرمان مبارک ہے، "تم میں سے کوئی اس وقت تک ( کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک اسکی خواہش میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہو جائے." 
ہمارا المیہ یہ‫ ہے کہ ہم دینی امور کو قرآن و سنت میں بیان کردہ حقائق کی روشنی میں طے کرنے کے بجائے اپنی وضع کردہ عقیدتوں اور خواہشوں کی نذر کر دیتے ہیں اور عقیدے و عقیدت کا تعین ایک ایسا طبقہ کرتا ہے جو دینی فہم سے عاری و نابلد ہے.. محافلِ میلاد کے نام پر مقدس محافل کی آڑ میں بڑے بڑے کاروبار کیے جا رہے ہیں.. بعض مقامات پر نعت خوانوں اور شعلہ بیان مقررین (جنکی اکثریت موضوع روایات کا سہارا لیتی ہے) کی ایجنٹوں کے ذریعے لاکھوں میں بکنگ ہو رہی ہے.. گانے کی دُھن پر بنائی گئی موسیقی اور آلاتِ موسیقی کیساتھ نعت پڑھنا، پڑھوانا اور سننا سب ناجائز ہے..! 
جب گمراہی اس حد تک پہنچ جائے تو علمائے کرام کو تمام مصلحتوں سے بالاتر ہو کر شدت کیساتھ اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے..!!
.
روزنامہ جنگ - 25 دسمبر 2015

جشن میلاد نبی مفتی محمد تقی عثمانی Jashan eid melad

جشن میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم ایک لمحہٴ فکریہ

مفتی محمد تقی عثمانی

12/ ربیع الاول کو عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم منانے کارواج کچھ عرصہ سے مسلسل چلا آرہا ہے، چوں کہ عہد صحابہ کرام رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین اور قرون اولیٰ میں اس ”عید“ کا کوئی پتا نشان نہیں ملتا۔ اس لیے اکابر علمائے حق ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ یہ دن منانے کی رسم ہم میں عیسائیوں اور ہندوؤں سے آئی ہے، تاریخ اسلام کے ابتدائی دور میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ملتی، لہٰذا اس رسم کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، مسلمانوں کااصل کام یہ ہے کہ وہ ان رسمی مظاہروں کے بجائے سرکار دوعالم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہوں اور ایک دن میں عید میلاد مناکر فارغ ہوجانے کے بجائے اپنی پوری زندگی کو آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کی فکر کریں۔

یہ علمائے دیوبند اور علمائے اہل حدیث کا موقف تھا اور بریلوی مکتب فکر کے حضرات اس سے اختلاف کرتے تھے، لیکن اب چند سال سے جو صورت حال سامنے آرہی ہے، اس میں یہ مسئلہ صرف دیوبندی مکتب فکر کا نہیں رہا، بلکہ ہر اس مسلمان کا مسئلہ بن گیا ہے جو سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کی عظمت و محبت اور حرمت و تقدیس کا کوئی احساس اپنے دل میں رکھتا ہو، اب صرف علمائے دیوبند اور علمائے اہل حدیث ہی کو نہیں، بلکہ علمائے بریلی کو بھی اس پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے کہ جشن عیدمیلاد النبی صلی الله علیہ وسلم کے نام پر یہ قوم دینی تباہی کے کس گڑھے کی طرف جارہی ہے؟ کیوں کہ جن حضرات نے ابتدا میں محفل میلاد وغیرہ کو مستحسن قرار دیا تھا، ان کے چشم تصور میں بھی غالباً وہ باتیں نہیں ہوں گی جو آج ”جشن میلادالنبی صلی الله علیہ وسلم“ کا جزوِ لازم بنتی جارہی ہیں۔

شروع میں محفل میلاد کا تصور ایک ایسی مجلس کی حد تک محدود تھا جس میں سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان کیا جاتا ہو، لیکن انسان کا نفس اس قدر شریر واقع ہوا ہے کہ جو کام وحی کی راہ نمائی کے بغیر شروع کیا جاتا ہے، وہ ابتدا میں خواہ کتنا مقدس نظر آتا ہو، لیکن رفتہ رفتہ اس میں نفسانی لذت کے مواقع تلاش کرلیتا ہے اور اس کا حلیہ بگاڑ کر چھوڑتا ہے، چناں چہ اب الله کے محبوب ترین پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے مقدس نام پر جو کچھ ہونے لگا ہے، اسے سن کر پیشانی عرق عرق ہوجاتی ہے۔

