Friday, 24 November 2017

سود و انشورنس Sood interest insurance

1⃣
*معاملات - سود و انشورنس*
Pakistanسوال # 145430
میں پاکستان ”کوہٹ“ کا شہری ہوں، یہاں ایک بینک ہے جس کا نام حبیب بینک لمیٹیڈ ہے، وہ ایک کرنٹ نام کا اکاوٴنٹ بنا کے دیتے ہیں جس کے تحت آپ کو ۲۵/ ہزار بیلنس برقرار رکھنے پر آپ کو تمام سروسیز مفت فراہم کی جاتی ہیں، آپ سے چیک بک کی فیس، اے ٹی ایم کارڈ کی فیس، ہر بار کسی بھی اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کی فیس، بینکرس چیک کی فیس، ایس ایم ایس کی فیس، کچھ نہیں کاٹا جاتا، صرف اس شرط پر کہ آپ ان ۲۵/ ہزار سے اپنا بیلنس کو کم نہ ہونے دیں، اگر وہ کم ہوجائے تو آپ کو پورے مہینے کے ہر ٹرانزیکشن (لین دین) پر ۵۸/ روپئے کاٹ لئے جاتے ہیں، میرے دوست نے مجھے کہا یہ سود کی ایک قسم ہے، میں نے اپنے علاقے کے علماء سے رابطہ کیا (مولانا الیاس گھمن کے خصوصی شاگرد مفتی عبد الواحد جو اِکنامک (اقتصادی) اور جدید معیشت کے فتوی کو ہنڈل ( غور و فکر ) کرتے ہیں)، ان سے عرض کیا تو انہوں نے مجھے اس اکاوٴنٹ کے استعمال سے منع کردیا، انہوں نے مثال دی کہ اس کی مثال ایک ٹیلیفون سروس پُرو وائڈ ٹیلی نار (telephone service provide TELENOR)کے اُس پیکیج کی سی ہے جس کے تحت آپ دو ہزار کا کم از کم بیلنس برقرار رکھنے پر روز کا ۶۰/ منٹ بات کرنے کے لئے پائیں گے، انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ یہ دونوں مذکورہ صورتیں عین سود ہیں اور اس سے بچنا سب مسلمانوں پر لازم ہے، لہذا میں نے بینک سے اپنا پیسہ نکال کر اس کا استعمال ترک کر دیا، اور پہلی فرست میں اس کو بند کرنے کی نیت بھی کر چکا ہوں۔
مفتی صاحب نے فرمایا کہ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اسلام بہت واضح ہے، یا حلال ہے یا حرام اور ایک درمیان کے شک کی چیز ہے، اس کو بھی چھوڑ دو، میں نے چھوڑ دیا، اس پلیٹ فارم پر آپ سے اس لئے عرض کیا تاکہ بہت سارے میرے پاکستانی بہن بھائیوں کو بھی اس بات کا علم ہو اور میرا رہا سہا شک بھی رہنمائی ہو سکے اور میں اللہ کی پکڑ سے بچ جاوٴں، آپ بینک کے شرائط و لوازمات کو خود دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی ویب سائٹ کی لنک ہے: http://www.hbl.com/hblfreedomaccount

Published on: Nov 13, 2016 جواب # 145430
*بسم الله الرحمن الرحيم*

Fatwa ID: 065-056/L=2/1438

بینک میں جو رقم جمع کی جاتی ہے اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے، اور قرض دے کر نفع اٹھانا سود ہے اس لیے مفتی عبد الواحد صاحب نے جو بات بتائی ہے وہ صحیح اور درست ہے آپ اسی کے مطابق عمل کریں۔
”وفی الاشباہ: کل قرض جر نفعا حرام، وفی الرد: ای إذا کان شروطاً“ الدر مع الرد ج: ۷/۳۹

واللہ تعالیٰ اعلم

*دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند*
➖➖➖➖➖➖➖➖


2⃣
معاملات - سود و انشورنس
Indiaسوال # 65242
حضرات مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ فون کرنے کیلئے کمپنیوں کی طرف سے اڈوانس بلینس دیا جاتا ہے اور اس کی ادائیگی کے لئے دیئے گئے بلینس سے زائد رقم ادا کرنا پڑتا ہے کیا یہ سود ہے یا جائز ہے؟
Published on: May 11, 2016 جواب # 65242
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 742-677/Sn=7/1437

یہ سود نہیں ہے، ایڈوانس بیلنس لینا شرعاً جائز ہے، اس سلسلے میں دارالعلوم سے جاری شدہ ایک فتوی ارسال ہے، اسے ملاحظہ کرلیں۔
------------------------------------
آج کل اکثر موبائل فون کمپنیاں اپنے صارفین کو یہ سہولت دے رہی ہیں کہ جب صارف کے موبائل کا بیلنس ختم ہو جاتا ہے تو صارف کچھ رقم جتنا بیلنس ادھار کے طور پہ کمپنی سے حاصل کر سکتا ہے ۔ جب صارف ری چارج کرواتا ہے تو ادھار لی گئی بیلنس کی رقم کچھ اضافی رقم کے ساتھ منہا کرلی جاتی ہے ۔ مثال کے طور پہ اگر دس روپے کا بیلنس ادھار لیا تھا تو تقریباً بارہ روپے منہا کیے جائیں گے ۔ کیا یہ اضافی رقم سود کے زمرے میں آئے گی ؟ کیا مذکور فی السوال طریقے سے بیلنس ادھار لینا جائز ہوگا ؟

Fatwa ID: 253-220/Sn

مذکور فی السوال شکل سودی معاملہ کے زمرے میں نہیں آتی؛ بلکہ یہ شکل شرعاً جائز ہے ، اس کی فقہی تخریج یہ ہوگی کہ ادھار خریداری کی بنا پر قیمت کچھ بڑھادی گئی مثلاً نقد رقم ادا کرکے (Talktime) ٹاک ٹائم خریدنے کی صورت میں /۱۰ روپئے میں جتنا ٹاک ٹائم ملتا ہے ادھار خریدنے کی صورت میں اتنا ہی ٹاک ٹائم بارہ یا تیرہ روپئے میں ملے گا اور فقہاء نے نقد اور ادھار خریداری کے درمیان قیمت متفاوت رکھنے کو جائز لکھا ہے بہ شرطے کہ مجلس عقد میں ا یک قیمت طے ہوجائے اور یہاں ایک قیمت طے ہوجاتی ہے ۔ ”قضایا فقہیہ معاصرہ “میں ہے : أمّا الأئمة الأربعة وجمہور الفقہاء والمحدثین فقد أجازوا البیع الموجل بأکثر من سعر النقد بشرط أن یبت العاقدان بأنہ بیع موجل بأجل معلوم بثمن متفق علیہ عند العقد․ (ص: ۱۲، ط: دمشق) نیز دیکھیں: الدر المختار مع رد المحتار (/۷ ۳۶۲، ط: زکریا) ومبسوط للسرخسی (/۱۳ ۸۰۷، ط: بیروت)

از: محمد اسد اللہ غفرلہ، معین مفتی 12/3/1437
الجواب صحیح: محمود حسن بلند شہری غفرلہ، محمد نعمان سیتاپوری غفرلہ
مفتیانِ دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

No comments:

Post a Comment

قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا

• *قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا* • ایک پوسٹ گردش میں ھے: کہ حضرت عبدﷲ ابن مسعودؓ سے مروی ھے کہ جو بندہ قبرستان جائے اور قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ دع...