Monday, 11 December 2017

لباس کے آداب کیا ہیں

لباس کے آداب کیا ہیں 
الجواب باسم ملھم الصواب 
نیا لباس پہنتے وقت اللہ تعالیٰ کی تعریف اور حمد بیان کر ے(دعا پڑھے)۔خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص نیا لباس پہنے تو اس کو چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق یہ دعاء پڑھے:الحمدُ لِلِّٰہ الَّذِیْ کَسَانَيْ مَا أُوَارِيْ بِہ عَوْرَتِيْ وَأتَجَمَّلُ بِہ فِيْ حَیَاتِی․ (اللہ تعالیٰ کا شکر واحسان ہے جس نے ایسا لباس عطا فرمایا جس سے میرا بدن بھی چھپ جاتا ہے اور میری زندگی میں زیبائش بھی حاصل ہوتی ہے۔)(معارف القرآن ج3،ص534 و535 )

نیا لباس بنانے کے وقت پُرانا لباس فقراء اور مساکین پر صدقہ کردے؛ کیوں کہ حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص نیا لباس پہننے کے بعد پرانا جوڑا غریب و مسکین کو صدقہ کردے وہ اپنی موت و حیات کے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری اور پناہ میںآ گیا۔(ابن کثیر عن مسند احمد، بہ حوالہ معارف القرآن ج3/535)

ایسا لباس ہرگز استعمال نہ کیا جائے جس سے تکبر اور غرور پٹکتاہو؛ کیوں کہ کسی بھی انسان کو تکبر اور گھمنڈ زیبا نہیں اور اگر کوئی نادان اور بے وقوف اپنی حماقت کا ثبوت دیتے ہوئے غرور کا ارتکاب کرتا ہے تو حدیث ہے:”کُلْ مَا شِئْتَ، وَالْبَسْ مَا شِئْتَ، مَا أخْطَأَتْکَ اثْنَتَانِ:سَرِفٌ أوْ مَخْیَلَةٌ“․(صحیح البخاری ج6،ص860)

لباس اختیار کرنے میں تنعم واسراف سے اجتناب کرے؛کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿إِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُواْ إِخْوَانَ الشَّیَٰطِیْنِ﴾․(بنی اسرائیل آیت27(فضول خرچی اور اسراف کرنے والے شیطانوں کے چیلے ہیں۔ )

دشمنان اسلام یہودونصاریٰ اور کفار و مشرکین کے لباس سے اجتناب کلی ہونا چاہیے؛کیوں کہ اس کو اختیار کرنے میں ان کی مشابہت ہوگی، جس سے بڑی شدومد کے ساتھ باز رکھا گیااللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ․(مسند احمد بن furu rdحنبل ج3ص50)جو بندہٴ خدا کسی جماعت اور قوم کی شباہت اپنائے گا وہ اسی میں سے ہے۔ یعنی قیامت میں اسی قوم کے ساتھ اٹھے گا۔

تہہ بند یا اس کی جگہ استعمال ہونے والا کوئی بھی کپڑا (پائجامہ وغیرہ) نصف پنڈلی تک ہو یا کم ازکم ٹخنوں سے اوپرہو؛کیوں کہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے پر بڑی سخت وعید ہے، ارشاد نبوی ہے:”مَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الاِزَارِ فِيالنَّارِ“․(بخاری شریف )ٹخنوں کا جوحصہ ازار کے نیچے رہے گا وہ حصہ جہنم میں جائے گا ۔)

ریشمی کپڑا مردوں کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے،اس سے بچنا چاہیے، حدیث نبوی ہے:”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اِنَّمَا یَلْبَسُ الْحَرِیْرَ فِي الدُّنْیَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَہ فِي الْآخِرَةِ“․(بخاری و مسلم) فرمایا جو شخص دنیا ہی میں ریشمی کپڑا پہنے گا کل قیامت میں اس کاکوئی حصہ نہیں ہوگا۔

