باوضو زندگی گزارنے کی تڑپ:
مجھے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے ایک صاحب کے گھر جانے کا موقع ملا ان کے بچے گھر کے گراؤنڈ میں فٹ بال کھیل رہے تھے نئی آبادی تھی مسجد قریب نہیں تھی اس لیے گھر میں ہی جماعت سے نماز ادا کرنی پڑتی تھی جب ہم نے مغرب کی نماز کے لیے آذان دی صفیں بنانے شروع کی تو ہم نے دیکھا کہ بچے جو فٹ بال کھیل رہے تھے چھوٹے بڑے سارے ہی آئے اور صف باندھ کر کھڑے ہوگئے میں نے صاحب خانہ سے پوچھا کہ ان بچوں نے وضو نہیں کرنا انہوں نے کہا وضو کیا ہوا ہے اس عاجز نے سمجھا کہ شاید انہوں نے سوچا ہوگا کہ مہمان آیا ہوا ہے نماز پڑھنی بھی ہے اس لیے ہم پہلے سے وضو کرکے کھیلتے ہیں لیکن نماز پڑھنے کے بعد صاحب خانہ نے بتایا کہ ہمارے خاندان میں اوپر مشائخ سے عمل چلتا آ رہا ہے کہ کوئی بچہ بھی جب چار پانچ سال کی عمر سے بڑا ہو جاتا ہے توہم اس کو بھی جاگتے ہوئے ہوش کی حالت میں بے وضو نہیں دیکھیں گے آج کے دور میں بھی کیسے لوگ ہیں جن کو باوضو زندگی گزارنے کی تڑپ اور تمنا ہوتی ہے۔۔۔
کما نعیشون تموتون۔۔۔ فرمایا کہ تم جس حال میں زندگی گزارو گے تمہیں اسی حال میں موت آئے گی باوضو زندگی گزانے والو کو اللہ تعالیٰ با وضو موت عطا فرمائیں گے۔۔۔!! (خطبات ذوالفقار ١٢٥/٥)
No comments:
Post a Comment