ہر سال ”عید میلاد النبی“ کے نام سے صرف کراچی میں ظلم وجہالت کے ایسے ایسے شرم ناک مظاہرے کیے جاتے ہیں کہ ان کے انجام کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے، مختلف محلوں کو رنگین روشنیوں سے دلہن بنایا جاتا ہے اور شہر کے تقریباً تمام ہوٹلوں میں عید میلاد اس طرح منائی جاتی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر لگاکر بلند آواز سے شب و روز ریکارڈنگ کاطوفان برپا رہتا ہے۔ بہت سے سینما ”عیدمیلاد کی خوشی میں“ سینکڑوں بلب لگا کر ان اخلاق سوز اور برہنہ تصویروں کو اور نمایاں کردیتے ہیں جو اپنی ہر ہر ادا سے سرکار دوعالم صلی الله علیہ وسلم کے احکام کی نافرمانی کی برملا دعوت دیتی ہیں اور انہی مقامات پر انسانیت کی تصویروں کے سائے میں شاید تبرک کے خیال سے خانہ کعبہ اور روضہ اقدس کی تصویریں بھی چسپاں کردی جاتی ہیں، ایک محلہ میں قدم قدم پر روضہ اطہر اور مسجد نبوی کی شبیہیں بناکر کھڑی کی جاتی ہیں، جنہیں کچھ بے فکرے نوجوان ایک تفریح گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور کچھ بے پردہ عورتیں انہیں چھو چھوکر ”خیر و برکت“ حاصل کرتی ہیں اور ظاہر ہے کہ جب پورے محلہ کو روشنیوں میں نہلاکر، جگہ جگہ محرابیں کھڑی کرکے اور قدم قدم پر فلمی ریکارڈ بجاکر ایک میلے کا سماں پیدا کردیا جائے تو پھر عورتیں اور بچے ایسے میلے کو دیکھنے کے لیے کیوں نہ پہنچیں جس میں میلے کا لطف بھی ہے اور (معاذ الله) تعظیم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ثواب بھی؟! چناں چہ راتوں کو دیر تک یہاں تفریح باز مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایسا مخلوط اجتماع رہتا ہے جس میں بے پردگی، غنڈہ گردی اور بے حیائی کو کھلی چھوٹ ملی ہوتی ہے۔

راقم الحروف ایک روز اس محلے سے گزرتے ہوئے یہ دل دوز مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور اس آیت قرآنی کے تصور سے روح کانپ رہی تھی، جس کا ترجمہ یہ ہے:

” اور ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کشی اختیار کرلو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنارکھا ہے اور دنیاوی زندگی نے ان کو دھوکہ میں ڈال دیا ہے اور اس قرآن کے ذریعے ان کو نصیحت کرو، تاکہ کوئی شخص اپنے کیے میں اس طرح گرفتار نہ ہوجائے کہ الله کے سوا اس کا کوئی حمایتی اور سفارش کرنے والا نہ ہو اور اگر وہ دنیا بھر کا معاوضہ دے ڈالے تب بھی نہ لیا جائے، یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے کیے میں گرفتارہوئے، ان کے لیے کھولتا ہوا پانی پینے کے لیے ہوگا اور کفر کے سبب دردناک سزا ہوگی۔“

