*باسمہ تعالی*
*الجواب وبہ التوفیق:*
یہ حدیث اس طرح ھے: کہ حضرت ابوذر رض فرماتے ہیں: کہ مجھے میرے دوست یعنی حضور اکرم نے سات باتوں کی وصیت فرمائی:
1) مجھے مسکینوں سے محبت کرنے اور ان کے قریب رہنےکی تاکید فرمائی,
2) اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سے نیچے لوگوں کو دیکھوں( تاکہ شکر پیدا ہو)اور اپنے سے اوپر نظر نہ کروں(تاکہ ناشکری پیدا نہ ہو)
3) اور مجھے صلہ رحمی کی تلقین کی اگر چہ دوسرا رشتے داری کو توڑے,
4) اور مجھے فرمایا: کہ میں کسی کے۔آگے ھاتھ نہ پھیلاؤں,
5) اور مجھے کہا: کہ میں ہمیشہ حق اور سچ بات کہوں اگر چہ وہ کڑوی ہی کیوں نہ لگے۔
6) مزید ارشاد فرمایا: کہ میں ﷲ کے لئے کسی کی ملامت سے نہ ڈروں
7) اور آخر میں فرمایا: کہ میں کثرت سے لا حول ولا قوہ الا باﷲ پڑھوں؛کیونکہ عرش کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ھے۔
رواه أحمد والبيهقي والبزار والطبراني صحيح۔
اسی طرح ایک روایت اور ھے: کہ حق بات کہو خواہ وہ تمہارے ہی خلاف کیوں نہ ہو!
البتہ حضرت علی رض سے اس طرح کا مضمون نہیں ملا۔
مطلب اسکا فقط یہی ھے کہ انسان کو ہمیشہ سچ اور حق کا ہی ساتھ دینا چاھئے خواہ سچ بولنے میں اپنا ہی یا اپنے کا ہی نقصان ہو۔
No comments:
Post a Comment