*مروجه جشن میلاد په دیے گۓ رضاخانی دلائل کا محاسبه*
*الجواب وبالله التوفیق*
رضاخانی مولوی کا جو کلپ آپ نے بھیجا که اسکا جواب دے دیں
عرض یه هیکه ساری باتیں اپنی جاهل عوام کو خوش کرنے ان سے داد لینے اور اپنے حلوے کهیر جاری رکھنے کیلۓ کی هیں اسکے دلائل محض عوام کو سواۓ دھوکه دینے کے کچھ بھی نهیں هے
بھر حال جواب عرض هے
پهلی بات اس نے یه کی که همیں کهتے هیں صحابه نے میلاد نهیں منایا فلاں کے زمانے میں اتنی بار ربیع اول آیا لیکن کسی نے میلاد نهیں منایا ......
اس بات کا جواب دیتے هوۓ کهتا هے
صحابه نے منایا نهیں تو منع بھی نهیں کیا
لهذا یه جائز هے ...
*جوابا عرض هے*
* یه تو آپ نے تسلیم کر لیا نا که صحابه نے نهیں منایا تو سمجھ لیں که دیوبندی بھی نه منا کر صحابه کے نقش قدم په چل رهے هیں ..
جو حوالے آپ نے پیش کیۓ وه بے ثبوت هیں اگر صحابه نے منایا هوتا تو تاریخ ولادت میں اختلاف کیوں جب تسلسل چلا آتا هے تو پهر اختلاف کیوں هوا ایک هی تاریخ متعین هوتی
آپ نے جو عبارت پیش کی هے اگر وه صحیح هے تو پهر ثابت کریں که خلفاۓ راشدین نے مدینه کی کس گلی کو سجایا اور کس بازار میں جلوس نکالا تھا ?
پهر آپ نے بدعت کی تعریف میں جو حواله پیش کیا که بدعت وه هے جس سے سنت مٹتی هے ..
تو مولوی صاحب عرض هیکه وه تمهاری دلیل نهیں بن سکتی
چلیں اسی بات په آجائیں فیصله کر لیتے هیں که بدعت وه هے جس سے سنت مٹتی هے تو بابا آپکے مروجه جشن سے ایک نهیں بے شمار سنتیں مٹتی هیں بلکه سنت کیا فرض مٹ رهے هیں جلوس والے دن نمازیں ضائع هوتی هیں
حرام کام کیۓ جاتے هیں مردوں عورتوں کا احتلاط هوتا هے انڈیا کے گانے ناچ ڈانس چلاۓ جاتے هیں راستے بند کیے جاتے هیں مریض راستوں میں تڑپ تڑپ کر مرتے هیں
لوگوں کی نیندیں حرام کی جاتی هیں گلی کوچوں میں شوروغل نعرے بازی مساجد مدارس په حملے (همارے پاس ثبوت موجود هیں )
جب اتنے مفاسد هوں تو پهر بھی یه بدعت نهیں ? حلوے کھیر سے لگتا هے ذهن ماؤف هو چکا هے ....
صحابه په جھوٹ بولنا چھوڑیں که وه بھی مناتے تھے أپکے عبدالسمیع رامپوری لکھتے هیں
یه میلاد سلطان اربل نے ایجاد کیا هے (انوارساطعه) اورتم کهتے هو صحابه کرتے تھے اب تم سچے یا تمهارا بڑا?
پهر رضاخانی صاحب کهنے لگے جس کام سے منع نه کیا هو وه جائز هوتا هے
جوابا عرض هے پهر مغرب کے چار فرض پڑ ھنے کی ممانعت کهاں هے
اگر یهی اصول هے تو شیعه کهیں گے اذان
میں علی کا نام لینے کی ممانعت کهاں هے ?
غیر مقلد کهے گا هاتھ سینے په باندھنے کی ممانعت کهاں هے ?
اور میں پوچھتا هوں آپ سے بتائیں عیدین اور نماز جنازه سے قبل اذان اور اقامت کی ممانعت کهاں هے ?
اذان میں الله اکبر کے بعد جل جلاله کهنے کی ممانعت کهاں هے ?