الله تعالیٰ ہر مسلمان کو اس آیت کا مصداق بننے سے محفوظ رکھے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس محلے سے گزرتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے خاتم النبین صلی الله علیہ وسلم کا لایا ہوا دین پکار پکار کر یہ فریاد کررہا ہے کہ ”محمد عربی صلی الله علیہ وسلم کے نام لیواؤ! تم گم راہی اور بے حسی کے کس اندھے غار میں جاگرے ہو؟ کیا سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کے احسانات کا بدلہ یہی ہے کہ انہی کی محبت و عظمت کے نام پر ان کی ایک ایک تعلیم کو جھٹلاؤ؟ ان کے ایک ایک حکم کی نافرمانی کرو؟ اور ان کی یاد منانے کے بہانے جاہلیت کی ان تمام رسموں کو زندہ کرکے چھوڑو جنہیں اپنے قدموں تلے روندنے کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تھے؟ خدا کے لیے سوچو کہ جس ذات کو سازورباب اور چنگ و بربط کے توڑنے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا، اس کے ”جشن ولادت“ میں ساز ورباب سے کھیل کر تم کس غضب الٰہی کو دعوت دے رہے ہو؟ جس ذات نے عورت کے سر پر عفت و عصمت کا تاج رکھا تھا اور جس نے اس کے گلے میں عزت و آبرو کے ہارڈالے تھے، اس کی محبت و تقدیس کے نام پر تم عورت کو بے پردگی اور بے حیائی کے کس میلے میں کھینچ لائے ہو؟ جس ذات نے نام و نمود، ریا و نمائش، اسراف و تبذیر سے منع کیا تھا، یہ نمائشیں منعقد کرکے تم کس کی خوش نودی حاصل کرنا چاہتے ہو؟ اگر دین کی کوئی صحیح خدمت تم سے نہیں ہوسکتی، اگر تم اپنی عام زندگی میں الله کی نافرمانیوں کو ترک نہیں کرسکتے، اگرمحمد عربی صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات تمہارے عیش پرست مزاج کوبار معلوم ہوتی ہیں، توتمہاری زندگی کے بہت سے شعبے اس عیش پرستی کے لیے کافی ہیں، خدا کے لیے الله کے محبوب ترین پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے نام پر ہوا و ہوس کا یہ بازار لگاکر اس نبی رحمت صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کا مذاق تو نہ اڑاؤ، اس کے تقدس اور پاکیزگی کے آگے فرشتوں کی گردنیں بھی خم ہوجاتی ہیں، اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھو کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کے ایک ایک حکم کی نافرمانی کرنے کے بعد تم کس چیز کی خوشی میں اپنے درودیوار پر چراغاں کررہے ہو؟ کیا تمہیں اس بات کی خوشی ہے کہ تم نے اپنی عملی زندگی میں اس دین برحق کی کوئی قدر صحیح سالم نہیں دیکھی؟“ لیکن عیش و نشاط کی گونجتی ہوئی محفلوں میں کون تھا جو دین مظلوم کی اس فریاد کو سن سکتا؟

جن لوگوں کا مقصد ہی اس قسم کے ہنگاموں سے عیش و نشاط کا سامان پیدا کرنا ہے، ان کا تو کوئی ذکر ہی نہیں، لیکن جو لوگ واقعتاً آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تعظیم و محبت ہی کے خیال سے اس قسم کے جشن مناتے ہیں، وہ بھی یہ بات فراموش کررہے ہیں کہ اسلام اور اکابر اسلام کو دوسرے مذاہب اور ان کے پیشواؤں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام نے جہاں ہمیں ان کی تعظیم اور ان کے تذکرے کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے، وہاں ہمیں اس کا طریقہ بھی بتایا ہے، یہ وہ دین حق ہے جو ہمیں دوسرے مذاہب کی طرح رسمی مظاہروں میں الجھانے کے بجائے زندگی کے اصلی مقصد کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس کے لیے یہ اکابر اس دنیا میں تشریف لائے تھے۔ ورنہ اگر اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح ان رسمی مظاہروں کی طرح جانا جاتا تو آج ہم اس بات پر فخر محسوس نہ کرسکتے کہ ہمارا دین بفضلہ تعالیٰ اسی شکل میں محفوظ ہے جس شکل میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اسے لے کر دنیا میں تشریف لائے تھے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی مذہب کے پیروکار محض ظاہری رسموں اور نمائشوں میں الجھ جاتے ہیں تو رفتہ رفتہ اس مذہب کی اصل تعلیمات مٹتی چلی جاتی ہیں اور بالآخر بے جان رسوم کا ایک ایسا ملغوبہ باقی رہ جاتا ہے جس کا مقصد انسانی نفسانی خواہشات کی حکم رانی کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور جو مادہ پرستی کی بدترین شکل ہے، ان تمام تقریبات کا اصل مقصد تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ ان کے ذریعہ وہ خاص شخصیت یا وہ خاص واقعہ ذہن میں تازہ ہو جس کی یاد میں وہ تقریب منعقد کی جارہی ہے اور پھر اس سے اپنی زندگی میں سبق حاصل کیا جائے، لیکن انسان کا نفس بڑا شریر واقع ہوا ہے، اس نے ان تہواروں کی اصل روح کو تو بھلا کر،نابود کردیا اور صرف وہ چیزیں لے کر بیٹھ گیا جس سے لذت اندوزی اور عیش پرستی کی راہ کھلتی تھی۔ اس کی وضاحت ایک مثال سے ہوسکے گی۔

