Friday, 24 November 2017

مرزا قادیانی کے دعوے ، اصلیت مرزا ، Reality of Mirza Qadyani

قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی جس نے بیک وقت نعوذ باللہ نبی، رسول، مہدی اور مسیح موعود ہونے کے دعوے کئے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو  عقل کے اندھے قادیانی ’’سلطان القلم‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس دریدہ دہن نے اللہ تعالیٰ پر ایسا بیہودہ اور من گھڑت الزام لگایا جسے پڑھ کر سر شرم سے جھک جاتا، روح میں نشتر چھبتے اور دماغ مفلوج ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن قادیانی گروہ اس بیہودہ الزام کو نہ صرف دنیا کی ہر زبان میں شائع کرتا ہے بلکہ اس پر اتراتا نہیں تھکتا۔مرزا قادیانی اپنی کتاب’’کشتی نوح‘‘ میں لکھتا ہے۔ ’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخرکئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابنِ مریم ٹھہرا‘‘۔ (کشتی نوح ص47، مندرجہ روحانی خزائن جلد19صفہ 50از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی کا ایک خاص مرید قاضی یار محمد اپنی کتاب میں لکھتا ہے۔ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کیلئے اشارہ کافی ہے۔’’اسلامی قابانی ٹریکٹ نمبر34، از قاضی یار محمد ) ۔

حقیقت یہ ہے کہ شیطان نے ایک انتہائی بارعب اور وجیہ نورانی شخصیت کے روپ میں مرزا قادیانی کو ورغلا پھسلا کر پٹایا۔ شہر سدوم لے جا کر اپنی رجولیت کی طاقت کا اظہار (یعنی عمل قوم لوط)کیا اور یوں جب مرزا کے مفعولی جذبات کی تسکین ہو گئی تو مرزا قادیانی نے اسے اللہ تعالیٰ سے منسوب کر دیا۔ جب یہ کائنات تخلیق ہوئی ہے پر لے درجے کے کسی دریسہ دہن نے بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا گھٹیا اور بد ترین کفریہ الزام لگانے کی جرأت تو درکنار سوچا تک نہیں۔ یہ ذلت و رسوائی صرف مرزا قادیانی کو نصیب ہوئی جس کا نقد انعام اسے دنیا میں بیت الخلاء میں موت کی صورت میں ملا ۔ سامراج کی گندی موری کی اینٹ نے آخری سانس فضلے کے ڈھیر میں لیا۔

؎          پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

No comments:

Post a Comment

قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا

• *قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا* • ایک پوسٹ گردش میں ھے: کہ حضرت عبدﷲ ابن مسعودؓ سے مروی ھے کہ جو بندہ قبرستان جائے اور قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ دع...