 خالص سُرخ اور زرد لباس مردوں کے لیے غیر مناسب اور مکروہ ہے ، فتاوی شامی میں ہے ” کرہ لبس المعصفر والمزعفر الاحمر والاصفر للرجال“ ․( فتاوی دارالعلوم، ج16، ص:174، بحوالہ الدرالمختار مع رد المحتار)

 مرد عورتوں کا لباس اور عورتیں مردوں کا لباس استعمال نہ کریں، کیوں کہ ایسا کرنے والے نبی کی بد دعا کے مستحق ہوں گے، حدیث ہے :”لعن النبي صلی الله علیہ وسلم المتخنثین من الرجال والمترجلات من النساء․ وقال: أخرجوھم من بیوتکم“․ (بخاری شریف رقم الحدیث 5547) الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں او رمردوں کی شباہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ : اے مسلمانو! تم ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دو۔

 ایسا لباس جو جسم او ربدن سے چپکا ہوا ہو اور بہت زیادہ چست ہو ایسے لباس سے مردوں اور عورتوں دونوں کو بچنا چاہیے ،بالخصوص عورتوں کو۔ کیوں کہ حدیث پاک میں ایسا لباس والی عورتوں کو لباس سے عاری اور برہنہ کہا گیا ہے، جن کے لیے دوزخ کی وعید ہے :” نساء کاسیات عاریات“․ ( مسلم شریف رقم :21128) دوزخ میں ایسے ایسے لوگ جائیں گے جن میں وہ عورتیں بھی ہیں جو کپڑا پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی۔

 اتنا باریک لباس جس میں جسم کے اعضا نظر آتے ہوں، عورتوں کے لیے ایسا لباس بالکل جائز نہیں او رمردوں کو لنگی یا پائجامہ ایسا پہننا جائز نہیں، البتہ دوسرے کپڑے باریک ہوں تو مضائقہ نہیں، کیوں کہ مردوں کا ستر صرف تہہ بند یا پائجامہ سے چھپ جاتا ہے ۔ ( فتاوی دارالعلوم، 16، ص:148)

 مرد اور عورت ہمیشہ ایسا لباس وملبوس استعمال کریں جو ان کی جنس کے اعتبار سے خوب صورتی اور زینت کا سبب بنے اور ایسا لباس ہر گز اختیار نہ کریں جس میں بے ہودگی او رحماقت ٹپکتی ہو ، کیوں کہ ارشاد باری تعالیٰ ﴿یَا بَنِیْ آدَمَ خُذُواْ زِیْنَتَکُمْ عِندَ کُلِّ مَسْجِد﴾کی تفسیر میں مفسر قرآن حضرت مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی فرماتے ہیں : اس آیت میں لباس کو زینت سے تعبیر فرمایا ،جس سے ایک مسئلہ یہ بھی نکلتا ہے کہ نماز میں افضل اور اولیٰ یہ ہے کہ صرف ستر پوشی پر کفایت نہ کی جائے، بلکہ اپنی وسعت کے مطابق زینت اختیار کی جائے ۔ نواسہٴ رسول حضرت حسن رضی الله عنہ کی عادت تھی کہ نماز کے وقت اپنا سب سے بہتر لباس پہنتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ : الله تعالی جمال کو پسند فرماتے ہیں، اس لیے میں اپنے رب کے لیے زینت وجمال اختیار کرتا ہوں ۔پھر یہ آیت کریمہ تلاوت فرماتے۔( معارف القرآن ج3، ص:573)

اور خود رب کائنات نے لباس کو ستر پوشی کا ذریعہ اورسبب بتاتے ہوئے، آرائش اور زینت فرمایا ہے ، ارشاد باری ہے : ﴿یَا بَنِیْ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْْکُمْ لِبَاساً یُوَارِیْ سَوْء َاتِکُمْ وَرِیْشاً﴾․(سورة الاعراف،آیت:31)

No comments:

Post a Comment

قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا

• *قبر پر ہاتھ رکھ کر دعا* • ایک پوسٹ گردش میں ھے: کہ حضرت عبدﷲ ابن مسعودؓ سے مروی ھے کہ جو بندہ قبرستان جائے اور قبر پر ہاتھ رکھ کر یہ دع...