عیسائی قومیں ہر سال 25دسمبر کو کرسمس کا جشن مناتی ہیں، یہ جشن دراصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جشن ولادت ہے اور اس کی ابتدا اسی مقدس انداز سے ہوئی تھی کہ اس دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی تعلیمات کو لوگوں میں عام کیا جائے گا، چناں چہ ابتدا میں اس کی تمام تقریبات کلیسا میں انجام پاتی تھیں اور ان میں کچھ مذہبی رسوم ادا کی جایا کرتی تھیں، رفتہ رفتہ اس جشن کا سلسلہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا؟ اس کی مختصر داستان، جشن وتقریبات کی ایک ماہر مصنفہ ہیرزلٹائن ہے، اس سے سنیے، وہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ ”کرسمس“ میں لکھتی ہیں:

”کئی صدیوں تک کرسمس خالصتاً ایک کلیسا کا تہوار تھا، جسے کچھ مذہبی رسوم ادا کرکے منایا جاتا تھا، لیکن جب عیسائی مذہب بت پرستوں کے ممالک میں پہنچا تو اس میں ”سرمانی نقطہ انقلاب“ کی بہت سی تقریبات شامل ہوگئیں اور اس کا سبب گریگوری اعظم (اول) کی آزاد خیالی اور اس کے ساتھ مبلغین عیسائیت کا تعاون تھا، اس طرح کرسمس ایک ایسا تہوار بن گیا جو بیک وقت مذہبی بھی تھا اور لادینی بھی، اس میں تقدس کا پہلو بھی تھا اور لطف اندوزی کا سامان بھی۔“

اب کرسمس کس طرح منایا جانے لگا؟ اس کو بیان کرتے ہوئے میری ہیرزلٹائن لکھتی ہیں:
”رومی لوگ اپنی عبادت گاہوں اور اپنے گھروں کو سبز جھاڑیوں اور پھولوں سے سجاتے تھے، ڈرائڈس (پرانے زمانے کے پادری) بڑے تزک و احتشام سے امربیلیں جمع کرتے اور اسے اپنے گھروں میں لٹکاتے، سیکسن قوم کے لوگ سدابہار پودے استعمال کرتے۔“

انہوں نے آگے بتایا ہے کہ:
”کس طرح شجر کرسمس( Chirstmas Tree) کا رواج چلا، چراغاں اور آتش بازی کے مشغلے اختیار کیے گئے، قربانی کی عبادت کی جگہ شاہ بلوط کے درخت نے لے لی، مذہبی نغموں کی جگہ عام خوشی کے نغمے گائے گئے اور : ”موسیقی کرسمس کا ایک عظیم جزو بن گئی۔“

مقالہ نگار آگے رقم طراز ہے:
”اگرچہ کرسمس میں زیادہ زور مذہبی پہلو پر دیا گیا تھا، لیکن عوامی جوش و خروش نے نشاط انگیزی کو اس کے ساتھ شامل کرکے چھوڑا۔“

اور پھر… ”گانا بجانا، کھیل کود، رقص، ناٹک بازی اور پریوں کے ڈرامے تقریبات کا حصہ ہوگئے۔“ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ص، 642۔اے ج 5، مطبوعہ1950ء مقالہ “کرسمس“)