ایسے تو سوالات کے آپ په انبار لگ جائیں گے
اور اگر ھدایه هی پڑھی هوتی تو آپکو معلوم هو که حضور اور صحابه کا کسی کام کو نه کرنا بھی عدم جواز کی دلیل هے (ص127/1 وغیره)
مزید دیکھیں ان سب اکابرین نے کسی کام کے عدم ثبوت کو عدم جواز لکھا هے
( غنیت الطالبین شیخ جیلانی کی جنکی گیارهویں کھاتے
هو اور اعلی حضرت جو شیخ جیلانی کی نه مانیں اسکے بارے کهتے هیں اسکادین بھی برباد دنیا بھی برباد انھوں نے بھی ایسے فعل کو بدعت لکھا هے ( غنیه94/2)
نیز
علامه شاطبی الاعتصام 239/307/226
مجالس الابرار 17
وغیره
*ابن کثیر لکھتے هیں*
بدعت په دلیل دیتے هوۓ یه بدعت اس لیۓ هیکه رسول الله صلی الله علیه وسلم صحابه اور تابعین سے ثابت نهیں (تفسیر ابن کثیر 156/4)
اپنے گھر کی سن لیں
*احمد رضا بریلوی نے لکھا هے*
جس امر سے مصطفی صلی الله علیه وسلم بے عذرمانع بالقصد اختراز فرمائیں وه مشروع نهیں هوسکتا ( فهارس فتاوی رضویه ص 165)
*امام مالک*فرماتے هیں جو بات صحابه کے زمانے میں دین نهیں تھی وه آج بھی دین نهیں بن سکتی ( الاعتصام 259)
_____________ *رضاخانی کی اگلی دلیل*
پهر کهتا هے حضور سوموار کو روزه رکھتے تهے که یه میری پیدائش کا دن هے اور وحی بھی اسی دن آئ
تو عرض هے که پهر ایک دن جشن وحی کا بھی رکھ لو
*دوسری بات*
حضور جو عمل خود کریں اور صحابه اسے نه کریں نه انھیں حکم دیا هو تو وه حضور کی تحصیص هوا کرتا هے
*تیسری بات*
*حضور نے پیر کو روزه رکھ کر یه ثابت کردیا که میری ولادت کا دن عید نهیں هو سکتا کیونکه عید کے دن روزه نهیں رکھا جاتا*
اور تف یه که تم باره ربیع اول کو عید اکبر کهتے هو اور مساجد میں سحری کے اعلانات بھی کراتے هو
یه تو هے تمهارا علم اور الزام دوسروں په
اور اپنی انوار ساطعه دیکھ لیتے که میلاد کا جشن ایجاد کرنے والے غیر مقلد تھے ص 184
اور خان صاحب بریلوی نے لکھا هے غیر مقلد بے دین هیں ( ازالت العار ص 30)
تو بتائیے آپ بے دینوں کی ایجاد کرده کام کی تقلید کیوں کرتے هیں ??
اور احمد رضا کی بات جو نهیں مانتا وه اسے کافر سمجھتے تھے (دیکھے انوار شریعت اور فتاوی صدرالافاضل)
_____________
رضاخانی صاحب نے ایک دلیل یه دی که ابولھب نے پیدائش کی خوشی میں باندهی ازاد کی اور جب مر گیا تو حضرت عباس نے خواب میں دیکھا. ..پیر کو عذاب نهیں هوتاانگلی چوستا هوں
جس سے اشاره کیا تھا توقطرے پیٹ میں جاتے هیں . ..
*جواب*
**********
*اولا*.
اس بات په اجماع هیکه صرف نبی کا خواب حجت هوتا هے
*ثانیا*...
یه خواب حضرت عباس نےاسلام قبول کرنے سے پهلے دیکھا تو جب مسلمان نه هوۓ تھے اسوقت کا خواب حجت کیسے ?
*ثالثا*..
قران اور حدیث کهتی هیکه کافر کفر په هی مر جاۓ تو اسکے نیک اعمال په کچھ ثواب نهیں ملتا
عبدالله بن جدعان کے بارے حضرت عائشه کا نبی کریم ص سے پوچھنا که هر حج په هزار انٹ ذبح کرتا تھا هزار آدمیوں کو حلے پهناتا تها کیا یه چیزیں اسے فائده پهنچائیں گی ?آپ نے فرمایا نهیں ...
*رابعا*..
ابو لھب کی خوشی امر طبعی تھی مومن نبی په هر وقت هر لمحه خوش رهتا اور اپنے نبی کی اتباع کرتا هے
اور تمهیں کیا سوجی که ابولھب کی تقلید کرتے هو ??
یهی جشن منانے والا جب مشن پیش کیا تو اس نے پتھر اٹھایا حضور کی طرف
افسوس هے اهل بدعت په ابولھب کی تقلید کرتے هیں چھ سو سال تک تو صحابه تابعین ائمه دین اور خیرالقرون کے مسلمانوں نے تو اسکی تقلید نهیں کی ورنه ثابت کرو کسی صحابی تابعی نے باره ربیع اول کو کنیز ازاد کی هو?