ایک طرف کرسمس کے ارتقاء کی یہ مختصر تاریخ ذہن میں رکھیے اور دوسری طرف اس طرز عمل پر غور کیجیے، جو چند سالوں سے ہم نے جشن عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم منانے کے لیے اختیار کیا ہوا ہے، کیا اس سے یہ حقیقت بے نقاب نہیں ہوتی کہ:
ایں رہ کہ تو می روی بہ ترکستان است

اسلام اس عالم الغیب کا مقرر کیا ہو ادین ہے جو اس کائنات کے ذرہ ذرہ سے باخبر ہے اور جس کے علم محیط کے آگے ماضی، حال اور مستقبل کی سرحدیں بے معنی ہیں، وہ انسانی نفس کی ان فریب کاریوں سے پوری طرح واقف ہے جو تقدس کا لبادہ اوڑھ کر انسانیت کو گم راہ کرتی ہیں، اس لیے اس نے خاص خاص واقعات کی یادگار قائم کرنے کے لیے ان تمام طریقوں سے پرہیز کا حکم دیا ہے، جو ان کی اصل روح کو فنا کرکے انہیں عیش و عشرت کی چند ظاہری رسوم کے لیے بہانہ بناسکتے ہوں، چناں چہ صحابہ رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین اور تابعین کے دور میں ہمیں کہیں نظر نہیں آتا کہ انہوں نے سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کی ولادت باسعادت جیسے عظیم الشان واقعہ کا کوئی دن منایا ہو، اس کے برخلاف ان کی تمام تر توجہات آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنانے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے پیغام کو پھیلانے کی طرف مرکوز رہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ چودہ سو سال گزرنے پر بھی ہم مسلمان بیٹھے ہیں اور اگر اسلام پر عمل کرنا چاہیں تو یہ دین ٹھیک اسی طرح محفوظ ہے جس طرح آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان تک پہنچایا تھا۔

لہٰذا اگر ہم اپنے اسلاف کے اس طرز عمل کو چھوڑ کر غیر مسلم اقوام کے دن منانے کے طریقے کو اپنائیں گے تو مطلب یہ ہوگاکہ ہم دین کے نام پر کھیل تماشوں کے اسی راستے پر جارہے ہیں جس سے اسلام نے بڑی احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہمیں بچایا تھا، آپ کو معلوم ہے کہ اسلام نے غیر مسلم اقوام کی مشابہت سے پرہیز کرنے کی جابجا انتہائی تدبیر کے ساتھ تلقین فرمائی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ عاشورہ محرم کا روزہ، جو ہر ا عتبار سے ایک نیکی ہی نیکی تھی، اس میں یہودیوں کی مشابہت سے بچانے کے لیے یہ حکم دیا گیا کہ صرف دس تاریخ کا روزہ نہ رکھا جائے، بلکہ اس کے ساتھ نو یا گیارہ تاریخ کا روزہ بھی رکھا جائے، تاکہ مسلمانوں کا روزہ عاشورہٴ یہود سے ممتاز ہوجائے۔

غور فرمائیے کہ جس دین حنیف نے اس باریک بینی کے ساتھ غیر مسلم اقوام کی تقلید، بلکہ مشابہت سے بچانے کی کوشش کی ہے، اس کو یہ کیسے گوارا ہوسکتا ہے کہ سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کا یوم پیدائش منانے کے لیے ان کی نقالی شروع کردی جائے جنہوں نے اپنے دین کو بگاڑ بگاڑ کر کھیل تماشوں میں تبدیل کردیا ہے؟

مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر ہم اپنے ملک کے تمام علماء، دینی راہ نما، مذہبی جماعتوں اور با اثر مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور فرمائیں، ہماری یہ اپیل صرف اہل حدیث اور دیوبندی مکتب فکر کے حضرات کی حد تک محدود نہیں، بلکہ ہم بریلوی مکتب فکر کے حضرات سے بھی یہی گزارش کرنا چاہتے ہیں ”عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم“ کے نام پر جو الم ناک حرکتیں اب شروع ہوگئی ہیں، وہ یقینا ان کو بھی گوارا نہیں ہوں گی۔

Monthly Alfarooq

قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا

• *قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا* • ایک پوسٹ گردش میں ھے: کہ حضرت عبدﷲ ابن مسعودؓ سے مروی ھے کہ جو بندہ قبرستان جائے اور قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ دع...