*اکابرین امت کا مروجه میلاد کے بارے موقف پڑھ لیجۓ* *حافظ ابو احسن علی بن فضل مقدسی مالکی رحمہ الله علیه جو بقول ابن نجار ائمه دین میں سے تهے.اور ان کامیلادی کتاب کے پهلے مصنف ابن دحیه سے بهی سابقه پڑ جکا تها.وہ اپنی کتاب "جامع المسایل"میں فرماتے ہیں:*
"عمل مولود سلف صالحین سے منقول نہیں ہے.اور وہ قرون ثلاثه کے بعد برے زمانے میں ایجاد ہوا ہے.اور جس عمل کو سلف نے نہ کیا اس میں ہم خلف کی پیروی نہ کریں گے.اس لیے کہ ہمیں سلف کی اتباع کافی ہے،پهر خلف کی ابتداع کی کیا حاجت."
*علامه ابو عبدالله ابن الحاج مالکی رحمه الله علیه جو کہ علامه تقی الدین سبکی رحمہ الله علیہ کے شیوخ میں سے ہیں.اور جن کی علمی دلالت پر فریقین کا اتفاق ہے.اپنی مشہور اور مقبول کتاب "المدخل"میں فرماتے ہیں که*
"اور منجمله ان بدعات کے جن کو لوگوں نے ایجاد کیا ہےاور باوجود اس کے اعتقاد کرتے ہیں کہ افضل عبادات اور شعایر سے ہیں.وہ چیز جو ربیع الاول میں کرتے ہیں یعنی مجلس مولود،حالانکہ وہ بدعات اور محرمات پر مشتمل ہیں(حتی که مفاسد بیان کرنے کے بعد کہا)یہ سب مفاسد اور قبایح مرتب ہیں.مولود کے کرنے پر جب اسے راگ کے ساتھ کرے اور اگر راگ سے خالی ہوںصرف کهانا کیا جائے اور اس سے نیت مولود کی ہو اور بهائیوں کو دعوت دی جائے اور کوئ خرابی نہ ہوجن کا پہلے ذکر ہوا تو بهی بدعت ہے.اس لیے کہ یہ دین میں زیادتی ہے سلف کا معمول نہیں ہے.حالانکہ ہمارے لیے سلف کی پیروی ہی بہتر ہے.اور سلف صالحین میں سے کسی سے بهی منقول نہیں ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہو."
*حضرت مجد د الف ثانی رح فرماتےهیں*
میرے محترم میں سمجھتا هوں جب تک اس قسم کی محفل میلاد کادروازه بند نه کیا جاۓ گا هوس پرست باز نهیں آئیں گے
( مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر273 حصه 5 جلد 1)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمه الله علیه نے "ما ثبت بالسنه "میں ابن الحاج مکی رحمه الله علیه کی اس اصلاحی کوشش پران کو دعا دی اور فرماتے ہیں کہ:
"بے شک ابن الحاج نے اس پر المدخل میں زبردست رد کیا ہے.جو لوگوں نے بدعتوں اور ہوا ہوس اور حرام مزامیروں سے گانا بجانا عمل میلاد کے وقت نکال کر مقرر کر رکها ہے.پس الله تعالی ابن الحاج کو انکی اچهی نیت کا ثواب دے اور ہم کو راہ سنت پر چلائے."
*شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ الله(جنکی جلالت اور امامت کی شهادت علامه سیوطی اور ملا علی قاری رحمهما اللہ علیہما جیسے بزرگوں نے بهی دی ہے.)اپنی بہترین کتاب "الصراط المستقیم"میں فرماتے ہیں کہ*
"اور ایسے ہی وہ عمل مولود جس کو ایجاد کیا ہے بعض لوگوں نےیا تو "میلاد مسیح"میں نصاری کینقل اتارنے کے واسطے یا باسبب نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی تعظیم و محبت کے.حالانکه الله تعالی نے بذریعہ کامل اتباع کے آپ کی عظمت اور محبت کا حکم دیا ہے.نہ که ان بدعتوں کا کہ آپ کی یوم ولادت کے دن عید بنایا جائے.حالانکه ولادت کی تاریخ میں لوگوں کا اتفاق بهی نہیں."
*قاضی شهاب الدین حنفی دولت آبادی رحمه الله"تحفة القضاة" میں لکهتے ہیں کہ*
"بے شک مولود کرنا بدعت ہے.رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور خلفاء اور ائمه نے نہ اس کو کہا نہ کیا."
*امام نصیر الدین شافعی رحمه الله علیه نے ایک سائل کے جواب میں فرمایا کہ*
"مولود نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ سلف صالحین نہیں کرتے تهے.اور وہ بےشک قرون ثلا ثہ کے بعد برے زمانے میں ایجاد ہوا ہے.اور ہم اس چیز میں بعد والوں کی پیروی نہیں کرتے جن کو سلف نے نهیں کیا ہو.اس لیے کہ سلف کی اتباع کافی ہے پهر اس بدعت ایجاد کی کیا حاجت ہے.".(شرعة الہية)
*علامہ حسن ابن علی رحمه الله کتاب "طریقہ فی رد اہل البدعہ" میں لکهتے ہیں کہ*
"جاہل صوفیوں نےماہ ربیع الاول میں جو میلاد نکالی ہے شریعت میں اس کی کچه اصل نہیں بلکه وہ "بدعت سیئہ" ہے.اور اس میں بہت برائیاں ہیں."
*علامہ ابن حسن رحمه الله اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ*
"عمل مولود سلف سے منقول نہیں اور سلف نے جس کام کو نه کیا ہو اس میں بہتری نہیں."(شرعةالہیة نقلا عن الصواعق)
*الشیخ احمد بن محمد مصری مالکی رحمه الله علیہ نے"قول معتمد"میں لکها ہے کہ*
"ساتھ ہی اس کے علماء مذاہب اربعہ(حنفی،مالکی،شافعی، حنبلی)نے مذمت عمل مولود پر اتفاق کیا ہے."
*الشیخ محمد ابن ابی بکر مخزومی مالکی رحمہ الله علیه کتاب "البدع والحوادث" میں لکهتے ہیں کہ*
"منکرات قبیحہ اور مکروہات فصیحہ(دین کے اعتبار سے برے کام)میں سےاس زمانے میں عمل مولود ہے جو بعض جگہ ہوتا ہے.اور کوئ امت اگلے رسولوں کی تباہ نہیں ہوئ مگر دین میں نئ باتیں پیدا کرنے سے."
*علامه علاء الدین ابن اسماعیل شافعی رحمه الله علیه"البعث والنشور"میں لکهتے ہیں که*
" مولود بدعت ہے.اس کے کرنے والا قابل مذمت ہے."
حافظ ابو بکر ابن عبد الغنی رحمه الله علیہ مشہور بہ ابن ابی نقطہ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں که
"بے شک عمل مولود سلف سے منقول نییں اور جس کو سلف نے نہیں کیا اس میں خیر نہیں."
صاحب "طریقہ محمدیه نے"
بیان بدعات"نے اپنی منہیات میں لکها ہے کہ
"(من جملہ بدعتوں کے) عورتوں کا مولود پڑهنابلند آواز سےاس طرح کہ لوگ اس کو گهر کے باہر سنے(جائز نہیں)
صاحب "نور الیقین نے "شرعة الہیہ"میں لکها ہے کہ
پس جان لو که خراب بدعت جو ملکوں اور شہروں میں رائج ہے محفل مولود ہے، که یہ نہیں ثابت ہےادلہ شرعیہ سے اور نہ قران و حدیث سے."
*غلام رسول سعیدی کی رائے*
مسلک بریلویہ کے شیخ الحدیث مولوی غلام سعید لکهتے ہیں کہ
بعض شہروں میں عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم کے جلوس کے تقدس کو بالکل پامال کر دیا گیا ہے .جلوس تنگ راستوں سے گزرتاہےاور مکانوں کی کهڑکیوں اور بالکونیوں سے نوجوان لڑکیاں اور عورتیں شرکاء جلوس پر پهول وغیرہ پهینکتی ہیں.اوباش نوجوان فحش حرکتیں کرتے ہیں.جلوس میں مختلف گاڑیوں میں فلمی گانوں کی ریکارڈنگ ہوتی ہےاور نوجوان لڑکے فلمی گانوں کی دهنوں پر ناچتے ہیں.نماز کے اوقات میں جلوس چلتا رہتا ہے. مساجد کے اگے سے گذرتا ہے اور نماز کا کوئ اہتمام نہیں کیا جاتا.اس قسم کے جلوس میلادنبی کے تقدس پر بدنما داغ ہیں.ان کی اگر اصلاح نہ ہو سکے تو انکو فورا بند کرا دینا چاہیے.کیوں کہ ایک امر مستحسن کہ نام پران محرمات کے ارتکاب کی شریعت میں کوئ اصل نہیں"
(شرح مسلم ،کتاب الصوم، جلد 3، صفحہ 170)
همارے نزدیک نبی کریم صلی الله علیه وسلم کی سیرت کے جس پهلو کا بھی ذکر کیا جاۓ ولادت سے وفات تک باعث اجر وثواب اور عظیم سعادت هے مگر
یه بات روشن هوگئ که مروجه جشن میلاد وجلوس بدعت اور ناجائز هیں جب اتنے مفاسد هیں تو اسکا ترک لازم هے
فقها کی صراحت کے مطابق تو مستحب په بھی جب اتنا دوام اور اصرار هو تو اسکا بھی ترک کرنا لازم هے
الله تعالی هم سب کو سنتوں په عمل کرنے کی توفیق سے نوازے اور بدعات سے بچاۓ
(آمین)
کتبه ✍🏻
*مفتی ابوغزالی عبدالواجد نقشبندی عفی عنه*
*١٠/١٢/٢٠١٧*
No comments:
Post a Comment